أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِيۡنَةَ اللّٰهِ الَّتِىۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ‌ؕ قُلۡ هِىَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا خَالِصَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(اے نبی) آپ کہیے، اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے، اور اس کی دی ہوئی پاک چیزوں کو، آپ کہیے یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن تو خصوصاً ان ہی کے لیے ہیں، ہم جاننے والے لوگوں کے لیے اسی طرح تفصیل سے آیتوں کو بیان کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” (اے نبی) آپ کہیے، اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے، اور اس کی دی ہوئی پاک چیزوں کو، آپ کہیے یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن تو خصوصاً ان ہی کے لیے ہیں، ہم جاننے والے لوگوں کے لیے اسی طرح تفصیل سے آیتوں کو بیان کرتے ہیں “

لباس پہنتے وقت دعا کرنے اور شکر ادا کرنے کے اور شکر ادا کرنے کے متعلق احادیث : اس آیت میں زینت سے مراد لباس ہے : امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ذکر کی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھاؤ اور پیو اور لباس پہنو اور صدقہ کرو بغیر فضول خرچی اور تکبر کے، اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمای : تم جو چاہو کھاؤ اور جو چاہو پہنو، جب تک فضول خرچ یا تکبر نہ ہو (صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب 1 ج 7، ص 43، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ لکھتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں لوگ کعبہ کا برہنہ طواف کرتے تھے اور پاک اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے تب یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ان لوگوں سے فرمائیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے زینت پیدا کی ہے تم خوبصورت لباس پہنو اور اللہ کے رزق میں سے حلال چیزیں کھاؤ۔ (جامع البیان ج 8، ص 15، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

امام ابوداود سلیمان بن اشعث متوفی 275 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے۔ خواہ قمیص ہو یا عمامہ ہو، پھر یہ دعا کرتے : اے اللہ ! تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھے یہ کپڑا پہنایا، میں تجھ سے اس کپڑے کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کپڑے کے شر سے اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 4020، سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1773)

حضرت ام خالد (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ کپڑے آئے ان میں ایک چھوتی اونی چادر تھی۔ آپ نے پوچھا : تمہاری رائے میں اس کا کون زیادہ مستحق ہے ؟ لوگ خاموش رہے۔ آپ نے فرمای : میرے پاس ام خالد کو لاؤ۔ ان کو بلایا گیا تو آپ نے وہ چادر ان کو پہنا دی آپ نے دو بار فرمایا : تم اس کو پرانا کرو اور دوسروں کے لیے چھوڑو۔ (سنن ابو اداود، رقم الحدیث : 4024، صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5845)

لباس کی انواع اور اقسام کے متعلق احادیث : حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام کپڑوں میں قمیص سب سے سے زیادہ پسند تھی۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 4025، سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1768)

حضرت مسور بن مخرمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شیروانیاں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا۔ مخرمہ نے کہا : اے بیٹے مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے چلو میں ان کو لے گیا۔ پھر کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرے لیے بلاؤ۔ میں نے آپ کو بلایا۔ آپ تشریف لائے در آنحالیکہ آپ کے پاس ان شیروانیوں میں سے ایک شیروانی تھی۔ آپ نے فرمایا : میں نے تمہارے لیے اس کو چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 4028، صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5800)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو تہبند میسر نہ ہو وہ شلوار پہنے اور جس شخص کو جوتے میسر نہ ہوں، وہ موزے پہنے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5804)

حضرت معتمر کے والد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) کو زرد رنگ کی اونی ٹوپی پہنے ہوئے دیکھا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5802) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفید ٹوپی پہنتے تھے۔ (المعجم الاوسط ج 7 رقم الحدیث : 5802) ۔ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفید ٹوپی پہنتے تھے۔ (المعجم الاوسط ج 7، رقم الحدیث : 6179، مجعم الزوائد، ج 5، ص 121) حضرت مغیرہ بن شعبہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضاء حاجت کے لیے گئے۔ پھر آپ آئے، میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا۔ آپ نے وضو کیا۔ اس وقت آپ نے شامی کوٹ پہنا ہوا تھا۔ آپ نے کلی کی ناک میں اپنی ڈالا اور چہرہ دھویا۔ پھر آپ اپنی کلائیوں کو آستینوں سے نکالنے لگے۔ وہ آستینیں تنگ تھیں پھر آپ نے کوٹ کے نیچے سے ہاتھوں کو نکال لیا اور کلائیوں کو دھویا اور سر پر اور موزوں پر مسح کیا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5798، صحیح مسلم، رقم الحدیث : 616، سنن النسائی، رقم الحدیث : 123) 

جعفر بن عمرو بن حریث کے والد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما تھے اور آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا اور عمامہ کی ایک طرف (شملہ) کو دو کندھوں کے درمیان ڈالا ہوا تھا (سنن ابو داود، رقم الحدیث : 4077، صحیح مسلم رقم الحدیث : 1359، سنن النسائی، رقم الحدیث : 5345، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 2821 ۔ 3587) 

لباس کے رنگوں کے متعلق احادیث : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سفید لباس پہنو وہ تمہارا بہترین لباس ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو اور بہترین سرمہ اثمد ہے یہ نظر تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔ (سنن ابو داود، رقم الحدیث : 4061 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3566)

حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) متوسط قامت کے تھے۔ میں نے آپ کو سرخ حلہ (ایک قسم کی دو چادریں، ایک بہ طور تہبند باندھی جائے اور ایک بالائی بدن پر لپیٹ لی جائے) میں دیکھا۔ میں نے آپ سے زیادہ حسین کوئی چیز نہیں دیکھی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5842)

حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سرخ حلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ حسین کوئی ذی لمہ (جس کے بال کانوں کی لو سے متجاوز ہوں) نہیں دیکھا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : 2337، سنن ابو داود، رقم الحدیث : 4183، سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1730، سنن النسائی، رقم الحدیث : 5248، مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : 4767)

