أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ اِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِىۡ‌ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے اولادِ آدم ! اگر تمہارے پاس خود تم میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہارے سامنے میری آیتیں بیان کریں، سو جو شخص اللہ سے ڈرا اور نیک ہوگیا، تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے

تفسیر:

آیت 35 تا 36: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اے اولادِ آدم ! اگر تمہارے پاس خود تم میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہارے سامنے میری آیتیں بیان کریں، سو جو شخص اللہ سے ڈرا اور نیک ہوگیا، تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے “

ربط آیات : اس سے پہلی آیت میں انسانوں کی زندگی کے بعد ان کی موت کا ذکر فرمایا تھا۔ اب بتایا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی تھی تو مرنے کے بعد انہیں کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا اور اگر انہوں نے اپنی یہ زندگی سرکشی اور انحراف میں گزاری تھی تو پھر مرنے کے بعد انہیں دائمی عذاب کے لیے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ 

رسول کا ان لوگوں کی جنس سے ہونا جن کی طرف اس کو مبعوث کیا گیا : اس آیت میں اولاد آدم سے مراد اہل مکہ ہیں اور رسل سے مراد سید الرسل، خاتم الانبیاء (علیہ الصلوۃ والسلام) ہیں اور آپ کے متعلق جمع کا صیغہ اس لیے استعمال فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ میں اپنے رسول کو اسی سنت کے مطابق بھیجا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ پہلی امتوں میں اپنے رسول بھیجتا رہا تھا۔ رسولوں کو اس صفت کے ساتھ مقید فرمایا ہے کہ وہ خود تم میں سے ہیں۔ اس قید کے متعلق امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ فرماتے ہیں۔ اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں : 

(الف) جب رسول لوگوں کی جنس سے ہوگا تو لوگوں پر اللہ کی حجت بہ طریق اولی پوری ہوگی۔ 

(ب) ۔ لوگوں کو اس رسول کے حالات اور اس کا پاک دامن ہونا پہلے سے معلوم ہوگا۔

(ج) لوگوں کو اس کی قوت اور طاقت کا حال پہلے سے معلوم ہوگا اور جب اس سے معجزات کا ظہور ہوگا تو وہ جان جائیں گے کہ یہ افعال اس کی قوت اور طاقت سے باہر ہیں تو یہ معجزات لامحالہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ظاہر ہوئے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا : اور اگر ہم فرشتہ کو رسول بناتے تو ضرور اس کو مرد ہی بناتے ” (الانعام :9)

کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کس جن یا فرشتہ کو اس کی اصل حقیقت کے اعتبار سے رسول بناتا تو یہ گمان کیا جاسکتا تھا کہ یہ معجزات اس کی اپنی غیر معمولی قوت سے ظہور میں آئے ہیں اور جب انسان کو رسول بنایا گیا اور اس نے چاند کو دو تکڑے کیا اور ڈوبا ہوا سورج لوٹایا اور درختوں سے کلمہ پڑھوایا تو معلوم ہوگیا کہ یہ افعال انسان کی قوت میں نہیں ہیں تو ضرو اللہ کا فعل ہیں اور یہ شخص ضرور اللہ کا نمائندہ اور اس کا رسول ہے جس کی تصدیق کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ غیر معمولی افعال پیدا کیے ہیں اور اس کی تائید کے لیے معجزات ظاہر فرمائے ہیں۔ 

(د) ۔ اگر وہ رسول کسی اور جنس سے ہوتا تو لوگ اس کے ساتھ الفت اور محبت نہ ہوتی۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 235، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ سے لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ رسول لوگوں کی جنس سے ہوں گے تاکہ رسولوں کی دعوت کا قبول کرنا زیادہ قریب ہو۔ (الجامع لاحکام القرآن، ج 7، ص 182، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابن عاشور لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ رسول تم میں سے ہوں گے یعنی بنو آدم سے ہوں گے۔ اس میں بنو آدم کو یہ تنبیہ ہے کہ وہ یہ توقع نہ کیں کہ ان کے پاس فرشتوں میں سے کوئی رسول آئے گا، کیونکہ رسول مرسل الیہم کی جنس سے ہوتا ہے اور اس آیت میں پچھلی امتوں کے ان جاہلوں پر تعریض ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کی رسالت کا اس لیے انکار کیا تھا کہ وہ ان کی جنس سے تھے۔ مثلاً قوم نوح نے کہا : ” مانرک الا بشرا مثلنا : (اے نوح ! ) ہم تمہیں صرف اپنے ہی جیسا بشر دیکھتے ہیں ” (ھود :27) ۔ 

اور مکہ کے مشرکین نے بھی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا صرف اس لیے انکار کیا کہ آپ بشر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” وما منع الناس ان یومنوا اذ جاءہم الھدی الا ان قالوا ا بعث اللہ بشر رسولا۔ قل لو کان فی الارض ملائکۃ یمشون مطمئنین لنزلنا علیہم من السماء ملکا رسولا : اور لوگوں کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے روکا جب ان کے پاس ہدایت آچکی تھی کہ انہوں نے کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ؟۔ آپ کہئے کہ اگر زمین میں (رہنے والے) فرشتے ہوتے جو (اس میں) اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر اتارتے ” (بنی اسرائیل :94 ۔ 95)

