وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۵۱)

اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہوکہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سفارشی اس امید پر کہ وہ پرہیزگار ہوجائیں

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۲)

اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے (ف۱۱۶) تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں (ف۱۱۷) پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے

(ف116)

شانِ نُزول : کُفّار کی ایک جماعت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی انہوں نے دیکھا کہ حضور کے گرد غریب صحابہ کی ایک جماعت حاضر ہے جو ادنٰی درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں ، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے ، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں ، حضور نے اس کو منظور نہ فرمایا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف117)

سب کا حِساب اللہ پر ہے ، وہی تمام خَلق کو روزی دینے والا ہے ، اس کے سوا کسی کے ذمّہ کسی کا حساب نہیں ۔ حاصل معنٰی یہ کہ وہ ضعیف فُقَراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے ۔

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(۵۳)

اور یونہی ہم نے ان میں ایک کو دوسرے کے لیے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر (ف۱۱۸) کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے (ف۱۱۹) کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو

(ف118)

بطریقِ حسد ۔

(ف119)

کہ انہیں ایمان و ہدایت نصیب کی باوجودیکہ وہ لوگ فقیر غریب ہیں اور ہم رئیس سردار ہیں ، اس سے ان کا مطلب اللہ تعالٰی پر اعتراض کرنا ہے کہ غُرَباء اُمراء پر سبقت کا حق نہیں رکھتے تو اگر وہ حق ہوتا جس پر یہ غُرَباء ہیں تو وہ ہم پر سابق نہ ہوتے ۔

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ-اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵۴)

اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمۂ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے(ف۱۲۰)کہ تم میں جو کوئی نادانی سے کچھ برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف120)

اور اپنے فضل و کرم سے وعدہ فرمایا ۔

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠(۵۵)

اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفصل بیان فرماتے ہیں(ف۱۲۱) اور اس لیے کہ مجرموںکا رستہ ظاہر ہوجائے (ف۱۲۲)

(ف121)

تاکہ حق ظاہر ہو اور اس پر عمل کیا جائے ۔

(ف122)

تاکہ اس سے اجتناب کیا جائے ۔