مانگ لیا کرو دیئے جاؤ گے

حدیث نمبر :634

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن لوگ ہم سے بڑھ جائیں گے ۱؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے وہ کہتے ہیں تم بھی کہہ لیاکرو ۲؎ جب فارغ ہوجاؤ تو مانگ لیا کرو دیئے جاؤ گے۳؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی قیامت میں ہم ان کے درجے تک نہ پہنچ سکیں گے کیونکہ تمام عبادات میں ہم اور وہ برابر ہیں اور اذان میں وہ ہم سے بڑھے ہوئے۔معلوم ہوا کہ دینی کاموں میں رشک جائزبلکہ کبھی عبادت ہے۔

۲؎ اس سےمعلوم ہوا کہ اذان کے سارے کلمات مؤذن کے ساتھ کہے حتی کہ "حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ”اور "حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ”بھی مگران دونوں کے ساتھ لَاحَوْلَ بھی پڑھ لے۔اس کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے۔

۳؎ یعنی جودعاچاہومانگو۔بہتر یہ ہے کہ اولًا حضور کے لیے وسیلہ کی دعا مانگے،پھر اپنے لئے دعائیں،تاکہ تمام حدیثوں پرعمل ہوجائے،مسلمان عمومًا وسیلہ کے بعداسی دعا میں یہ بھی کہہ لیتے ہیں "وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ”۔وہابی اس سے منع کرتے ہیں اوربدعت کہہ کر روکتے ہیں شاید انہیں حضور کی شفاعت کی ضرورت نہ ہوگی۔وہ اس حدیث سے عبرت پکڑیں کہ یہاں سَل مطلق فرمایا گیا۔مرقاۃ نے اس جگہ بہت سی دعائیں بتائیں۔

شرح

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.