حدیث نمبر :629

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابوالعاص سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے میری قوم کا امام بنادیجئے فرمایا تم ان کے امام ہو۲؎ اوران میں سے کمزورکو مقتدی جانو۳؎ اورکوئی ایسا مؤذن مقرر کروجواپنی اذان پر اجرت نہ لے۴؎(احمد،ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ آپ مشہورصحابی ہیں،ثقفی ہیں،حضورنے آپ کو طائف کا حاکم بنایا اورشروع خلافت فاروقی تک وہیں کے حاکم رہے،پھرعمرفاروق نے وہاں سے معزول کرکے عمان اوربحرین کا گورنر بنایا۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ امام قائم کرنے اورمعزول کرنے کا حق سلطان اسلام کوبھی ہے اور اس کا مقرر کردہ امام قوم کے معزول کرنے سے علیحدہ نہیں ہوسکتا،دیکھو کتب فقہ۔

۳؎ یعنی یہ سمجھ کرنمازپڑھاؤ کہ میرے مقتدی کمزور اوربیمار بھی ہیں،ہلکی نمازپڑھاؤ۔

۴؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مؤذن رکھنے اورمعزول کرنے کا حق امام کوہے۔دوسرے یہ کہ اذان پراجرت لینا جائزمگر نہ لینابہتر اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اجرت کو حرام نہیں کہا بلکہ فرمایا ڈھونڈ کرکوئی للہ اذان دینے والا رکھو۔خیال رہے کہ اُس زمانہ میں دینی خدمات پر اجرت لینا اگر ممنوع بھی تھا تو اس وقت کے لحاظ سے تھا اب ممنوع نہیں،ورنہ سارے دینی کام بندہوجائیں گے۔دیکھو سوا عثمان غنی کے باقی تمام خلفاءنے خلافت پر اجرت لی،حالانکہ خلافت امامت کبریٰ ہے،نیزعمرفاروق نے اپنے زمانہ میں غازیوں اورحکّام کی تنخواہیں مقررکیں،حالانکہ جہادبھی عبادت ہے اورحاکم اسلام بننابھی۔