حجۃ الاسلام حضرت علامہ شاہ محمد حامد رضا خانصاحب

ولادت:- آپ کی ولادت باسعادت شہر بریلی میں ماہ ربیع الاول ۱۲۹۲ھ/مئی ۱۸۷۵ء کو ہوئی ۔ خاندانی دستور کے مطابق ’’ محمد ‘‘ نام پر عقیقہ ہوا اور یہ ہی آپ کا تاریخی نام بھی ہوگیا ، عرفی نام حامد رضا تجویز ہوا ، اور لقب حجۃ الاسلام ہے ۔

آپ حسن سیرت اور جمال صورت دونوں کے جامع تھے ، اپنے عہد کے بے نظیر

مدرس ، محدث اور مفسر تھے ، عربی ادب میں انفرادی حیثیت کے مالک ، اور شعر و ادب میں پاکیزہ ذوق رکھتے تھے ، اپنے اسلاف اور آباء و اجداد کے کامل و اکمل نمونہ تھے ، بزرگوں کا احترام اور جھوٹوں پر شفقت آپ کا شعار دائم تھا ۔

زہد و تقوی ، توکل و استغناء میں اتمیازی شان کے مالک اور اخلاق و کردار کے بادشاہ تھے ۔

حسن صورت:۔ ہندوستان کے اکابر علماء کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ نگاہوں نے حجۃ الاسلام سے زیادہ حسین چہر ہ نہیں دیکھا ۔ پھر اس پر لباس کی سج دھج مزید بر آں تھی ۔جو لباس بھی آپ زیب تن فرماتے وہ بھی آپ کے جمال سے جگمگا اٹھتا۔ جس مقام سے گزر ہوتا تو لوگ حسن صوری دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے اور سارا ماحول غزلخواں ہوتا۔

ع دم میں جب تک دم ہے دیکھا کیجئے

حسن سیرت :۔ آپ پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے ، متواضع اور خلیق اور بلند پایہ کردار رکھتے تھے ۔

شب برأت آتی تو سب سے معافی مانگتے حتی کہ چھوٹے بڑے اور خادمائوں اور خادموں اور مریدوں سے بھی فرماتے کہ اگر میری طرف سے کوئی بات ہو گئی ہو تو معاف کر دو اور کسی کا حق رہ گیا ہو تو بتادو ۔ آپ ’’ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ ‘‘ اور’’ اشداء علی الکفار ورحماء بینہم ‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، آپ اپنے شاگردوں اور مریدوں سے بھی بڑے لطف و کرم اور محبت سے پیش آتے تھے ۔ اور ہر مرید اور شاگرد یہی سمجھتا تھا کہ اسی سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔

ایک بار کا واقعہ ہے کہ آپ لمبے سفر سے بریلی واپس ہوئے ۔ ابھی گھر پر اترے بھی نہ تھے اور تانگہ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ بہاری پور بریلی کے ایک شخص نے جس کا بڑا بھائی آپ کا مرید تھا اور اس وقت بستر علالت پر پڑا ہو تھا آپ سے عرض کیا کہ حضور روز ہی آکر دیکھ جاتا ہوں لیکن چونکہ حضور سفر پر تھے اس لئے دولت کدے پر معلوم کر کے ناامید لوٹ جاتا تھا ، میرے بھائی سرکار کے مرید ہیں اور سخت بیمار ہیں چل پھر نہیں سکتے ۔ ان کی بڑی تمنا ہے کہ کسی صورت اپنے مرشد کا دیدار کرلیں ۔ اتنا کہنا تھا کہ آپ نے گھر کے سامنے تانگہ رکوا کر اسی پر بیٹھے ہی بیٹھے اپنے چھوٹے صاحبزادے نعمانی میاں صاحب کو آواز دی اور کہا سامان اتروائو میں بیمار کی عیادت کر کے ابھی آتا ہوں ۔ اور آپ فورا اپنے مرید کی عیادت کیلئے چلے گئے ۔

