حدیث نمبر :628

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤذن کی اس آوازکی انتہا کے مطابق بخشش کی جاتی ہے ۱؎ اور اس کے لئے ہرتروخشک چیزگواہی دے گی اورنمازمیں حاضرہونے والے کے لئے پچیس نمازیں لکھی جاتی ہیں۲؎ اور دونمازوں کے درمیانی گناہ مٹائے جاتے ہیں(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)نسائی نے ہرخشک و تر تک روایت کی اورفرمایا کہ مؤذن کو سب نمازیوں کے برابرثواب ملتا ہے۳؎

شرح

۱؎ یعنی جس قدر اس کی آواز زیادہ اسی قدر اس کی مغفرت زیادہ۔آہستہ اذان کہنے والے کے صرف گناہ کبیرہ کی معافی اور بلندآواز سے کہنے والے کے صغیرہ کبیرہ سب معاف۔یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں مؤذن کی اذان کی برکت سے وہاں تک کہ گنہگاروں کی معافی ہوتی ہے جہاں تک اس کی آوازپہنچے کہ یہ ان سب کی شفاعت کرے گا۔

۲؎ یعنی مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا ثواب اکیلے اورگھرمیں نماز پڑھنے سے پچیس گنا ہے۔خیال رہے کہ یہاں۲۵ گنافرمایا گیا اوردوسری روایت میں۲۷ گنا،بعض میں۵۰۰ گناہے کیونکہ جیسی مسجد،جیسی جماعت اورجیسا امام ویساثواب۔جن خوش نصیبوں نے مسجدنبوی میں جماعت صحابہ کے ساتھ حضورکے پیچھے نمازیں پڑھیں ان کا ایک سجدہ دوسروں کی کروڑوں نمازوں سے افضل ہے۔

۳؎ یعنی اس کی اذان سے جتنے لوگ مسجدمیں آکر یا اپنے گھر میں نماز پڑھتے ہیں ان سب کا مجموعی ثواب مؤذن کو ملتاہے کیونکہ یہ ان سب کا رہبرہے اوران سب کو اپنی اپنی نمازوں کا ثواب۔