توسل (وسیلہ بنانا) کا دائرہء عمل مخصوص اور محدود ہونا چاہئے۔۔۔!!

نیک اعمال اور نیک بندوں کی ذات کو ‘وسیلہ’ بناکر اللہ رب العزت سے مانگنا بہت محبوب عمل ہے، اس سے دعائیں قبول اور مشکلات حل ہوتی ہیں۔

فقیر کا معمول ہے کہ جب بھی سخت قسم کی پریشانی آتی ہے تو شہزادی رسول سیدتنا فاطمہ زہرا صلى الله تعالى على أبيها و عليها وسلم کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کرتا ہے، آپ سے توسل کرتا ہے اور اللہ کریم ان کے وسیلے سے کچھ ہی وقت میں پریشانی دور فرمادیتا ہے۔

شاید کچھ احباب متفق نہ ہوں مگر یہ فکر بھی موجود ہے اور فقیر اسی کا قائل ہے کہ روزانہ معمول کی دعائیں یا چھوٹی چھوٹی مشکلات میں بزرگوں کا وسیلہ پیش نہ کیا جائے بلکہ صبر کیا جائے یا پھر فقط اللہ کریم سے ہی التجا کی جائے۔

جب بندہ ہر دعا میں بڑی بڑی شخصیات کا وسیلہ پیش کرنے کا ‘عادی’ بن جاتا ہے تو وہ ‘رٹے ہوئے الفاظ’ کا حصہ ہوجاتے ہیں، نیز غافل دل کے ساتھ مقدس ہستیوں کا نام لینا بھی بے اثر ثابت ہوتا ہے حالانکہ توسل ایک پرتاثیر عمل ہے۔

مشایخ کرام نے اہم معاملات اور سخت مشکلات کے وقت ‘وسیلہ’ اختیار کرنے کے اعمال بیان کئے ہیں۔ لہذا انہیں خاص معاملہ تک ہی محدود رکھنا مناسب ہے۔

پچھلے زمانے میں تین صالحین نے سخت مشکل کے وقت ہی اپنے اعمال سے توسل کیا، عثمان بن حنیف کی روایت سے سخت مشکل کے وقت ہی توسل اختیار کرنا مفہوم ہوتا ہے، صلوۃ غوثیہ سمیت مختلف اشغال اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ‘وسیلہ’ مخصوص اور محدود مشکلات کے وقت ہی اختیار کیا جائے ورنہ صبر یا پھر اللہ کریم سے التجا کی جائے۔

✍ ابو محمد عارفین القادری

20 اکتوبر 2019