۵۔ مختلف روایات میں تطبیق

 الامن والعلی میں بحوالۂ مشکوۃ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث نقل فرمائی۔

لاتقولوا ماشاء اللہ وشاء فلان ، ولکن قولوا ماشاء اللہ ثم شاء فلان ۔

نہ کہو جو چاہے اللہ اور چاہے فلاں ۔ بلکہ یوں کہو جو چاہے اللہ پھر چاہے فلاں ۔

اس حدیث کے ساتھ ایک منقطع روایت شرح السنۃ سے یوں مذکور ہے ۔ لاتقولوا :ماشاء اللہ وماشاء محمد وقولواماشاء اللہ وحدہ ، نہ کہو جو چاہے اللہ اور محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،یوں کہو کہ جو چاہے ایک اللہ۔

اسی روایت منقطعہ کو نقل کرکے امام الوہابیہ تفویۃ الایمان میں لکھا تھا ۔

یعنی جوکہ اللہ کی شان ہے اوراس میں کسی مخلوق کو دخل نہیں سو اس میں اللہ کے ساتھ کسی مخلوق کو نہ ملاوے گو کیسا ہی بڑا ہو ۔ مثلا یوں نہ بولو کہ اللہ ورسول چاہے گا تو فلاں کام ہوجائے گا کہ سارا کاروبار جہان کا اللہ کے چاہنے سے ہوتاہے رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔تفویہ

اب امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کی اس پر مضبوط دلائل کے ساتھ گرفتیں ملاحظہ کریں ۔فرماتے ہیں :۔

ہم اس مطلب کی احادیث اول ذکرکریں پھر بتوفیقہ تعالیٰ ثابت کردکھائیں کہ یہ ہی حدیثیں اس (امام الوہابیہ ) کے شرک کا کیسا سر توڑ تی ہیں ۔

اسکے بعد امام احمد رضا محدث بریلوی نے چند احادیث ذکر فرمائی ہیں جو مختصرا یوں ہیں۔

مسند احمدوسنن ابی دائود میں مختصر اور سنن ابن ماجہ میں مطولا بسند حسن یوں ہے ۔

ان رجلا من المسلمین رایٔ فی النوم انہ لقی رجلا من اہل الکتاب فقال : نعم القوم انتم لولا تشرکون ، تقولون : ماشاء اللہ وشاء محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، وذکر ذلک للنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال :اما واللہ ان کنت لاعرفہا لکم ،قولوا : ماشاء اللہ ثم ماشاء محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

یعنی اہل اسلام سے کسی کو خواب میں ایک کتابی ملا ، و ہ بولا : تم بہت خوب لوگ ہو اگر شرک نہ کرتے ، تم کہتے ہو : جو چاہے اللہ اور چاہیں محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، ان مسلم نے یہ خواب حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی : فرمایا: سنتے ہو ! خداکی قسم تمہاری اس بات پر مجھے بھی خیال گذرتاتھا ، یوں کہاکرو : جو چاہے اللہ پھر جو چاہیں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

سنن ابن ماجہ میں دوسری روایت ابن عباس سے یوں ہے ۔

اذاحلف احدکم فلایقل ماشاء اللہ وشئت ، ولکن یقل ماشاء اللہ ثم شئت ۔

جب تم میں کوئی شخص قسم کھائے تو یوں نہ کہے کہ جو چاہے اللہ اور میں چاہوں ۔ہاں یوں کہے کہ جوچاہے اللہ پھر میں چاہوں ۔

تیسری روایت ام المومنین سے بنحوہ ہے ۔

چوتھی روایت مسند احمد میں طفیل بن سخبرہ سے اس طرح آئی ۔ کہ مجھے خواب میں کچھ یہودی ملے، میں نے ان پر اعتراض کیا کہ تم حضرت عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا بیٹا کیوں کہتے ہو ۔ انہوںنے جواب میں کہا: تم خاص کامل لوگ ہو اگر یوں نہ کہو کہ جو چاہے اللہ اور چاہیں محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ پھر کچھ نصاری ملے ان سے بھی اسی طرح کی گفتگو ہوئی۔ میں نے پورا خواب حضور کی خدمت میں عرض کیا ، حضور نے اسکے بعد خطبہ دیا اور حمد وثنائے الٰہی کے بعد فرمایا :۔

انکم کنتم تقولون کلمۃ کان یمنعنی الحیاء منکم ان انہا کم عنہا ، لاتقولوا ماشاء اللہ وماشاء محمد ۔

تم لوگ ایک بات کہا کرتے تھے ، مجھے تمہارالحاظ روکتا تھا کہ تمہیں اس سے منع کردوں ، یوں نہ کہو جو چاہے اللہ اور جو چاہیں محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

سنن نسائی میں قتیلہ بنت صیفی سے روایت ہے ۔

ان یہودیا اتی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال انکم تندون وانکم تشرکون ، تقولون : ماشاء اللہ وشئت ، وتقولون والکعبۃ فامر ہم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذااراد وا ان یحلفوا ان یقولوا: ورب الکعبۃ، ویقول احد: ماشاء اللہ ثم شئت ۔

ایک یہودی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کی : بیشک تم لوگ اللہ کا برابر والا ٹھہراتے ہو ، بیشک تم لوگ شرک کرتے ہو ، یوں کہتے ہو کہ جو چاہے اللہ اور جوچاہوتم ، اور کعبہ کی قسم کھاتے ہو ۔ اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حکم فرمایا قسم کھانا چاہیں تو یوں کہیں : رب کعبہ کی قسم ، اور کہنے والا یوں کہے جو چاہے اللہ پھر چاہوتم ۔

مسند احمد میں روایت یوں آئی کہ ۔

یہود کے ایک عالم نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی ۔ اے محمد آپ بہت عمدہ لوگ ہیں اگر شرک نہ کریں ، فرمایا : سبحان اللہ ، یہ کیا؟ کہا: آپ کعبہ کی قسم کھاتے ہیں ۔ اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کچھ مہلت دی یعنی ایک مدت تک کچھ ممانعت نہ فرمائی ، پھر فرمایا: یہودی نے ایسا کہا تھا ، تو اب جو قسم کھائے وہ رب کعبہ کی قسم کھائے ۔

دوسری روایت میں اس طرح آیا ۔

یہودی نے کہا : اے محمد آپ بہت عمدہ لوگ ہیں اگر اللہ کے برابر والا نہ ٹھہرایئے ۔

فرمایا : سبحان اللہ یہ کیا ؟ کہا: آپ کہتے ہیں : جو چاہے اللہ اور چاہو تم ۔ اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک مہلت تک کچھ نہ فرمایا بعد ہ فرمادیا ۔ اس یہودی نے ایسا کہا ہے تو اب جو کہے کہ جو چاہے اللہ تعالیٰ تو دوسرے کے چاہنے کو جداکرکے کہے کہ پھر چاہو تم ۔

ان تمام روایات کو نقل کرکے محدث بریلوی فرماتے ہیں :

