عید ِ میلاد کا ثبوت اور منانے کا طریقہ

عید ِمیلاد کا ثبوت اور منانے کا طریقہ

میرے پیارے آقا  ﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ عزوجل نے ہم کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ جن کو ہم شمار نہیں کرسکتے ،اللہ عزوجل نے ارشادفرمایا’’ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَاتُحْصُوْھَا‘‘ اللہ عزوجل نے جن نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے ان کی کئی قسمیں ہیں، کچھ نعمتیں ہر آن ہمارے ساتھ ہوتی ہیں ،مثلا سانس کہ ہر سانس میں اللہ عزوجل کی دو نعمتیں ہیں، باہر نکلنے والی سانس اندر نہ جائے تب بھی ہماری زندگی کی آخری سانس ہے اور اگر اندر جانے والی سانس باہر نہ نکل پائے تب بھی وہ ہماری زندگی کی آخری سانس ہو گی۔ لہٰذا ہر سانس پر ہمیں اللہ عزوجل کا دو شکر بجا لانا چاہئے۔

اللہ نے ہمیں آنکھ عطا فرمایا، کان عطا فرمایا، زبان دی، قوتِ گویائی بخشی، یہ تمام چیزیں اللہ عزوجل کی نعمت ہیں مگر کسی نعمت کو عطا فرمانے کے بعد اس نے انسانوں پر احسان نہیں جتلایا ہاں! ایک نعمت ایسی ہے کہ جب اس نے ہم کو عطا فرمایا تو ارشاد فرمایا ’’لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ‘‘اللہ کی عطا کردہ تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت سرکارِ دوعالم ا کی بعثتِ مبارکہ ہے کیوں کہ دیگر نعمتیں صرف دنیا کی حد تک محدود ہیں مگر سرکارِ دوعالم ا کی بعثت کے فوائد دنیا میں تو حاصل ہوتے ہی ہیں آخرت میں بھی اس کے ثمرات ظاہر ہوں گے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۶۴)

جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ رسول اللہ  ﷺ کی تشریف آوری عظیم نعمت ہے تو دیکھیں کہ پروردگار نعمت کے چرچہ کا حکم دے رہاہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘‘ اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب خوب چرچا کرو ۔عید میلاد النبی دراصل تحدیث نعمت الٰہیہ ہے ۔

سرکارِ دوعالم  ﷺ نے بھٹکے ہوئے انسانوں کو خدا کی معرفت کرائی، برائیوں کے عمیق غار سے نکال کر قربِ الٰہی کی دولت سے سرفراز فرمایا، ان کے دل سے حسد، بغض، کینہ کی بیماریاں نکال کر محبت الٰہی سے معمور فرما دیا۔ ان کے درمیان رائج طرح طرح کی غلط رسموں کو ختم فرما کر ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل فرمائی اور اتنے عظیم رسول کہ اگر مومنین حرج و پریشانی میں پڑجائے تو تکلیف رسول کو ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ عزوجل نے ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے ’’لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ‘‘ بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقّت میں پڑنا گراں ہے، تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر کمالِ مہربان مہربان۔ (سورۂ توبہ:۱۲۸)

جب سرکارِ دوعالم ﷺ کے اتنے سارے احسانات ہیں ہم گنہ گاروں پر تو کیوں نہ ہم آپ کی ولادت کے دن آپ پر صلوٰۃ و سلام، آپ کے اخلاق کریمانہ اور آپ کے شمائل و خصائل کو لوگوں کے درمیان بیان کریں۔

سنت الٰہیہ:

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! سب سے پہلے جو محفلِ میلاد النبی  ﷺ منعقد ہوئی اس کے حوالے سے قرآنِ مقدس ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتَابٍ وَّ حِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ أَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْہَدُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَo اور یاد کرو اس وقت کو جب اللہ نے تمام انبیا سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت دے کر بھیجوں اس کے بعد تمہارے پاس وہ رسول آجائے جو تم پر نازل شدہ چیز کی تصدیق کرے تو تمہیں ان پر ضرور ایمان لانا ہوگا اور ان کا معاون بننا ہوگا۔ فرمایا کیا تم اقرار کرتے ہو؟ سب نے کہا کہ ہم نے اس کا اقرار کیا۔ فرمایا گواہ ہو جائو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ (آل عمران:۸۱)

مذکورہ اجتماع میں حاضرین و سامعین سب انبیائے کرام تھے، اس محفل کا موضوع فضائل و شمائل نبوی تھا۔ اللہ عزوجل نے تمام انبیا سے نبی اکرم ا پر ایمان لانے اور (اشاعتِ دین میں) آپ کی مدد کرنے کا عہد لیا۔ گویا ذکر مصطفی ﷺ کے لئے محفل منعقد کرنا اللہ عزوجل کی سنت ہے اور سب سے پہلی محفل اللہ عزوجل نے منعقد فرمائی۔

ایک مقام ارشادِ ربانی ہے ’’اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا‘‘ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ (سورۂ احزاب:۵۶)

گویا نبی پاک  ﷺ پر درود و سلام پیش کرنا یہ اللہ عزوجل کی سنت ہے اور اس کے فرشتے بھی اس کام میں مشغول رہتے ہیں۔

صحابۂ کرام میلاد کیسے مناتے؟:

سرکارِ دوعالم  ﷺ کی ولادت پر خوشی منانا یہ کوئی بدعت نہیں بلکہ خود صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ولادت رسول ﷺ کی خوشی منائی ہے۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان میلادِ پاک کی خوشی میں ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے اور فرمایا کرتے کہ یہ پیر کا دن کتنا پیارا دن ہے کہ اس دن ساری کائنات کے آقا و مولیٰ  ﷺ تشریف لائے۔

ایک صحابی جن کا نام کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے یہ اسلام لانے سے قبل یہودی تھے اور توریت شریف جو اللہ نے حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی اس کے بہت بڑے عالم اور حافظ تھے۔ ان کے مسلمان ہونے کے بعد صحابۂ کرام علیہم الرضوان ان کے پاس تشریف لے جاتے اور ان سے کہتے کہ بھائی کعب ہمیں توریت شریف کی وہ آیتیں سنائو جن میں آقائے دوجہاں ﷺ کی ولادت کا تذکرہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے تو حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کرام کو اپنے گھر بٹھا کر توریت کھول کر وہ آیاتِ کریمہ سنایا کرتے جن میں اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی شان بیان فرمائی ہے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان جب اللہ کے پیارے حبیب  ﷺ کا میلاد شریف سنتے تو اللہ عزوجل کی حمد و ثنا اور حضور نبی اکرم ا پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے لگتے۔ (مشکوٰۃ، باب فضائل سید المرسلین)

حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرۂ انور سے باہر تشریف لائے ،صحابہ کو بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا ۔ ما اجلسکم ؟ آج کیسے بیٹھے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا ہم بیٹھ کر اس رب کریم کاذکر کررہے ہیں جس نے فقط اپنے فضل و کرم سے دین اسلام قبول کرنے کی ہدایت دی اور اپنا پیارا حبیب ہمیں عطافرمایا ۔

آپ نے ان کے یہ کلمات سن کر ارشاد فرمایا’’ان اللہ عزوجل یباھی بکم الملئکۃ ‘‘ تمہارے اس عمل پر اللہ عوجل اپنے فرشتوں پر فخر فرمارہاہے ۔

اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ سے مروی ہے کہ کچھ صحابہ بیٹھ کر مختلف انبیا علیہم الصلوۃ و التسلیم کا ذکر کر رہے تھے ،ایک نے کہا ،ایک نے کہا ،حضرت ابراہیم خلیل اللہ تھے ،دوسرے نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا اور کہا وہ اللہ کے کلیم تھے ،تیسرے نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا وہ کلمۃ اللہ تھے ۔ایک نے کہا حضرت آدم علیہ السلام صفی اللہ تھے ،اتنے میں حضور تشریف لائے اور فرمایاجو کچھ تم نے کہا میں نے سن لیا اور یہ سب حق ہے اور میرے بارے میں سن لو’’ اَلاَ وَاَنَا حَبِیْبُ اللّٰہِ وَلاَ فَخْرَ‘‘ میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر فخر نہیں۔

واضح ہوا کہ رسولِ گرامی وقار  ﷺ  کی ولادت کے ذکر کو پڑھنا، سننا اور لوگوں کو جمع کر کے انہیں سنانا یہ بدعت نہیں بلکہ صحابۂ کرام کی سنت ہے۔