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے تھے۔ حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) دو سرخ قمیصیں پہنے ہوئے آئے وہ چلتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے اترے اور ان کو اپنی گود میں بٹھا لیا۔ الحدیث۔ (جن احادیث میں سرخ لباس کی ممانعت ہے وہ مرجوح اور ضعیف ہیں یا موول ہیں) ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : 4781، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3600، سنن ابو داود، رقم الحدیث : سنن النسائی، رقم الحدیث : 1412)

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اپنی دارھی کو زرد رنگ سے رنگتے تھے حتی کہ ان کے کپڑے بھی زرد رنگ سے بھرجاتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس رنگ سے رنگتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ کو اس سے زیادہ اور کوئی رنگ پسند نہیں تھا اور آپ اپنے تمام کپڑوں کو رنگتے تھے حتی کہ عمامہ کو بھی۔ (جن احادیث میں زرد لباس کی ممانعت ہے، وہ بھی ضعیف یا موول ہیں) ۔ (سنن ابو داود، رقم الحدیث : 4064، سنن النسائی، رقم الحدیث : 5088 ۔ صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5851، صحیح مسلم، رقم الحدیث : 1187)

حضرت ابورمشہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد (رض) کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف گیا۔ میں نے دیکھا آپ پر دو سبز رنگ کی چادریں تھیں۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 4065، سنن النسائی، رقم الحدیث : 5321، سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2821، صحیح ابن حبان، رقم الحدیث : 5995، مسند احمد، رقم الحدیث : 7131، المعجم الکبیر، ج 22، رقم الحدیث : 721، سنن کبری للبیہقی، ج 8، ص 27)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک صبح کو باہر گئے اور آپ کے اوپر سیاہ رنگ کی اونی چادر تھی۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2822 ۔ صحیح مسلم، رقم الحدیث : 2081 ۔ سنن ابوداود، رقم الحدیث : 4032)

اجلے، صاف اور عمدہ لباس پہننے کے متعلق احادیث : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی تکبر ہو، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک شخص نے کہا : ایک آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کے کپرے اچھے ہوں اور اس کی جوتی اچھی ہو، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک شخص نے کہا : ایک آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جوتی اچھی ہو۔ آپ نے فرمایا : اللہ جمیل (حسین) ہے اور جمال سے محبت کرتا ہے۔ تکبر حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : 91 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2006 ۔ سنن ابوداود رقم الحدیث : 4091 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 59 ۔ شعب الایمان، ج 5، رقم الحدیث : 6192)

امام احمد کی روایت میں ہے اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں اور میرے سر میں تیل لگا ہوا ہو اور میری جوتی نئی ہو۔ اس نے اور بھی کئی چیزیں ذکر کیں حتی کہ اپنے چابک کی ڈوری کا بھی ذکر کیا اور پوچھا یا رسول اللہ ! کیا یہ چیزیں تکبر سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں یہ جمال ہے اور بیشک اللہ جمیل ہے اور جمال سے محبت کرتا ہے۔ لیکن تکبر حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ (مسند احمد، ج 2، رقم الحدیث : 3789، طبع جدید، دار الفکر، شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد، ج 4، رقم الحدیث : 3789، طبع دار الحدیث، قاہرہ، 1416 ھ)

ابوالاحوص کے والد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ نے مجھے گھٹیاں کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ میں نے عرض کیا : ہاں یارسول اللہ ! میرے پاس ہر قسم کا مال ہے۔ (دوسری روایت میں ہے : میرے پاس اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام ہر قسم کا مال ہے) آپ نے فرمایا جب اللہ نے تمہیں مال دیا ہے تو تم پر اس کا اثر ظاہر ہونا چاہیے۔ (سنن النسائی، رقم الحدیث : 5239، 5238، 5309 ۔ سنن ابوداود، رقم الحدیث، 4063 ۔ شعب الایمان، ج 5، رقم الحدیث : 6197)

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2828 ۔ مسند احمد، ج 7، رقم الحدیث : 19954، دار الفکر، طبع جدید)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے بال غبار آلود اور بکھرے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا : کیا اس کو کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کے ساتھ یہ اپنے بالوں کو سنوار سکے ؟ ایک اور شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ نے فرمایا : کیا اس شکؤ کو پانی میسر نہیں ہے جس سے یہ اپنے کپڑوں کو دھوسکے۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 4062 ۔ س شعب الایمان، ج 5، رقم الحدیث : 6224)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام صاف ستھرا ہے سو تم صاف ستھرے رہو، کیونکہ جنت میں صرف صاف ستھرے لوگ داخل ہوں گے۔ (المعجم الاوسط، ج 5، رقم الحدیث : 4890) (اس کی سند ضعیف ہے) 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں گئے۔ جس وقت ہم ایک درخت کے نیچے ٹھہرے ہوئے تھے تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ لیا۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! سائے کی طرف آجائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے۔ اس وقت مجھے دسترخوان میں ایک چھوٹی سی کنکری ملی۔ آپ نے پوچھا یہ تم کو کہاں سے ملی ؟ پھر آپ نے کوئی بات ذکر کی۔ پھر ایک شخص چلا گیا جس نے دو پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا : کیا اس کے پاس ان دو کپڑوں کے سوا اور کوئی کپڑا نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کے دو کپڑے صندوق میں رکھے ہوئے ہیں جو میں نے اس کو پہنائے تھے۔ آپ نے فرمایا : اس کو بلاؤ اور اس سے کہو کہ وہ دو کپڑے پہن لے۔ اس نے جا کر وہ کپڑے پہن لیے۔ (الحدیث) امام بزار نے اس حدیث کو متعدد اسانید سے روایت کیا ہے جن میں سے ایک کی سند صحیح ہے۔ (مسند البزار، رقم الحدیث : 2964، 2963، 2962)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک کپڑا پہن کر نما زپڑھنے کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمای : کیا تم میں سے ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں ؟ پھر ایک شخص نے حضرت عمر (رض) سے سوال کیا تو حضرت عمر نے کہا : جب اللہ نے وسعت دی ہے تو وسعت کو اختیار کرو۔ (الحدیث) (صحیح البخاری، رقم الحدیث، 365)