امام الوہابیہ نے ان سب کو بالائے طاق رکھ کر شرح السنۃ کی ایک روایت منقطع دکھائی اور بحمداللہ اس میں بھی کہیں اپنے حکم شرک کی بو نہ پائی ۔ اب بحمد اللہ ملاحظہ کیجئے کہ یہ ہی حدیثیں اس کے دعوی شرک کو کس کس طرح جہنم رسید کرتی ہیں ۔

اولاً ۔احادیث سے ثابت کہ صحابہ کرام نے یہ جملہ کہ’’ اللہ ورسول چاہیں تو یہ کام ہوجائے یا اللہ اور تم چاہو تو ایسا ہوگا ‘‘ شائع وذائع تھا ۔ حضور اس پر مطلع تھے بلکہ عالم یہود کے ظاہرالفاظ تو یہ ہیںکہ خود حضور بھی ایسا فرماتے تھے اور امام الوہابیہ اس کو شرک کہتا ہے ۔ معاذاللہ تو اس کے نزدیک سب مشرک ہوئے ۔

ثانیاً۔حدیث طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تو یہ بھی ہے کہ حضور نے فرمایا : اس لفظ کا خیال مجھے بھی گذرتاتھا مگر تمہارے لحاظ سے منع نہ کرتا تھا، تو معاذاللہ امام الوہابیہ کے نزدیک حضور نے دانستہ شرک کو گوارہ فرمایا اور صحابہ کے لحاظ پاس کو اس میں دخل دیا ۔

ثالثاً۔ گویا یہودی کے قول سے ممانعت ہوئی اور سچی توحید اس مشرک نے سکھائی ۔

رابعاً۔ قتیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث سے تو یہ بھی ثابت کہ ایک عرصہ تک حضور نے ممانعت نہ فرمائی اور پھر خیال آیا ۔

خامساً۔ ان سب کے باوجود حضور نے جو تعلیم دی وہ یہ تھی کہ( اور) نہ کہا کرو بلکہ (پھر) کہا کرو ۔ یعنی شرک سے بچنے کی تعلیم ایسی دی کہ پھر بھی وہ شرک ہی ٹھہری۔ معاذاللہ ۔

ان تمام مواخذوں کے بعد معارضہ قائم کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

مسلمانو! للہ انصاف ، جو بات خاص شان الٰہی عزوجل ہے اور جس میں کسی مخلوق کو کچھ دخل نہیں اس میں دوسرے کو خداکے ساتھ ’’اور ‘‘ کہکر ملایا تو کیا اور’’ پھر‘‘ کہکر ملایا تو کیا ۔شرک سے کیونکر نجات ہوجائے گی ۔مثلاً زمین وآسمان کا خالق ہونا ، اپنی ذاتی قدرت سے تمام اولین وآخرین کا رازق ہونا خاص خدا کی شانیں ہیں ۔ کہ اگر کوئی یونہی کہے کہ اللہ ورسول خالق السموات والارض ہیں ، اللہ ورسول اپنی ذاتی قدرت سے رازق عالم ہیں ، جبھی شرک ہوگا ؟

اور اگر کہے کہ اللہ پھر رسول خالق السموات والارض ہیں ،اللہ پھر رسول اپنی ذاتی قدرت سے رازق جہاں ہیں تو شرک نہ ہوگا ۔

مسلمانو! گمرہوں کے امتحان کے لئے ان کے سامنے یونہی کہہ دیکھو کہ اللہ پھر رسول عالم الغیب ہیں ، اللہ کے رسول ہماری مشکلیں کھولدیں ، دیکھو تو یہ حکم شرک جڑتے ہیں یانہیں ۔

اسی لئے تو عیار مشکوۃ کی اس حدیث متصل صحیح ابی دائود کی میر بحری بچاگیا تھا جس میں لفظ ’پھر‘ کے ساتھ اجازت ارشاد ہوتی تھی ۔تو ثابت ہواکہ اس مردک کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہودی کا اعتراض پاکر بھی جو تبدیلی کی وہ خود شرک کی شرک ہی رہی ۔

یہ تو ان (امام الوہابیہ او راسکے اذیال واذناب) کے طور پر نتیجہ احادیث تھا ، ہم اہل حق کے طور پر پوچھو تو۔

اقول ۔وباللہ التوفیق ۔ بحمد اللہ تعالیٰ نہ صحابہ نے شرک کیا اور نہ معاذاللہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شرک سنکر گوارہ فرمایا ، کسی کے لحاظ پاس کو کام میں لانا ممکن تھا نہ یہودی مردک تعلیم توحید کرسکتا تھا ، بلکہ حقیقت امر یہ ہے کہ مشیت حقیقیہ ذاتیہ مستقلہ اللہ عزوجل کے لئے خاص ہے ،اور مشیت عطائیہ تابعہ لمشیۃ اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد کو عطا کی ہے، مشیت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کائنات میں جیسا کچھ دخل عظیم بعطائے رب جلیل وکریم جل جلالہ ہے وہ ان تقریرات جلیلہ سے کہ ہم نے زیر حدیث ۱۲۶؍ (حضرت علی کیلئے سورج پلٹانا ) ذکر کیں واضح وآشکار ہے ۔

جب اس یہودی خبیث نے جس کے خیالات امام الوہابیہ کے مثل تھے اعتراض کیا اور معاذ اللہ شرک کا الزام دیا حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رائے کریم کا زیادہ رجحان اسیطرف ہواکہ ایسے لفظ کو جس میں احمق بدعقل مخالف جائے طعن جانے دوسرے سہل لفظ سے بدل دیاجائے کہ صحابہ کرام کا مطلب تبرک وتوسل برقرار رہے اور مخالف کج فہم کو گنجائش نہ ملے مگر یہ بات طرز عبارت کے ایک گونہ آداب سے تھی معناً تو قطعاً صحیح تھی لہذا اس کا فر کے بکنے کے بعد بھی چنداں لحاظ نہ فرمایا گیا یہاں تک کہ طفیل بن سخبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ خواب دیکھا اور رویائے صادقہ القائے ملک ہوتاہے اب اس خیال کی زیادہ تقویت ہوئی اور ظاہر ہوا کہ بارگاہ عزت میں یہی ٹھہراہے کہ یہ لفظ مخالفوں کا جائے طعن ہے بدل دیاجائے جس طرح رب العزت جل جلالہ نے راعنا کہنے سے منع فرمایا تھا کہ یہودوعنود اسے اپنے مقصد مردود کا ذریعہ کرتے ہیں اور اسکی جگہ انظرنا کہنے کا ارشاد ہواتھا ولہذا خواب میں کسی بندئہ صالح کو اعتراض کرتے نہدیکھا کہ یوں توبات فی نفسہ محل اعتراض ٹھہرتی بلکہ خواب بھی دیکھا تو انہیں یہود ونصاری اس امام الوہابیہ کے خیالوں کو معترض دیکھا تاکہ ظاہر ہوکہ صرف دہن دوزی مخالفان کی مصلحت داعی تبدیل لفظ ہے اب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خطبہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یوں نہ کہو کہ اللہ ورسول چاہیں توکام ہوگا بلکہ یوں کہو کہ اللہ پھر اللہ کا رسول چاہے تو کام ہوگا (پھر) کا لفظ کہنے سے وہ توہم مساوات کہ ان وہابی خیالات کے یہود ونصاری یایوں کہیے کہ ان یہودی خیال کے وہابیوں کو گزرتاہے باقی نہ رہے گا ’’الحمد للہ علی تواتر آ لائہ والصلوۃ والسلام علی انبیائہ ‘‘ اہل انصاف ودین ملاحظہ فرمائیں کہ یہ تقریر منیر کہ فیض قدیر سے قلب فقیر پر القاہو ئی کیسی واضح ومستنیر ہے جسے ان احادیث کو ایک مسلسل سلک گوہرین میں منظوم کیا اور تمام مدارج ومراتب مرتبہ بحمداللہ تعالیٰ نورانی نقشہ کھینچ دیا الحمد للہ کہ یہ حدیث فہمی ہم اہل سنت ہی کا حصہ ہے وہابیہ وغیرہم بدمذہبوں کو اس سے کیا علاقہ ہے ’’ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم ،والحمد للہ رب العلمین ۔( الامن والعلی۲۲۱)