بنارس کے ایک مرید آپ کے بہت منہ چڑھے تھے اور آپ سے بے پناہ عقیدت بھی رکھتے تھے ، اور محبت بھی کرتے تھے ،ایک بار انہوں نے دعوت کی، مریدوں میں گھرے رہنے کے سبب آپ ان کے یہاں وقت سے کھانے میں نہ پہنچ سکے ان صاحب نے کافی انتظار کیا اور جب آپ نہ پہونچے تو گھر میں تالا لگا کر اور بچوںکو لیکر کہیں چلے گئے ۔ جب ان کے مکان پر پہونچے تو دیکھا کہ تالا بند ہے، مسکراتے ہوئے لوٹ آئے، بعد میں ملاقات ہونے پر انہوں نے ناراضگی بھی ظاہر کی اور روٹھنے کی وجہ بھی بتائی ۔ آپ نے بجائے ان پر ناراض ہونے یا اسے اپنی ہتک سمجھنے کے انہیں الٹا منایا اور دلجوئی کی ۔

آپ خلفائے اعلیٰ حضرت اور اپنے ہم عصر علماء سے نہ صرف محبت کرتے تھے بلکہ ان کا احترام بھی کرتے تھے جبکہ بیشتر آپ سے عمر اور علم و فضل میں چھوٹے اور کم پایہ کے تھے ، سادات کرام خصوصاً مارہرہ مطہرہ کے مخدوم زادگان کے سامنے تو بچھ جاتے تھے اور آقائوں کی طرح ان کا احترام کرتے تھے ۔

طالب علمی کا زمانہ میں شب و روز مطالعہ و مذاکرۃ جاری رہا ۔ اور ۱۹؍ سال کی عمر شریف ۱۳۱۱ھ/ ۱۸۹۴ میں فارغ التحصیل ہوئے جب فارغ ہوئے تو والد ماجد امام احمد رضا نے فرمایا ۔ ان جیسا عالم اودھ میں نہیں۔

فراغت کے بعد مسلسل ۱۵؍ سال ۱۳۲۶ ھ تک والد ماجد کی خدمت میں حاضر رہے اور تصنیف و تالیف ، فتوی نویسی اور دیگر مضامین عالیہ سے خدمت دین فرمائی ۔

اجازت و خلافت : ،۔نور الکاملین خلاصۃ الواصلین سیدنا حضرت مولانا الشاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی قدس سرہ سے آپ کو خلافت و اجازت حاصل تھی ، اور پھر آپ کے حکم سے امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی حجۃ الاسلام کو جملہ علوم ، اذکار واشغال ،اوراد و اعمال کی اجازت سے نوازا۔

علم و فضل : – آپ اپنے علم و فضل کے اعتبار سے بلا شبہ نائب امام احمد رضا تھے ، اہل علم میں آپ کی مقبولیت صرف بڑے باپ کے بیٹے ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس بنیاد پر بھی تھی کہ وہ علوم دینیہ کے بحر بیکراں تھے ، جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ میں دستگاہ کامل حاصل تھی تھے اور ایک عرصہ تک آپ نے منظر اسلام میں درس دیا ، تفسیر و حدیث ، فقہ واصول اور کلام و منطق وغیرہا میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا ، بالخصوص آپ کا درس بیضاوی ، شرح عقائد اور شرح چغمینی بہت مشہور تھا ۔

حج و زیارت:۔ آپ نے اپنی عمر کے اکیسویں سال ۱۳۲۳ھ میں حج و زیارت کی سعادت حاصل کی ، اور اپنی والدہ ماجدہ ، نیز عم محترم حضرت مولانا محمد رضا خانصاحب کے ساتھ روانہ ہوئے ، اس سفر سراپا ظفر میں امام احمد رضا جھانسی تک آپ کے ساتھ رہے ۔

