أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِيۡنَتَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ۞

ترجمہ:

اے اولادِ آدم ! ہر عبادت کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو، اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچ نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچ کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اے اولادِ آدم ! ہر عبادت کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو، اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچ نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچ کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا “

برہنہ طواف کی ممانعت کا شان نزول اور لوگوں کے سامنے برہنہ ہونے کی ممانعت : 

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ پہلے عورت برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتی تھی اور یہ کہتی تھی : کوئی مجھے ایک کپڑا دے دیتا جس کو میں اپنی شرم گاہ پر ڈال دیتی، آج بعض یا کل کھل جائے گا اور جو کھل جائے گا میں اس کو کبھی حلال نہیں کروں گی۔ تب یہ آیت نازل ہوئی ہر نماز کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو۔ (صحیح مسلم، تفسیر 25 (3028) 7416، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ لوگ بیت اللہ کا برہنہ طواف کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زینت کا حکم دیا۔ زینت سے مراد وہ لباس ہے جو شرم گاہ چھپائے۔ اس کے علاوہ عمدہ کپڑے اور اچھی چیزیں بھی زینت ہیں اور انہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر نماز کے وقت اپنی زینت کو پہنیں۔ (جامع البیان، ج 8، ص 211، مطبوعہ دار الفکر، بیوت، 5141 ھ)

زہری بیان کرتے ہیں کہ عرب بیت اللہ کا برہنہ طواف کرتے تھے، ماسوا قریش اور ان کے حلیفوں کے۔ ان کے علاوہ جو لوگ طواف کرنے کے لیے آتے، وہ اپنے کپڑے اتار دیتے اور قریش کے دیے ہوئے کپڑے پہن لیتے اور اگر ان کو قریش میں سے کوئی عاریتاً کپڑے دینے والا نہ ملتا تو وہ اپنے کپڑے پھینک کر برہنہ طواف کرتا اور اگر وہ اپنے کپڑے پھینک کر برہنہ طواف کرتا اور اگر وہ ان ہی کپڑوں میں طواف کرلیتا تو وہ طواف کے بعد ان کپڑوں کو پھینک دیتا اور ان کپڑوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہر نماز کے وقت اپنے کپڑے پہن لیا کرو۔ (جامع البیان، ج 8، ص 213، مطبوعہ دار الفکر، بیروت 1415 ھ)

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس حج میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق کو امیر بنایا تھا جو حجۃ الوداع سے پہلے تھا، اس میں حضرت ابوبکر نے مجھے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ قربانی کے دن یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی بیت اللہ کا برہنہ طواف کرے گا۔ (صحیح مسلم، حج :435، (1347) 3229) ۔ صحیح البخاری، ج 2، رقم الحدیث : 1622 ۔ سنن ابوداود، ج 2، رقم الحدیث : 1046 ۔ سنن نسائی، ج 5، رقم الحدیث : 2957)

حضرت مسور بن مخرمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک بھاری پتھر اٹھا کر لا رہا تھا اور میں نے چھوٹا سا تہبند باندھا ہوا تھا۔ اچانک میرا تہبند کھل گیا، اس وقت میرے کندھے پر وزنی پتھر تھا، اس وجہ سے میں تہبند کو اٹھا نہیں سکا، حتی کہ میں نے پتھر کو اس کی جگہ پہنچا دیا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جا کر اپنا تہبند اٹھاؤ اور اس کو باندھ لو اور ننگے بدن نہ پھرا کرو۔ (صحیح مسلم، حیض 78، (341) 757 ۔ سنن ابوداود، ج 4، رقم الحدیث : 4016)

تعمیر کعبہ کے وقت تہبند اتار کر کندھے پر رکھنے کی روایت پر بحث و نظر : امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب کعبہ کو بنایا گیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عباس پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ عباس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا پتھروں کی وجہ سے اپنا تہبند اپنے کندھے پر رکھ لیں، آپ نے ایسا کیا پھر آپ زمین پر گرگئے اور آپ کی دونوں انکھیں آسمان کی طرف لگی ہوئی تھیں، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا میری چادر، میری چادر، پھر آپ پر چادر باندھ دی گئی۔ (صحیح البخاری، ج 2، رقم الحدیث : 1582، ج 4، رقم الحدیث : 3829 ۔ صحیح مسلم، الحیض :76، (3409) 755، مسند احمد، ج 2، ص 295، ج 3، ص 380، 310)

اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے اپنا تہبند اتار دیا تھا اور آپ معاذ اللہ برہنہ ہوگئے، اور اسی کی دہشت سے آپ بےہوش ہوگئے۔ یہ حدیث آپ کے بلند منصب، آپ کی عظمت اور شان اور آپ کے مقام نبوت کے خلاف ہے۔ علامہ نووی، علامہ عینی اور علامہ عسقلانی میں سے کسی نے بھی اس اشکال کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔ علامہ قرطبی نے اس حدیث کو المفہم میں شامل نہیں کیا۔ صرف علامہ محمد بن خلیفہ و شتانی ابی مالکی متوفی 828 ھ نے اپنی شرح میں اس اشکال کو دور کرنے کی سعی کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : اس حدیث میں یہ تصریح نہیں ہے کہ آپ کا ستر کھل گیا تھا، کیونکہ آپ اول امر میں تہبند کھلتے ہی بےہوش ہو کر گرپڑے اور غالباً اس وقت آپ پر کسی کی نظر نہیں پڑی تھی اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے مجھے یہ عزت اور کرامت دی ہے کہ میں مختون پیدا ہوا اور میری شرم گاہ کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ (المعجم الصغیر، رقم الحدیث : 936 ۔ المعجم الاوسط، ج 7، رقم الحدیث : 6144 ۔ دلائل النبوۃ لابی نعیم، ج 1، رقم الحدیث : 91 ۔ مجمع الزوائد، ج 8، ص 224 ۔ کنز العمال، ج 11، رقم الحدیث : 32134، 31924) ۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی سفیان بن محمد فزاری متفرد ہے۔ علامہ ابن جوزی نے اس پر جرح کی ہے۔ العلل المتناہیہ، ج 1، ص 165، حافظ ابن کثیر نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ البدایہ والنہایہ، ج 2، ص 265)