فتاوی رضویہ جلد چہارم ص ۶۹؍ پر نجاشی شاہ حبشہ کی غائبانہ نماز جنازہ سے متعلق ایک حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمائی جسکو صحاح ستہ کے حوالہ سے نقل فرمایا ۔ حدیث یہ ہے۔

ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نعی لہم النجاشی صاحب الحبشۃ فی الیوم الذی مات فیہ وقال : استغفروا لاخیکم وصف بہم فی المصلی فصلی علیہ وکبر علیہم اربعا ۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ حضرت نجاشی کے انتقال کی خبر اسی دن سنائی جس دن ان کا وصال ہوا ، فرمایا: اپنے دینی بھائی کیلئے مغفرت کی دعاکرو ، پھر حضورنے ایسے میدان میں جہاں عموما عیدکی نماز ہوتی تھی صف بندی فرمائی اور نماز جنازہ پڑھتے ہوئے چار تکبیریں کہیں ۔

اس حدیث سے بعض حضرات غیر مقلدین نے غائبانہ نماز جنازہ اور اسکی تکرار کو جائز کہا تھا ۔ امام احمد رضا محدث بریلوی نے ایسی تمام احادیث کو نقل فرماکر جواز اور عدم جواز کی روایات میں تطبیق وجمع بین الاحادیث کا نہایت شاندار نقشہ کھینچ دیاہے ۔ زمانۂ اقدس میں صدہا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے دوسرے مواضع میں وفات پائی کبھی کسی حدیث صحیح صریح سے ثابت نہیں کہ حضور نے غائبانہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھی ہو ۔ کیا وہ محتاج رحمت والا نہ تھے ؟ کیا معاذاللہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان پر یہ رحمت وشفقت نہ تھی ؟ کیا ان کی قبور اپنی نماز پاک سے پرنور نہ کرنا چاہتے تھے؟ کیا جو مدینہ طیبہ میں مرتے انہیں کی قبور محتاج نور ہوتیں اور جگہ اس کی حاجت نہ تھی؟ یہ سب باتیں بداہۃ باطل ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عام طور پر ان کی نماز جنازہ نہ پڑھنا ہی دلیل روشن وواضح ہے کہ جنازہ غائب پر نماز ناممکن تھی ورنہ ضرور پڑھتے کہ مقتضی بکمال وفور موجود اور مانع مفقود ، لاجرم نہ پڑہنا قصداً بازرہنا تھا،اور جس امر سے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بے عذر مانع بالقصد احتراز فرمائیں وہ ضرور امر شرعی ومشروع نہیں ہوسکتا ۔ فرماتے ہیں :۔

دوسرے شہر کی میت پر صلاۃ کا ذکر صرف تین واقعوں میں روایت کیاجاتاہے ۔ ایک یہ ہی واقعہ نجاشی ، دوسرا واقعہ معاویہ لیثی ، تیسرا واقعہ امرائے معرکۂ موتہ ۔

واقعہ اولیٰ ۔ اس واقعہ کی ایک روایت گذری ، دوسری روایات مسند احمد وغیرہ میں حضرت عمران بن حصین سے یوں ہیں کہ ۔

ہم نے حضور کے پیچھے نمازپڑھی اور ہم یہ ہی اعتقاد کرتے تھے کہ حضرت نجاشی کا جنازہ ہمارے آگے موجود ہے ۔

حضرت ابن عباس کی روایت میں یوں آیاکہ ۔

حضرت نجاشی کا جنازہ حضور کے لئے ظاہر کردیا گیا ، حضور نے اسکو دیکھا اور اس پر نماز پڑھی ۔

حضرت حذیفہ بن اسید کی روایت اس طرح آئی کہ :۔

حضور نے حبشہ کی جانب منہ کرکے چارتکبیریں کہیں ۔

واقعہ ثانیہ ۔ حضرت معاویہ لیثی نے مدینہ طیبہ میںانتقال کیا ، حضور نے تبوک میں ان پر نماز جنازہ پڑھی ۔ حدیث اس طرح ہے ۔

حضرت ابو امامہ باہلی فرماتے ہیں :۔

ان جبرئیل علیہ السلام اتی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال : مات معاویۃ فی المدینۃ اتحب ان اطوی لک الارض فرفع لہ سریرہ فصل علیہ وخلفہ صفان من الملائکۃ کل صف سبعون الف ملک ۔

حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میںحاضر ہوکر عرض کی : یارسول اللہ ! معاویہ بن معاویہ مزنی نے مدینہ میں انتقال کیا ، تو کیا حضور چاہتے ہیں کہ میں حضور کیلئے زمین لپیٹ دوں تاکہ حضور ان پر نماز پڑھیں ، فرمایا : ہاں جبرئیل نے اپنا پر زمین پر مارا ، جنازہ حضور کے سامنے آگیا ، اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی ، فرشتوں کی دوصفیں حضور کے پیچھے تھیں ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے ۔

دوسری روایت میں اتنا اور زائد ہے کہ حضرت ابو امامہ نے فرمایا ، یہانتک کہ ہم نے مکہ مدینہ کو دیکھا ۔

اسی طرح حضرت انس کی روایت میں بھی ہے ۔

واقعہ سوم :۔ جنگ موتہ میںحضور نے حضرت زید بن حارثہ کو امیر لشکر بناکر بھیجا اور فرمایا اگر یہ شہید ہو جائیں تو جعفر طیار امیر ہونگے ، اور یہ بھی شہادت سے سرفراز ہوں تو عبداللہ بن رواحہ ، اور یہ بھی جام شہادت پی لیں تو تم لوگ جسکو چاہو اپنا امیر چن لینا ۔ جب جنگ شروع ہوئی تو حضور کے فرمانے کے مطابق ہوا ۔ حدیث مختصراً یوں ہے اور اسکے راوی عاصم بن عمر بن قتادہ اور عبداللہ بن ابی بکر ہیں ۔

