قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَاۙ-وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ(۳۱)

بے شک ہار میں رہے وہ جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کا انکار کیا یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آگئی بولے ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں تقصیر کی اور وہ اپنے (ف۶۸) بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہیں ارے کتنا بُرا بوجھ اٹھائے ہیں (ف۶۹)

(ف68)

گناہوں کے ۔

(ف69)

حدیث شریف میں ہے کہ کافِر جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کے سامنے نہایت قبیح بھیانک اور بہت بدبودار صورت آئے گی ، وہ کافِر سے کہے گی تو مجھے پہچانتا ہے ؟ کافِر کہے گا نہیں تو وہ کافِر سے کہے گی میں تیرا خبیث عمل ہوں دنیا میں تو مجھ پر سوار رہا تھا آج میں تجھ پر سوار ہوں گا اور تجھے تمام خَلق میں رُسوا کروں گا ۔ پھر وہ اس پر سوار ہو جاتا ہے ۔

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۳۲)

اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود (ف۷۰) اور بے شک پچھلا گھر بھلا ان کے لیے جو ڈرتے ہیں(ف۷۱) تو کیا تمہیں سمجھ نہیں

(ف70)

جسے بقا نہیں جلد گزر جاتی ہے اور نیکیاں اور طاعتیں اگرچہ مؤمنین سے دنیا ہی میں واقع ہوں لیکن وہ امورِ آخرت میں سے ہیں ۔

(ف71)

اس سے ثابت ہوا کہ اعمالِ متّقِین کے سوا دنیا میں جو کچھ ہے سب لہو و لعب ہے ۔

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ(۳۳)

ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں (ف۷۲) تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے (ف۷۳) بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں(ف۷۴)

(ف72)

شانِ نُزول : اَخنَس بن شریق او ر ابوجہل کی باہم ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے کہا اے ابوالحَکَم (کُفّارابوجہل کو ابوالحَکَم کہتے تھے) یہ تنہائی کی جگہ ہے اور یہاں کوئی ایسا نہیں جو میری تیری بات پر مطلِع ہو سکے اب تو مجھے ٹھیک ٹھیک بتا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچّے ہیں یا نہیں ؟ ابوجہل نے کہا کہ اللہ کی قسم محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک سچّے ہیں کبھی کوئی جھوٹا حرف ان کی زبان پر نہ آیا مگر بات یہ ہے کہ یہ قُصَی کی اولاد ہیں اور لِوَا ، سقایت ، حجابت ، ندوہ وغیرہ تو سارے اعزاز انہیں حاصل ہی ہیں ، نبوّت بھی انہیں میں ہو جائے تو باقی قریشیوں کے لئے اعزاز کیا رہ گیا ۔ ترمذی نے حضرت علی مرتضٰی سے روایت کی کہ ابوجہل نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے ہم تو اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں جوآپ لائے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔

(ف73)

اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ قوم حضور کے صدق کا اعتقاد رکھتی ہے لیکن ان کی ظاہری تکذیب کا باعث ان کا حسد و عناد ہے ۔

(ف74)

آیت کے یہ معنٰی بھی ہوتے ہیں کہ اے حبیبِ اکرم آپ کی تکذیب آیاتِ الٰہیہ کی تکذیب ہے اور تکذیب کرنے والے ظالم ۔

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ-وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِۚ-وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ(۳۴)

اور تم سے پہلے رسول جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا اس جھٹلانے اور ایذائیں پانے پر یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد آئی(ف۷۵) اور اللہ کی باتیں بدلنے والا کوئی نہیں (ف۷۶) اور تمہارے پاس رسولوںکی خبریں آہی چکیں ہیں(ف۷۷)

(ف75)

اور تکذیب کرنے والے ہلاک کئے گئے ۔

(ف76)

اس کے حکم کو کوئی پلٹ نہیں سکتا ، رسولوں کی نُصرت اور ان کے تکذیب کرنے والوں کا ہلاک اس نے جس وقت مقدر فرمایا ہے ضرور ہو گا ۔

(ف77)

اور آپ جانتے ہیں کہ انہیں کُفّار سے کیسی ایذائیں پہنچیں ، یہ پیشِ نظر رکھ کر آپ دل مطمئن رکھیں ۔

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ(۳۵)

اور اگر ان کا منہ پھیرنا تم پر شاق گزرا ہے (ف۷۸) تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلو یا آسمان میں زینہ پھر ان کےلیے نشانی لے آؤ (ف۷۹)اور اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کر دیتا تو اے سننے والے تو ہر گز نادان نہ بن

(ف78)

سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت خواہش تھی کہ سب لوگ اسلام لے آئیں جو اسلام سے محروم رہتے ہیں ان کی محرومی آپ پر بہت شاق رہتی ۔

