أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ؕ اُولٰۤئِكَ يَنَالُهُمۡ نَصِيۡبُهُمۡ مِّنَ الۡـكِتٰبِ‌ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُـنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَشَهِدُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پس اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کے متعلق جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ پر بہتان باندھے یا اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے، ان لوگوں کو کتاب کے مطابق ان کا حصہ ملتا رہے گا، حتی کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحوں کو قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے، تو وہ پوچھیں گے بتاؤ کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے تھے، وہ کہیں گے وہ سب ہم سے گم ہوگئے اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پس اس شخص سے بڑاظالم کون ہوگا جو اللہ کے متعلق جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ پر بہتان باندھے یا اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے، ان لوگوں کو کتاب کے مطابق ان کا حصہ ملتا رہے گا، حتی کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحوں کو قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے، تو وہ پوچھیں گے بتاؤ کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے تھے، وہ کہیں گے وہ سب ہم سے گم ہوگئے اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے “

اللہ پر بہتان باندھنے اور اس کی آیتوں کو جھٹلانے کی تفصیل : اس سے پہلی آیت میں کافروں کے متعلق فرمایا تھا کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹایا اور ان کو ماننے سے تکبر کیا۔ اب اسی سیاق میں فرمایا : پس اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ کے متعلق جھوٹی باتیں گھڑ کر بہتان باندھے یا اللہ کی آیوں کو جھٹلائے !

اللہ پر بہتان باندھنے والے وہ کافر ہیں جنہوں نے بتوں کو یا ستاروں کو اللہ کا شریک بنایا یا وہ کافر جنہوں نے دو خدا قرار دیے ایک یزداں اور ایک اہرمین۔ یا وہ جنہوں نے اللہ کے لیے بیٹیاں اور بیٹے ٹھہرائے۔ اسی طرح وہ کافر جنہوں نے بحیرہ، سائبہ، حامی اور وسیلہ کو ازخود حرام قرار دیا اور پھر اس حرمت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا۔ اسی طرح اسکے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو ازخود کوئی مسئلہ گھڑ لیتے ہیں اور اپنی طرف سے کسی مستحب کام کو فرض یا واجب قرار دیتے ہیں اور اس کے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو قرآن اور حدیث کی صریح نصوص کے مقابلہ میں اپنے پیروں اور مولویوں کے اقوال کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس کے بعد ان کافروں کا ذکر کیا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اس سے مراد وہ کافر ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور اس کی الوہیت کے دلائل کا انکار کرتے ہیں یا اس س سے مراد وہ کافر ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتابوں، خصوصا قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں یا اس سے مراد وہ کافر ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسولوں خصوصاً سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کرتے ہیں۔

کتاب یا لوح محفوظ میں اللہ پر بہتان باندھنے والوں کی سزا : اس کے بعد فرمایا ان لوگوں کو کتاب کے مطابق ان کا حصہ ملتا رہے گا۔ کتاب کی دو تفسیریں ہیں ایک تفسیر یہ ہے کہ کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے اور ایک تفسیر یہ ہے کہ کتاب سے مراد نوشتہ تقدیر ہے۔ 

اگر کتاب سے مراد لوح محفوظ ہو تو اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں ان کافروں کے لیے جتنا عذاب لکھ دیا تھا، ان کو وہ عذاب مل کر رہے گا۔ یہ تفسیر ابو صالح اور حسن سے مروی ہے۔ (جامع البیان، ج 8، ص 222، دار الفکر)

پھر بعض علماء نے حسب ذیل آیات سے اس عذاب کی تفصیل بیان کی ہے : ” ویوم القیامۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوہہم مسودۃ : جن لوگوں نے اللہ پر جھوت باندھا تھا، آپ قیامت کے دن ان کے منہ کالے دیکھیں گے ” (الزمر :60) ۔ ” ونحشر المجرمین یومئذ زرقا : اور ہم مجرموں کو اس حال میں اٹھائیں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی “۔ ” یعرف المجرمون بسیماہم فیوخذ بالنواصی والاقدام : اس دن مجرم اپنی صورتوں سے پہچانے جائیں گے ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑا جائے گا ” (الرحمن :41) ۔ ” اذا الاغلال فی اعناقہم والسلسل یسحبون : جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی ان کو اس حال میں گھسیٹا جائے گا ” (المومن :71)

خلاصہ یہ ہے کہ کافروں کے چہرے، سیاہ آنکھیں نیلی ہوں گی اور ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی وہ اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے اور ان کو پیشانی اور پیروں سے پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ ان آیات کے علاوہ قرآن مجید میں ان کے عذاب کی اور بھی کوئی صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ 

کتاب کی تفسیر میں دیگر اقوال : امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں : کتاب کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں : مجاہد نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ان کے اعمال سے جو کچھ ان کے لیے مقدر کردیا گیا ہے وہ ان کو ضرور حاصل ہوگا۔ حسن نے کہا : ان کے لیے گمراہی یا ہدایت جو بھی مقدر کردی گئی ہے وہ ان کو ضرور حاصل ہوگی۔

حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت ہے کہ ان کے لیے خیر اور شر جو کچھ مقدر کردیا گیا ہے وہ ان کو ضرور حاصل ہوگا۔ ربیع نے کہا : ان کے لیے جس قدر رزق، عمر اور عمل مقدر کردیا گیا ہے وہ ضرور ان کو حاصل ہوگا۔ عکرہ اور ابو صالح نے کہا : ان کے لیے جو عذاب مقرر کردیا گیا ہے وہ ان کو ملے گا۔ زجاج نے کہا : ان کے لیے کتاب میں جو جزا بیان کی گئی ہے وہ ان کو ضرور ملے گی۔ اور کتاب کی پانچ تفسیریں کی گئی ہیں : 1 ۔ لوح محفوظ۔ 2 ۔ اللہ کی تمام کتابیں۔ 3 ۔ قرآن کریم۔ 4 ۔ ان کے اعمال نامے۔ 5 ۔ قضا و قدر۔ (زاد المسیر، ج 3، ص 193 ۔ مطبوعہ متکب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

تقدیر کے متعلق ہم نے شرح صحیح مسلم، ج 7 میں تفصی سے لکھا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ بندہ اپنے اختیار اور ارادہ سے کیا کرے گا اور اور کیا نہیں کرے گا اور وہ اپنے اعمال کے نتیجہ میں جنت کا مستحق ہوگا یا جہنم کا۔ اس کے اسی علم سابق کا نام تقدیر ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب ہمارے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے، اس سے مراد ملک الموت اور اس کے معاون فرشتے ہیں۔ اس آیت سے مراد کفار کو سرزنش کرنا ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو ترک کرکے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک لہ مان لیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 37