لما التقی الناس بموتہ جلس رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ ومابین الشام فہو ینظر الی معرکتہم فقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اخذ الرایۃ زیدبن حارثۃ فمضی حتی استشہدفصلی علیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ودعالہ وقال : استغفروالہ وقد دخل الجنۃ فہو یطیر فیہا بجناحین حیث شاء ۔

جب مقام موتہ میں لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے ،اللہ عزوجل نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے پردے اٹھادیئے کہ ملک شام اور وہ معرکہ حضور دیکھ رہے تھے ، اتنے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : زید بن حارثہ نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہانتک کہ شہید ہوا ۔ حضور نے انہیں اپنی صلوۃ ودعا سے مشرف فرمایا اور صحابہ سے ارشاد ہوا اسکے لئے استغفار کرو ،بیشک وہ دوڑ تاہوا جنت میں داخل ہوا ۔ حضور نے پھر فرمایا : جعفر بن ابی طالب نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہانتک کہ شہید ہوا ، حضور نے انکو بھی اپنی صلاۃ ودعا سے مشرف فرمایا۔ اور صحابہ کو ارشاد ہوا کہ اسکے لئے استغفار کرو ، وہ جنت میں داخل ہوا اس میں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتاپھرتا ہے ۔

ان تینوں واقعات سے متعلق امام احمد رضا محدث بریلوی کی جو تحقیقات ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ، لکھتے ہیں ۔

ان میں اول اور دوم بلکہ سوم کا بھی جنازہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے حاضر تھا تو نماز غائب پر نہ ہوئی بلکہ حاضر پر۔ اور دوم سوم کی سند صحیح نہیں اور سوم صلاۃ بمعنی نماز میں صریح نہیں ۔ ان کی تفصیل بعونہ تعالیٰ ابھی آتی ہے ۔ اگر فرض ہی کرلیجئے کہ ان تینوں واقعوں میں نماز پڑھی تو باوصف حضور کے اس اہتمام عظیم وموفور اورتمام اموات کے اس حاجت شدیدہ رحمت ونور قبور کے صدہا پر کیوں نہ پڑھی وہ بھی محتاج حضور وحاجتمند رحمت ونور اور حضور ان پر بھی رئوف ورحیم تھے ۔ نماز سب پر فرض عین نہ ہونا اس اہتمام عظیم کا جواب نہ ہوگا ۔ نہ تمام اموات کی اس حاجت شدیدہ کا علاج ۔حالانکہ حریص علیکم انکی شان ہے ۔دوایک کی دستگیری فرمانا اور صدہاکو چھوڑنا کب انکے کرم کے شایان ہے ۔ان حالات واشارات کے ملاحظہ سے عام طور پر ترک اور صر ف دو ایک بار وقوع خودہی بتادے گا کہ وہاں کوئی خصوصیت خاصہ تھی جس کا حکم عام نہیں ہوسکتا ۔ حکم عام وہی عدم جواز ہے جس کی بنا پر عام احتراز ہے۔ اب واقعہ بیر معونہ ہی دکھئے مدینہ طیبہ کے ستر جگر پاروں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاص پیاروں اجلۂ علمائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کفار نے دغاسے شہید کردیا ۔مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کا سخت وشدید غم والم ہوا ۔ ایک مہینہ کامل خاص نماز کے اندر کفار ناہنجار پر لعنت فرماتے رہے مگر ہر گز منقول نہیں کہ ان پیارے محبوبوں پر نماز پڑھی ہو ۔ع آخر ایں ترک و ایں مرتبہ بے چیزے نیست ۔اہل انصاف کے نزدیک کلام تو اسی قدر سے تمام ہوا مگر ہم ان وقائع ثلثہ کا بھی باذنہ تعالیٰ تصفیہ کریں ۔

واقعہ اولیٰ سے متعلق لکھتے ہیں :۔

اولاً:۔کہ پہلی دونوں روایتیں (ابوہریرہ وعمران بن حصین )کی اس حدیث مرسل اصولی کی عاضد قوی ہیں جسکو امام واحدی نے اسباب نزول قرآن میں حضرت ابن عباس سے نقل کیا کہ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے نجاشی کا جنازہ ظاہر کردیا گیا تھا ، حضور نے اسے دیکھا اور اس پر نماز پڑھی ،

ان تینوں روایتوں سے ثابت ہواکہ حضرت اصمحہ نجاشی پر نماز جنازہ غائبانہ نہیں تھی بلکہ جنازہ سامنے موجود تھا ۔

ثانیاً :۔ جب متعدد روایتوں سے ثابت ہوگیا کہ نماز حاضر پر تھی تو مستدل کے خلاف احتمال بدلیل ہوا، لہذا فرماتے ہیں :

بلکہ جب تم مستدل ہو ہمیں احتمال کافی نہ کہ جب خود باسانید صحیحہ ثابت ہے ۔ امام قسطلانی نے مواہب شریف میں یہ جواب نقل کیا اور مقرر رکھا ۔

کسی نے ابو ہریرہ اور عمران بن حصین کی روایات پر یوں معارضہ قائم کیا تھا کہ مجمع بن جاریہ کی روایت میں تو یہ ہے کہ ’’ومانری شیئا ،‘‘ ہم کچھ نہ دیکھ رہے تھے ، رواہ الطبرانی ۔

اسکا جواب آپ نے اس طرح دیا ۔

اس روایت میں حمران بن اعین رافضی ضعیف ہے علاوہ ازیں ہرراوی نے اپنا حال بیان کیا لہذا کوئی تعارض نہیں ۔ ورنہ پہلی صف کے علاوہ کسی کی نماز ہی صحیح نہ ہو ۔

ثالثاً:۔ حضرت نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال دارالکفر میںہوا وہاں ان پر نماز نہ ہوئی تھی ، لہذاحضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہاں پڑھی ، اسی بنا پر امام ابودائود نے اپنی سنن میں اس حدیث کیلئے یہ باب وضع کیا ۔

الصلوۃ علی مسلم یلیہ اہل الشرک فی بلدآخر

دوسرے شہر میں ایسے مسلم کی نماز جنازہ جس کے قریب صرف اہل شرک ہیں۔

اس پر حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں کہا :۔

یہ احتمال تو ہے مگر کسی حدیث میں یہ اطلاع میں نے نہ پائی کہ نجاشی کے اہل شہر میں سے کسی نے ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی ۔

علامہ زرقانی نے لکھا :۔

یہ الزام دونوں طرف سے مشترکہ ہے ، کیوں کہ کسی حدیث میں یہ بھی مروی نہیں کہ ان کے اہل شہر میں سے کسی نے ان کی نماز جنازہ پڑھی تھی ۔