محمد بن سیرین نے کہا : تمیم نے ایک ہزار درہم کی چادر خریدی جس کو پہن کر وہ نماز پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج 8، رقم الحدیث : 4965)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے صحابہ میں سے ایک شخص کو سات سو درہم کا لباس خرید کر پہنایا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج 8، رقم الحدیث : 4966)

قیمتی اور معمولی لباس پہننے کی احادیث میں تطبیق : بعض احادیث میں خوب صورت لباس نہ پہننے اور معمولی کپڑے پہننے کی ترگیب دی گئی ہے۔ ہم پہلے وہ احادیث بیان کریں گے اور پھر ان کی توجیہات ذکر کریں گے۔ 

سہل بن معاذ بن انس جہنی اپنے والد رضٰ اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کے لیے تواضع کرتے ہوئے (نہایت قیمتی) لباس کو ترک کردیا، حالانکہ وہ اس پر قادر تھا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو لوگوں کے سامنے بلائے گا حتی کہ اس کو اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے حلوں میں سے جس حلہ کو چاہے پہن لے۔ (یہ حدیث حسن ہے) ۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2489 ۔ سنن ابوداود، رقم الحدیث : 4033 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3562، مسند احمد، ج 7، رقم الحدیث : 19779 ۔ المستدرک، ج 1، ص 61، ج 4 ص 184 ۔ شعب الایمان، ج 5، رقم الحدیث : 6148)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وآلہ وسلم کے ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمای : جس شخص نے قدرت کے باوجود خوبصورت لباس کو تواضعاً ترک کردیا اللہ اس کو عزت کے حلے پہنائے گا۔ (یہ حدیث ضعیف ہے) ۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 4778)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : اللہ عزوجل اس شخص سے محبت کرتا ہے جو روز مرہ استعمال کے عام کپڑے پہنتا ہے اور اس کی پروا نہیں کرتا کہ اس نے کیا پہنا ہے۔ اس حدیث کی سند میں ابولہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (شعب الایمان، رقم الحدیث : 6176)

ان روایات کا ایک جواب یہ ہے کہ جن احادیث میں عمدہ اور قیمتی کپڑے پہننے کی ترغیب دی گئی ہے، وہ صحیح السند ہیں اور یہ احادیث حسن یا ضعیف ہیں۔ اس لیے یہ روایات ان احادیث سے متصادم ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اسلام کا منشاء اعتدال اور میانہ روی کی ہدایت دینا ہے۔ انسان نہ تو ایسا کرے کہ اچھے اور صاف ستھرے لباس پر قدرت کے باجود پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنے اور نہ ایسا کرے کہ نہایت فاخرانہ اور طمطمراق والی پوشاک پہنے۔ نہ اس قدر گھٹیاں اور معمولی کپڑے پہنے جس سے اس کی خساست اور دناءت ظاہر ہو اور نہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر قیمتی لباس پہنے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ مسلمان کی قلبی واردات اور دلی کیفیات بدلتی رہتی ہیں۔ کبھی اس پر صبر اور زہد کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ روز مرہ کے معمولی کپڑے پہنتا ہے اور کبھی اس پر اللہ کی نعمتوں کے اظہار اور شکر کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ عمدہ اور قیمتی لباس پہنتا ہے۔ ہم جس آیت کی تفسیر کررہے ہیں۔ اس میں چونکہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی زینت کے اظہار کا حکم ہے، اس لیے عمدہ اور قیمتی لباس کے سلسلے میں مزید چند احادیث بیان کر رہے ہیں۔

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی 458 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن الحنظلہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے بھائیوں کے سردار ہو سو تم اپنی جوتیوں کو ٹھیک کرو اور حسین لباس پہنو۔ (الحدیث) (شعب الایمان، ج 5، رقم الحدیث : 604) ۔ 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے وہب بن کیسان نے بتایا، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چھ اصحاب کو دیکھا جو خز (ریشم اور اون کا مخلوط لباس پہنتے تھے۔ (شعب الایان، ج 5، رقم الحدیث : 6212)

مالک بن انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر کے تمام فقہاء کو حسین لباس پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ (شعب الایمان، ج 5، رقم الحدیث : 6220)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی میلے کپڑوں میں نہیں دیکھا۔ آپ کبھی کبھی تیل لگانا پسند کرتے تھے اور سر میں کنگھی کرتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ میلے کپڑوں اور پراگندہ بالوں کو ناپسند کرتا ہے۔ (شعب الایمان، ج 5، رقم الحدیث : 6226)

لباس پہننے کے شرعی اور فقہی احکام : علامہ سید محمد ابن ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں : لباس پہننا بعض صورتوں میں فرض ہے، بعض میں واجب، بعض میں مستحب، بعض میں مباح، بعض میں مکروہ اور بعض صورتوں میں حرام ہے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے : 

فرض : لباس کی جتنی مقدار شرم گاہ چھپانے کے لیے ضروری ہو اتنی مقدار کا لباس پہننا فرض ہے۔ (مرد کی شرمگاہ ناف سے گھٹنے تک ہے اور عورت کا تمام بدن شرم گاہ ہے سوائے چہرہ، ہاتھ اور پیروں کے، محارم کے سامنے چہرے، ہاتھ اور پیروں کو ظاہر کرنا جائز ہے اور اجنبی مردوں کے سامنے بلا ضرورت شرعی ان کا ظاہر کرنا جائز نہیں ہے)

واجب : سردی اور گرمی کے اثرات سے محفوط کرنے کے لیے جس قدر لباس پہننا ضروری ہو، اس کا پہننا واجب ہے۔ 

