اِسلام کا فلسفۂ اِزدواج

 از: غلام مصطفیٰ قادری رضوی ،رحمت عالم گلی ،باسنی ناگور

الحمد للہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی

دنیاکے جتنے مذاہب اور ادیان ہیںان کا بنظر غائر جائزہ لے لیا جائے، ان کے اصول و قوانین کا معائنہ کرلیا جائے تو کسی مذہب میں وہ نظام اور ضوابط نہیں ملیں گے جو مذہبِ مہذب آفاقی اور عالمگیر دین اسلام نے اہل دنیا کو عطا فرمائے۔یقیناًتعصب پرستی سے نکل کر غیر جانبداری سے اگر اسلامی تعلیمات کا بغور مطالعہ کیاجائے تو یہ حقائق منکشف ہو جائیں گے کہ دیگر ادیان ومذاہب کے بالمقابل پستی سے بلندی ، ناتوانی سے توانائی ، احساس کمتری سے احساس برتری اور تنزلی سے ترقی کی طرف لیجانے والی پیاری تعلیمات اسی بے مثال مذہب اور دھرم میں ملیں گی ۔

کس کس رخ اور کون کون سے محاذ کو بیان کیا جائے جہاں اسلام نے ہماری رہنمائی نہ کی ہو اور ہمیں اداسی اور غمگینی سے نکال کربلند خیالی اور فکر اسلامی کی طرف مائل نہ کیاہو ۔ اور اب تو اغیار بھی اس حقیقت کا برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ اگر دنیا وآخرت کی ترقی اور کامیابی کسی مذہب میں ملے گی تو وہ اسی مذہب مہذب کے دامن میں میسر ہے ۔

مسٹرجارج برناڈشا نے شاید ایسے حقائق دیکھ کر ہی برملا اپنے موقف کا اظہار کیا تھا کہ (In the next century the world religion will be Islam and Islam only؁ٰ )یعنی آنے والی صدی میں اگر کوئی مذہب حقیقی معنی میں ہو گا تو وہ صرف اور صرف اسلام ہو گا ۔

آج مغربی اور یورپین کلچر نے مردوعورت کو جس مقام پر لا کھڑا کیا ہے وہ سب پر عیاں ہے، ویسٹرن نظام تعلیم نے عورتوں اور مردوں کو شانہ بشانہ ، آزادی کی ڈگری پر چلنے کا جو غلط راستہ بتا کر کامیابی اور کامرانی کی زندگی کا طریقہ بتایا وہ فریب خوردہ عقل تو قبول کر سکتی ہے مگر اسلامی نظام تعلیم اور دینی تہذیب و تمدن میں ڈھل کر زندگی گزارنے والا کبھی بھی تسلیم کرنے پر تیار نہیںہو گا ۔ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور عمدہ بنانے کے جو اصول و ضوابط اسلام نے عطا فرمائے وہ دوسری جگہ کہیں نہیں ملیں گے ۔

عرصہ ہائے دراز سے ظلم وستم کے نشانے پر رہنے والی ، معاشرے اور سماج میں بوجھ بلکہ عار سمجھی جانے والی اس صنف نازک کی ترقی اور عروج کے جو ابواب اسلام نے وا کئے یقین کیجئے انہیں دیکھ کر دل عش عش کر اٹھتا ہے اور اس آفاقی اور امن وسلامتی سے پر مذہب کی حقانیت کے دلائل و براہین واضح ہوتے جاتے ہیں ، صرف ایک سورۂ نساء ہی دیکھ لیجئے ایمان و یقین اور غیر جانبداری سے اس کا مطالعہ کرنے کے بعد حقیقت کا انکشاف ہو جائے گا ۔ حضرت پیر کرم شاہ ازہری رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں، یہ سورت بڑی اہم اور دور رس اصلاحات پر مشتمل ہے جنہیں اگر دین اسلام کا طرۂ امتیاز کہا جائے تو قطعا ًمبالغہ نہ ہو گا ۔ اس سورۃ میں سب سے پہلے اورسب سے زیادہ توجہ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے پر دی گئی ہے کیونکہ گھر ہی قوم کی خشت اول ہے گھر ہی وہ گہوارہ ہے جہاں قوم کے مستقبل کے معمار پرورش پاتے ہیں (تفسیر ضیاء القرآن ۱؍۳۱۱)

اسلام نے مرد و عورت دونوں کو ازدواجی زندگی خوشگوار گذارنے کے جو قوانین و قواعد متعین فرمائے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ذرا اس مقدس آیت پاک کو ایمان و یقین کے اجالے میں بغور پڑھکر سمجھنے کی کوشش کریں ازدواجی زندگی کو پر بہار بنانے کے آداب و لوازمات اس میں سما دئیے گئے ہیں ۔ ارشاد ربانی ہے ،الرجال قوامون علی النساء مرد محافظ و نگراں ہیں عورتوں پر ۔)النساء ؍۳۴)