اور بعض روایات میں ہے کہ فرشتہ نازال ہوا اور اس نے میرا تہبند باندھ دیا (اکمال اکمال المعلم، ج 2، ص 190، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

ہردن کہ یہ حدیث جس میں آپ کے تہبند کھولنے کا ذکر ہے۔ سند صحیح کے ساتھ مروی ہے لیکن اول تو یہ مراسیل صحابہ میں سے ہے جن کا مقبول ہونا بہرحال مختلف فیہ ہے۔ ثانیاً یہ حدیث درایت کے خلاف ہے۔ کیونکہ قریش نے بعثت سے پانچ سال پہلے کعبہ بنایا تھا۔ اس وقت آپ کی عمر شریف پینتیس سال تھی اور پینتیس سال کے مرد کے لیے اس کے چچا کا ازراہ شفقت یہ کہنا کہ ” تم اپنا تہبند اتار کر اپنے کندھے پر رکھ لو تاکہ تم کو پتھر نہ چبھیں ” درایتاً صحیح نہیں ہے۔ یہ بات کسی کم سن بچہ کے حق میں تو کہی جاسکتی ہے، پینتیس سال کے مد کے لیے صحیح نہیں ہے اور علامہ بدرالدین عینی، علامہ ابن حجر وغیرہما نے امام ابن اسحاق سے یہی نقل کیا ہے کہ قریش کے کعبہ بنانے کا واقعہ بعثت سے پانچ سال پہلے کا ہے۔ 

علاہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی لکھتے ہیں : امام عبدالرزاق نے اور اسی سند کے ساتھ امام حاکم اور امام طبرانی نے نقل کیا ہے کہ قریش نے دادی کے پتھروں سے کعبہ کو بنایا اور اس کو آسمان کی جانب بیس (20) ہاتھ بلند کیا اور جس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجیاد سے پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اس وقت آپ نے ایک دھای دار چادر کا تہبند باندھا ہوا تھا۔ آپ نے اس چادر کا پلو اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور اس چادر کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے آپ کی شرم گاہ ظاہر ہوگئی۔ اس وقت ایک آواز آئی : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی شرم گاہ ڈھانپ لیں، اس کے بعد آپ کو عریاں نہیں دیکھا گیا، اس وقت آپ کی بعثت میں پانچ سال تھے۔ اس کے بعد علامہ ابن حجر نے امام عبدالرزاق کی سند سے لکھا کہ مجاہد نے کہا کہ یہ بعثت سے پندرہ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ (اس وقت آپ کی عمر پچیس سال تھی) امام عبدالبر نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور موسیٰ بن عقبہ نے اپنے مغازی میں اسی پر اعتماد کیا ہے۔ لیکن مشہور پہلا قول ہے (یعنی بعثت سے پانچ سال پہلے کا) (فتح الباری ج 3، ص 441، 442، مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ، لاہور، 1401)

علاہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی 855 ھ لکھتے ہیں : طبقات ابن سعد میں محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت ہے جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے ساتھ بیت اللہ کی تعمیر کے لیے پتھر لا رہے تھے، اس وقت آپ کی عمر پینتیس سال کی تھی۔ لوگوں نے اپنے اپنے تہبند اپنے اپنے کندھوں کے اوپر رکھے ہوئے تھے۔ سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ایسا کیا پھر آپ گرپڑے اور آپ کو ندا کی گئی ” اپنی شرم گاہ کو ڈھکئے ” اور یہ آپ کو پہلی ندا کی گئی تھی۔ ابو طالب نے کہا اے بھتیجے ! اپنا تہبند اپنے سر کے نیچے رکھ لو۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ پر جو مصیبت آئی ہے، وہ صرف برہنہ ہونے کی وجہ سے آئی ہے۔ (عمدۃ القاری، ج 9، ص 215 ۔ مطبوعہ ادارہ الطباعۃ المنیریہ، 1348 ھ) 

امام عبدالملک بن شہام متوفی 213 ھ لکھتے ہیں : امام ابن اسحاق نے کہا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر پینتیس سال کی ہوئی تو قریش نے کعبہ کے بنانے پر اتفاق کیا۔ (السیرۃ النبویہ، ج 1، ص 229، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابو القاسم عبدالرحمن بن عبداللہ السہیلی المتوفی 581 ھ لکھتے ہیں : کعبہ کو پانچ مرتبہ بنایا گیا پہلی بار شیث بن آدم نے بنایا۔ دوسری بار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان ہی بنیادوں پر بنایا اور تیسری بار اسلام سے پانچ سال پہلے قریش نے بنایا۔ چوتھی بار حضرت عبداللہ بن زبیر نے بنایا اور پانچویں بار عبدالملک بن مروان نے بنایا۔ (الروض الانف، ج 1، ص 127، مطبوعہ مکتبہ فاروقیہ، ملتان)

علامہ ابی مالکی متوفی 828 ھ نے بھی علامہ سہیلی کے حوالے سے اس عبارت کو نقل کیا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم، ج 2، ص 189، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

علامہ محمد بن یوسف صالحی شامی متوفی 942 ھ لکھتے ہیں : حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ مجاہد سے منقول ہے کہ یہ آپ کی بعثت سے پندرہ سال پہلیے کا واقعہ ہے اور امام ابن اسحاق نے جس پر جزم کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آپ کی بعثت سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے اور یہی زیادہ مشہور ہے اور یہی صحیح ہے۔ (سبل الھدی والرشاد، ج 2، ص 173، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1414 ھ)