امام احمد رضا جھانسی سے واپس تشریف لے آئے لیکن گھر آکر ایک اضطرابی کیفیت طاری تھی ، آخر کار والدہ ماجدہ سے اجازت لیکر خود بھی روانہ ہوگئے اور بمبئی سے سب کے ساتھ جدہ روانہ ہوئے ۔ اس طرح حجۃ الاسلام نے یہ حج اپنے والد ماجد کی معیت میں ادا کیا ۔

اس حج کی برکات نہایت عظیم و جلیل ہیں ۔ امام احمد رضا نے تفصیل سے الملفوظ میں ان کو بیان فرمایا ہے ۔ مختصرا یوں ہے ۔ حرم مکہ کے پہلے روز کی حاضری کا ذکر اس طرح فرمایا ۔

پہلے روز جو حاضر ہوا تو حامد رضا ساتھ تھے ۔ محافظ کتب حرم ایک وجیہہ و جمیل عالم نبیل مولانا سید اسماعیل تھے ۔ یہ پہلا دن ان کی زیارت کا تھا ۔ حضرت مولانا موصوف سے کچھ کتابیں مطالعہ کیلئے نکلوائیں ۔ حاضرین میں سے کسی نے اس مسئلہ کا ذکر کیا کہ قبل زوال رمی کیسی؟ مولانا نے فرمایا یہاں کے علماء نے جواز کا حکم دیا ہے ۔ حامد رضا خاں سے اس بارے میں گفتگو ہو رہی تھی ، مجھ سے استفسار ہوا ۔ میں نے کہا خلاف مذہب ہے ۔ مولاناسید صاحب نے ایک متداول کتاب کا نام لیا کہ اس میں جواز کو علیہ الفتوی لکھا ہے ۔ میں نے کہا کہ ممکن ہے روایت جواز ہو مگر علیہ الفتوی ہر گز نہ ہوگا ۔ وہ کتاب لے آئے اور مسئلہ نکلا اور اسی صورت سے نکلا جو فقیر نے گزارش کی تھی۔ علیہ الفتوی کا لفظ نہ تھا ۔ حضرت مولانا نے کان میں جھک کر مجھے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟اورحامد رضا کو بھی نہ جانتے تھے مگر اس وقت گفتگو انہیں سے ہو رہی

تھی ۔ لہذا ان سے پوچھا ۔ انہوں نے میرا نام لیا ۔ نام سنتے ہی حضرت مولانا وہاں سے اٹھ کر بے تابانہ دوڑتے ہوئے آکر فقیر سے لپٹ گئے ۔ ( الملفوظ ص ۱۰، ۱۱، جلد دوم )

امام احمد رضا کے حضور وہ بھی ایک مکی عالم نبیل محافظ کتب حرم سید محمد اسماعیل سے رمی قبل زوال کے عدم جواز پر حضرت حجۃ الاسلام نے فصیح عربی میں گفتگو کا حق ادا کردیا اور ’

’ الولد سرّ لابیہ ‘ ‘ کا وہ شاندار مظاہرہ پہلی بار حرم مکہ میں کیا کہ معاصر علماء کا یہ قول فیصل قرار پایا ۔

’’ اعلیٰ حضرت ( امام احمد رضا ) کے بعد اگر واقعی کوئی عالم اور ادیب تھے تو وہ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں تھے ۔ ‘‘( مولانا حسنین رضا خاں خلیفۂ اعلیٰحضرت کا ارشاد)

امام احمدرضا قدس سرہ کا یہ دوسرا حج مبارک تھا ، اچانک اس حج کیلئے جانا اور حکمت الہٰیہ کا راز کھلنا یوں بیان فرماتے ہیں ۔