مستحب : اظہار زینت کے لیے قدر زائد اور خوبصورت لباس پہننا مستحب ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے کے اوپر اس کی نعمت کے آثار دکھائی دیں۔ اسی طرح سفید، سیاہ اور سبز رنگ کا لباس پہننا مستحب ہے۔ 

مباح : جمعہ اور عید کے مواقع پر اور تقریبات اور محافل میں قیمتی اور نفیس لباس پہننا مباح ہے۔ اسی طرح رنگنے کے بعد حیوانوں اور درندوں کی کھالوں کا لباس پہننا بھی مباح ہے۔ 

مکروہ : ہر وقت قیمتی اور نفیس پوشاک پہننا مکروہ ہے۔ کیونکہ اس سے ضرورت مندوں کے دلوں میں بغض پیدا ہوتا ہے اور اس میں اسراف ہے اور تکبر کا خطرہ ہے۔ تکبر یہ ہے کہ وہ قیمتی اور فاخرانہ لباس پہن کر معمولی کپڑے پہننے والوں کو کمتر اور حقیر جانے۔ 

حرام : ریشم کا لباس مردوں کے لیے حرام ہے البتہ اگر کسی کپڑے پر چار انگل کی مقدار ریشم کے بیل بوتے بنے ہوئے ہو تو پھر جائز ہے۔ اسی طرح اگر چار انگل کی مقدار سونے کا کام کیا ہوا ہو تو پھر بھی جائز ہے اور اس کی اصل یہ حدیث ہے : حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے جابیہ میں خطبہ دیتے ہوئے رمایا : نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ریشم کے پہننے سے منع فرمایا سوا دو یا تین یا چار انگلیوں کی مقدار کے۔ (صحیح مسلم، لباس : 15 (2069) 5318، سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1727 ۔ سنن کبری للنسائی، رقم الحدیث : 963، صحیح ابن حبان، رقم الحدیث : 5441، مسند احمد، ج 1، رقم الحدیث : 365)

حضرت اسماء (رض) نے کہا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جبہ ہے۔ انہوں نے ایک طالسی کسروانی جبہ نکالا جس کی آستینوں اور گریبان پر ریشم کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ حضرت اسماء نے کہا یہ جبہ حضرت عائشہ کی وفات تک ان کے پاس تھا اور جب ان کی وفات ہوئی تو پھر میں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جبہ کو پہنتے تھے۔ ہم اس جبہ کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو پلاتے ہیں اور اس جبہ سے ان کے لیے شفاء طلب کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 4054 ۔ صحیح مسلم، لباس : 10 (2069) 5310 ۔ سنن کبری للنسائی ج 7، رقم الحدیث : 9588، رد المحتار، ج 5، ص 224 ۔ 223 ۔ ملخصاً و موضحاً ، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

زینت اور تجمل کے متعلق مفسرین مذاہب اربعہ کی تحقیق : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ زیر بحث آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یہ آیات عمدہ اور نفیس کپڑوں کے پہننے پر دلالت کرتی ہیں۔ عید، جمعہ، لوگوں سے ملاقات اور رشتہ داروں کی ملاقات کے وقت قیمتی اور خوبصورت لباس پہننا چاہی۔ امام ابو العالیہ کہتے ہیں کہ مسلمان جب ایک دوسرے کی زیارت کرتے تھے تو خوبصورت لباس پہنتے تھے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب نے مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! اگر آپ جمعہ اور وفود سے ملاقات کے وقت پہننے کے لیے یہ حلہ خرید لیتے تو اچھا ہوتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کپڑے کو وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لباس کے خوبصورت ہونے کی بناء پر اس سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس کے ریشمی ہونے کی وجہ سے منع فرمایا تھا۔ حضرت تمیم داری (رض) نے ایک ہزار درہم کا ایک حلہ خریدا جس کو پہن کر وہ نماز پڑھتے تھے۔ اور مالک بن دینار عدن کی ایک نہایت قیمتی پوشاک منگا کر پہنتے تھے۔ امام احمد بن حنبل ایک دینار کا لباس خرید کر پہنتے تھے۔ یہ حضرات کب قیمتی کپڑوں سے اعراض کرکے موٹے جھوٹے کپڑوں کو ترجیح دینے والے تھے ؟ اور ” لباس التقوی ذالک خیر ” کا معنی معمولی اور گھٹیا کپڑے پہننا نہیں ہے، ورنہ یہ نفوس قدسیہ لباس التقوی کو ترک کرنے والے نہیں تھے، بلکہ یہی لوگ اصحاب علم، ارباب معرفت اور اہل تقوی تھے اور ٹاٹ اور گاڑھا پہننے والے دوسرے لوگ تو فقط اہل دعوی ہیں اور ان کے دل تقوی سے خالی ہیں۔ خالد بن شوذب بیان کرتے ہیں کہ میں حسن بصری کے پاس گیا، ان سے فرقد ملنے کے لیے آئے۔ حسن بصری نے ان کی چادر دیکھ کر کہا اے ام فرقد کے بیٹے ! اس چادر میں نہیں ہے، نیکی سینے میں ہوتی اور اس کی تصدیق عمل سے ہوتی ہے، اسی طرح معروف کرخی کے بھتیجے ابومحمد، ابوالحسن کے پاس اونی جبہ پہن کرگئے، ابوالحسن نے ان سے کہا : اے ابومحمد آیا تم نے اپنے دل کو صوفی بنایا ہے یا اپنے جسم کو ؟ اپنے دل کو صاف رکھو خواہ لباس کسی قسم کا پہنو ! علامہ ابوالفرج ابن الجوزی (رح) نے کہا : میں معمولی اور پیوند لگا ہوا لباس چار وجہ سے ناپسند کرتا ہوں : 

1 ۔ یہ سلف صالحین کا لباس نہیں ہے اور سلف صالحین بلا ضرورت لباس میں پیوند نہیں لگاتے تھے۔

