حدیث نمبر :627

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن تین شخص مشک کے ٹیلوں پرہونگے ایک وہ غلام جواﷲ کا حق اوراپنے مولا کا حق اداکرتا رہے اور ایک وہ شخص جوکسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں اورایک وہ شخص جو ہردن رات پانچ نمازوں کی اذان دے ۱؎(ترمذی)اورفرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح

۱؎ حدیث بالکل ظاہری معنی پرہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔قیامت میں اولًا سب لوگ کھڑے ہوں گے اسی لیے اسے قیامت کہتے ہیں،پھرمختلف مقامات میں ہوں گے۔کوئی عرش اعظم کے سایہ میں،کوئی کرسیوں پر،اوریہ تین جماعتیں مشک کے پہاڑوں پرکہ سب لوگ انہیں دیکھیں بھی اوران کی خوشبوؤں سے فائدہ بھی اٹھائیں،چونکہ دنیا میں بھی لوگوں نے ان سے فائدہ اٹھائے،اس لئے وہاں بھی لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں گے۔خیال رہے کہ امام سے قوم کی رضا کا مطلب یہ ہے کہ امام کے تقویٰ اخلا ق سے مسلمان راضی ہوں،بے دینوں یافاسدوں کی ناراضی کا اعتبارنہیں۔نیزسرکاری نوکرجوڈیوٹی بھی دے اورنماز کی بھی پابندی کرے وہ بھی اس غلام میں داخل ہے جو مولٰی اور رب کے حق اداکرے۔