حکمت الہٰیہ یہاں آکر کھلی ۔ سننے میں آیا کہ وہابیہ پہلے سے آئے ہوئے ہیں جن میں خلیل احمد انبیٹھی اور بعض وزراء ریاست و دیگر اہل ثروت بھی ہیں ۔ حضرت شریف تک رسائی پیدا کی ہے اور مسئلہ علم غیب چھیڑا ہے اور اس کے متعلق کچھ سوال اعلم علما ء مکہ حضرت مولانا شیخ صالح کمال سابق قاضی مکہ و مفتی حنفیہ کی خدمت میںپیش ہوا ہے ۔ میں حضرت موصوف کی خدمت میں گیا ۔ میں نے بعد سلام و مصافحہ مسئلہ علم غیب کی تقریر شروع کی اور دو گھنٹہ تک اسے آیات و احادیث و اقوال ائمہ سے ثابت کیا اور مخالفین جو شبہات کیا کرتے ہیں ان کا رد کیا ۔اس دو گھنٹے تک حضرت موصوف محض سکوت کے ساتھ ہمہ تن گوش ہو کر میرا منہ دیکھتے رہے ۔ جب میں نے تقریر ختم کی چپکے سے اٹھتے ہوئے قریب الماری رکھی تھی وہاں تشریف لے گئے اور ایک کاغذ نکال لائے جس میں مولوی سلامت اللہ صاحب رامپوری کے رسالہ ’’اعلام الاذکیا‘‘ کے اس قول کے متعلق کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو’’ ہو الاول و الآخر و الظاہر و الباطن و ہو بکل شیٔ علیم،‘ لکھا ، چند سوال تھے اور جواب کی نا تمام سطریں لائے ۔

مجھے دیکھا اور فرمایا ’’ تیر اآنا اللہ کی رحمت تھا ورنہ مولوی سلامت اللہ کے کفر کا فتوی یہاں سے جا چکتا ‘‘ میں حمد بجالایا اور فرو د گاہ پر واپس آیا ۔ مولانا سے مقا م قیام کا کوئی تذکرہ نہ آیا تھا ۔اب وہ فقیر کے پاس تشریف لانا چاہتے ہیں اور حج کا ہنگامہ اور جائے قیام نا معلوم ۔

آخر خیا ل فرمایا کہ ضرور کتب خانے میں آیا کرتا ہوگا۔ ۲۵؍ذو الحجہ ۱۳۲۳ھ کی تاریخ ہے بعد نماز عصر کتب خانے کی سیڑھی پر چڑھ رہا ہوں ،پیچھے سے ایک آہٹ معلوم ہوئی دیکھا تو حضرت مولانا شیخ صالح کمال ہیں ۔بعد سلام و مصافحہ کتب خانے میں جاکر بیٹھے ، وہاں حضرت مولانا سید اسماعیل او ران کے نو جوان سعید رشید بھائی سید مصطفی ان کی والد ماجد سید خلیل اور بعض حضرت جن کے اس وقت نام یاد نہیں تشریف فرما ہیں ۔ حضرت مولانا شیخ صالح کمال نے جیب سے ایک پرچہ نکالا جس پر علم غیب کے متعلق پانچ سوال تھے ( وہی سوال جن کا جواب مولانا نے شروع کیا تھا اور تقریر فقیر کے بعد چاک فرمادیا تھا ) مجھ سے فرمایا: یہ سوال وہابیہ نے حضرت سیدنا کے ذریعہ سے پیش کئے ہیں اور آپ سے جواب مقصود ہے ۔ میں نے سید مصطفی سے گزارش کی کہ قلم دوات دیجئے ۔ حضرت مولانا شیخ کمال ومولانا سید اسماعیل و مولانا سید خلیل سب اکابر نے کہ تشریف فرما تھے ارشاد فرمایا کہ ہم ایسا فوری جواب نہیں چاہتے بلکہ ایسا جواب کہ خبیثوں کے دانت کھٹے ہوں ۔ میں نے عرض کی: کہ اس کیلئے قدرے مہلت چاہیئے ۔ دو گھڑی دن باقی ہے اس میں کیا ہو سکتا ہے ۔ حضرت مولانا شیخ صالح کمال نے فرمایا کل سہ شنبہ ، پرسوں چہار شنبہ ہے ۔ان دو روز میں ہو کہ پنجشنبہ کو مجھے مل جائے کہ میں شریف کے سامنے پیش کردوں۔ میں نے اپنے رب کی عنایت او راپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اعانت پر بھروسہ کر کے وعدہ کر لیا اور شان الہی کہ دوسرے ہی دن بخار نے پھر عود کیا ۔ اسی حالت میں رسالہ تصنیف کرتا اور حامد رضا خاں تبیض کرتے ۔ چہا ر شنبہ کے دن کا بڑا حصہ یوں بالکل خالی نکل گیا اور بخار ساتھ ہے بقیہ دن میں اور بعد عشا ء بفضل الہی و عنایت رسالت پناہیصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہ کتاب کی تکمیل و تبیض سب پوری کرادی ’ ’ الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ ‘‘ اس کا تاریخی نام ہوا اور پنجشنبہ کی صبح ہی کو حضرت مولانا شیخ صالح کمال کی خدمت میں پہونچا دی گئی ۔ (الملفوظ،۱۱،۱۲،۱۳،ج ۲)

حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ و الرضوان اس علمی شاہکار کے منصہ شہور پر آنے کا ایک اہم سبب ہیں ۔پوری کتاب کی تبیض آپ ہی نے فرمائی ۔ پھر امام احمد رضا کے حکم سے اس پر تمہید قلم برداشتہ تحریر کی جسے امام احمد رضا نے بہت پسند فرمایا ۔

تمہید میں حجۃ الاسلام نے پوری کتاب کا خلاصہ چند سطور میں پیش کردیا ہے ۔ اس کے بعد آپ نے الدولۃ المکیۃ کا از اول تا آخر ترجمہ فرمایا ۔ جو آپ کی دونوں زبانوں پر قدرت کا مظہرہے ۔

ترجمہ پڑھ کر اصل کتاب کا گمان ہوتا ہے اور مزید خوبی یہ ہے کہ نثر کا ترجمہ نثر میں ہے اور نظم کا نظم میں ہے ۔

اس کے علاوہ’’ الاجازت المتینہ لعلماء مکۃ والمدنیۃ‘‘ ۔ اور’’ کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم‘‘ پر بھی آپ نے تمہید یں تحریر فرمائیں جو آپ کی عربی دانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔

دار العلوم منظر اسلام کا اہتمام :۔ اس دار العلوم کا جب قیام عمل میں آیا تو سب سے پہلے اس کا اہتمام آپ کے عم محترم استاذ زمن حضرت مولانا حسن رضا خاںصاحب قبلہ علیہ الرحمۃ کے سپر دہوا ۔ جب آپ کا وصال ۱۳۲۶ھ میں ہوگیا تو مستقل اس کاا ہتمام حجۃ الاسلام کے سپرد کر دیا گیا جو آج بھی ان کی اولاد میں چلا آرہا ہے ۔

آپ کے زمانہ میںدارلعلوم منظر اسلام نقطۂ عروج پر تھا اور اس وقت کے مدارس میں امتیازی شان کا مالک ۔ ۱۳۵۳ھ/ ۱۹۳۴ء کے سالانہ اجلاس میں بیس طلبہ فارغ التحصیل

ہو ئے تھے جو اس زمانہ کے لحاظ سے ایک خاصی تعداد تھی۔

اسفار:۔آپنے امام احمد رضا کی معیت میں سفر حج و زیارت توکیا ہی تھا لیکن دوسرے اہم مواقع پر بھی آپ امام احمد رضا کے ساتھ رہے۔ ندوہ کے رد میں ۱۳۱۸ھ /۱۹۰۰ء میں جلسہ

’’ دربار حق و صداقت‘‘ پٹنہ میں منعقد ہو اجس میں ہندوستان کے سیکڑوں علماء ربانیین جمع ہوئے تھے ۔ اس وقت حجۃ الاسلام بھی امام احمد رضا کے ساتھ تھے ۔

۱۳۲۲ھ/۱۹۰۵ء میں سفر جبل پور کے لئے جب امام احمد رضا تشریف لے گئے تو بھی آپ ساتھ تھے۔