امام ابو دائود نے اسی پر جزم کیا جب کہ وسعت حفظ میں ان کا مقام معلوم ہے ۔

اس پر امام احمد رضا فرماتے ہیں: ۔

یہ احتمال مان کر علامہ زرقانی نے ہمارا بوجھ خودہی اتاردیا ہے ۔

رابعاً:۔ بعض (منافقین ) کو ان کے اسلام میں شبہ تھا یہاں تک کہ بعض نے کہا : حبشہ کے ایک کافر پر نماز پڑھی ۔ لہذا اس نماز سے مقصود ان کی اشاعت اسلام تھی کہ (بیان بالقول کے مقابل) بیان بالفعل اقوی ہے ۔ لہذا مصلی میں تشریف لے گئے کہ جماعت کثیر ہو ۔

ان تمام جوابات کا خلاصہ یہ ہوا کہ نجاشی کی نماز جنازہ ان خصوصیات کی بنا پر پڑھی گئی جس سے

حکم عام ثابت نہیں ہوسکتا ۔ حکم عام وہی عدم جواز ہے جس کی بنا پر عام احتراز ہے ۔ یہاںغیرمقلدین کے بھوپالی امام نواب صدیق حسن خاں کی ایک عجوبۂ روزگار تحقیق پر تنبیہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

غیر مقلدین کے بھوپالی امام نے عون الباری میں حدیث نجاشی کی نسبت کہا۔ اس سے ثابت ہواکہ غائب پر نماز جائز ہے اگر چہ جنازہ غیر جہت میں ہو اور نماز ی قبلہ رو۔

اقول یہ اس مدعی اجتہاد کی کورانہ تقلید اور اس کے ادعا پر مثبت جہل شدید ہے ۔نجاشی کا جنازہ حبشہ میں تھا اور حبشہ مدینہ طیبہ سے جانب جنوب ہے اور مدینہ طیبہ کا قبلہ جنوب ہی کو ہے تو جنازہ غیر جہت قبلہ کو کب تھا ۔

لاجرم لمانقل الحافظ فی الفتح قول ابن حبان انہ انما یجوز ذلک لمن فی جہۃ القبلۃ ، قال حجتہ الجمود علی قصۃ النجاشی ۔

جب حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ابن حبان کا یہ قو ل نقل کیا کہ صرف اسی غائب کی نماز جنازہ ہوسکتی ہے جو سمت قبلہ میں ہو تو اس پر یہ کہا کہ : ان کی دلیل واقعۂ نجاشی پر جمود ہے ۔

تو ان مجتہد صاحب کا جہل قابل تماشا ہے جن کو سمت قبلہ تک معلوم نہیں پھر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ان کے جنازہ پر نماز ان کی غیر سمت پڑھنے کا ادعا دوسرا جہل ہے ۔ حدیث میں تصریح ہے کہ حضور نے جانب حبشہ نماز پڑھی رواہ الطبرانی عن حذیفۃ بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( اسے طبرانی نے حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا )۔

٭ واقعہ دوم

اس واقعہ سے متعلق محدث بریلوی نے دو جواب دئیے ہیں ۔

اولاً:۔ ان تمام احادیث کو ائمہ حدیث عقیل ، ابن حبان، بیہقی ، ابو عمر وابن عبدالبر ،

ابن جوزی ، نووی ، ذہبی ، اور ابن الہمام وغیرہم نے ضعیف بتایا ۔ پہلی دو حدیثوں کی سند بقیہ بن ولید مدلس ہے اور اس نے عنعنہ کیا ۔ یعنی محمد بن زیاد سے اپنا سننا نہ بیان کیا بلکہ کہا ۔ابن

زیاد سے روایت ہے ۔ معلوم نہیں راوی کون ہے ۔ بہ اعلہ المحقق فی الفتح ۔

ذہبی نے کہا : یہ حدیث منکر ہے ۔ نیز اسکی سند میں نوح بن عمر ہے ۔

ابن حبان نے اسے اس حدیث کا چور بتایا ۔ یعنی ایک سخت ضعیف شخص اسے حضرت

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتا تھا ۔ اس نے اس سے چرا کر بقیہ کے سر باندھی۔

تیسری حدیث کی سند میں محبوب بن ہلال مزنی ہے ۔

ذہبی نے کہا : یہ شخص مجہول ہے اور اسکی یہ حدیث منکر ہے ۔

چوتھی حدیث کی سند میں علاء بن یزید ثقفی ہے ۔

امام نودی نے خلاصہ میں فرمایا : اسکے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے ۔

امام بخاری و ابن عدی اور ابو حاتم نے کہا : وہ منکر الحدیث ہے ۔

ابو حاتم و دار قطنی نے کہا: متروک الحدیث ہے ۔

امام علی بن مدینی استاذ امام بخاری نے کہا : وہ حدیثیں دل سے گڑھتا تھا ۔

ابن حبان نے کہا: یہ حدیث بھی اسکی گڑھی ہوئی ہے ۔ اس سے چرا کر ایک شامی نے بقیہ سے روایت کی ۔

ابو الولید طیالسی نے کہا : علاء کذاب تھا۔

عقیلی نے کہا: علاء کے سوا جس جس نے یہ حدیث روایت کی سب علا ہی جیسے ہیں یا اس سے بھی بد تر ۔

ابو عمر وبن عبد العزیز نے کہا: اس حدیث کی سب سند یں ضعیف ہیں۔ اور دربارۂ احکام اصلاً حجت نہیں ۔ صحابہ میں کوئی شخص معاویہ بن معاویہ نام معلوم نہیں ابن حبان نے بھی

یونہی فرمایا : کہ مجھے اس نام کے کوئی صاحب صحابہ میں یاد نہیں ۔

ثانیاً ۔ فرض کیجئے کہ یہ احادیث اپنے طرق سے ضعیف نہ رہیں ۔ کما اختارہ الحافظ فی الفتح ۔ یابفرض غلط لذاتہ صحیح سہی ۔ پھر اس میں کیا ہے ۔ خود اسی میں تصریح ہے ۔ کہ جنازہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیش نظر انور کر دیا گیا تھا۔ تو نماز جنازہ حاضر پر ہوئی نہ کہ غائب پر ۔ بلکہ طرز کلام مشیر ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کے لئے جنازہ سامنے ہونے کی حاجت سمجھی گئی ۔ جبھی تو حضرت جبرئیل نے عرض کی: حضور نماز جنازہ پڑھنا چاہیں تو زمین لپیٹ دوں ۔ تاکہ حضور نماز پڑھیں ۔

وہابیہ کے امام شوکانی نے نیل الاوطار میں یہاں عجیب تماشا کیا ۔

اولاً۔ استیعاب سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ لیثی پر نماز پڑھی ۔ پھر کہا : استیعاب میں اس قصہ کا مثل معاویہ بن مقرن کے حق میں ابو امامہ سے روایت کیا ۔