اور سرکارِ دوعالم  ﷺ  نے فرمایا ’’اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِاَیِّہِمُ اقْتَدَیْتُمْ اِہْتَدَیْتُمْ‘‘ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں، ان میں سے جس کسی کی اقتدا کرو گے ہدایت پر رہو گے۔ لہٰذا سرکارِ دوعالم ا کی میلاد منانے میں کسی قسم کی کوئی خرابی نہیں بلکہ صحابہ کی بھی سنت ہے۔

میلاد النبی کی حقیقت:

سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیں اہل اسلام کے نزدیک محفل میلاد یا جشن میلاد سے مراد فقط حضور رحمت عالم  ﷺ کے ذکر پاک کے لئے اجتماع کرنا ،جس میں آپ کی حیات طیبہ ،کمالات و درجات کا بیان ،آپ کی صورت میں اللہ رب العزت کی عظیم نعمت کا ذکر کرنا ،ولادت کے موضوع پر عجائبات کا تذکرہ ،خوشی میں جلوس نکالنا، مسلمانوں کو دین اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرنا اور نعت خوانی و صدقہ و خیرات کرنا وغیرہ۔

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ میلاد رسول ﷺ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:اِنَّ اَصْلَ الْمَوْلِدِ ہُوَ اِجْتِمَاعُ النَّاسِ وَ قِرَائَۃُ مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ وَ رِوَایَۃِ الْاَخْبَارِ الْوَارِدَۃِ فِیْ مَبْدَئِ اَمْرِ النَّبِیِّ ا وَ مَا وَقَعَ فِیْ مَوْلِدِہٖ مِنَ الْاٰیَاتِ ثُمَّ یُمَدُّ لَھُمْ سِمَاطٌ یَّاکُلُوْنَہٗ وَ یَنْصَرِفُوْنَ مِنْ غَیْرِ زِیَادَۃٍ عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ الْبِدَعِ الْحَسَنَۃِ الَّتِیْ یثاب عَلَیْہَا صَاحِبُہَا لِمَا فِیْہِ مِنْ تَعْظِیْمِ قَدْرِ النَّبِیِّ ا وَ اِظْہَارِ الْفَرْحِ وَ الْاِسْتِبْشَارِ بِمَوْلِدِہِ الشَّرِیْفِ ا۔ محفل میلاد کا اصل یہ ہے کہ لوگ اکٹھے ہو کر تلاوت قرآن کریں اور ان احادیث کا بیان کریں اور سنیں جن میں آپ کی ولادت مبارکہ کا تذکرہ ہے اور پھر شیرینی تقسیم کی جائے۔ یہ اچھے اعمال ہیں، ان پر اجر ہے کیوں کہ اس میں رسالت مآب ا کی قدر و منزلت اور آپ کی آمد پر اظہارِ خوشی ہے۔ (حسن المقصد فی عمل المولد للفتاویٰ، ۲؍۱۸۹)

اسی طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی مولانا نقی علی خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: محفلِ میلاد کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص یا چند آدمی شریک ہو کر خلوصِ عقیدت و محبت حضرت رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ و التحیۃ کی ولادتِ اقدس کی خوشی اور اس نعمت عظمی اعظم نعم الٰہیہ کے شکر میں ذکر شریف کے لئے مجلس منعقد کریں اور حالاتِ ولادتِ با سعادت و رضاعت و کیفیت نزول وحی و حصولِ مرتبۂ رسالت و احوالِ معراج و ہجرت و ارہاصات و معجزات و اخلاق و عادات آنحضرت ا اور اور حضور کی بڑائی اور عظمت جو خدا تعالیٰ نے عنایت فرمائی اور حضور کی تعظیم و توقیر کی تاکید اور وہ خاص معاملات و فضائل و کمالات جن سے حضرت احدیت جل جلالہ نے اپنے حبیب ا کو مخصوص اور تمام مخلوق سے ممتاز فرمایا اور اسی قسم کے حالات و واقعات احادیث و آثار صحابہ و کتب معتبرہ سے مجمع میں بیان کئے جائیں اور اثنائے بیان میں کتاب خوان و واعظ درود پڑھتا جائے اور سامعین و حاضرین بھی درود پڑھیں۔ بعد ازاں ماحضر (شیرینی و غیرہ) تقسیم کریں۔ یہ سب امور مستحسن و مہذب ہیں اور ان کی خوبی دلائل قاطعہ و براہین ساطعہ سے ثابت۔ (اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد و القیام:۳۹)