ان اسفار کے علاوہ آپ کے بے شمار اسفار وہ ہیں جو آپ نے امام احمد رضا قدس سرہ کے وصال کے بعد متحدہ ہندوستان میں کئے ۔ پوری زندگی ملی و مسلکی خدمات کی لگن سینہ میں موجزن رہی ، سفر لکھنؤ اور سفر لاہور آپ کے ان اسفار میں ہیں جن میں آپ نے حق و باطل کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیا تھا ۔

مشاہیر تلامذہ

حضرت علامہ حضورمفتی اعظم ہند مولانا شاہ محمد مصطفی رضا خاں برادر اصغر و صاحب سجادہ امام احمد رضا ۔ م ۱۴۰۲ھ

علامہ مولانا حسنین رضا خاں بریلوی خلیفۂ امام احمد رضا۔ م ۱۴۰۱ھ

شاہ عبد الکریم صاحب تاجی ناگپوری پیرو مرشد بابا ذہین شاہ تاجی ، مدفون کراچی م۱۳۶۶ھ

مولانا مفتی ابرار حسن صدیقی تلہری ، مدیر شہیر ماہنامہ یاد گار رضا بریلی ۔

محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد شیخ الحدیث جامعہ رضویہ منظر اسلام لائل پور پاکستان۔ م ۱۳۸۲ھ

مولانا محمد عبد الغفور ہزاروی شیخ القرآن و معقول و منقول ، خطیب شعلہ بیان ،و زیرآباد پاکستان ۔ م۱۳۹۰ھ

مولانا مفتی عبد الحمید قادری م۱۳۹۳ھ

مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں، فرزند اکبر م۱۳۸۵ھ

مولانا شاہ رفاقت حسین مفتی اعظم کانپور ، امین شریعت ، صوبہ بہار م ۱۴۰۳ھ

مولانا غلام جیلانی ، مانسہرہ پاکستان

صدر المدرسین جامع معقول و منقول مولانا غلام جیلانی اعظمی

مولانا تقدس علیخاں رضوی سابق مہتمم دار العلوم منظر اسلالم بریلی شریف م۱۴۰۳ھ

مولانا محمد علی آنولوی حامدی نائب مدیر ماہنامہ یاد گار رضا

مولانا قاری غلام محی الدین ہلدوانی نینی تال

مشاہیر خلفاء

۱۔ مولانا ظہیر الحسن اعظمی مدفون اودے پور

۲۔ مولانا حافظ محمد میاں صاحب اشرفی رضوی علیم آباد ضلع دربھنگہ بہار ۱۳۵۴ھ / ۱۹۳۵

۳۔ مولانا عنایت محمد خاں غوری فیروزپوری

۴۔ مولانا مفتی ابرار حسن صدیقی تلہری مدفون ضلع شاہجہاں پور

۵۔ مولانا و لی الرحمن پوکھر یروری مظفر پوری ۱۳۴۰ ھ / ۱۹۵۱ء

۶۔ مولانا حماد رضا خان نعمانی میاں بریلی خلف اصغر مدفون کراچی ۱۳۷۵/ ۱۹۵۶ء

۷۔ مولانا قاری احمد حسین فیروزپوری مدفون گجرا ت ۱۳۷۹ھ / ۱۹۶۰ء

۸۔ مولانا سردار والی خاں عرف عزو میاں بریلوی مدفون ملتان

۹۔ مولانا حشمت علی خاں لکھنوی ، پیلی بھیتی م ۱۳۸۰/ ۱۹۶۱ء

۱۰۔ مولانا سید ابو الحسنا ت محمد احمد الوری مدفون دربار داتا لاہور م ۱۳۸۰ ھ /۱۹۶۱

۱۱۔ محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد لائل پوری م ۱۳۸۲ ھ / ۱۹۶۲ء

۱۲۔ مولانا شاہ مفتی محمد اجمل سنبھلی م ۱۳۸۳ھ ۱۹۶۳ء

۱۳۔ مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں صاحب سجادہ خلف اکبر ۔ ۱۳۸۵ / ۱۹۶۵