پھر کہا : نیز اسکا مثل انس سے ترجمہ معاویہ میں بھی معاویہ مزنی روایت کیا ۔

اس میں یہ وہم دلانا ہے کہ گویا یہ تین صحابی جدا جدا ہیں جن پر نماز غائب مروی ہے ۔ حالانکہ یہ محض جہل یا تجاہل ہے ۔ وہ ایک ہی صحابی ہیں ۔ معاویہ نام جنکے نسب ونسبت میں راویوں سے اضطراب واقع ہوا ۔ کسی نے مزنی کہا کسی نے لیثی ، کسی نے معاویہ بن معاویہ ، کسی نے معاویہ بن مقرن ۔

ابو عمر نے معاویہ بن مقرن مزنی کو ترجیح دی کہ صحابہ میں معاویہ بن معاویہ کوئی معلوم نہیں ۔

حافظ نے اصابہ میں معاویہ بن معاویہ مزنی کو ترجیح ۔ اور لیثی کہنے کو علاء ثقفی کی خطا بتایا ، اور معاویہ بن مقرن کو ایک صحابی مانا جن کے لئے یہ روایت نہیں ۔

بہر حال صاحب قصہ شخص واحد ہیں اور شوکانی کا الہام تثلیث محض باطل ۔

ابن الاثیر نے اسد الغابہ میں فرمایا ؛ معاویہ بن معاویہ مزنی ہیں ۔ انکو لیثی بھی کہا جاتاہے اور معاویہ بن مقرن مزنی بھی ۔ ابو عمر ونے کہا : یہ ہی صواب سے نزدیک تر ہے ۔ پھر حدیث انس کے طریق اول سے پہلے طور پر نام ذکر کیا ۔ اور طریق دوم سے دوسرے طور پر ، اورحدیث امامہ سے تیسرے طور پر ۔

٭ واقعہ سوم

اس واقعہ کے پانچ جواب دئیے ہیں ، پہلے دو الزامی اور باقی تین تحقیقی ہیں ۔

اولاً:۔ یہ حدیث دونوں طریق سے مرسل ہے ۔ عاصم بن عمر اوساط تابعین سے ہیں قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی کے پوتے ۔ اور یہ عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن حزم صغار تابعین سے ہیں ۔ عمر و بن حزم صحابی کے پرپوتے ۔

ثانیاً: ۔ خود واقدی کو محدثین کب مانتے ہیں یہاں تک کہ ذہبی نے انکے متروک ہونے پر اجماع کیا ۔

یہ دونوں جواب الزامی ہیں ورنہ ہم حدیث مرسل کو قبول کرتے ہیں اور امام واقدی کو ثقہ مانتے ہیں ۔

ثالثاً:۔ عبداللہ بن ابی بکر سے راوی امام واقدی کے شیخ عبدالجبار بن عمارہ مجہول ہیں کما فی المیزان ۔ تو یہ مرسل نامعتضد ہے ۔

رابعاً: ۔ خود اسی حدیث میں صاف تصریح ہے کہ پردے اٹھا دئیے گئے تھے ۔ معرکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیش نظر تھا ۔

لیکن یہاں یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ جنگ موتہ ملک شام میں بیت المقدس کے قر یب ۸ ھجری میں ہوئی ۔ اور خانۂ کعبہ ۲ ھجری میں قبلہ قرار پا چکا تھا ۔ اور نماز جنازہ کے لئے صرف رؤیت کافی نہیںبلکہ جنازہ نماز ی کے سامنے ہو ۔

تو اسکا جواب یہ ہے کہ ہمارا مقصود ’رابعاً‘ سے غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے والوں کا رد ہے اور وہ اتنی ہی بات سے ہوگیا کہ حدیث میں یہ ہے کہ پردے اٹھا دئیے گئے تھے۔

خامساً:۔ کیا دلیل ہے کہ یہاں صلاۃ بمعنی نماز معہود ہے بلکہ بمعنی درودہے اور ’دعالہ‘ عطف تفسیری نہیں بلکہ تعمیم بعد تخصیص ہے۔ اور سوق روایت اسی میں ظاہر کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس وقت منبر اطہر پر تشریف فرما ہونا مذکور اور منبر انور دیوار قبلہ کے پاس تھا اور معتاد یہ ہی کہ منبر اطہر پر رو بحاضرین وپشت بقبلہ جلوس ہو اور اس روایت میں نماز کے لئے منبر سے اترنے پھر تشریف لیجانے کا کہیں ذکر نہیں ۔ نیز بر حالت نجاشی اس میں نماز صحابہ بھی نہیں ۔ نہ یہ کہ حضور نے ان کو نماز جنازہ کے لئے فرمایا۔ اگر یہ نماز تھی تو صحابہ کو شریک نہ فرمانے کی کیا وجہ۔ نیز اس معرکہ میں تیسری شہادت حضرت عبداللہ بن رواحہ کی ہے ان پر صلاۃ کا ذکر نہیں ۔ اگر نماز ہوتی تو ان پر بھی ہوتی۔

ہاں درود کی ان دو کے لئے تخصیص وجہ وجیہ رکھتی ہے اگر چہ وجہ کی ضرورت و حاجت بھی نہیں کہ وہ احکام عامہ سے نہیں ۔ وجہ اس حدیث سے ظاہر ہوگی کہ جس میں ان صحابۂ کرام کاحضرت ابن رواحہ سے فرق ارشاد ہوا ۔ اور وہ یہ کہ انکو جنت میں منہ پھیرے ہوئے پایا کہ معرکہ میں قدرے اعراض ہو کر اقبال ہوا تھا ۔

اور سب سے زائدیہ کہ وہ شہدائے معرکہ ہیں ۔ نماز غائب جائز ماننے والے شہید معرکہ پر نماز ہی نہیں مانتے ۔ تو باجماع فریقین صلاۃ بمعنی دعا ہونا لازم ۔ جس طرح خود امام نووی شافعی ،امام قسطلانی شافعی اور امام سیوطی شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ نے صلاۃ علی قبور شہدائے احد میں ذکر فرمایا کہ یہاں صلاۃ بمعنی دعا ہونے پر اجماع ہے ۔ کما اثر نا ہ فی النہی

الحاجز، حالانکہ وہاں تو صلی علی اہل احد صلاتہ علی المیت ، ہے یہاں تو اس قدر بھی نہیں ۔

وہابیہ کے بعض جاہلان بے خرد مثل شوکانی صاحب نیل الاوطار ایسی جگہ اپنی اصول دانی یوں کھولتے ہیں ۔ کہ صلاۃ بمعنی نماز حقیقت شرعیہ ہے اور بلا دلیل حقیقت سے عدول نا جائز ۔

اقول: اولاً۔ ان مجتہد بننے والوں کو اتنی خبر نہیں کہ حقیقت شرعیہ صلاۃ بمعنی ارکان مخصوصہ ہے ۔ یہ معنی نماز جنازہ میں کہاں ،کہ اس میں رکوع ہے نہ سجود ، نہ قرأت ہے نہ قعود ، الثالث عند نا والبواقی اجما عاً۔ لہذا علما ء تصریح فرماتے ہیں کہ نما زجنازہ صلاۃ مطلقاً نہیں اور تحقیق یہ ہے کہ وہ دعائے مطلق اور صلاۃمطلقہ میں برزخ ہے ۔ کما اشار الیہ البخاری فی صحیحہ واطال فیہ ۔