2 ۔ اس قسم کے لباس سے غربت کا اظہار ہوتا ہے، حالانکہ انسان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے آثار کو ظاہر کرے۔ 

3 ۔ اس قسم کا لباس پہننے سے زہد کا اظہار ہوتا ہے حالانکہ ہمیں زہد کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔ 

4 ۔ اس قسم کا لباس عموماً ان لوگوں کا شعار ہے جو ظاہر شریعت سے خارج ہیں اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، اس کا شمار اسی قوم سے ہوتا ہے۔ 

علامہ طبری نے کہا ہے کہ جس شخص نے بالوں اور اون کے لباس کو سوتی لباس کے حصول کے باوجود ترجیح دی، اس نے خطاء کی، اسی طرح اس شخص نے بھی خطا کی جس نے گوشت ترک کرکے دال اور سبزی کھانا شروع کردی۔ (یہاں اون کے کپڑوں سے یہ مراد ہے کہ بعض لوگ صوفیت کا اظہار کرنے کے لیے اون والی کھال کا لباس بنا لیتے تھے، جس کی ہیئت کذائی آج کل کے گاڑھے اور ٹاٹ سے بھی زیادہ بد نما ہوتی تھی۔ آج کل کپڑے کی صنعت بہت ترقی کرچکی ہے اور اون کو متعدد کیمیائی مراحل سے گزار کر اس کا نہایت صاف شفاف اور قیمتی لباس تیار کیا جاتا ہے۔ ایسا لباس اس حکم میں داخل نہیں ہے، (سعیدی غفرلہ) بشر بن حارث سے اون پہننے کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کو برا لگا اور ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے انہوں نے کہا شہروں میں اونی کپڑے پہننے سے میرے نزدیک زرد رنگ کا اور ریشم اور اون کا مخلوط کپڑا پہننا بہتر ہے۔ 

علامہ ابولافرج نے کہا سلف صالحین متوسط کپڑوں کا لباس پہنتے تھے، بہت قیمتی لباس پہنتے تھے نہ بہت گھٹیاں کپڑے پہنتے تھے اور جمعہ، عید اور رشتہ داروں سے ملاقات کے وقت بہت عمدہ لباس پہنتے تھے اور بہت معمولی اور حقیر کپرے پہننا فقر اور زہد کے اظہار کو متضمن ہے اور یہ ایک طرح سے اللہ تعالیٰ سے شکایت کرنا ہے اور اس قسم کے لباس سے لباس پہننے والے کی تحقیر ہوتی ہے اور یہ تمام باتیں مکروہ اور ممنوع ہیں۔ 

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ عمدہ لباس پہننا خواہش نفس کی پیرو ہے، اور ہمیں نفسانی خواہشوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے، نیز اس میں مخلوق کو اپنی زیبائش دکھانا ہے، حالانکہ ہمیں یہ حک دیا گیا ہے کہ ہمارے تمام افعال اللہ کے لیے ہوں مخلوق کے لیے نہ ہوں، اس کا جواب یہ ہے کہ نفس کی ہر خواہش مذموم نہیں ہے اور نہ مخلوق کے لیے ہر زینت مکروہ ہے۔ اس چیز سے اس وقت ممانعت کی جائے گی جب شریعت نے اس سے منع کیا ہو یا اس کی بنیاد دین اور عبادات میں ریاکاری ہو۔ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ خوبصورت دکھائی دے اور اس چیز میں شریعت نے اس پر ملامت نہیں کی۔ اسی وجہ سے بالوں میں کنگھی کی جاتی ہے اور آئینہ دیکھا جاتا ہے اور عمامہ درست کیا جاتا ہے اور اندر معمولی کپڑے اور اوپر قیمتی پوشاک پہنی جاتی ہے اور ان میں سے کوئی چیز مکروہ اور مذموم نہیں ہے اور مکحول نے حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے یہ روایت کیا ہے کہ کچھ صحابہ دروازہ کے باہر حضور کے منتظر تھے، آپ ان سے ملنے کے لیے جانا چاہتے تھے، گھر میں ایک چھاگل میں پانی تھا آپ پانی میں دیکھ کر اپنی داڑھی اور بالوں کو درست کرنے لگے۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ بھی ایسا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ہاں جب کوئی شخص اپنے بھائیوں سے ملنے جائے تو اپنے آپ کو تیار کرکے جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جمیل (خوب رو) ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے اور امام مسلم نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی تکبر ہو، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے کہا : ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ تکبر، حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ اس معنی میں بکثرت احادیث ہیں جو صفائی اور حسن و جمال کے حصول پر دلالت کرتی ہیں۔ حضرت خالد بن معدان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنگھی، آئینہ، تیل، مسواک اور سرمہ کو ساتھ لے کر سفر میں جاتے تھے۔ امام ابن سعد نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سر میں بہت تیل لگاتے تھے اور پانی سے داڑھی کو درست کرتے تھے اور حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک سرمہ دانی تھی اور آپ سونے سے قبل ہر آنکھ میں تین بار سرمہ لگاتے تھے۔ (الجامع لاحکام القرآن، جز 7، ص 178 ۔ 176 ۔ مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی شافعی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : اس آیت میں زینت کی تفسیر میں دو قول ہیں : 

1 ۔ حضرت ابن عباس (رض) اور اکثر مفسرین کا قول یہ ہے کہ زینت سے مراد لباس ہے جس سے انسان اپنی شرم گاہ کو چھپا سکے۔ 

2 ۔ زینت سے مراد عام ہے اور اس میں زینت کی تمام اقسام شامل ہیں۔ اس میں بدن کو صاف کرنا، سواریاں رکھنا اور انواع و اقسام کے زیورات شامل ہیں اور اگر مردوں پر سونے، چاندی اور ریشم کی حرمت کے متعلق نص نہ آئی ہوتی تو وہ بھی اس عموم میں شامل ہوتے اور پاکیزہ رزق سے مراد بھی عام ہے اس میں تمام پسندیدہ اور لذیذ کھانے پینے کی چیزیں داخل ہیں اور اس میں ازواج سے لذت اندوزی اور خوشبو لگانا بھی داخل ہے 

