الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :624

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام ضامن ۱؎ اور مؤذن امانت دارہے۲؎ یا اﷲ اماموں کو ہدایت دے اورمؤذنوں کوبخش دے۳؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی، شافعی)۴؎ دوسری روایت میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔

شرح

۱؎ یعنی امام مقتدیوں کی نماز کا ذمہ دارہے،اوراپنی نماز کے ضمن میں ان کی نمازوں کو لیے ہوئے،اسی لئے امام کی قرأت مقتدی کی قر¬أت ہے،امام کے سہو سے مقتدی پرسجدہ ہے۔مقیم امام کے پیچھے مسافرمقتدی پوری نماز پڑھے گا۔امام صرف اپنے لئے دعا نہ مانگے بلکہ جمع کے صیغے سے مانگے۔اس سے معلوم ہوا کہ نفل والے کے پیچھے فرض والے کی نمازجائزنہیں کیونکہ فرض نفل سے اعلٰی ہے اور اعلٰی کے ضمن میں ادنیٰ آسکتا ہے نہ کہ ادنی کے ضمن میں اعلیٰ۔یونہی اگرمقتدی کی نماز امام کی نماز سے مختلف ہوتوجائزنہیں کیونکہ کوئی نمازاپنے غیرکو اپنے ضمن میں نہیں لے سکتی،لہذا عصر پڑھنے والے کے پیچھے ظہرکی قضاءنہیں پڑھی جاسکتی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ امام کی نماز فاسدہ ہونے پرمقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہوگی۔غرضکہ یہ حدیث بہت سے مسائل میں امام اعظم کی دلیل ہے۔

۲؎ کہ لوگوں کی نمازیں اور روزے اس کے پاس گویا امانتیں ہیں۔اس سے معلوم ہواکہ اذان سے امامت افضل ہے کیوں نہ ہو کہ اما م جناب مصطفی کا خلیفہ ہے اورمؤذن حضرت بلال کا نائب،یہی ہمارا مذہب ہے۔

۳؎ اس سے بھی امامت کی اذان پرفضیلت معلوم ہورہی ہے کیونکہ مغفرت سے ہدایت اعلٰی ہے،یعنی یا اﷲ اماموں کونمازکے مسائل سیکھنے اورصحیح اداکرنے کی ہدایت دے کہ ان کی نماز سے بہت سی نمازیں وابستہ ہیں اورمؤذن کبھی وقت میں دھوکابھی کھاسکتاہے اسے بخش دے۔

۴؎ اگر چہ امام شافعی امام ہیں اورترمذی وغیرہ ان کے مقلد مگر چونکہ انکی کتب احادیث امام شافعی کی کتاب سے زیادہ مشہور ہیں،اس لئے ان کا ذکر پہلے کیا۔دیکھو امام بخاری و امام مسلم امام مالک کے شاگرد ہیں مگر ان کی زیادہ کتابیں مستند ہیں۔(مرقاۃ)