أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَرِيۡقًا هَدٰى وَ فَرِيۡقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ الضَّلٰلَةُ ‌ ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ایک گروہ کو اللہ نے ہدایت دی اور ایک گروہ گمراہی پر ڈٹا رہا، انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا کارساز بنا لیا، اور ان کا یہ زعم ہے کہ وہی ہدایت یافتہ ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” ایک گروہ کو اللہ نے ہدایت دی اور ایک گروہ گمراہی پر ڈٹا رہا، انہوں نے اللہ کو چھور کر شیطانوں کو اپنا کارساز بنا لیا، اور ان کا یہ زعم ہے کہ وہی ہدایت یافتہ ہیں “

ابتداء فطرت میں ہر انسان کا ہدایت یافتہ ہونا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایسی صلاحیت اور استعداد کے ساتھ پیدا کیا، جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات اور اس کی وحدانیت کی معرفت حاصل کرسکے اور اس کو خیر اور شر کے دونوں راستے دکھا دیے۔ پھر بعض انسانوں نے اس فطری صلاحیت کو ضائع کردیا اور شیطان نے ان کو دنیا کی رنگینیوں اور دل فریبیوں کے دام میں پھانس لیا، ان کو ضمیر نے سرزنش کی نبیوں اور رسولوں اور ہر دور کے علماء حق نے ان کو اللہ کے دین کو قبول کرنے کی دعوت دی لیکن وہ شیطان کے بتائے ہوئے راستے پر ڈٹے رہے اور وہ یہ گمان کرتے تھے کہ جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے وہی برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” الم نجعل لہ عینین۔ ولسانا و شفتین۔ وھدیناہ النجدین : کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں ؟ اور زبان اور دو ہونٹ ؟ اور ہم نے اسے (نیکی اور بدی کے) دونوں واضح راستے دکھا دیے ” (البلد :8 ۔ 10)

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مولود فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر آپ فرماتے پڑھو، اے لوگو ! اپنے اوپر اللہ کی بنائی ہوئی سرشت (فطرت اسلام) کو لازم کرلو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی سرشت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہی دین راست ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (الروم : 30) ۔ دوسری روایت میں ہے : جو شخص بھی پیدا ہوا وہ اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں۔ جیسے اونٹ سالم اور کامل الاعضاء پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نقص دیکھتے ہو ؟ حتی کہ تم اس کے اعضاء کاٹتے ہو۔ صحابہ نے کہا : یا سول اللہ ! یہ بتائیے ! جو شخص بچپن میں فوت ہوجائے ؟ آپ نے فرمایا اللہ ہی جاننے والا ہے وہ کیا کرنے والا تھا ؟ (صحیح مسلم، قدر : 22، 23، (2758) 6632، 6633 ۔ صحیح البخاری، ج 2، رقم الحدیث : 1359 ۔ سنن ابو داود، ج 4 ۔ رقم الحدیث : 4714 ۔ سنن ترمزی، ج 4، رقم الحدیث : 2145 ۔ موطا امام مالک، رقم الحدیث : 569 ۔ مسند احمد، ج 3، رقم الحدیث : 8570)

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ہر بچہ اسلام کی صلاحیت اور استعداد کے ساتھ پیدا ہوتا ہے پھر اگر اس کے ماں باپ یا اس میں سے کوئی ایک مسلمان ہو تو وہ اسلام پر برقرار رہتا ہے اور اگر اس کے ماں باپ کافر ہوں تو دنیا میں اس پر کفر کا حکم جاری ہوتا ہے اور اگر بالغ ہونے کے بعد بھی وہ اپنے اختیار سے اسی کفر پر برقرار رہے تو وہ آخرت کے حکم کے اعتبار سے بھی کافر ہوگا۔ اور اگر اس پر سعادت غالب آجائے اور وہ اسلام قبول کرلے تو پھر وہ مسلمان ہوگا اور اگر وہ بالغ ہونے سے پہلے مرگیا تو اس کو آخرت میں عذاب نہیں ہوگا اور صحیح بخاری میں آپ کا ارشاد ہے کہ مشرکین کی اولاد بھی جنت میں ہوگی۔ (صحیح البخاری، ج 8، رقم الحدیث : 7047)

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرت اسلام پر پیدا کیا اسی وجہ سے سب نے عالم میثاق میں اللہ کی ربوبیت کا اقرار کیا لیکن اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ کون اس فطرت کے مطابق ہدایت پر رہے گا اور کون کفر میں مبتلا ہوگا اور اس پر ڈٹ جائے گا اور شیطان کو اپنا کارساز بنا لے گا۔ اس لیے فرمایا : ایک گروہ کو اللہ نے ہدایت دی اور ایک گروہ گمراہی پر ڈٹا رہا، انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا کارساز بنا لیا اور ان کا یہ زعم ہے کہ وہی ہدایت یافتہ ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 30