أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ ادۡخُلُوۡا فِىۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ فِى النَّارِ‌ ؕ كُلَّمَا دَخَلَتۡ اُمَّةٌ لَّعَنَتۡ اُخۡتَهَا‌ ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوۡا فِيۡهَا جَمِيۡعًا ۙ قَالَتۡ اُخۡرٰٮهُمۡ لِاُوۡلٰٮهُمۡ رَبَّنَا هٰٓؤُلَۤاءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ‌  ؕ قَالَ لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ فرمائے گا اس دوزخ میں داخل ہوجاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے جن اور انس داخل ہوچکے ہیں، جب بھی کوئی جماعت (دوزخ مٰں) داخل ہوگی تو وہ اپنی جیسی جماعت پر لعنت کرے گی، حتی کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو بعد والے پہلوں کے متعلق کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہم کو انہوں نے گمراہ کیا تھا، سو تو ان کو دگنا آگ کا عذاب دے، اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اللہ فرمائے گا اس دوزخ میں داخل ہوجاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے جن اور انس داخل ہوچکے ہیں، جب بھی کوئی جماعت (دوزخ مٰں) داخل ہوگی تو وہ اپنی جیسی جماعت پر لعنت کرے گی، حتی کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو بعد والے پہلوں کے متعلق کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہم کو انہوں نے گمراہ کیا تھا، سو تو ان کو دگنا آگ کا عذاب دے، اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ اور پہلے لوگ بعد والوں سے کہیں گے تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے سو عذاب کو چکھو اس سبب سے جو تم کرتے تھے “

دوزخ میں کفار کے احوال : ان دو آیتوں میں کفار کے دوزخ میں داخل ہونے کی کیفیت کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس دوزخ میں داخل ہوجاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے جن اور انس داخل ہوچکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام کفار ایک ہی مرتبہ دو خ میں نہیں داخل ہوں گے۔ بلکہ پہلے ایک جماعت داخل ہوگی اس کے بعد دوسری جماعت داخل ہوگی اور ان میں سابق اور مسبوق ہوں گے اور بعد میں آنے والے پہلوں کے حال کا مشاہدہ کریں گے۔ 

پھر فرمایا : جب بھی کوئی جماعت (دوزخ میں) داخل ہوگی تو وہ اپنی جیسی جماعت پر لعنت کرے گی۔ اس کا معنی یہ ہے کہ مشرکین مشرکین پر لعنت کریں گے۔ اسی طرح یہود، یہود پر لعنت کریں گے اور نصاری، نصاری پر۔ 

پھر فرمایا تو بعد والے پہلوں کے متعلق کہیں گے : اس کی تفسیر میں تین قول ہیں۔ امت کے آخر امت کے اول سے کہیں گے، آخری زمانہ کے لوگ پہلے زمانہ کے لوگوں سے کہیں گے جنہوں نے اس بدعقیدگی کو شروع کیا تھا، اور تیسرا قول یہ ہے کہ دوزخ میں آخر میں داخل ہونے والے، پہلے داخل ہونے والوں سے کہیں گے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ 

پھر فرمایا : وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم کو انہوں نے گمراہ کیا تھا سو تو ان کو دگنا آگ کا عذاب دے۔ 

ضعف کا معنی : ضعف کا معنی ہم نے دگنا کیا ہے۔ کیونکہ ضعف کا اکثر استعمال اسی معنی میں ہوتا ہے۔ 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ نے لکھا ہے ضعف کا معنی شے اور اس کی مثل ہے۔ دس کا ضعف بیس اور سو کا ضعف دو سو ہے۔ (المفردات ج 2 ص 387 مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفی، ریاض)

علامہ مجدالدین ابن اثیر الجزری المتوفی 606 ھ نے لکھا ہے : ضعف کا معنی دگنا ہے۔ کہا جاتا ہے اگر تم مجھے ایک درہم دو تو میں تمہیں اس کا ضعف دوں گا یعنی دو درہم دوں گا۔ ایک قول یہ ہے کہ کسی شے کا ضعف اس کی ایک مثل ہے اور دو ضعف دو مثلیں ہیں۔ ازہری نے کہا ہے کہ کلام عرب میں ضعف کا معنی ایک مثل سے لے کر زیادہ امثال تک ہے، اور یہ دو مثلوں میں منحصر نہیں ہے۔ بس کم از کم ضعف ایک مثل میں منحصر ہے اور اکثر ضعف کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اسی اعتبار سے یہ حدیث ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز، تنہا نماز پر پچیس درجہ ضعف ہوتی ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث المساجد :247، النہایہ، ج 3 ص 82، مطبوع دار الکتب العلمیہ، 1418 ھ) 

دوگنے عذاب پر ایک سوال کا جواب : پھر فرمایا : اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ اس کا بہ ظاہر معنی یہ ہے کہ وہ جس قدر عذاب کے مستحق ہوں گے ان کو اس کا دگنا عذاب دیا جائے گا اور یہ عدل کے خلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کفار کو ان کے جرائم کے مطابق ہی عذاب ہوگا۔ لیکن انکو یہ عذاب مسلسل ہوتا رہے گا۔ مثلاً ان کو درد کی ایک کیفیت لاحق ہوگی اس کے بعد پھر اس کی مثل لاحق ہوگی۔ اور پھر ایک مثل لاحق ہوگی اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔ اس لیے فرمایا ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے اور ہم ضعف کا معنی بیان کرچکے ہیں کہ کسی شے کی ایک مثل سے لے کر غیر متناہی امثال تک ضعف ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 38