ہم نے متعدد مستند کتب کے حوالہ جات سے یہ بیان کیا ہے کہ قریش نے جس وقت کعبہ کی تعمیر کی تھی، اس وقت آپ کی عمر پینتیس سال تھی اور پینتیس سال کے کسی عام مہذب انسان کے حال سے بھی یہ بہت بعید ہے کہ وہ اپنا تہبند اتار کر اپنے کندھے پر رکھ لے۔ چہ چائی کہ وہ شخص ہو جس کی حیا اور وقار تمام دنیا میں سب سے عظیم اور مثالی ہو۔ اس لیے یہ احادیث ہرچند کہ سنداً صحیح ہیں لیکن درایۃً صحیح نہیں ہیں، جبکہ اس حدیث کے اوی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ہیں اور اس واقعہ کے وقت ان کی عمر دو سال تھی۔ کیونکہ یہ 94 سال کی عمر گزار کر 74 ھ میں فوت ہوئے تھے۔ (الاستیعاب علی ھامش الاصابہ، ج 1، ص 222) ۔ اس حساب سے ہجرت کے وقت ان کی عمر 20 سال تھی۔ اور بعثت کے وقت ان کی عمر سات سال تھی اور یہ بعثت سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے تو اس وقت ان کی عمر دو سال تھی اور اس وقت یہ مدینہ میں تھے حالانکہ یہ مکہ کا واقعہ ہے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ واقعہ کسی سے سنا ہوگا جس کے نام کی انہوں نے تصریح نہیں کی، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیا اور وقار پر کوئی حرف آنے کی بہ نسبت ہمیں یہ زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کو مسترد کردیا جائے کیونکہ روایت حدیث میں امام بخاری اور امام مسلم کی جو عظمت اور مقام ہے، اس کی بہ نسبت کہیں زیادہ بلکہ سب سے زیادہ عظمت اور شان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیاء اور وقار کی ہے۔ 

کھانے پینے میں وسعت کی گنجائش اور اعتدال کا حکم اور بسیار خوری کا اسراف ہونا : نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچ نہ کرو۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کھانے اور پینے کو حلال فرما دیا ہے جب تک کہ فضول خرچ نہ ہو اور تکبر نہ ہو۔ جتنی مقدار کھانے اور پینے سے رمق حیات باقی رہ سکتی ہے، اتنی مقدار کھانا اور پینا فرض ہے۔ رزق حلال کمانے اور بدنی عبادات انجام دینے کے لیے جتنی صحت اور توانائی کی ضرورت ہے، اس کے لیے جس قدر کھانے کی ضرورت ہے، اتنا کھانا بھی فرض ہے۔ اپنی صحت کے تحفظ اور اپنے آپ کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پرہیزی کھانا کھانا اور نقصان دہ چیزوں کو ترک کرنا واجب ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو وصال کے (پے در پے) روزے رکھنے سے اسی لیے منع فرمایا کیونکہ اس سے بدن لاغر اور کمزور ہوتا ہے اور انسان کی توانائی کم ہوتی ہے۔ جتنی مقدار کھانا جان کی بقا اور توانائی کی حفاظ کے لیے ضروری ہے، اس سے کم کھانا کوئی نیکی ہے نہ اس میں کوئی زہد وتقوی ہے۔ اور بسیار خوری ناجائز اور گناہ ہے اور یہ فضول خرچ کی ممانعت میں داخل ہے۔ یہ جان ہماری ملکیت نہیں ہے یہ ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے اس کو ضائع کرنا جائز نہیں ہے۔ مرغن اور چٹ پٹی اشیاء کے کھانے سے انجام کار انسان ہولناک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اس سے تبخیر اور تیزابیت بڑھ جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں السر ہوجاتا ہے۔ زیادہ چکنائی والی اشیاء کھانے سے خون میں کلیسٹرول بڑھ جاتا ہے جسم بھاری بھرکم ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ پھر بھی احتیاط نہ کی جائے تو انجائنا ہوجاتا ہے اور دل کے دورے پڑتے ہیں اور جسم کے کسی عضو پر فالج گرنے کا خدشہ رہتا ہے۔ بعض اوقات برین ہیمبریج ہوجاتا ہے اور دماغ کی کوئی رگ پھٹ جاتی ہے۔ مسلسل سگریٹ نوشی سے خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں اور فالج کا خطرہ رہتا ہے۔ کھانسی، دمہ اور گلے کی خرابی اس کے عام اثرات ہیں، بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور جگر سکڑ جاتا ہے، الغرض تمباکو کھانے اور پینے کے بہت نقصانات ہیں۔ اسی طرح بسیار خوری کے بھی بہت زیادہ نقصانات ہیں جن کا ہم نے اجمالاً ذکر کیا ہے۔ جدید اور قدیم حکماء نے صحت کی حفاظت کے لیے ہمیشہ کم کھانے کی تلقین کی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کم کھانے کی تاکید کی ہے اور بسیار خوری کی مذمت فرمائی ہے۔

بسیار خوری کی مذمت میں احادیث : امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 275 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت مقدام بن معدی کرب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے آدمی کے پیٹ سے بڑھ کر کسی برتن کو بھرنا برا نہیں ہے۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے اس کی کمر قائم رہ سکے اور اگر اس نے لامحالہ زیادہ کھانا ہو تو (پیٹ کا) تہائی حصہ کھانے کے لیے رکھے اور تہائی حصہ پانی کے لیے اور تہائی حصہ سانس لینے کے لیے۔ (سنن ترمذی ج 4، رقم الحدیث : 2387 ۔ السنن الکبری للنسائی، رقم الحدیث : 2769 ۔ مسند احمد، ج 6، رقم الحدیث : 17186)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص مہمان ہو اور وہ کافر تھا (ثمامہ بن اثال) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ لانے کا حکم دیا۔ اس نے ایک بکری کا دوہا ہوا دودھ پی لیا۔ پھر دوسری بکری کا، پھر تیسری بکری کا حتی کہ وہ سات بکریوں کا دوہا ہوا دودھ پی گیا۔ صبح اٹھ کر اس نے اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر اس کے لیے ایک بکری کا دودھ لانے کا حکم دیا، پھر دوسری بکری کا دودھ لایا گیا تو وہ اس کو پورا نہ پی سکا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ (امام مسلم کی دیگر روایات میں اس طرح ہے، مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے) ۔ (صحیح مسلم، اشربہ، 186، (3063 ۔ 5281) ۔ سنن ترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1826 ۔ السنن الکبری للنسائی، ج 4، رقم الحدیث : 6893)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ڈکار لی تو آپ نے فرمایا ہمارے سامنے اپنی ڈکار روک کر رکھو کیونکہ جو لوگ دنیا میں بہت زیادہ سیر ہو کر کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن بہت زیادہ بھوکے ہوں گے۔ (سنن ترمذی، ج 4، رقم الحدیث : 2486، سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3350)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بھی اسراف ہے کہ تم اپنی ہر خواہش کے مطابق چیز کھالو۔ (سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3352، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

