أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَيۡهَاۤ اٰبَآءَنَا وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا‌ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ‌ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب وہ کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے ان ہی کاموں پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ہمیں اللہ نے ان کاموں کا حکم دیا ہے، آپ کہیے بیشک اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا تم اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :” اور جب وہ کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے ان ہی کاموں پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ہمیں اللہ نے ان کاموں کا حکم دیا ہے، آپ کہیے بیشک اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا تم اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں ہے “

فاحشہ کا معنی اور مراد، اور کافر کے اس قول کا رد کہ اللہ نے فاحشہ کا حکم دیا ہے : فاحشہ : علامہ راغب اصفہانی نے لکا ہے کہ جو بات یا جو کام بہت زیادہ برا ہو، اس کو فحش، فحشاء اور فاحشہ کہتے ہیں۔ (المفردات، ج 2، ص 483، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ 1418 ھ) 

علامہ ابن اثیر جزری متوفی 606 ھ نے لکھا ہے کہ ہر وہ گناہ اور معصیت جس کی برائی زیادہ ہو، اس کو فحش، فحشاء اور فاحشہ کہتے ہیں اور فاحشہ زنا کے معنی میں بہ کثرت مستعمل ہے اور ہر برے قول اور فعل کو فاحشہ کہا جاتا ہے۔ کسی کی بات کے سختی اور جارحیت سے جواب دینے کو بھی فحش کہتے ہیں (النہایہ، ج 3، ص 372، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1418)

مجاہد نے کہا اس آیت میں فاحشہ سے مراد، زمانہ جاہلیت میں مشرک مردوں اور عورتوں کا برہنہ طواف کرنا ہے (جامع البیان جز 8، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

مشرکین برہنہ طواف کرنے کے جواز میں دو دلیلیں پیش کرتے تھے۔ ایک دلیل یہ تھی کہ ہم اپنے باپ دادا کی تقلید کرتے ہیں وہ اسی طرح کرتے تھے۔ اس دلیل کا اللہ تعالیٰ کئی بار رد فرما چکا ہے کہ جاہلوں اور کافروں کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے اور دوسری دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ اس طرح بےحیائی سے طواف کرنے کا ہمیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا۔ دوسرا رد یہ فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے برہنہ طواف کرنے کا حکم دیا ہے۔ تم کسی کتاب کے معتقد ہو نہ کسی نبی کے، اور اللہ کا حکم یا نبی سے معلوم ہوتا ہے اور یا اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب سے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 28