ان آیتوں میں یہ تصریح ہے کہ رسول مرسل الیہم کی جنس سے ہوتا ہے : (التحریر والتنویر، ج 8، ص 108، مطبوعہ تیونس)

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی 1367 ھ اعلی حضرت قدس سرہ کے ترجمہ کے ساتھ ملا کر سورة بنو اسرائیل کی آیت 94 ۔ 95 کی تفسیر میں لکھتے ہیں : اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا (رسولوں کو بشر ہی جانتے رہے اور ان کے منصب نبوت اور اللہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے کمالات کے مقر اور معترف نہ ہوئے۔ یہی ان کے کفر کی اصل تھی۔ اور اسی لیے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا اس پر اللہ تعالیٰ اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے کہ اے حبیب ان سے) تم فرماؤ اگر زمین میں فرشتے ہوتے چین سے چلتے تو ان پر ہم رسول بھی فرشتہ اتارتے (کیونکہ وہ ان کی جنس سے ہوتا لیکن جب زمین میں آدمی بستے ہیں تو ان کا ملائکہ میں سے رسول طلب کرنا نہایت ہی بےجا ہے) 

نوٹ : ترجمہ اعلی حضرت قدس سرہ کا ہے اور قوسین ٰمیں صدر الافاضل (رح) کی تفسیر ہے۔ 

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی 1391 ھ بنو اسرائیل آیت 95 کی تفسیر میں لکھتے ہیں : یعنی اگر زمین میں بجائے انسانوں کے فرشتے بستے ہوتے تو نبی بھی فرشتہ ہی آتا۔ کیونکہ نبی تبلیغ کے لیے تشریف لاتے ہیں اور قوم کو تبلیغ وہی کرسکتا ہے جو قوم کی زبان اور اس کے طور طریقوں سے واقف ہو۔ ان کے دکھ دردوں سے خبردار ہو اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ نبی قوم کی جنس سے ہو۔ تعجب ہے کہ کفار فرشتوں کو انسان سے افضل سمجھتے تھے اس لیے کہتے تھے کہ فرشتہ نبی کیوں نہ ہوا۔ حالانکہ انسان فرشتوں سے افضل ہے۔ فرشتوں نے انسان کو سجدہ کیا نہ کہ انسان نے فرشتوں کو۔ (نور العرفان، ص 464، مطبوعہ ادارہ کتب اسلامیہ، گجرات)

رسول کا لوگوں کی جنس سے ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اگر وہ لوگوں کی جنس سے نہ ہو تو اس کے افعال امت کے لیے نمونہ اور واجب الاتباع نہیں ہوسکیں گے کیونکہ لوگ کہہ سکیں گے کہ وہ اور جنس سے ہے اور ہم اور جنس سے ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ افعال اس کی جنس سے ممکن اور سہل ہوں اور ہماری جنس سے ممکن اور سہل نہ ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ کی حجت بندوں پر پوری نہیں ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام رسول نوع انسان اور ہماری جنس سے بشر بنائے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا آپ کہئے میں بشر اور رسول ہوں۔ ” قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا : آپ کہئے میرا رب پاک ہے میں صرف بشر اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ” (بنی اسرائیل :93) ۔ ” قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الہکم الہ واحد : آپ کہئے میں صرف بشر ہوں تمہاری مثل (خدا نہیں ہوں) میری طرف وحی کی جاتی ہے بیشک تمہارا اور میرا معبود ایک ہی ہے ” (الکہف :110)

کفار آپ کو محض بشر کہتے تھے رسول نہیں مانتے تھے اور بشریت کو رسالت کے منافی سمجھتے تھے اور یہی ان کا کفر تھا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آپ عام انسان اور عام بشر نہیں ہیں بلکہ انسان کامل اور افضل البشر اور سید البشر ہیں اور کوئی شخص کسی وجودی وصف میں آپ کا مماثل نہیں ہے بلکہ سب عدم الوہیت میں آپ کے مماثل ہیں یعنی جس طرح ہم خدا نہیں ہیں اسی طرح آپ بھی خدا نہیں۔ بعض لوگ غلو کرکے کہتے ہیں کہ آپ نہ خدا ہیں نہ خدا سے جدا ہیں۔ نہ اللہ کے عین ہیں نہ غیر ہیں۔ یہ باطل نظریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ واجب ہے آپ ممکن ہیں۔ اللہ تعالیٰ قدیم ہے آپ حادث ہیں۔ اللہ تعالیٰ معبود ہے۔ آپ عابد ہیں۔ اور ممکن واجب کا اور حادث قدیم کا اور عباد معبود کا غیر ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ آپ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ آپ کی رضا اللہ کی رضا ہے۔ آپ کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔ آپ کی بیع اور شراء اللہ کی بیع اور شراء ہے۔ آپ کے ساتھ معاملہ اللہ کے ساتھ معاملہ ہے، اور آپ اللہ کے نائب مطلق ہیں اور اللہ کے اذن اور اس کے حکم سے مختار کل ہیں، جس کو چاہیں نواز دیں اور جنت عطا فرما دیں۔ لیکن آپ کا چاہا کبھی اللہ کے چاہے کے مخالف نہیں ہوتا۔ آپ اللہ کے تابع اور اللہ کے موافق ہیں۔ العیاذ باللہ اللہ کے مخالف اور باغی نہیں ہیں۔

