حدیث نمبر :623

روایت ہے حضرت عبداﷲ بن مغفل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہردو اذانوں کے درمیان ۱؎ نمازہے۔ہردو اذانوں کے درمیان نمازہے۲؎ پھرتیسری بارمیں فرمایا اس کے لئے جو چاہے۳؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ دو اذانوں سے مراد اذان واقامت ہے،جیسے چاندوسورج کو قمر ین،حضرت صدیق وفاروق کوعمر ین،حضرت حسن وحسین کوحسنین کہہ دیتے ہیں یا اذان سے مراد اطلاع ہے،اذان تووقت نماز کی اطلاع کے لیے ہوتی ہے اور اقامت تیاریٔ جماعت کی اطلاع کے لیے،بہرحال حدیث پراعتراض نہیں۔

۲؎ یا تو صلوۃ بمعنی دعاہے،یعنی اذان وتکبیر کے درمیان دعا مانگا کرو کہ یہ وقت قبولیت ہے یابمعنی نماز،یعنی اذان و اقامت کے درمیان نفل پڑھا کرو،کہ یہ وقت افضل ہے تواس میں نماز بھی افضل،نیز اس سے نماز میں سستی نہ ہوگی،انسان جماعت سے اتنے پہلے مسجد میں پہنچے گا کہ وضو کرکے نفل پڑھ کرتکبیراولٰی پاسکے۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک اس حکم سے مغرب علیحدہ ہے کہ اذان مغرب کے بعدنفل مکروہ ہیں،فرض کے بعد پڑھ سکتے ہیں۔جیسا حضرت بریدہ اسلمی کی روایت میں ہے کہ ہردو اذانوں کے درمیان نمازہے،”خلاصلوٰۃ المغرب”سواءنمازمغرب کے۔(مرقاۃ وغیرہ)

۳؎ یعنی یہ نماز مؤذن کے ساتھ خاص نہیں جو مسلمان چاہے پڑھے،یا یہ نمازفرض نہیں جس کا چھوڑنا سخت جرم ہے۔خیال رہے کہ فجراورظہر کی پہلی سنتیں مؤکدہ ہیں جس کے چھوڑنے کی عادت نہایت بری ہے،عصراورعشاءکی غیرمؤکدہ،مغرب کی منع ہے۔