ظاہر ہے کہ کسی چیز کی نگہبانی اور حفاظت کرنے والے کو عربی میں قوام کہا جاتا ہے ہر موقع پر کہ جہاں چند آدمییوں کا قافلہ یا فوج نکلے تو اس میں بھی ایک نگراں اور ایک امیر مقرر کیاجاتا ہے جو ان سب کیلئے اصول و قوانین نافذکرتا ہے نیز ان کی نگرانی کرتے ہوئے ان کی اصلاح و درستگی کے فرائض انجام دیتا ہے بلا تمثیل گھر کا اور عورت کا نگراں مر د کو قرار دیا گیا جو عورت کو آزاد روی ، بے پردگی ، غیر شرعی کاموں اور بے مطلب افعال سے روکتا رہے اور اس کی نگرانی ہر طرح سے کرتا ہے کہیں ایسا نہ ہو یہ عورت جو جسمانی قوت ، ذہنی برتری ،معاملہ فہمی اور دور اندیشی میں مرد سے کمزور ہے وہ بغیر اس کی اجازت کے گھر سے باہر چلی جائے یا مرد کے اوپر خود افسر و حاکم بن جائے اور شوہر کو پھر جورو کا غلام بننا پڑے ۔اس لئے اس سلسلے میں مرد کی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عورت پر قوام بنایا گیا ۔اس میں اسلام کی تعلیمات کی حکمتیں مضمر ہیں ۔

ہاں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جہاں مرد کو عورت کی باتیں ماننی پڑتی ہیں اور اس کی جائز خواہش پوری کرنی پڑتی ہیں،اپنی استطاعت کے مطابق اس کے مطالبات پورے کرنے پڑتے ہیں لیکن یہاں بھی خوشگواری کیلئے عورت چوں چرا سے بچتی رہے ۔

ارشاد ربانی ہوتا ہے : فاالصلحت قنتت حفظت للغیب بما حفظ اللہ والتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجرو ھن فی المضاجع واضربوھن ( سورۃ النساء)

تو نیک عورتیں اطاعت گذار ہوتی ہیں (مردوں کی )ٖیر حاضری میں اللہ کی حفاظت سے اور وہ عورتیں اندیشہ ہو تمہیں جنکی نافرمانی کا تو (پہلے نرمی سے )انہیں سمجھائو اور پھر الگ کر دو انہیں اپنی خواب گاہوں سے اور (پھر بھی باز نہ آ ئیں تو مارو ) (النساء ؍ ۳۴)

یہاں سے نیک عورتوں کی صفات کا بیان ہے ، اس ارشاد ربانی کی مزید وضاحت حضور کریم ا کے اس فرمان سے ہوتی ہے ’’بہترین بیوی وہ ہے جسے تو دیکھے تو مسرور ہو جائے اسے حکم دے تو وہ تیری اطاعت کرے اور اگر تو کہیں باہر جائے تو وہ تیری غیر حاضری میں اپنی عصمت کی اور تیرے مال کی حفاظت کرے ‘‘ (ابن جریر ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ )(بحوالہ ضیاء القرآن )

یہ حقیقت ہے کہ شادی کے بعد مرد و عورت کو باہمی محبت و الفت درکار ہوتی ہے اور اس چیز کو پانے کے لئے دونوں بے چین رہتے ہیں۔مگر کبھی کبھی زوجین میں سے کوئی صورت و سیرت کے اعتبار سے پسند نہیں ہوتا ،پھر یہ سوچ (کہ کیسا مرد یا بیوی مل گئی ) تنازع کی صورت اختیار کر لیتی ہے بلکہ بسااوقات طلاق و خلع کی نوبت آجاتی ہے ۔لیکن قربان جائیں قرآنی تعلیمات پر کہ اس سلسلہ میں بھی خوشگواری کی فضاقائم کرنے کا کتنا پیارا طریقہ عطا فرمایا،رب کریم ارشاد فرماتا ہے ’’و عاشروھن بالمعروف ج فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئاََو یجعل اللّٰہ فیہ خیراََ کثیراََoاور زندگی بسر کرو اپنی بیویوں کے ساتھ عمدگی سے،پھر اگر تم نا پسند کرو انھیں تو (صبرکرو)شاید تم نا پسند کرو کسی چیز کو اور رکھ دی ہو اللہ تعالیٰ نے (تمہارے لئے)اس میں خیر کثیر( سورۃ النساء ۱۹)

خوابوں کی دنیا اور حقائق کی دنیا میں بہت بڑا فرق ہے اگر تمہاری رفیقئہ حیات کا معیار جمال اتنا اونچا نہیں جس کا تم تصور کئے ہوئے تھے یا اس کے اطوار و اخلاق اتنے مثالی نہیں جن کے تم متمنی تھے تو دل برداشتہ ہو کر ازدواج کے اس رشتہ کو توڑ نہ دو بلکہ ان کوتاہیوں اور خامیوں پر صبر کرو ،اللہ تعالیٰ کے کرم سے بعید نہیں کہ تمہیں اس بیوی سے ایسی نجیب و سعید اولاد عطا فرمادے جو تمہاتے نام کو روشن کر دے یا جب زندگی کا کارواں ابتلاء اور آزمائش کی سنگلاخ وادی میں قدم رکھے تو تمہاری یہ بیوی تمہارے عزم و حوصلہ کو بلند رکھنے میں اس گل ِرعنا سے زیادہ مفید ثابت ہو جس کی بوئے وفا اور رنگ صفا کو باد سموم کا ایک ہی جھونکا مرجھا کر رکھ دے، انسانی حسن وجمال کا آئینہ صرف نگاہ ہی تو نہیں اس کے علاوہ اور بھی کئی آئینے ہیں (ضیاء القرآن)