حضرت لجلاج (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب سے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اسلام لایا ہوں میں نے کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا میں صرف اتنا کھاتا پیتا ہوں جس سے میری حیات باقی رہ سکے۔ (المعجم الکبیر، ج 19، رقم الحدیث : 487، ص 218، مجمع الزوائد، ج 5، ص 31)

پرہیز کی اہمیت کے متعلق احادیث : امام ابو داود سلیمان بن اشعث سجستانی متوفی 279 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ام المنذر بنت قیس الانصاریہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ کے ساتھ حضرت علی (رض) بھی تھے۔ حضرت علی (رض) (بیماری سے اٹھ کر) کمزور تھے اور ہمارے پاس کھجوروں کا خوش لٹکا ہوا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر اس سے کھجوریں کھانے لگے۔ حضرت علی بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی سے فرمانے لگے، چھوڑو، تم کمزور ہو۔ حتی کہ حضرت علی رک گئے اور میں نے جو اور چقندر کا کھانا بنایا تھا۔ میں وہ لے کر آئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے علی اس سے کھاؤ، یہ تمہارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ (سنن ابو داود، ج 3، رقم الحدیث : 3856 ۔ سنن الترمذی، ج 4، رقم الحدیث : 2043 ۔ سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 34442 ۔ مسند احمد، ج 6، ص 364، مشکوۃ، ج 2، رقم الحدیث : 4216) ۔ (سنن ابو داود، ج 3، رقم الحدیث : 3856 ۔ سنن الترمذی، ج 4، رقم الحدیث : 2043 ۔ سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3442 ۔ مسند احمد، ج 6، ص 364، مشکوۃ، ج 2، رقم الحدیث : 4216)

حضرت قتادہ بن النعمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو اس کا دنیا سے اس طرح پرہیز کراتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص استسقاء کے مریض کا پانی سے پرہیز کراتا ہے۔ (سنن الترمذی، ج 4، رقم الحدیث : 2044، صحیح ابن حبان، ج 2، رقم الحدیث : 669 ۔ المستدرک، ج 4، ص 309، 207)

امام محمد بن محمد غزالی متوفی 505 ھ لکھتے ہیں : ایک ماہر سوادی حکیم نے کہا وہ دوا جس کے ساتھ کوئی بیماری نہ ہو، وہ یہ ہے کہ جب تک بھوک نہ ہو، مت کھاؤ اور ابھی بھوک باقی ہو تو کھانا چھوڑ دو ۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بسیار خوری بیماری کی جڑ ہے اور پرہیز کرنا دوا کی جڑ ہے اور بدن کو اس کی عادت کے مطابق عادی بناؤ۔ (احیاء العلوم، ج 3، ص 221، مطبوعہ دار الخیر، بیروت، 1413 ھ)

علامہ محمد بن زبیدی حنفی متوفی 1205 ھ لکھتے ہیں : ” پرہیز کرنا دوا کا سردار ہے ” یہ عرب کے حکیم حارث بن کلدہ کا کلام ہے اور امام ابن ابی الدنیا نے کتاب الصحت میں وہب بن منبہ سے روایت کیا ہے کہ طب کا رئیس پرہیز ہے اور حکمت کا رئیس خاموشی ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین، ج 7، ص 400، مطبعہ میمنہ، مصر، 1311 ھ)

کھانے پینے کے آداب کے متعلق احادیث : حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے کے بعد ہاتھ دھونے سے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔ میں نے اس کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا اور میں نے بتایا کہ میں نے تورات میں کیا پڑھا تھا تو آپ نے فرمایا کھانے میں برکت کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونے اور کلی کرنے سے ہوتی ہے۔ (سنن الترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1853، سنن ابوداود، ج 3، رقم الحدیث : 376 ۔ مسند احمد، ج 9، رقم الحدیث : 23793 ۔ مسند ابوداود الطیالسی، رقم الحدیث : 1674)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر کی کثرت کرے، وہ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے اور کلی کرے۔ (سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3260، دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

حضرت حکم بن عمیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک طعام (کی دعوت) میں تھے۔ ایک شخص نے گھر والوں کے خادم سے تولیہ طلب کیا، اس نے کپڑا لا کردیا اس نے اس سے ہاتھ پونچھے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کپڑے کو تم نے پہنا نہ ہو اس کا تولیہ نہ بناؤ۔ (غالباً آپ کا مطلب یہ تھا کہ اس کام کے لیے پرانے کپڑے استعمال کرو) ۔ (المعجم الکبیر، ج 3، رقم الحدیث : 1391، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

علامہ ابن بزاز کردری حنفی متوفی 827 ھ نے لکھا ہے کہ کھانے کے آداب میں سے یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے اور ہاتھ نہ پوچنھے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھو لے اور ہاتھ پونچھ لے۔ (فتاوی بزازیہ علی ہامش الھندیہ، ج 6، ص 352، مطبعہ امیریہ بولاق، مصر، 1310 ھ)