روایت ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں گوشت نہ کھاؤں ! آپ نے فرمای : نرم روی اختیار کرو، کیونکہ مجھے جب گوشت مل جاتا ہے تو میں گوشت کھاتا ہوں اور اگر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں کہ وہ مجھے ہر روز گوشت کھلائے تو وہ ایسا کرے گا۔ حضرت عثمان بن مظعون نے کہا میرے دل میں آتا ہے کہ میں خوشبو نہ لگاؤں ! آپ نے فرمایا : سختی نہ کرو۔ کیونکہ جبرئیل نے مجھے کبھی کبھی خوشبو لگانے کا حکم پہنچایا ہے اور یہ کہا ہے کہ جمعہ کے دن خوشبو لگانے کو ترک نہ کریں پھر آپ نے فرمایا : اے عثمان ! میری سنت سے اعراض نہ کرو، کیونکہ جس شخص نے میری سنت سے اعراض کیا اور توبہ سے پہلے مرگیا تو فرشتے اس کا چہرے میرے حوض سے پھیر دیں گے۔ یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ شریعت اسلامیہ میں زینت کی تمام اقسام جائز ہیں اور ان سے متصف ہونے کی اجازت ہے۔ ماسوا ان چیزوں کے جن کی کسی دلیل سے ممانعت ہو، اسی لیے ہم نے کہا کہ قل من حرم زینۃ اللہ میں زینت کی تمام اقسام داخل ہیں (تفسیر کبیر، ج 5، ص 231 ۔ 230 ۔ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت 1415 ھ)

علامہ عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں : زینت کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ 

1 ۔ زینت سے مراد کپرے ہیں اور اس کی تفسیر میں تین قول ہیں : 

(الف) حضرت ابن عباس (رض) ، حسن بصری اور علماء کی ایک جماعت نے کہا اس سے یہ مراد ہے کہ کپڑے پہن کر طواف کیا کرو۔ 

(ب) ۔ مجاہد اور زجاج وغیرہ نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ نماز میں شرمگاہ کو ڈھانپا جائے۔ 

(ج) ۔ علامہ ماوردی نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ جمعہ اور عید وغیرہ میں خوبصور اور دیدہ زیب لباس پہنا جائے۔ 

2 ۔ ابو رزین نے کہا زینت سے کنگھی وغیرہ کرنا مراد ہے۔ (زاد المسیر، ج 2، ص 187، مطبوعہ مکتب اسلامی، بیروت)

علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی 370 ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : خذوا زینتکم عند کل مسجد یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسجد میں جانے کے لیے زینت والا لباس پہننا مستحب ہے اور روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ اور عید میں اس کو میرے لیے مستحب کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن، ج 3، ص 33، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور، 1400 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں : قرآن مجید میں ہے خذوا زینتکم عند کل مسجد بعض مفسرین نے یہاں زینت سے خوبصورت لباس مراد لیا ہے۔ کیونکہ اس لفظ سے یہی معنی متبادر ہے۔ امام باقر (رض) کی طرف بھی یہی تفسیر منسوب ہے۔ روایت ہے کہ جب امام حسن (رض) نماز پڑھنے جاتے تو نہایت عمدہ لباس پہنتے۔ ان سے کہا گیا کہ اے ابن رسول اللہ ! آپ اس قدر عمدہ لباس کیوں پہنتے ہیں ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے تو میں اپنے رب کے لیے جمال اختیار کرتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ زینت سنت ہے واجب نہیں ہے۔ (روح المعانی، ج 8، ص 109، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

قل من حرم زینۃ اللہ (الایہ) کی تفسیر میں علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں : 

روایت ہے کہ جس وقت حضرت حسین (رض) شہید ہوئے تو انہوں نے خز (ریشم اور اون کا مخلوط کپڑا) کا جبہ پہنا ہوا تھا۔ اور حضرت علی (رض) نے جب حضرت ابن عباس (رض) کو خوارج کی طرف بھیجا تو انہوں نے سب سے افضل کپڑے پہنے، سب سے اچھی خوشبو لگائی اور سب سے اچھی سواری پر سوار ہوئے اور جب خوارج نے ان کو دیکھ کر یہ کہا کہ آپ ہم میں سب سے افضل ہیں اور آپ متکبرین کا لباس پہن کر اور ان کی سواری پر بیٹھ کر آئے ہیں تو حضرت ابن عباس نے یہ آیت پڑھی : قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ اور حق بات یہ ہے کہ جس زینت کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں ہے وہ اس آیت کے عموم میں داخل ہے اور اس کے استعمال میں کوئی توقف نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ اس میں تکبر کا دخل ہو۔ 

روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہزار درہم کی چادر اوڑھ کر تشریف لے گئے، اور امام ابوحنیفہ (رض) چار سو دینار کی چادر اوڑھتے تھے اور اپنے اصحاب کو بھی اس کا حکم دیتے تھے اور امام محمد بھی بہت قیمتی لباس پہنتے تھے اور فرماتے تھے میں اس لیے زیب وزینت کے ساتھ رہتا ہوں کہ میری بیویاں کسی اور کی زیب وزینت کی طرف نہ دیکھیں۔ اور فقہاء نے یہ تصریح کی ہے کہ خوبصورت لباس پہننا مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو کوئی نعمت دیتا ہے تو وہ یہ چاہتا ہے کہ اس بندے پر اس نعمت کے آثار نظر آئیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ کیا حضرت عمر (رض) پیوند لگی ہوئی قمیص نہیں پہنتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی حکمت یہ تھی کہ حضرت عمر (رض) کے عمال ان کی اتباع کرتے تھے اور یہ خدشہ تھا کہ اگر آپ نے قیمتی لباس پہنا تو آپ کے عمال بھی قیمتی لباس پہنیں گے اور اگر ان کے پاس پیسے نہ ہوئے تو پھر وہ لوگوں سے یا اموال مسلمین سے ناجائز طور پر پیسے حاصل کریں گے۔ (روح المعانی ج 8، ص 111، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اشیاء میں اباحت کے اصل ہونے کی تحقیق : اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز جو مسلمانوں کے لیے زینت اور نفع کے حصول کا باعث ہو، وہ حلال ہے۔ ماسوا اس کے کہ اس کی حرمت یا کراہت پر قرآن اور سنت میں کوئی نص موجود ہو، اور اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ جس چیز کے حصول میں مسلمانوں کے لیے ضرر ہو، اس کا ترک کرنا واجب ہے کیونکہ اس کے ترک کرنے میں ہی مسلمانوں کا نفع ہے اور موجب ضرر اشیاء کی حرمت پر یہ آیت بھی دلالت کرتی ہے : ” ولا تلقوا بایدیکم الی الہلکۃ : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ” (البقرہ : 195)