مختار کل کی وضاحت : 

ہم نے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق مختار کل لکھا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کل اختیار دے کر خود معطل ہوگیا ہے، معاذ اللہ یہ صریح کفر ہے۔ نہ اس کا یہ مطلب ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ کرنا چاہیں اس پر آپ قادر اور مختار ہیں کیونکہ یہ صرف اللہ عزوجل کی شان ہے کہ وہ جو چاہے کرتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو چاہتے تھے کہ تمام کافر اسلام لے آئیں خصوصاً ابوطالب کے لیے آپ کی بڑی خواہش اور بہت کوشش تھی کہ وہ مسلمان ہوجائیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے مختار کل کا ہمارے نزدیک صرف یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کل مخلوق سے زیادہ اختیار عطا فرمایا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی مرضی کے تابع ہو کر جس معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں، اللہ اپنے فضل و کرم سے اس کو قبول فرما لیتا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کے حکم سے بھی دعا فرماتے ہیں اور اپنی وجاہت کی بناء پر بھی دعا فرماتے ہیں اور بعض امور میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور قدرت سے براہ راست تصرف بھی فرماتے ہیں۔ ان تمام امور کے ثبوت میں احادیث صحیحہ وارد ہیں۔ 

نیک مسلمان حشر کے دن آیا گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے یا نہیں !

نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : سو جو شخص اللہ سے ڈرا اور نیک ہوگیا تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ خوف کا تعلق مستقبل سے ہے، اور غم کا تعلق ماضی سے ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کو قیامت کے دن نہ مستقبل میں عذاب کا خوف ہوگا اور نہ ماضی میں انہیں اپنے کیے ہوئے کاموں کا کوئی غم ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں انہوں نے سب نیک کام کیے اور اگر اغواء شیطان یا شامت نفس سے کوئی غلط کام ہوگیا تو انہوں نے مرنے سے پہلے اس پر توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی۔ 

اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ نیک مسلمانوں کو قیات کی ہولناکیوں سے کوئی خوف اور غم ہوگا یا نہیں۔ بعض علماء کا موقف یہ ہے کہ ان کو قیامت کی ہولناکیوں اور اس دن کی سختیوں سے کوئی غم اور خوف نہیں ہوگا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” لایحزنہم الفزع الاکبر : سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہیں کرے گی ” (الانبیاء 103)

اور بعض علماء کا مسلک یہ ہے کہ نیک مسلمانوں کو بھی اس دن گھبراہٹ ہوگی ان کی دلیل یہ آیت ہے : ” یوم یفر المرء من اخیہ۔ وامہ ابیہ۔ وصاحبتہ و بنیہ۔ لکل امرء منہم یومئذ شان یغنیہ : جس دن انسان اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے ان میں سے ہر شخص کو اس دن اپنی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بےپرواہ کردے گی ” (عبس : 34 ۔ 37)

اول الذکر علماء اس آیت کا یہ جواب دیتے ہی کہ اگرچہ وقتی طور پر نیک مسلمانوں کو بھی فکر اور پریشانی ہوگی لیکن مآل کار انہیں امن اور عافیت اور فرحت اور سرور حاصل ہوگا جیسا کہ اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” وجوہ یومئذ مسفرۃ ضاحک مستبشرہ، ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ۔ ترھقہا قترہ۔ اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ : اس دن بعض چہرے روشن ہوں گے۔ مسکراتے ہوئے شاداب۔ اور اس دن کئی چہرے غبار آلود ہوں گے۔ ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔ وہی لوگ کافر بدکار ہوں گے ” (عبس : 38 ۔ 42)

گنہ گار مسلمانوں کے لیے دائمی عذاب کا نہ ہونا : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جن لوگوں نے رسولوں کی پیش کی ہوئی اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور ان کے ماننے سے تکبر کیا سو وہی لوگ دوزخی ہیں اور وہی اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ہمارے علماء نے اس آیت سے معتزلہ اور خوارج کے خلاف استدلال کیا ہے کہ گنہ گار مسلمانوں کو اگر دوزخ میں ڈالا گیا تو ان کو عذاب کے بعد دوزخ سے نکال لیا جائے گا کیونکہ دوزخ کے عزاب کا دوام اور خلود صرف کافروں کے لیے ہے جیسا کہ اس آیت میں کافروں کے متعلق بہ طریقہ حصر فرمایا ہے کہ وہی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 35