حضرت عمر بن ابی سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کے پاس طعام رکھا تھا، آپ نے فرمایا اے میرے بیٹے قریب آؤ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔ (سنن الترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1864، صحیح البخاری، ج 6، رقم الحدیث : 5376، صحیح مسلم، اشربہ :108، (2022) 5171، سنن ابی داود، ج 3، رقم الحدیث : 3777 ۔ سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3265 ۔ مسند احمد، ج 5، رقم الحدیث : 16334)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو بسم اللہ پڑھے اگر وہ اس کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول گیا تو کہے بسم اللہ فی اولہ واخرہ۔ (سنن الترمذی، ج 3 ۔ رقم الحدیث : 1865 ۔ سنن ابوداود، ج 3، رقم الحدیث : 3767 ۔ صحیح ابن حبان، ج 12 ۔ رقم الحدیث 5214، مسند احمد، ج 10، رقم الحدیث : 26148، سنن کبری للبیہقی، ج 7 ص 276)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طعام اور مشروب میں پھونک نہیں مارتے تھے اور نہ برتن میں سانس لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3288 ۔ سنن ابوداود، ج 3، رقم الحدیث : 3728 ۔ سنن الترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1896، 1895)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب دسترخوان بچھایا جائے تو کوئی شخص دسترخوان اٹھانے سے پہلے کھڑا نہ ہو خواہ اس کا پیٹ بھر گیا ہو وہ اپنا ہاتھ نہ کھینچے حتی کہ قوم فارغ ہوجائے اور اپنا عذر بیان کرے۔ کیونکہ جب کوئی شخص اپنا ہاتھ کھانے سے کھینچ لیتا ہے تو وہ اپنے ہم نشین کو شرمندہ کرتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ابھی اس کو کھانے کی حاجت ہو۔ (سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3295، دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جب وہ کوئی چیز کھا کر یا پی کر اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہے۔ (صحیح مسلم، الذکر والدعاء :24، (2724) سنن الترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1833)

حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی چیز کھاتے یا پیتے تو یہ دعا کرتے الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین۔ (سنن الترمذی، ج 5، رقم الحدیث : 3468، سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3283)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کھانے کے بعد یہ دعا کی : الحمد للہ الذی اطعمنی ھذا ورزقنیہ من غیر حول منی ولا قوۃ۔ تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (سنن الترمذی، ج 5، رقم الحدیث : 3469، سنن ابوداود، ج 3، رقم الحدیث : 4023، سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3285)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوالہیثم بن التیہان نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانا تیار کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے بھائی کو جزا دو ۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! اس کی جزا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب کوئی شخص کسی کے گھر جائے اور اس کا کھانا کھائے اور اس کے مشروبات پئے اور وہ اس کے لیے دعا کردے تو یہ اس کی جزا ہے۔ (سنن ابوداود، ج 3، رقم الحدیث : 3853، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1414 ھ)

کھڑے ہو کر کھانے پینے کی ممانعت کے متعلق احادیث : امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 361 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑا ہو کر پانی پئے قتادہ نے کہا ہم نے پوچھا اور کھانا، حضرت انس نے فرمایا یہ تو زیادہ برا ہے یا فرمایا : یہ زیادہ خبیث کام ہے۔ (صحیح مسلم، اشربہ، 113، (2024) 5177، سنن الترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1886، سنن ابی داود، ج 3، رقم الحدیث : 3717، سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3424، سنن دارمی، ج 2، رقم الحدیث : 12147، صحیح ابن حبان، ج 12، رقم الحدیث : 5321، مسند الطیالسی، رقم الحدیث : 2000، مصنف ابن ابی شیبہ، ج 8، ص 206، سنن کبری، ج 7، ص 281 ۔ 282)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ہر گزر کھڑے ہو کر پانی نہ پئے سو جو شخص بھول جائے، اس کو چاہیے وہ قے کردے۔ (صحیح مسلم، اشربہ : 116، (2026) 51811) ۔ 

اس حدیث کو ائمہ ستہ میں سے صرف امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ 

کھڑے ہو کر پانی پینے کے جواز کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : نزال بن سبرۃ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوفہ کی کھلی جگہ میں بیٹھ گئے۔ حتی کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا، پھر پانی لایا گیا اور انہوں نے وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر وضو کا بچا ہوا پانی پیا، پھر فرمایا لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ کہتے ہیں۔ اور بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کیا ہے جس طرح میں نے کیا ہے۔ (صحیح البخاری، ج 2، رقم الحدیث : 5615 ۔ 5616) ، سنن ابو داود، ج 3، رقم الحدیث : 3718، سنن النسائی، ج 1، رقم الحدیث : 130، شرح معانی الاثار، ج 2، ص 357، مسند احمد، ج 1، رقم الحدیث، 795، مسند ابویعلی، ج 1، رقم الحدیث : 309، 368، شمائل ترمذی، رقم الحدیث : 210، سنن کبری للبیہقی، ج 1، ص 75) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ (صحیح البخاری، ج 6، رقم الحدیث : 5617، صحیح مسلم، اشربہ : 117 ۔ 118 ۔ 119 ۔ 120، (2027) 5182 ۔ 5183 ۔ 5184 ۔ 5185، سنن الترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1889 ۔ سنن النسائی، رقم الحدیث : 2964، سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3422، صحیح ابن حبان، ج 12، رقم الحدیث : 5319 ۔ سنن کبری للبیہقی، ج 5، ص 86، مسند احمد، ج 1، س 214، 243، 249، شرح معانی الآثار، ج 2، ص 358، المعجم الصغیر، ج 1، رقم الحدیث 357، مسند ابویعلی، ج 4، رقم الحدیث : 2406، مسند حمیدی، رقم الحدیث : 481، شرح السنہ، ج 6، رقم الحدیث : 2941 ۔ 2940)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں پیدل چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہوئے پیتے تھے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1887 ۔ سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3301، صحیح ابن حبان، ج 12، رقم الحدیث : 5325، 5324 ۔ 5323، مصنف ابن ابی شیبہ، ج 8، ص 205، سنن دارمی، ج 2، رقم الحدیث : 2125، مسند احمد ج 2، ص 108، طبع قدیم، مسند احمد، ج 2، رقم الحدیث : 5879، طبع جدید دار الفکر، مسند الطیالسی، رقم الحدیث : 1904، المنتقی، رقم الحدیث : 867، سنن کبری للبیہقی، ج 7، ص 283، مختصر اتحاف السادۃ المہرۃ، ج 5، رقم الحدیث : 4245)