اس آیت سے یہ قاعدہ بھی معلوم ہوا کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے یعنی تمام کاموں کا کرنا اصل میں جائز اور مباح تھا پھر جن کاموں کی قرآن اور حدیث میں ممانعت آگئی، وہ ممنوع ہوگئے اور باقی تمام کام اپنی اصل پر جائز رہے۔ مثلاً پہلے شراب پینا اور جوا کھیلنا مباح تھا۔ اسی طرح پہلے چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح کرنا مباح اور جائز تھا اور جب ان کاموں کی ممانعت شریعت میں آگئی تو یہ کام ممنوع ہوگئے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں : تحریر (از علامہ ابن ہمام) میں یہ تصریح ہے کہ جمہور احناف اور شوافع کا مختار مذہب یہ ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے۔ (التحریر مع شرحہ التیسیر، ج 1، ص 172، مطبوعہ مکتبہ المعارف، ریاض) اور علامہ ابن ہمام کے شاگرد علامہ قاسم نے بھی ان کی اتباع کی ہے اور ہدایہ کی فصل حداد میں بھی مذکور ہے۔ اباحت اصل ہے۔ (ھدایہ اولین، ص 428 ۔ مطبوعہ مکتبہ شر کہ علمیہ، ملتان) اور قاضی خان نے الحظر والاباحۃ کے اوائل میں لکھا ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے۔ (فتاوی قاضی خاں علی ھامش الہندیہ، ج 3، ص 400، مطبوعہ مطبعہ امیریہ کبری بولاق، مصر، 11310) اور تحریر کی شرح میں مذکور ہے کہ یہ بصرہ کے معتزلہ، بہ کثرت شافعیہ اور اکثر حنفیہ خصوصا عراقیوں کا قول ہے اور امام محمد نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ایک شخص کو کسی نے کہا مردار کھاؤ یا شراب پیو، ورنہ میں تم کو قتل کردوں گا اور اس نے اس شخص کا کہا نہ مانا اور اس شخص نے اس کو قتل کردیا تو مجھے یہ خدشہ ہے کہ وہ گنہ گار ہوگا، کیونکہ مردار کھانا اور شراب پینا صرف اللہ کے منع کرنے سے حرام ہوا ہے۔ اس عبارت میں امام محمد نے اباحت کو اصل قرار دیا ہے اور حرمت کو ممانعت کے عارض ہونے کی وجہ سے مشروع قرار دیا ہے۔ (تیسری التحریر، ج 2، ص 161، مطبوعہ ریاض) اور شیخ اکمل الدین نے اصول بزدوی کی شرح میں لکھا ہے کہ استیلاء کفار کے باب میں شارح نے جو یہ لکھا ہے کہ اباحت معتزلہ کی رائے ہے (درمختار علی ہامش رد المحتار، ج 3، ص 244) اس پر اعتراض ہے۔ (رد المحتار، ج 1، ص 72، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1407 ھ)

نیز علامہ ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں : شارح (صاحب درمختار) کا یہ کہنا کہ اباحت معتزلہ کی رائے ہے کتب اصول کے مخالف ہے، کیونکہ علامہ ابن ہمام نے تحریر میں لکھا ہے کہ جمہور احناف اور شوافع کا یہ مذہب ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے اور اصول بزدوی کی شرح میں علامہ اکمل الدین نے فرمایا ہے ہمارے اکثر اصحاب اور اکثر اصحاب شافعی کا مذہب یہ ہے کہ جن کاموں کے متعلق یہ جائز ہے کہ شریعت ان کے مباح ہونے کا حکم دے یا ان کے حرام ہونے کا حکم دے وہ تمام کام احکام شرع وارد ہونے سے پہلے اپنی اصل پر مباح ہیں۔ حتی کہ جس شخص تک شریعت نہ پہنچی ہو اس کے لیے مباح اور جائز ہے کہ وہ جو چاہے کھائے۔ امام محمد نے کتاب الاکراہ میں اسی طرح اشارہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے فرمایا مردار کھانا اور شراب پینا صرف شرعی ممانعت کی وجہ سے حرام ہے۔ پس انہوں نے اباحت کو اصل قرار دیا ہے اور حرمت کو عارضہ ممانعت کی وجہ سے مشروع قرار دیا ہے۔ جبائی (معتزلی) ابوہاشم اور غیر مقلدین کا بھی یہی قول ہے اور ہمارے بعض اصحاب اور بعض اصحاب شافعی اور معتزلہ بغداد کا مذہب یہ ہے کہ اشیاء میں اصل ممانعت ہے اور اشاعرہ اور عام محدثین کا مذہب یہ ہے کہ اشیاء میں اصل توقف ہے۔ حتی کہ جس شخص تک شرعی احکام نہ پہنچے ہوں وہ کسی چیز کو نہ کھائے اگر اس نے کھایا تو اس کے فعل کو نہ حلال کہا جائے گا نہ حرام۔ (رد المحتار، ج 3، ص 244، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

