کڈز مدنی چینل دعوت اسلامی کا انقلابی قدم

تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

آج ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ جدید دنیا ہے دشمن اپنی اقدار کے تحفظ کےلیےاور اسلامی اقدار کی تباہی کے لیے نت نئے ہتھیاروں کے ساتھ میڈیا کے ذریعے ہمارے گھروں میں داخل ہو چکا ہے ۔۔۔

نصابِ تعلیم سے اسلامی تعلیمات کو بتدریج نکالنے کے لیے اغیار کی جانب سے کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ کی گئی ۔۔۔۔۔

مشرکانہ کارٹون جیسے بھیم وغیرہ جنہوں نے بچوں کے عقائد و نظریات پر گہری ضرب لگائی ۔۔۔۔ دیگر کارٹون جن کا مقصد ہی سرمایہ دارانہ نظام کی ترویج و اشاعت اور بنی نوع انسان کو سرمائے کا غلام بنانا مقصود ہے ،فن او ر تفریح کے نام پر اخلاقی بے راہ روی کو کارٹونز کے ذریعے فروغ دینا جن کا مقصد ہے ۔

میرے نہاں خانہ دل میں نہ صرف بلکہ امت کے لیے درد مند دل رکھنے ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ امت مسلمہ کی خیر خواہی کے لیے بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے بچوں کے لیے کوئی انقلابی قدم اٹھائے اور اغیار نے ہماری نسلِ نو کو اپنے نشانے پر لیا ہے اس جانب کچھ توجہ کی جائے کیونکہ بچہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ہمارا آنے والا کل اور ہماری امید ہیں ۔ہم اپنے معاشرے کو ایک صالح معاشرے کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں ہمارے معاشرے میں کرپشن نہ ہو ،ہمارے معاشرے میں امن و سکون ہو ۔ بحیثیت مسلمان ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ دنیا میں بھی کامیاب و کامران اور آخرت میں با مراد ہو ۔

الحمد للہ دعوت اسلامی نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور کڈز مدنی چینل کی ٹرانسمیشن کاآ غاز کررہی ہے ۔۔۔۔۔۔

میں یہ سمجھتا ہوں یہ کام کسی فرد ، جماعت یا مسلک کے لیے نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ہے اور دعوت اسلامی کے اب تک ہونے والے کاموں میں ایک بڑا اور انقلابی قدم ہے ۔

عزیزان محترم !

بچہ ایک شفاف کاغذ کی طرح ہوتا ہے آپ ا س پر جو تحریرکریں گے وہ اس کی شخصیت کا نصب العین بن جائے گا ۔بحیثیت مسلمان اس بات سے کسی طور انکار ہی نہیں کیا جا سکتا کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کے ماں باپ ہی اسے مشرک ، یہودی اور مجوسی بناتے ہیں ۔

نونہالان ِ ملت ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ان کی صحت اور نصابی تعلیم ہی اہم نہیں بلکہ اس کی تربیت اور شخصیت سازی اہم ہے کیونکہ تربیت و شخصیت سازی کے بغیر ہم نے انہیں کسی بھی فن میں ماہر کر دیا تو یقینا ً وہ اس فن کے ماہر تو ہوں گے مگر ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کی محبت ، ہمدردی اور بھائی چارگی پیدا نہ ہو سکےگی جس کے نتائج انسانی معاشرے کے لیے نہایت بھیانک نکلیں گے ۔

بچوں کی اسلامی تربیت بچوں کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے اسلامی تعلیمات اس کی روح پر گہرااثر ڈالتی ہے اس کے نفس اور روح کو کمال عطا کرتی ہے اور اس کی شخصیت کو دوسروں کے مقابلے میں نمایاں کرتی ہے ۔

ستاروں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ ہو یاجدید چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت حصولِ مقصد میں کامیابی کا ہنر ہو یا منصوبہ بندی میں کرنے کی صلاحیت ،تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کے لیے اسلامی تعلیمات کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نا ممکن ہے ۔

آج کے موجود دور میں جب انسان کو پاس فرصت کے لمحات کم ہی میسر آتے ہیں پھر علمی و دینی محافل میں شرکت بھی مصروفیات کے سبب مشکل ہو چکی ہے دوسری جانب بے لگام میڈیا کے اخلاق باختہ پروگرام نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے ان حالات میں بچوں کے دینی چینل کی ضرورت و اہمیت اوربھی دو چند ہو جاتی ہے ۔

عصر ِ حاضر میں بچوں کے دینی چینل کی ضرورت صالح معاشرے کی بقا اور سلامتی کے لیے از حد نا گزیر ہے۔

دعوت اسلامی کی پوری ٹیم اس انقلابی قدم اٹھانے پر مبارکباد کی مستحق ہے اور میں پھر کہوں گا یہ کام کسی فرد جماعت اور مسلک کے لیے نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک شاندار قدم ہے ۔

-وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى مائدہ 2

اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو