حکایت نمبر247: حضرت صالح مُرِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خلیفہ مہدی کونصیحت

حضرتِ سیِّدُنا صالح مُرِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں خلیفہ مہدی کے پاس گیا اور کہا : ”آج میری گفتگو برداشت کرنا ، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں لوگوں میں سے زیادہ قرب والا شخص وہ ہے جو لوگوں کی سخت نصیحتوں پر صبرکرے ، اورجسے حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے قرابت کارشتہ ہوتووہ اس بات کازیادہ مستحق ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اَخلاق کو اپنائے اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنتوں پر عمل پیراہو۔

اے خلیفہ!بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے علم کی فہم اور واضح دلائل کا وارث بنایا اوراب تیرا عذر ختم ہوچکا ہے، حجتیں قائم ہوتی رہیں گی ،اگراب بھی تو شبہات میں پڑارہے توکوئی دلیل وحجت تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی سے نہیں بچاسکے گی۔ جب تجھے علم مل گیا تو جہالت کا عذر قابل قبول نہیں ۔یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ جو شخص حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اُمت میں مخالفت اورفساد پیدا کرے اور لوگوں کودینی احکام سے بیزار کرے ،تو وہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا دشمن ہے، اور جو رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا دشمن ہے وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا دشمن ہے ۔ لہٰذااللہ وسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کی دشمنی سے بچ اور ایسی نشانیاں اپنا لے جو تیری نجات کاباعث بنیں۔ اگر تو نے اس کا اُلٹ کیا توسمجھ لے کہ اپنے آپ کو ہلاکت کے لئے پیش کردیا۔اے خلیفہ!جان لے، بے شک پچھاڑنے والے طاقتوروں میں کمزور ترین شخص وہ ہے جو ایسے شخص کو پچھاڑے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلانے والا ہو ۔ بےشک بروز قیامت لوگوں میں سب سے زیادہ ثابت قدم وہ ہوگا جس نے کتاب اللہ اورسنتِ نبوی کو مضبوطی سے تھاما۔اور تیرے جیسے لوگ مَعْصِیَّتْ(مَعْ۔صِیْ۔ یَتْ)کی وجہ سے غالب نہیں آسکتے۔ ہاں یہ ہے کہ نافرمان کے لئے برائی نیکی کا روپ دھار کرظاہر ہوتی ہے۔ ایسوں سے بے تَوَجُّہِی برتنا اور انہیں نیکی کی دعوت نہ دینا ان کے لئے سہار ابنتا ہے ۔میری ان باتوں کواچھی طرح سمجھ کر محفوظ کر لے ۔بے شک میں نے تجھے احسن انداز میں سمجھا دیا ہے ۔”حضرت سیِّدُنا صالح مُرِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: یہ باتیں سن کر خلیفہ مہدی زاروقطار رونے لگا ۔ابوہمام کہتے ہیں: ”مجھے بعض کاتبوں نے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا صالح مُرِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا یہ نصیحت آموز کلام ہم نے خلیفہ مہدی کے خاص رجسٹروں میں لکھاہوا دیکھا۔”( اولیاء کرام پر اللہ عزوجل کی رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)