وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۱)

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۵۶) یا اس کی آیتیں جھٹلائے بے شک ظالم فلاح نہ پائیں گے

(ف56)

اس کا شریک ٹھہرائے یا جو بات اس کی شان کے لائق نہ ہو اس کی طرف نسبت کرے ۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ(۲۲)

اور جس دن ہم سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کا تم دعوٰی کرتے تھے

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ(۲۳)

پھر ان کی کچھ بناوٹ نہ رہی (ف۵۷) مگر یہ کہ بولے ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے

(ف57)

یعنی کچھ معذرت نہ ملی ۔

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۲۴)

دیکھو کیسا جھوٹ باندھا خود اپنے اوپر (ف۵۸) اور گم گئیں ان سے جو باتیں بناتے تھے

(ف58)

کہ عمر بھر کے شرک ہی سے مُکر گئے ۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَۚ-وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًاؕ-وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۲۵)

اور ان میں کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاتا ہے (ف۵۹) اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردئیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کان میں ٹینٹ(ٹھونسی ہوئی روئی) اور اگر ساری نشانیاں دیکھیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب تمہارے حضور تم سے جھگڑتے حاضر ہوں تو کافر کہیں یہ تو نہیں مگر اگلوں کی داستانیں (ف۶۰)

(ف59)

ابوسفیان ، ولید و نضر اور ابوجہل وغیرہ جمع ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوتِ قرآنِ پاک سننے لگے تو نضر سے اس کے ساتھیوں نے کہا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا کہتے ہیں ؟ کہنے لگا میں نہیں جانتا زبان کو حرکت دیتے ہیں اور پہلوں کے قِصّہ کہتے ہیں جیسے میں تمہیں سُنایا کرتا ہوں ، ابوسفیان نے کہا کہ ان کی باتیں مجھے حق معلوم ہوتی ہیں ابوجہل نے کہا کہ اس کا اقرار کرنے سے مر جانا بہتر ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔

(ف60)

اس سے ان کا مطلب کلامِ پاک کی وحیٔ الٰہی ہونے کا انکار کرنا ہے ۔

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْــٴَـوْنَ عَنْهُۚ-وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(۲۶)

اور وہ اس سے روکتے (ف۶۱) اور اُس سے دور بھاگتے ہیں اور ہلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانیں (ف۶۲) اور انہیں شعور نہیں

(ف61)

یعنی مشرکین لوگوں کو قرآنِ شریف سے یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کا اِتّباع کرنے سے روکتے ہیں ۔

شانِ نُزول : یہ آیت کہ کُفّارِ مکہ کے حق میں نازل ہوئی جو لوگوں کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی مجلس میں حاضر ہونے اور قرآن کریم سننے سے روکتے تھے اور خود بھی دور رہتے تھے کہ کہیں کلام مبارک ان کے دل میں اثر نہ کر جائے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت حضور کے چچا ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی جو مشرکین کو تو حضور کی ایذا رسانی سے روکتے تھے اور خود ایمان لانے سے بچتے تھے ۔

(ف62)

یعنی اس کا ضرر خود انہیں کو پہنچتا ہے ۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲۷)

اور کبھی تم دیکھو جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے کاش کسی طرح ہم واپس بھیجے جائیں (ف۶۳) اور اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں

(ف63)

دنیا میں ۔

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُؕ-وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(۲۸)

بلکہ ان پر کھل گیا جو پہلے چھپاتے تھے(ف۶۴) اور اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کیے گئے تھے اور بے شک وہ ضرور جھوٹے ہیں

(ف64)

جیسا کہ اوپر اسی رکوع میں مذکور ہو چکا کہ مشرکین سے جب فرمایا جائے گا کہ تمھارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنے کُفر کو چھپا جائیں گے اور اللہ کی قَسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے ۔ اس آیت میں بتایا گیاکہ پھر جب انہیں ظاہر ہو جائے گا جو وہ چھپاتے تھے یعنی ان کا کُفر اس طرح ظاہر ہو گا کہ ان کے اعضا و جوارح ان کے کُفر و شرک کی گواہیاں دیں گے تب وہ دنیا میں واپس جانے کی تمنّا کریں گے ۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ(۲۹)

اور بولے(ف۶۵)وہ تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں اٹھنا نہیں(ف۶۶)

(ف65)

یعنی کُفّار جو بَعث و آخرت کے منکِر ہیں اور اس کا واقعہ یہ تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کُفّارکو قیامت کے احوال اور آخرت کی زندگانی ، ایمانداروں اور فرمانبرداروں کے ثواب ، کافِروں اور نافرمانوں پر عذاب کا ذکر فرمایا تو کافِر کہنے لگے کہ زندگی تو بس دنیا ہی کی ہے ۔

(ف66)

یعنی مرنے کے بعد ۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْؕ-قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّؕ-قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَاؕ-قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠(۳۰)

اور کبھی تم دیکھو جب اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے فرمائے گا کیا یہ حق نہیں ہے(ف۶۷) کہیں گے کیوں نہیں ہمیں اپنے رب کی قسم فرمائے گا تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا

(ف67)

کیا تم مرنے کے بعد زندہ نہیں کئے گئے ۔