۱۴۔ مولانا سید ریاض الحسن صاحب جودھپوری مدفون حیدآباد سندھ م ۱۳۹۰ھ ۱۹۷۰ء

۱۵۔ مولانا مفتی محمداعجاز ولی خاں رضوی بریلوی مدفون لاہور م ۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳

۱۶۔ مجاہد ملت مولانا شاہ محمد حبیب الرحمن قادری دھام نگری م ۱۴۰۱ھ / ۱۹۸۱ء

۱۷۔ محدث مولانا محمد احسان علی مظفر پوری ، م ۱۴۰۲ھ / ۱۹۸۲

۱۸۔ مولانا محمد سعید شبلی فیروزپوری ، م ۱۴۰۳ھ / ۱۹۸۲ء

۱۹۔ مداح الرسول صوفی عزیزی احمد بریلوی م ۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۴

۲۰۔ مولانا ریحان رضا خاں رحمانی میاں بریلوی نببیرئہ اکبر م ۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۴

۲۱۔ مولانا شاہ رفاقت حسین مفتی اعظم کانپور امین شریعت بہار م ۱۴۰۳ھ / ۱۹۸۳

۲۲۔ مولانا رضی احمد ماہر رضوی مدھوبنی بہار

۲۳۔ مولانا شاہ ابو سہیل انیس عالم امین شریعت بہار

۲۴۔ مولانا قاضی فضل کریم قاضی شریعت بہار

۲۵۔ شیخ الحدیث مولانا عبد المصطفی اعظمی ، م ۱۴۰۶ھ / ۱۹۸۶

۲۶۔ یادگار سلف مولانا الحاج تقدس علی خاں رضوی بریلوی مدفون پیر جوگوٹھ سندھ

۲۷۔ مولانا محمد ابراہیم خوشتر صدیقی قادری رضوی بانی و سربراہ سنی رضوی سوسائٹی انٹر نیشنل

۲۸۔ مولانا مفتی ظفر علی نعمانی کراچی ۔

۲۹۔ مولانا سید محمد علی اجمیری مقیم حیدر آباد ۔ سندھ ۔

۳۰ ۔ مولانا محمد علی آنولوی

تصانیف

۱۔ مجموعہ فتاوی قلمی

۲۔ الصارم الربانی علی اسراف القادیانی (۱۳۱۵ھ)

۳۔ نعتیہ دیوان

۴۔ تمہید اور ترجمہ الدولیۃ المکیۃ ۱۳۲۳ھ /۱۹۰۵

۵۔ تمہید الاجازت المتینہ لعلماء بکۃ و المدینۃ ۱۳۴۰ھ / ۱۹۰۶ء

۶۔ تمہید کفل الفقیہ الفاہم ۱۳۴۰ ھ

۷۔ تاریخی نام ، خطبہ الوظیفۃ الکریمہ ۱۳۳۸

۸۔ سد الفرار

۹۔ سلامۃ اللہ لاہل السنۃ من سبیل العناد و الفتنۃ ۱۳۳۲ھ / ۱۹۱۳

۱۰۔ حاشیہ ملا جلال قلمی

۱۱۔ کنز المصلی پرحاشیہ ۱۳۳۲ھ / ۱۹۰۵

۱۲۔ اجلی انوار الرضا ۱۳۳۴ھ / ۱۹۱۵ء

۱۳۔ اثار المبتدعین لہدم حبل اللہ المتین

۱۴۔ وقایہ اہل سنت ،

وصال

آپ ۱۷؍ جمادی الاولی ۱۳۶۲ھ مطابق ۲۲مئی ۱۹۴۳ء بعمر ۷۰ سال عین حالت نماز میں دوران تشہد دس بجکر ۴۵ منٹ پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

اولاد امجاد

حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ کے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیا ں تھی ، صاحبزاگان کے نام یہ ہیں ۔

(۱) مفسر اعظم ہند حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانیؔ میاں

(۲) حضرت مولانا حماد رضا خاں نعمانیؔ میاں ۔

رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما رحمۃ واسعۃ