قاضی ابوالخیر عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی 685 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ کھانے پینے اور پہننے کی چیزوں اور انواع تجملات میں اصل اباحت ہے۔ (انوار التنزیل مع الکازرونی، ج 3، ص 17، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1416 ھ)

قرآن مجید کی زیر بحث آیت کے علاوہ حسب ذیل حدیث سے بھی اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گھی، پنیر اور پوستین کے متعلق سوال کیا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس چیز کو اللہ نے کتاب میں حلال کردیا وہ حلال ہے اور جس چیز کو اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کردیا وہ حرم ہے۔ اور جس چیز سے اللہ نے سکوت فرمایا وہ معاف ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1732 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3367 ۔ المستدرک ج 4 ص 115)

ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی 1014 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ (مرقات، ج 8، ص 193، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ، ملتان، 1390 ھ)

قاضی ابوبکر ابن العربی المالکی المتوفی 543 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت سلمان کا قول ہے لیکن اس کا معنی حدیث صحیح سے ثابت ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں چند چیزوں کا حکم دیا ہے ان پر عمل کرو اور چند چیزوں سے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرو۔ اور اس نے اپنی رحمت سے چند چیزوں سے سکوت فرمایا ان کے متعلق سوال نہ کرو۔ (سنن کبری للبیہقی، ج 10، ص 13 ۔ سنن دار قطنی، ج 4، رقم الحدیث : 4350)

اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی چیز کا حک دیں تو اس کی تعمیل کرنے پر بھی اتفاق ہے اگرچہ اس کی صفت میں اختلاف ہے کہ وہ امر واجب ہے یا مستحب۔ اور جب کسی چیز سے منع فرمائیں تو اس سے اجتناب پر بھی اتفاق ہے اگرچہ اس کی صفت میں اختلاف ہے کہ وہ مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی اور جس چیز سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سکوت فرمائیں اس کے متعلق دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اصل میں مباح ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ اصل میں موقوف ہے۔ (عارضۃ الاحوذی، ج 7، ص 229، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

معمولات اہل سنت کا جواز اور استحسان : جب یہ واضح ہوگیا کہ تمام کاموں میں اباحت اصل ہے اور جس چیز کے عدم جواز یا کراہت پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے اس کام کو کرنا بلاکراہت جائز ہے۔ اس اصول پر اہل سنت کے تمام معمولات جائز ہیں مثلا بغیر تعیین شرعی کی نیت کے سال کے مختلف ایام میں میلاد شریف منعقد کرنا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل اور آپ کی سیرت کا بیان کرنا، خلفاء راشدین اور اہل بیت اطہار کے ایام شہادت اور وفات میں ان کا تذکرہ کرنا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب اور اہل بیت کو قرآن خوانی اور طعام کے صدقہ کا ثواب پہنچانا۔ اسی طرح اولیاء کرام کے ایام وصال میں ان کا تذکرہ کرنا اور ان کو عبادات اور طعام کے صدقہ کا ثواب پہنچانا۔ ہرچند کہ خصوصیت کے ساتھ یہ کام عہد رسالت میں نہیں کیے گئے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کاموں سے منع نہیں فرمایا اور یہ کام اسلام کے کسی حکم سے متصادم نہیں ہیں اس لیے یہ اپنی اصل پر مباح ہیں اور حسن نیت سے موجب ثواب اور باعث خیر و برکت ہیں۔ عہد صحابہ اور تابعین میں اس کی بہت مثالیں ہیں۔ حضرت عمر (رض) کے مشورہ سے حضرت ابوبکر اور دیگر اکابر صحابہ کا قرآن کریم کو ایک مصحف میں جمع کرنا، حضرت عمر (رض) کا تراویح کو جماعت سے پڑھوانے کا اہتمام کرنا اور اس کو بدعت حسنہ قرار دینا، حضرت عثمان (رض) کا قرآن مجید کی قرات کو باقی لغات سے ختم کرکے صرف لغت قریش پر باقی رکھنا، عبدالملک بن مروان کے حکم سے قرآن مجید کے حروف پر نقطے اور حرکات اور اعراب کا لگایا جانا، عمر بن عبدالعزیز کے دور خلافت میں مساجد کی عمارتوں میں محراب کا بنایا جانا اور قرآن مجید کے نسخوں میں سورتوں کے اسماء اور آیتوں اور رکوعوں کی تعداد کو لکھنا یہ سب بدعات حسنہ ہیں جس کو تمام امت مسلمہ نے قبول کرلیا ہے۔ سو اہل سنت کے معمولات کو بھی ان ہی نظائر کی روشنی میں جائز سمجھنا چاہیے اور بلاوجہ ان پر یہ بدگمانی نہیں کرنی چاہیے کہ انہوں نے ان معمولات کو فرض اور واجب سمجھ لیا ہے۔ اسی طرح سوئم، چہلم اور عرس کی عرفی تعیینات کو تعیینات شرعی نہیں قرار دینا چاہیے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ جیسے مساجد میں گھڑیوں کے حساب سے نمازوں کے اوقات متعین کرلیے جاتے ہیں اور کسی شخص کو بھی یہ بدگمانی نہیں ہوتی کہ یہ تعیین شرعی ہے۔ 

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی 1367 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : آیت اپنے عموم پر ہے ہر کھانے کی چیز اس میں داخل ہے کہ جس کی حرمت پر نص وارد نہ ہوئی ہو تو جو لوگ توشہ گیارہویں، میلاد شریف، بزرگوں کی فاتحہ، عرس، مجالس شہادت وغیرہ کی شیرینی، سبیل کے شربت کو ممنوع کہتے ہیں، وہ اس آیت کے خلاف کرکے گنہ گار ہوتے ہیں اور اس کو ممنوع کہنا اپنی رائے کو دین میں داخل کرنا ہے اور یہی بدعت و ضلالت ہے۔ (حاشیہ خزائن العرفان، ص 248، مطبوعہ تاج کمپنی لاہور)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 32