سرکارِ دوعالم  ﷺ کی ولادت کی خوشی میں ہمیں اپنے گھروں میں چراغاں کرنا، اگر اللہ عزوجل نے صاحب حیثیت بنایا ہے تو اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے نئے کپڑے سلانا، ولادت کی رات شب بیداری اور نوافل و ذکر میں گزارنا، ذکر و درود کی محفلیں منعقد کرنا، لوگوں کو جمع کر کے سرکارِ دوعالم اکے فضائل و کمالات اور وقت ولادت ظہور پذیر ہونے والے عجائبات کا ذکر کرنا، صبح صادق کے وقت کھڑے ہو صلوٰۃ و سلام پڑھنا، ولادت کے دن روزہ رکھنا، صبح کو غسل کرنا، سرمہ لگانا، عطر لگانا، غریبوں، یتیموں، مسکینوں پر فراخ دلی سے خرچ کرنا، آپس میں ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سارے اعمال مستحب اور مستحسن ہیں کہ ان کے کرنے میں ثواب ہی ثواب ہے۔

بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ بارہ ربیع الاول کے موقع پر طرح طرح کے خرافات کرتے ہیں، کچھ لوگ پٹاخے جلاتے ہیں، شور و غوغا کرتے ہیں۔ یہ سراسر گناہ کے کام ہیں۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ’’اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْآ اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ‘‘ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔لہٰذا ایسے کاموں سے پرہیز کرنا ہوگا جو اللہ عزوجل کے غضب کا باعث بنے۔

عید میلاد منانے کے فائدہ :

میرے پیارے آقا  ﷺ کے پیارے دیوانو! رحمت عالم  ﷺ کی میلاد منانے کیبے شمار فوائد اہل علم نے کتابوں میں تحریرکیاہے ہم یہاں بخاری شریف کی ایک روایت تحریر کرتے ہیں ۔

مشہور دشمن رسول ابولہب جو سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کو آپ کی ولادت کی اتنی خوشی ہوئی تھی کہ اس نے اپنی وہ لونڈی جس نے اسے مژدہ سنایا تھا فورا آزاد کردیا ۔

مروی ہے کہ جب اس کی لونڈی ثویبہ نے آکر اس کو بتایا کہ تمھارے مرحوم بھائی عبداللہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے گھر خدا نے فرزند عطافرمایا ہے تو اس عالم مسرت میں لونڈی سے کہاکہ ’’ جا میں تجھے آزاد کرتا ہوں‘‘۔

مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو لہب کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ جہنم میں تمہارا کیا حال ہے …؟ بولا میں نے ثوبیہ کو جو محمد ( ﷺ) کی ولادت کا مژدہ سن کر آزاد کردیا تھا ۔اس کی وجہ سے دوشنبہ کے دن میرے عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے ۔ ( بخاری)

غور کا مقام ہے کہ ایک کافر حضور رحمت عالم  ﷺ کی خوشی مناتا ہے تو اس کے عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے اگر مسلمان حضور نور مجسم ا کی ولادت کی خوشی میں عید میلاد النبی کے جلسے اور جلوس قائم کریں تو ان کو کتنا ثواب ملے گا ۔

لاکھوں سلام

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

شہر یار ارم تاجدار حرم

نوبہار شفاعت پہ لاکھوں سلام

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان

کانِ لعل کرامت پہ لاکھوں سلام

جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا

اس جبین سعادت پہ لاکھوں سلام

جس طرف اٹھ گئی دم میں دم آگیا

اس نگاہ عنایت پہ لاکھوں سلام

پتلی پتلی گلِ قدس کی پتیاں

ان لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام

وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں

اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام

کل جہاں مِلک اور جو کی روٹی غذا

اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

غوث اعظم امام التقیٰ والنقیٰ

جلوۂ شان قدرت پہ لاکھوں سلام

شافعی مالک احمد امامِ حنیف

چار باغ امامت پہ لاکھوں سلام

کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو اور

بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام

مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضا ؔ

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.