لا جرم امام محمود عینی نے تصریح فرمائی کہ نماز جنازہ پر اطلاق صلاۃ مجازا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے ۔ سما ہا صلاۃ لیس فیہا رکوع ولا سجود ۔ ۱/ ۱۷۲

عمدۃ القاری میں ہے ۔

لکن التسمیۃ لیست بطریق حقیقۃولابطریق الاشتراک ولکن بطریق المجاز ثانیا ۔ صلاۃ کے ساتھ جب علی فلاں مذکور ہو تو ہرگز اس سے حقیقت شرعیہ مراد نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے ۔

قال اللہ تبارک و تعالیٰ :

یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔

اللہم! صل وسلم وبارک علیہ وعلی آلہ کما تحب و ترضی ۔

وقال تعالیٰ :

صَلِّ عَلَیْہِمْ ، اِنَّ صَلاَتَکَ سَکَنُ لَّہُمْ ،

وقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

اللہم! صل علی آل ابی اوفی ۔

کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ الہی ابی اوفی پر نماز پڑھ ،یا ان کا جنازہ پڑھ ۔ کیا صلاۃ علیہ ،

شرع میں بمعنی درود نہیں ، ولکن الوہا بیہۃ قو م لا یعقلون۔ فتاوی رضویہ ۴/ ۷۵

حدیث فہمی اور تطبیق و توفیق بین الاحادیث کی ایسی نادر مثالیں محدث بریلوی کی تصانیف میں بھری پڑی ہیں ۔

فتاوی رضویہ حصہ نہم میں ایک حدیث نقل فرمائی ، جو تیرہ صحابہ کرام سے مروی ہے اور حدیث جلیل عظیم صحیح مشہور بلکہ متواتر ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔

لا عدوی ولا طیرۃ ولا ہامۃ ولا صفر،

چھوت کی بیماری ، بدشگونی ، الو کا جا ہلانہ تصور، اور صفر کی جاہلانہ کارروائی کوئی چیز نہیں

اس حدیث کے معارض ہے وہ حدیث کہ حضرت ابو ہریرہ سے وہ بھی مروی ہے ، فرماتے ہیں ۔

فر من المجذوم کما تفر من الاسد۔

جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ۔

پھر اس کے معنی میں متعدد احادیث نقل فرمائیں۔

اس پر امام احمد رضا محدث بریلوی کا محققانہ کلام بلا غت نظام ملاحظہ کیجئے۔

صحیحین و سنن ابی داؤد و شرح معانی الآثار امام طحاوی وغیرہا میں حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے ۔ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی ، تو ایک باد یہ نشین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر اونٹوں کا کیا حال ہے کہ ریتی میں ہوتے ہیں جیسے ہرن یعنی صاف شفاف بدن ، ایک اونٹ خارش والا آکر ان میں داخل ہوتا ہے جس سے خارش ہوجاتی ہے ۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:

فمن اعدی الاول ، اس پہلے کو کس کی اڑ کر لگی ۔

احمد و مسلم و ابو داؤد و ابن ماجہ کے یہاں حدیث ابن عمر سے ہے ارشاد فرمایا : ذلکم

القدر فمن اجرب الاول یہ تقدیری باتیں ہیں بھلا پہلے کوکس نے کھجلی لگادی ۔

یہ ہی ارشاد ا حادیث عبد اللہ بن مسعود ، عبد اللہ بن عباس ابو امامہ باہلی ، اور عمیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں مروی ہوا حدیث اخیر میں اس توضیح کے ساتھ ہے کہ فرمایا:ـ الم تروا الی البعیر یکون فی الصحراء فیصبح و فی کر کرتہ اوفی مراق بطنہ نکتۃ من جرب لم تکن قبل ذلک فمن اعدی الاول

کیا دیکھتے نہیں کہ اونٹ جنگل میں ہوتا ہے یعنی الگ تھلگ کہ اس کے پاس کوئی بیمار اونٹ نہیںصبح کو دیکھو تو اس کے بیچ سینے یا پیٹ کی نر م جگہ میں کھجلی کا دانہ موجود ہے بھلا اس پہلے کو کس کی اڑ کر لگ گئی ۔

حاصل ارشاد یہ ہے کہ قطع تسلسل کیلئے ابتداء بغیر دوسرے سے منتقل ہوئے خود اس میں بیماری پیدا ہونے کا ماننا لازم ہے ۔ تو حجت قاطعہ سے ثابت ہوا کہ بیماری خود بخود بھی حادث ہوجاتی ہے ۔ اور جب یہ مسلم تو دوسرے میں انتقال کے سبب پیدا ہونا محض و ہم علیل و ادعائے بے دلیل رہا ۔ فتاو ی رضویہ حصہ اول ۹/۲۴۵

اب بتوفیق اللہ تعالی تحقیق حکم سنئے ۔

اقول:۔ و باللہ التوفیق :احادیث قسم ثانی تو اپنے افادہ میں صاف صریح ہیں کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی ۔ کوئی مرض ایک سے دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتا ۔ کوئی تندرست بیمار کے قرب و اختلاط سے بیمارنہیں ہو جاتا ۔ جسے پہلے شروع ہوئی اس کوکس کی اڑ کر لگی، ان متواتر و روشن و ظاہر ارشادات عالی کو سن کر یہ خیال کسی طرح گنجائش نہیں پاتا کہ واقع میں تو بیماری اڑ کر لگتی ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کا وسوسہ اٹھانے کے لئے مطلقا اس کی نفی فرمائی ہے ۔

پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و اجلہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عملی کارروائی مجذوموں کو اپنے ساتھ کھلانا ، ان کا جوٹھا پانی پینا ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر برتن میں رکھنا ، خاص ان کے کھانیکی جگہ نوالہ اٹھا کر کھانا ، جہاں منہ لگا کر انہوں نے پانی پیا بالقصد اسی جگہ منہ رکھ کر نوش کرنا یہ اور یہ بھی واضح کر رہا ہے کہ عدوی یعنی ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانا محض خیال باطل ہے ۔ورنہ اپنے کو بلا کیلئے پیش کرنا شرع ہرگز روا نہیں رکھتی ۔ قال اللہ تعالیٰ ۔

و لا تلقوا بایدیکم الی ا لتہلکۃ ۔

آپ اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو ۔

رہیں قسم اول ( مجذوموں سے دور و نفور رہنے) کی حدیثیں وہ اس درجۂ عالیہ صحت پر نہیں جس پر احادیث نفی ہیں ۔ ان میں اکثر ضعیف ہیں ۔ اور بعض غایت درجہ حسن ہیں صرف حدیث اول کی تصحیح ہو سکی ہے مگر وہی حدیث اس سے اعلیٰ وجہ پر جو صحیح بخاری میں آئی خود اسی میں ابطال عدوی موجود کہ مجذوم سے بھاگو اور بیماری اڑ کر نہیں لگتی تو یہ حدیث خود واضح فرمارہی ہے کہ بھاگنے کا حکم اس وسوسہ اور اندیشہ کی بنا پر نہیں ۔

