أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ الۡـفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَالۡبَـغۡىَ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ وَاَنۡ تُشۡرِكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ میرے رب نے تو صرف بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے، خواہ وہ ظاہر ہوں، خواہ پوشیدہ، اور گناہ کو، اور ناحق زیادتی کو، اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ شریک بناؤ جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور یہ کہ تم الہ کے متعلق ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” آپ کہیے کہ میرے رب نے تو صرف بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے، خواہ دو ظاہر ہوں، خواہ پوشیدہ، اور گناہ کو، اور ناحق زیادتی کو، اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ شریک بناؤ جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور یہ کہ تم الہ کے متعلق ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے “

ان گناہوں کا بیان جو تمام گناہوں کی اصل ہیں : اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں کفار نے جن چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، ان کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام نہیں فرمایا تھا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کن چیزوں کو حرام فرمایا ہے۔ سو فرمایا اللہ تعالیٰ نے فواحش کو اثم (گناہ) کو، ناحق زیادتی کو، شرک کو اور بغیر علم کے اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی بات کہنے کو حرام فرمایا ہے۔ 

فواحش سے مراد ہے کبیرہ گناہ۔ اور اثم سے مراد مطلق گناہ ہے خواہ کبیرہ ہو یا صغیرہ۔ اس کے بعد جن تین چیزوں کا ذکر فرمایا ہے، یعنی ناحق زیادتی، شرک اور بغیر علم کے اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی بات کہنا۔ ہرچند کہ یہ بھی گناہ کبیرہ میں داخل ہیں لیکن چونکہ یہ زیادہ سنگین جرم ہیں اس لیے ان کا خصوصیت کے ساتھ علیحدہ ذکر کیا۔ 

دوسری تفسیر یہ ہے کہ فواحش سے مراد ہے زنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ : اور زنا کے قریب نہ جاؤ بیشک وہ بےحیائی ہے ” (بنی اسرائیل :32)

خواہ ظاہر ہو خواہ پوشیدہ۔ ظاہر سے مراد علی الاعلان بدکاری ہے۔ جس طرح لوگ اجرت دے کر پیشہ ور عورتوں سے بدکاری کرتے ہیں یا جس طرح آج کل کال گرلز اور سوسائٹی گرلز کو کلبوں اور ہوٹلوں سے بک کیا جاتا ہے اور پوشیدہ سے مراد ہے کسی لڑکی یا عورت سے عشق و محبت کے نتیجہ میں خفیہ طریقہ سے یہ کام کیا جائے۔ 

اور اثم سے مراد ہے شراب نوشی اور جوا کھیلنا۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے : ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیہما اثم کبیر : لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ کہئے ان میں بڑا گناہ ہے ” (البقرہ : 219)

بعض اوقات شراب کے نشہ میں انسان دوسروں کی عزت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ان کو گالیاں دیتا ہے اور ان پر تہمت لگاتا ہے اور جوئے کے نتیجہ میں مال حرام کھایا جاتا ہے اور بعض اوقات لڑائی جھگڑا اور مارپیٹ بھی ہوتی ہے۔ سو یہ تمام گناہ اس میں داخل ہیں۔ 

اور ناحق زیادتی سے مراد ہے کسی کا ناحق مال چھین لینا یا کسی کو ناحق قتل کردینا، اور شرک سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی توحید کے منافی یا اس کے خلاف کوئی بات کرنا۔ اور بغیر علم کے اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی بات کرنے سے مراد یہ ہے کہ بغیر علم اور تحقیق کے کوئی عقیدہ بنالینا۔ اور یہ پانچ گناہ تمام گناہوں کی اصل ہیں اور باقی تمام بدعقیدگیاں اور ہر قسم کے صغیرہ اور کبیرہ گناہ ان پانچ گناہوں میں داخل ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 33