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑے ہو کر (مشروب) پیتے ہوئے دیکھا۔ امام ابو عیسیٰ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1890، مسند احمد، ج 2، ص 215، 206، 190، 179، 174 ۔ شرح السنہ، ج 6، رقم الحدیث : 2942) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے (مشروب) پیتے ہوئے دیکھا ہے۔ (المعجم الاوسط ج 2، رقم الحدیث : 1235، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ مجمع لازوائد ج 5، س 80)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہی کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑے ہوئے (کوئی مشروب) پیتے ہوئے دیکھا، اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔ امام بزار کی روایت میں ہے آپ نے کھڑے ہو کر دودھ پیا۔ (مسند ابویعلی، ج 6، رقم الحدیث : 3560، مسند البزار، ج 3، رقم الحدیث : 3899)

حافظ الہیثمی نے کہا ہے کہ اما ابیعلی اور امام بزار کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد، ج 5، ص 79) 

حضرت ام سلیم (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے، ان کے گھر میں ایک مشک لٹکی ہوئی تھی، آپ نے کھڑے ہو کر مشک کے منہ سے پانی یا۔ (مسند احمد، ج 3، ص 119، ج 6، ص 431، 376، المعجم الکبیر، ج 25، ص 126 ۔ 127 ۔ المعجم الاوسط، ج 1، رقم الحدیث : 658، شرح معانی الآثار، ج 2، ص 358)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند میں البراء بن زید ہے۔ اس کو کسی نے ضعیف نہیں کہا۔ (حافظ ابن حجر نے کہا یہ مقبول ہے۔ تقریب التہذیب ج 1 ص 123 اور اس حدیث کے باقی تمام راوی صحیح ہیں۔ (مجمع الزوائد، ج 5 ص 79)

کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت اور جواز کے متعلق فقہاء اسلام کی آراء : علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں : کھڑے ہو کر پانی پینے کے جواز اور ممانعت کی دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ ممانع کراہت تنزیہی پر محمول ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کھڑے ہو کر پینا بیان جواز پر محمول ہے۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل مکروہ تنزیہی نہیں ہے کیونکہ آپ پر شریعت کا بیان کرنا واجب ہے، آپ کو اس عمل میں واجب کا ثواب ملے گا۔ (صحیح مسلم بشر النواوی، ج 9، ص 5535، ملخصا، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ المکرمہ، 1417 ھ)

علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم المالکی القرطبی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں : حضرت انس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ آپ نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے معن فرمایا ہے۔ علماء میں سے کسی نے بھی اس ممانعت کو تحریم پر محمول نہیں کیا یہ صرف غیر مقلدین کے اصول کے مطابق ہے۔ جمہور کے نزدیک کھڑے ہو کر پانی پینا جائز ہے اور سلف میں سے حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت علی (رض) کا یہی موقف ہے اور جمہور فقہاء اور امام مالک اس سے استدلال کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لازماً رہتے تھے اور دین پر عمل کرنے میں بہت سخت تھے۔ اور اگر نسخ کا قول نہ کیا جائے اور ان احادیث میں تطبیق دی جائے تو یہ کہا جائے گا کہ ممانعت کی احادیث خلاف اولی پر محمول ہیں۔ 

حضرت انس نے قتادہ کے سوال کے جواب میں یہ فرمایا کہ کھانے کا معاملہ تو اور زیادہ برا ہے۔ اس کا اہل علم میں سے کوئی قائل نہیں ہے اور یہ محض ان کی رائے ہے، روایت نہیں ہے اور اصل اباحت ہے۔

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ آپ نے کھڑے ہو کر کوئی شخص جلدی سے ڈگڈگا کر پانی پے گا تو اس کو درد جگر ہوجائے گا یا اس کا گلا گھٹ جائے گا یا اس کے حلق یا معدہ میں درد ہوجائے گا۔ اس لیے اس کو کھڑے ہو کر پانی نہیں پینا چاہیے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت کھڑے ہو کر پانی پیا جب آپ کو یہ خطرہ نہیں تھا۔ یا کسی ضرورت یا حاجت کی بنا پر پیا، خصوصاً اس لیے کہ آپ زمزم پر تھے اور وہ لوگوں کے رش کی جگہ ہے یا آپ نے اس لیے کھڑے ہو کر پانی پیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ آپ روزے سے نہیں ہیں یا اس لیے کہ زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینا مستحب تھا۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ہرگز کھڑے ہو کر پانی نہ پئے۔ سو جس شخص نے بھول کر پیا۔ وہ قے کردے۔ 

اس پر اہل علم کا اتفاق ہے کہ جو شخص بھول کر کھڑے ہو کر پانی پیے، اس پر قے کرنا واجب نہیں ہے۔ بعض مشائخ نے کہا زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) کا قول ہے اور کھڑے ہو کر کھانے کے جواز میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہرچند کہ قتادہ کی رائے اس میں مختلف ہے۔ (المعجم، ج 5 ص 285 ۔ 286، مطبوعہ دار ابن کثیر، بیروت، 1417 ھ)

علامہ محمد بن خلیفہ و شتانی ابی مالکی متفی 828 ھ لکھتے ہیں : امام مالک اور اکثر فقہاء نے کھڑ ہو کر پانی پینے کو جائز قرار دیا ہے۔ کیونکہ امام بخاری اور امام ترمزی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے۔ اور ایک قوم نے ممانعت کی احادیث کی بنا پر کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ کہا ہے۔ ہمارے بعض مشائخ نے یہ کہا ہے کہ ممانعت کی احادیث اس شخص کی طرف راجع ہیں جو اپنے اصحاب کے لیے پانی لے کر آیا اور ان کو پانی پلانے سے پہلے خود کھڑے ہو کر پانی پی لیا جبکہ احسن طریقہ یہ ہے کہ قوم کے ساقی کو سب سے آخر میں پانی پینا چاہیے اور ان میں ظاہر تطبیق اس طرح ہے کہ ممانعت کی احادیث تنزیہ پر محمول ہوں اور کھڑے ہو کر پینے کی احادیث جواز پر محمول ہوں، یا یہ کہا جائے کہ ممانعت کی احادیث اس پر محمول ہیں کہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے صحت بدن کو ضرر کا خطرہ ہے۔ اس لیے آپ نے احتیاطاً کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا اور نخعی نے یہ کہا ہے کہ کھڑے ہو کر پینے سے پیٹ کی بیماری ہوتی ہے۔ 