معہذا صحت میں اس کا پایہ بھی دیگر احادیث نفی سے گرا ہوا ہے کہ اسے امام بخاری نے مسندا روایت نہ کیا بلکہ بطور تعلیق ۔

لہذا اصلاً کوئی حدیث ثبوت عدوی میں نص نہیں ۔ یہ تو متواتر حدیثوں میں فرمایا کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی ۔ اور یہ ایک حدیث میں بھی نہیں آیا کہ عادی طور پر اڑ کر لگ جاتی ہے ۔

ہاں وہ حدیث کہ جذامیوں کی طرف نظر جما کر نہ دیکھو ا ن کی طرف تیز نگاہ نہ کرو ۔ صاف یہ تحمل رکھتی ہے کہ ادھر زیادہ دیکھنے سے تمہیں گھن آئے گی ، نفرت پیدا ہوگی، ان مصیبت زدوں کو تم حقیر سمجھوگے ۔ ایک تو یہ خود حضرت عزت کو پسند نہیں ، پھر اس سے ان گرفتار ان بلاکو نا حق ایذاء پہونچے گی ۔ اور یہ روا نہیں ۔

قول مشہورومذہب جمہور و مشرب منصور کہ دوری و فرار کا حکم اس لئے ہے کہ اگرقرب و اختلاط رہا اور معاز اللہ قضا و قدر سے کچھ مرض اسے بھی حادث ہوگیا تو ابلیس لعین ا سکے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی ۔ اول تو یہ ایک امر باطل کا اعتقاد ہوگا ۔ اسی قدر فساد کیلئے کیا کم تھا پھر متواتر حدیثوں میں سن کر کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صاف فرمایا ہے بیماری اڑ کر نہیں لگتی ۔ یہ وسوسہ دل میں جمنا سخت خطرناک اور ہائل ہوگا ۔ لہذا ضعیف الیقین لوگوں کو اپنا دین بچانے کیلئے دوری بہتر ہے ہاں ،کامل الایمان و ہ کرے جو صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کیا اور کس قدر مبالغہ کے ساتھ کیا ۔ اگر عیاذاً باللہ کچھ حادث ہوتا ان کے خواب میں بھی خیال نہ گزرتا کہ یہ عدوائے باطلہ سے پیدا ہوا ۔ ان کے دلوں میں کوہ گراں شکوہ سے زیادہ مستقر تھا کہ لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا بے تقدیر الہی کچھ نہ ہو

سکے گا ۔

اسی طرف اس قول و فعل حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ اپنے ساتھ کھلایا اور کل ثقۃ باللہ و توکلا علیہ فرمایا۔

امام اجل امین ۔ امام الفقہاء و المحدثین ، اما م اہل الجرح و التعدیل امام اہل التصحیح و التعلیل ، حدیث و فقہ دنوں کے حاوی سیدناا مام ابو جعفر طحاوی نے شرح معانی الآثار شریف میں دربارہ نفی عدویٰ احادیث روایت کر کے یہ ہی تفصیل بیان فرمائی ۔

بالجملہ مذہب معتمد و صحیح و رجیح ونجییح یہ ہے کہ جذام، کھجلی ،چیچک ، طاعون وغیرہا اصلا ًکوئی بیماری ایک کی دوسرے کو ہر گز ہرگز اڑ کر نہیں لگتی ،یہ محض اوہام بے اصل ہیں۔ کوئی وہم پکائے جائے تو کبھی اصل بھی ہوجاتا ہے کہ ارشاد ہوا ۔

انا عند ظن عبد ی بی ۔

وہ اس دوسرے کی بیماری اسے نہ لگی بلکہ خود اس کی باطنی بیماری کہ وہم پروردہ تھی صورت پکڑ کر ظاہر ہوگئی ۔

فیض القدیر میں ہے۔

بل الوہم وحدہ من اکبر اسبا ب الاصابۃ

اس لئے اور نیز کراہت و اذیت و خود بینی وتحقیر مجذوم سے بچنے کے واسطے اور اس دور اندیشی سے کہ مبادا اسے کچھ پیدا ہوا اور ابلیس لعین و سوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی اور معاذ اللہ اس امر کی حقانیت اس کے خطرہ میں گزرے گی جسے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باطل فرماچکے ۔ یہ اس مرض سے بھی بد تر مرض ہوگا ۔ ان وجوہ سے شرع حکیم و رحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کو حکم استحبابی دیا ہے کہ اس سے دور رہیں۔ اور کامل الایمان بندگان خدا کیلئے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاک ہیں۔

خوب سمجھ لیا جائے کہ دو ر ہونے کا حکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے ۔ نہ یہ کہ معاذ اللہ بیمار ی اڑ کر لگتی ہے ۔ اسے تو اللہ و رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رد فرماچکے جل جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

اقول: ـ پھر از آنجا کہ یہ حکم ایک احتیاطی استحبابی ہے واجب نہیں ۔ لہذا ہر گز کسی واجب شرعی کا معارضہ نہ کرے گا ۔ مثلا معاذ اللہ جسے یہ عارضہ ہو اس کے اولاد و اقارب و زوجہ سب اس احتیاط کے باعث اس سے دور بھاگیں اور اسے تنہا و ضائع چھوڑ جائیں یہ ہر گز حلال نہیں ۔بلکہ زوجہ ہر گز اسے ہم بستری سے بھی منع نہیں کر سکتی ۔ لہذا ہمارے شیخین مذہب امام اعظم، و امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے نزدیک جذام شوہر سے عورت کو درخواست فسخ نکاح کا اختیار نہیں ۔ اور خدا ترس بندے تو ہر بیکس بے یار کی اعانت اپنے ذمہ پر لازم سمجھتے ہیں ۔

حدیث میں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

اللہ اللہ فی من لیس لہ الا اللہ ۔

اللہ سے ڈور اللہ سے ڈرو ، اس کے بارے میں جس کا کوئی نہیں سوا اللہ کے

لہذا علماء کا اتفاق ہے کہ مجذوم کے پاس بیٹھنا اٹھنا مباح ہے اور اس کی خدمت گزاری و تیمار داری موجب ثواب ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۔

فتاوی رضویہ حصہ دوم ۹/۲۵۳

اس تفصیل سے جملہ احادیث میں توفیق و تطبیق بروجہ اتم ظاہر ہوئی اور اصلاً کسی کو مجال دم زدن نہ رہی۔ واللہ الموفق وہو ولی التوفیق۔

بلا شبہ ایسی تحقیقات عالیہ محدث بریلوی کا حصہ ہیں۔

اور علوم و فنون کے بحر عمیق سے جواہر عالیہ کو چن چن کر صفحہ قرطاس کی لڑی میں پرو دینا ان کا کمال ہے جوانکے مولی رب ذو الجلال کا ان پر جو د ونوال ہے ۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