آج دنیا کو اسی نظام حیات اور اسی روحانی عمل کی ضرورت ہے اسی نظام قرآنی (جو ازدواجی زندگی کو پر نکھار بنا دیتا ہے) کو اپنا کر اضطراب و بے چینی ، پریشانی و بے اطمینانی اور یاس و نا امیدی کی کیفیت سے نکل کر امن و آشتی ، اطمینان و سکون و حقیقی مسرت و خوشی کے ماحول میں سانس لے سکتی ہے ۔

یہ تو قرآنی آیات کی روشنی میں ازدواجی زندگی کے پر نکھار اور خوشگوار کرنے کے طور و طریقے تھے اب آئیے ذرا فرامین رسالت مآب اکی روشنی میں اس اہم اور مقدس نظام حیات ازدواج کو ملاحظہ کریں اور اپنی زندگی میں ان مقدس فرمودات کو بجا لانے کا عہد کریں ۔

تاجدارنبوت ﷺ نے اہلِ دنیا کو اسلامی اور اصلاحی طور طریقے اپنانے کی تاکید فرمائی اورپہلے اپنی زندگی سے ان کو عمل کر کے ثابت کر دیا کہ یہ ایسا رسول نہیں ہے جو صرف دعوت عمل دیتا ہے بلکہ پہلے اپنے کردار و گفتار سے اس عمل کی اہمیت و حیثیت کو واضح کرتا ہے ۔آپ کی زندگی کا ہر گوشہ اور آپ کے کردار کا ہر رخ اہل ایمان کیلئے اسوئہ حسنہ ہے ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کس کس طرح ازدواجی خوشگوارزندگی گذار سکتا ہے اس کیلئے آپ نے اپنی زندگی بھر لوگوں کو اصول و قوانین کی طرف متوجہ فرمایا ۔ جہاں آپ نے یہ مقدس ارشاد فرمایا کہ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَہْلِہٖ ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھا ہے ‘‘ وہیں اپنی مقدس بیویو ں کے ساتھ ایسی اسلامی اور بے مثالی ازدواجی زندگی گذار کر ثابت کر دیا کہ اَنَا خَیْرٌ لِاَہْلِیْ ’’میںاپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر ہوں ‘‘ ۔

امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی سیرت و حالات کا مطالعہ کر لیجئے وہ خود بیا ن فرماتی ہیں کہ رسول محترم ﷺ مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں ۔ آخر ایسی باتیں وہ کیوں فرماتی ہیں ضرور سرکار نے ان کو ایسی الفت و محبت عطا فرمائی اور ان کے جائز خواہشات کو پورا فرمایا اور انکے حقوق کی پوری پاسداری فرمائی کہ وہ یقینا خوشی ومسرت سے جھوم اٹھی ہو گی ۔

اب آئیے ذرا ایک جھلک یہ بھی دیکھ لیں کہ تاجدار نبوت ﷺ کی مقدس ازدواجی زندگی کیسی تھی ؟نبوی اعمال کس طرح تھے؟ بیشک بہترشوہروہی ہے جو اپنی بیوی کو اپنے اعمال و کردار سے خوش و خرم کردے ، اور بہترین بیوی بھی وہی ہے جو محبت بھری نظر سے شوہر کو دیکھ لے اور اس کے حقوق کی پوری پاسداری کر کے شوہر کی رضا و خوشنودی حاصل کر لے ۔

حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ایک سفر میں حضور اقدس ﷺ کے ساتھ تھیں فرماتی ہیں کہ میں نے آپ کے ساتھ دوڑ لگائی تو میں آگے نکل گئی ۔ پھر جب میرا جسم تواناہو گیا اور دوڑ لگائی تو آپ ﷺ مجھ سے آگے نکل گئے اور فرمایا یہ تمہاری پہلی سبقت کا بدلہ ہوا ۔ (حقوق العباد ، ص ؍ ۴۳)

ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت ا میں عرض کی ’’ ہماری بیوی کا ہم پر کیا حق ہے ؟ تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا :یہ کہ تم اسے اپنے ساتھ کھانا کھلائو ، اور جب پہنو تو اسے بھی پہنائو اور اس کے چہرے پر نہ مارو اور اسے لعنت ملامت نہ کرو اور اس کو چھوڑو مگر گھر میں (مشکوٰ ۃ شریف ص؍۲۸۱ )

قرآن و احادیث کے بتائے ہوئے ان اصول و قوانین پر عمل کر کے ہی ازدواجی زندگی کی گاڑی خوشگواری سے گذر سکتی ہے ۔