نجم اور ناؤ

کچھ شخصیات کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی خاص عنایتوں سے نوازا ہوتا ہے انہیں میں سے ایک شخصیت ہیں……….

اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ….

آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو احادیث کو اور عقیدہ اہلسنت کو کس خوبصورت انداز میں ایک شعر میں بیان کیا…… اللہ اللہ

پڑھیے اور لطف لیجئے پہلے ایک مثال سے سمجھئیے

مثلاً

سمندر میں سفر کرنے والے کسی بحری بیڑے یا کشتی کے کپتان سے پوچھئے کہ سمندر میں رستہ کس طرح دیکھتے ہیں، تو اس کا جواب ہوگا ہم کشتی میں بیٹھے ہوتے ہیں، مگر ستاروں سے رہنمائی لیتے ہیں، اور اپنی منزل کا تعین کرتے ہیں…

اعلیٰ حضرت اس شعر میں فرماتے ہیں…..

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ستارے ہیں اور اہل بیت اطہار کشتی ہیں جو اس کشتی میں بیٹھے گا وہ ستاروں سے اپنی منزل کا تعین کرے گا…

نہ سمندر میں کشتی کے بغیر سفر ممکن ہے اور نہ ستاروں کے بغیر منزل….

شعر

اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور

نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

پہلی حدیث

” أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ “….

میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔

مشکوٰۃ شریف

دوسری حدیث

أَلَا إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هلک . رَوَاهُ أَحْمد

سن لو ! تم میں میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی طرح ہے ، جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا—–

ان دونوں احادیث کو پیشِ نظر رکھیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے،

کہ نجات. “اہل بیت اطہار” کی محبت اور

” صحابہ کرام” کے رستہ پر عمل میں ہی ہے…..

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی اٹلی