أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَتۡ اُوۡلٰٮهُمۡ لِاُخۡرٰٮهُمۡ فَمَا كَانَ لَـكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور پہلے لوگ بعد والوں سے کہیں گے تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے سو عذاب کو چکھو اس سبب سے جو تم کرتے تھے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور پہلے لوگ بعد والوں سے کہیں گے تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے سو عذاب کو چکھو اس سبب سے جو تم کرتے تھے۔ بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کو ماننے سے تکبر کیا ان کے لیے اس وقت تک آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے حتی کہ اونٹ سوئی کے ناکے (سوراخ) میں داخل ہوجائے اور ہم اسی طرح مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔ ان کے لیے دوزخ (کی آگ) کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر اسی کا اوٹھنا ہوگا، اور ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیتے ہیں “

کفار کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولنے کے متعدد محامل : اس سے پہلی آیتوں میں بھی کفار کے عذاب کا ذکر فرمایا تھا یہ آیت بھی اس سلسلہ سے متعلق ہے۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ اس کی حسب ذیل تفسیریں ہیں : 

1 ۔ علی بن طلحہ، اور مجاہد وغیرہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ کفار کے اعمال اور ان کی دعاؤں کی قبولیت کے لیے آسان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور اس کی دلیل درج ذیل آیات ہیں : ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ : اس کی طرف پاک کلمے چڑھتے ہیں اور اللہ نیک عمل کو بلند فرماتا ہے ” (فاطر :10) ۔ ” کلا ان کتب الابرار لفی علیین : حق یہ ہے کہ بیشک نیکی کرنے والوں کا نامہ اعمال ضرور (ساتویں آسمان کے اوپر) علیین میں ہے ” (المطففین :18)

2 ۔ امام رازی نے اس آیت سے یہ مستنط کیا ہے کہ کافروں پر آسمان سے کوئی خیر اور برکت نازل نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” ولو ان اھل القری امنوا وتقوا لفتحنا علیہم برکت من السماء والارض ولکن کذبوا فاخذنہم بماکانوا یکسبون : اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور (اللہ سے) ڈرتے رہتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کو کھول دیتے لیکن انہوں نے (اللہ کی آیتوں کو) جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے ان کاموں کی وجہ سے گرفت میں لے لیا جو وہ کرتے تھے ” (الاعراف :96)

3 ۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ کافروں کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے حتی کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے، اور اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا محال ہے اور جو محال پر موقوف ہو وہ بھی محال ہوتا ہے۔ کفار کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جانے اور جنت میں ان کے داخل نہ ہوسکنے پر حسب ذیل حدیث میں دلیل ہے : 

کافروں کے لیے آسمان کا دروازہ نہ کھولنے کے متعلق حدیث : امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک انصاری کے جنازہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتھ گئے۔ جب ہم قبر پر پہنچ کر خاموشی سے ییٹھ گئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو یا تین بار فرمایا : قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کو۔ پھر آپ نے فرمایا جب مسلمان بندہ دنیا سے منقطع ہو کر آخرت کی طرف روانہ ہونے لگتا ہے تو ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے : اے پاکیزہ روح اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا کی خاطر نکل۔ پھر وہ روح جسم سے اس طرح نکلتی ہے جس طرح پانی کے قطرے مشک سے نکلتے ہیں۔ جب فرشتے اس روح کو لے کر فرشتوں کی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں یہ پاکیزہ روح کون ہے ؟ وہ اس کا وہ نام بتاتے ہیں جو دنیا میں اس کا اچھا نام تھا، جب وہ آسمان دنیا کے سامنے پہنچ کر اس کا دروازہ کھلواتے ہیں تو وہ کھول دیا جاتا ہے اور اسی طرح وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اللہ عز وجل فرماتا ہے کہ میرے اس بندہ کے نامہ اعمال کو علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو ۔ پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آ کر اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ! وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے ! وہ پوچھتے ہیں یہ کون شخص ہے جو تم میں مبعوث کیا گیا تھا ؟ وہ کہتا ہے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں تمہیں ان کا علم کیسے ہوا ؟ وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب میں پڑھا، میں ان پر ایمان لایا اور ان کی تصدیق کی۔ پھر ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ میرے بندہ نے سچ کہا، اس کے لیے جنت سے فرش بچھا دو اور اس کو جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی کھڑی کھول دو (الی قولہ) اور جب کافر کی دنیا سے روانگی کا وقت آتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے فشتے ٹاٹ لے کر آتے ہیں۔ پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے خبیث روح ! اللہ کے غصہ اور غضب کی طرف نکل ! اس کی روح جسم کے اجزاء میں پھیل جاتی ہے اور اس کو اس طرح کھینچ کر نکالا جاتا ہے جس طرح گیلے اون سے لوہے کی سیخ کو کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ روح کے نکلتے ہی وہ اس کو ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں۔ وہ روح سخت بدبودار ہوتی ہے۔ وہ اس کو لے کر جہاں سے گزرتے ہیں فرشتے پوچھتے ہیں یہ کون خبیث روح ہے ؟ پھر و اس کا وہ نام بتاتے ہیں جو دنیا میں اس کا بہت برا نام تھا۔ جب وہ اس روح کو لے کر آسمان دنیا پر پہنچتے ہیں اور آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں تو ان کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی۔ لا تفتح لہم ابواب السماء ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط۔ اللہ فرماتا ہے اس کا اعمال نامہ زمین کے سب سے نچلے طبقہ سجین میں پھینک دو ۔ پھر اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ” ومن یشرک باللہ فکانما خر من السماء فتخطفہ الطیر او تہوی بہ الریح فی مکان سحیق : اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو گویا آسمان سے گرپڑا پھر اسے (مردار خور) پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے آندھی کسی دور جگہ میں پھینک دیتی ہے ” ) ۔ پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے پھر فرشتے اس کو قبر میں بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں تیا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے افسوس میں نہیں جانتا ! پھر پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے افسوس میں نہیں جانتا ! پھر پوچھتے ہیں یہ کون شخص ہیں جو تم میں مبعوث کیے گئے تھے ؟ وہ کہے گا افسوس میں نہیں جانتا پھر ایک منادی آسمان سے ندا کرے گا، اس کے لیے دوزخ سے فرش بچھا دو اور اس کے لیے دوزخ کی کھڑکی کھول دو اور اس کی قبر کو تنگ کردیا جائے گا حتی کہ اس کی پسلیاں ایک طرف سے دوسری طرف نکل جائیں گی۔ پھر ایک بد شکل اور بدبودار شخص آئے گا اور کہے گا میں تیرا خبیث عمل ہوں اور وہ کافر کہے ا۔ اے میرے رب قیامت قائم نہ کرنا۔ (مسند احمد، ج 4، ص 288 ۔ 289) دار الفکر، طبع قدیممسند احمد، ج 6، رقم الحدیث : 18559، طبع جدید دار الفکر اس کی سند صحیح ہے، مسند احمد، ج 14، رقم الحدیث : 18443 ۔ دار الحدیث قاہر، سنن ابوداود، رقم الھدیث : 4753 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 4462 ۔ مجمع الزوائد ج 5 ص 49 ۔ 50)

نوٹ : مسند احمد کی روایت میں بہت زیادہ تفصیل ہے۔ سنن ابو داود اور سنن ابن ماجہ اور سنن ابن ماجہ کی روایت میں اتنی تفصیل نہیں ہے لیکن نفس مضمون واحد ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 39