قاضی عیاض مالکی نے کہا ہے کہ اماممالک اور امام بخاری نے کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت کی احادیث کو روایت نہیں کیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک ممانعت کی یہ احادیث صحیح نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف جواز کی احادیث روایت کی ہیں۔ امام مسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت کی تین حدیثیں روایت کی ہیں اور تینوں معلول ہیں۔ پہلی حدیث (صحیح مسلم : 2024) ۔ قتادہ نے حضرت انس سے روایت کی ہے۔ اور یہ معنعن ہے اور شعبہ، قتادہ کی احادیث سے اجتناب کرتے تھے، جب تک کہ وہ حدثنا نہ کہیں۔ دوسری حدیث (صحیح مسلم :2025) قتادہ کی ابوعیسی الاسواری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا یہ عیسیٰ غیر مشہور ہے اور اس سند میں قتادہ کا اضطراب اس کے معلول ہونے کے لیے کافی ہے۔ علاوہ ازیں یہ احادیث اباحت کے خلاف ہیں جس پر سلف اور خلف کا اجماع ہے۔ تیسری حدیث (صحیح مسلم : 2026) عمرو بن حمزہ کی ابوغطفان سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ہرگز کھڑے ہو کر پانی نہ پیے جو بھولے سے پی لے تو وہ قے کردے۔ عمرو بن حمزہ نے کہا : یہ حدیث دیگر احادیث (اباحت) سے مخالفت کی گنجائش نہیں رکھتی۔ جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ (موخرالذکر جملہ) حضرت ابوہریرہ کا قول ہے (اکمال اکمال المعلم، ج 7 ص 138 ۔ 137 ۔ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

علامہ حسین بن محمد الطیبی متوفی 743 ھ نے علامہ نووی کی طرح دونوں حدیثوں میں تطبیق دی ہے اور ممانعت کی احادیث کو تنزیہ پر اور اباحت کی احادیث کو بیان جواز پر محومل کیا ہے اور اخیر میں لکھا ہے کہ یہ ممانعت تادیب، ارشاد اور اولیٰ اور افضل کام کرنے کی ہدایت پر محمول ہے۔ (شرح الطیبی، ج 8 ص 186 ۔ 187، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی، 1413 ھ)

ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی 1014 ھ نے بھی علامہ طیبی کی طرح لکھا ہے۔ (مرقات، ج 8، ص 216، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، 1390 ھ) 

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی 855 ھ لکھتے ہیں : امام مسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت کی احادیث روایت کی ہیں اور بعض احادیث کھڑے ہو کر پانی پینے کے جواز کی ہیں۔ امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ حضرت علی (رض) نے وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا اور فرمایا لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ کہتے ہیں اور میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے۔ (صحیح البخاری، ج 6، رقم الحدیث : 5615-5616 ۔ سنن ابوداود، ج 3، رقم الحدیث : 3718 ۔ سنن النسائی، ج 1، رقم الحدیث : 130، شرح معانی الآثار، ج 2، ص 357) اور امام ترمذی نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں پیدل چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہوئے پیتے تھے۔ (سنن الترمذی، ج 3، رقم الحدیث : 1887) امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور امام طحاوی نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر (مشروب) پیتے تھے۔ (شرح معانی الآثار، ج 2، ص 358 ۔ مسند البزار، ج 3، رقم الحدیث : 2818) اور امام طحاوی نے حضرت ام سلیم (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر مشک کے منہ سے پانی پیا۔ (شرح معانی الآثار، ج 2، ص 358) اس حدیث کو امام احمد اور امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد، ج 3، ص 119، ج 6، ص 431، 376، معجم کبیر، ج 25، ص 126 ۔ 127، معجم اوسط، ج 1، رقم الحدیث : 658) اس کے بعد علامہ عینی نے علامہ نووی اور علامہ طحاوی کی عبارات کا خلاصہ نقل کیا ہے۔ علامہ نووی کی عبارات ہم نقل کرچکے ہیں اور علامہ ابو جعفر احمد بن محمد الطحاوی متوفی 321 ھ کی عبارت یہ ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برطریقہ تحریم کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع نہیں فرمایا بلکہ مشک سے منہ لگا کر کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے تاکہ پانی بدبودار نہ ہوجائے۔ لہذا یہ منع کرنا امت پر شفقت اور رحمت کی وجہ سے تھا یا امت سے کوئی اور ضرر دور کرنے کے لیے معن فرمایا۔ مبادا انہیں کھڑے ہو کر پانی پینے سے کوئی ضرر لاحق ہوجائے اور جب وہ ضرر دور ہوگیا تو وہ ممانعت بھی اٹھ گئی اور جب متعدد احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اور صحابہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو معلوم ہوگیا کہ وہ ممانعت اب اٹھ چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان احادیث کی یہی توجیہ ہے۔ (شرح معانی الآثار، ج 2، ص 359، ملخصاً مطبوعہ کراچی، عمدۃ القاری، ج 9، ص 279، مطبوعہ ادارہ الطباعۃ المنیریہ، مصر، 1348 ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ علامہ نووی شافعی اور علاہ طیبی کے نزدیک کھڑے ہو کر پانی پینا خلاف اولی ہے۔ علامہ قرطبی مالکی اور علامہ ابی مالکی کے نزدیک کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت کی احادیث منسوخ ہیں یا پھر آپ نے ضرر کی وجہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوجعفر طحاوی حنفی کا بھی یہی موقف ہے۔ علامہ بدرالدین عینی حنفی کا بھی یہی رجحان ہے اور ملا علی قاری حنفی کی رائے یہ ہے کہ آپ نے بہ طور تادیب اور شفقت کے کھڑے ہو کر پینے سے معن فرمایا ہے اور جمہور فقہاء احناف کے نزدیک یہ مکروہ تنزیہی یا خلاف اولی ہے۔ 

