حدیث نمبر :621

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجرطلوع ہونے پرحملہ کرتے تھے ۱؎ اذان پر کان لگاتے تھے اگراذان سن لیتے تو باز رہتے ورنہ حملہ کردیتے۲؎ ایک شخص کو کہتے سنا اﷲ اکبر اﷲ اکبرحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فطرت پرہے پھر اس نے کہا اشھدان لا الہ الا اﷲ توحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو آگ سے نکل گیا صحابہ نے اسے دیکھا تو وہ بکریاں چرانے والا تھا ۳؎ (مسلم)

شرح

۱؎ یعنی جب جہاد میں کفار کے علاقہ پرشاہانہ حملہ کرتے تو صبح کے وقت اذان کا انتظار کرتے کیونکہ یہ وقت عبادات کی قبولیت اور رحمت الٰہی کے نزول کاہے اورجہادبھی عبادت ہے۔

۲؎ معلوم ہوا کہ اذان مصیبتوں کو دفع کرتی ہے،سرکار اذان کی آواز سے یہ پتہ لگاتے تھے کہ یہ مسلمانوں کی بستی ہے جہاں مسلمان آزادی سے اپنی عبادتیں کررہے ہیں۔کفار کا زورنہیں لہذایہاں جہاد کی ضرورت نہیں کیونکہ جہادکفر کا زور توڑنے کے لیے ہوتا ہے نہ کہ کافروں کو جبرًا مسلمان کرنے کے لیے۔

۳؎ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس چرواہے کے متعلق چندگواہیاں دیں:ایک یہ کہ اس وقت یہ سچا مسلمان ہے۔دوسرے یہ کہ اس کا خاتمہ ایمان پرہوگا۔تیسرے یہ کہ اس کے سارے گناہوں کی معافی ہوگی۔معلوم ہوا کہ حضور ہر ایک کے دل کا حال بھی جانتے ہیں اورسب کے انجام سے بھی خبردارہیں،کیوں نہ ہو کہ لوح محفوظ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے۔