(ف79)

مقصود ان کے ایمان کی طرف سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی امید منقطع کرنا ہے تاکہ آپ کو ان کے اِعراض کرنے اور ایمان نہ لانے سے رنج و تکلیف نہ ہو ۔

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ ﳳ-وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ(۳۶)

مانتے تو وہی ہیں جو سنتے ہیں (ف۸۰) اور ان مردہ دلوں (ف۸۱) کو اللہ اٹھائے گا (ف۸۲) پھر اس کی طرف ہان کے جائیں گے (ف۸۳)

(ف80)

دل لگا کر سمجھنے کے لئے وہی پَنۡدپذیر ہوتے ہیں اور دینِ حق کی دعوت قبول کرتے ہیں ۔

(ف81)

یعنی کُفّار ۔

(ف82)

روزِ قیامت ۔

(ف83)

اور اپنے اعمال کی جزا پائیں گے ۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۳۷)

اور بولے (ف۸۴) ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے (ف۸۵) تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں(ف۸۶)

(ف84)

کُفّارِ مکہ ۔

(ف85)

کُفّار کی گمراہی اور ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ کثیر آیات و معجزات جو انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشاہدہ کئے تھے ان پر قناعت نہ کی اور سب سے مُکر گئے اور ایسی آیت طلب کرنے لگے جس کے ساتھ عذابِ الٰہی ہو جیسا کہ انہوں نے کہا تھا ۔ ” اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ” یا ربّ اگر یہ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا (تفسیر ابوالسعود)

(ف86)

نہیں جانتے کہ اس کا نُزول ان کے لئے بَلا ہے کہ انکار کرتے ہی ہلاک کر دیئے جائیں گے ۔

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىٕرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْؕ-مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ(۳۸)

اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرند کہ اپنے پروں اڑتا ہے مگر تم جیسی اُمّتیں(ف۸۷) ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا (ف۸۸) پھر اپنے رب کی طرف اٹھائے جائیں گے(ف۸۹)

(ف87)

یعنی تمام جاندار خواہ وہ بہائم ہو یا درندے یا پرند ، تمہاری مثل اُمّتیں ہیں ۔ یہ مماثلت جمیع وجوہ سے تو ہے نہیں بعض سے ہے ، ان وجوہ کے بیان میں بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ حیوانات تمھاری طرح اللہ کو پہچانتے ، واحد جانتے ، اس کی تسبیح پڑھتے ، عبادت کرتے ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ وہ مخلوق ہونے میں تمہاری مثل ہیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ انسان کی طرح باہمی الفت رکھتے اور ایک دوسرے سے تفہیم و تَفَہُّم کرتے ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ روزی طلب کرنے ، ہلاکت سے بچنے ، نر مادہ کی امتیاز رکھنے میں تمہاری مثل ہیں ۔ بعض نے کہا کہ پیدا ہونے ، مرنے ، مرنے کے بعد حساب کے لئے اٹھنے میں تمہاری مثل ہیں ۔

(ف88)

یعنی جملہ علوم اور تمام ” مَاکَانَ وَ مَا یَکُوْنُ ” کا اس میں بیان ہے اور جمیع اشیاء کا علم اس میں ہے ، اس کتاب سے یا قرآنِ کریم مراد ہے یا لوحِ محفوظ ۔ (جمل وغیرہ)

(ف89)

اور تمام دَوَابّ و طیور کا حساب ہو گا ، اس کے بعد وہ خاک کر دیئے جائیں گے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِؕ-مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُؕ-وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۳۹)

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں بہرے اور گونگے ہیں (ف۹۰)اندھیروںمیں (ف۹۱)اللہ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے رستے ڈال دے(ف۹۲)

(ف90)

کہ حق ماننا اور حق بولنا انہیں میسّر نہیں ۔

(ف91)

جَہل اور حیرت اور کُفر کے ۔

(ف92)

اسلام کی توفیق عطا فرمائے ۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَۚ-اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۴۰)

تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے(ف۹۲)اگر سچے ہو(ف۹۴)

(ف93)

اور جن کو دنیا میں معبود مانتے تھے ان سے حاجت روائی چاہو گے ۔

(ف94)

اپنے اس دعوٰی میں کہ معاذ اللہ بُت معبود ہیں تو اس وقت انہیں پکارو مگر ایسا نہ کرو گے ۔

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠(۴۱)

بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے (ف۹۵) جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے (ف۹۶)

(ف95)

تو اس مصیبت کو ۔

(ف96)

جنہیں اپنے اعتقادِ باطل میں معبود جانتے تھے اور ان کی طرف التفات بھی نہ کرو گے کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ تمہارے کام نہیں آ سکتے ۔