وضو کے بچے ہوئے پانی اور زمزم کے پانی کو کھڑے ہو کر پینے کا استحباب : درمختار شرح تنویر الابصار میں مذکور ہے۔ ” وضو کا بچا ہوا پانی اور اسی طرح آب زمزم قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر پئے اور ان دو پانیوں کے سوا کھڑے ہو کر پینا مکروہ تنزیہی ہے ” اس عبارت سے علامہ شامی نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ آب زمزم اور وضو کا بقیہ پانی بھی کھڑے ہو کر پینا صرف جائز اور مباح ہے۔ مستحب نہیں ہے۔ مستحب ان کو بھی بیٹھ کر پینا ہے چناچہ وہ لکھتے ہیں : 

حاصل کلام یہ ہے کہ ان دونوں مواضع پر کھڑے ہو کر پینے کا مکروہ نہ ہونا بھی برمحل کلام ہے چہ جائیکہ ان میں مستحب کا قول کیا جائے اور زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ ان مواضع پر کھڑے ہو کر پینا مکروہ نہیں ہے۔ اگرچہ مستحب بھی نہیں ہے۔ کیونکہ زمزم کے پانی میں شفاء ہے۔ اسی وضو کے بقیہ میں بھی شاء ہے۔ (رد المحتار، ج 1، ص 88، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1407 ھ)

ہمیں اس مسئلہ میں علامہ شامی (رح) کی رائے سے اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک آب زمزم کی تعظیم کے قصد سے اس کو قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہو کر پینا مستحب اور باعث ثواب ہے کیونکہ آب زمزم شعائر اللہ میں سے ہے اور شعائر اللہ کی تعظیم کرنا مستحب ہے۔ قرآن مجید میں ہے : ” ومن یعظم شعائر اللہ فانہا من تقوی القلوب : اور جس نے اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو بیشک یہ دلوں کے تقوی سے ہے ” (الحج :32)

علامہ شامی سے مقدام اجلہ فقہاء نے بھی زمزم کے پانی کو کھڑے ہو کر پینا مستحب لکھا ہے۔ علامہ طاہر بن عبدالرشید بخاری متوفی 542 ھ لکھتے ہیں : وضوء کے آداب میں سے یہ ہے کہ وضوء کے آداب میں سے یہ ہے کہ وضوء کا بچا ہوا پانی قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر پیے اور امام خواہر زادہ (رح) نے کہا ہے کہ کھڑے ہو کر پیے اور اسی طرح زمزم کے پاس بھی کھڑے ہو کر پیے۔ (خلاصۃ الفتاوی، ج 1، ص 25، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ)

علامہ حسن بن منصور اوز جندی (قاضی خان) متوفی 295 ھ نے وضو کی سنتوں میں لکھا ہے کہ وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیے۔ (فتاوی قاضی خان علی ہامش الہندیہ، ج 1، ص 35)

علامہ عالم بن العلاء الانصاری الاندرینی الدہولی المتوفی 786 ھ لکھتے ہیں : امام خواہر زادہ (رح) نے کہا ہے کہ وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیے اور دو جگہوں کے سوا کھڑے ہو کر پانی نہ پیے۔ ایک اس مقام پر اور ایک زمزم پر۔ (فتای تاتار خانیہ، ج 1، ص 112 ۔ 113، مطبوعہ ادارۃ القرآن، کراچی، 1411 ھ)

علامہ شیخ حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی الحنفی المتوفی 1069 ھ لکھتے ہیں : وضو کا بچا ہا پانی قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر پینا مستحب ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کا بچا ہوا پانی اور زمزم کا پانی کھرے ہو کر پیا ہے اور آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ہرگز کھڑے ہو کر نہ پیے اور جو بھول جائے وہ قے کرے۔ اور علماء کا اجماع ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے جو کہ طبی بنا پر ہے نہ کہ دینی بنا پر۔ (مراقی الفلاح علی ہامش الطحاوی، ص 46 ۔ 47، مطبوعہ مصر) 

عالم گیری میں بھی وضو کے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پینا مستحب لکھا ہے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 8، طبع مصر) 

نیز علامہ شامی کی اپنی عبارت میں بھی ان کی تحقیق کے ضعیف ہونے کی تصریح ہے۔ وہ لکھتے ہیں : اور سراج میں مذکور ہے کہ ان دو جگہوں کے سوا کھڑے ہو کر پانی پینا مستحب نہیں ہے۔ اس عبارت سے مستفاد ہوتا ہے کہ شارح (علامہ حصکفی صاحب درمختار) کا مختار ضعیف ہے جیسا کہ اس پر حموی وگیرہ نے تنبیہ کی ہے۔ (کیونکہ اس عبارت کا تقاضا یہ ہے کہ وضو کا بچا ہوا پانی اور زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے) (ردالمحتار، ج 1، ص 87، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1407 ھ)

اعلی حضرت امام احمد رضا متوفی 1340 ھ کا ارشاد ہے : زمزم اور وضو کا پانی شرع میں کھڑے ہو کر پینے کا حکم ہے اور لوگوں نے دو اور اپنی طرف سے لگا لیے ہیں۔ ایک سبیل کا اور دوسرا جھوٹا پنی اور دونوں جھوٹے۔ (الملفوظ، ج 4، ص 6، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی، کراچی۔ 

صدر الشریعہ مولانا ماجد علی متوفی 1376 ھ لکھتے ہیں : اور بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر تھوڑا پی لے کہ شفاء امراض ہے (بہار شریعت، ج 2، ص 12، مطبوعہ ضیاء القرآن، پبلیکیشنز، لاہور)

نیز مولانا امجد علی لکھتے ہیں : اسی طرح آب زمزم کو بھی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔ یہ دونوں پانی اس حکم سے مستثنی ہیں۔ (بہار شریعت، ج 16، ص 29، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 31