حدیث نمبر :626

روایت ہے حضرت عقبہ بن عامرسے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہارا رب اس بکری چرانے والے سے خوش ہوتا ہے جوپہاڑ کی اونچی چوٹی میں ہونماز کی اذانیں دے اورنماز پڑھے ۲؎ اﷲ تعالٰی فرماتاہے۳؎ میرے اس بندے کودیکھو۴؎ اذان دیتاہے نمازقائم کرتا ہے مجھ سے ڈرتاہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کروں گا۵؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ آپ مشہورصحابی ہیں،امیرمعاویہ کی طرف سے عقبہ ابن ابی سفیان کی وفات کے بعدمصرکے والی بنے،پھر امیرمعاویہ نے معزول کردیا، ۵۸ھ ؁میں مصر میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی دنیا کے جھگڑوں سے دور رہے،اپنی روزی خودکمائے اورنماز اگرچہ اکیلے پڑھے مگر اذا ن دے کر۔معلوم ہوا کہ نماز پنجگانہ کے لئے اذان بہرحال دے اگرچہ جنگل میں اکیلے نماز پڑھے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ اذان کی برکت سے جنات و فرشتے بھی اس کے ساتھ نمازپڑھتے ہیں،اور اسے جماعت کا ثواب ملتا ہے۔تکبیرمیں اختلاف ہے مگر حق یہ ہے کہ تکبیربھی کہے کیونکہ اذان وتکبیر میں نماز کی اطلاع کے علاوہ اوربہت سے فائدے ہیں۔

۳؎ فرشتوں سے انبیاءواولیاءکی روحوں سے بلکہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی۔(مرقاۃ)

۴؎ معلوم ہوا کہ فرشتوں اورنبیوں،ولیوں کی روحوں میں یہ طاقت ہے کہ ایک جگہ رہ کرسارے عالَم کو دیکھ لیں کہ پروردگاران سے فرماتا ہے اس پہاڑ پر چھپے بندے کو دیکھو،اس سے مسئلہ حاضرناظرحل ہوا۔

۵؎ اس سے چندمسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ کبھی دنیا سے علیحدگی مشغولیت سے بہتر ہے۔دوسرے یہ کہ کبھی تنہائی کی عبادت علانیہ عبادت سے افضل ہے،کہ علانیہ میں ریاءکا خطرہ ہے اس میں نہیں۔تیسرے یہ کہ اکیلا آدمی بھی اپنی نماز کے لیے اذان وتکبیر کہے مگرمحلےکی مسجد کی اذان اہل محلہ کے لیے کافی ہوتی ہے۔چوتھے یہ کہ فرشتے وانبیاءواولیاءہمارے دلوں کے اخلاص ریاءوغیرہ سے واقف ہیں اوراس کو دیکھتے ہیں،رب نے اُنْظُرُوْا کے بعد یَخَافُ فرمایا۔پانچویں یہ کہ اﷲ کے مقبول بندے لوگوں کے انجام سے خبردار ہیں،رب نے انہیں مغفرت اورعذابوں کی خبردے دی ہے۔