شیطان کے رستے

یوں تو گناہوں کے بہت سے رستے ہیں جو شیطان کے رستے کی طرف لے کر جاتے ہیں…

مگر تکبر و غرور وہ بدترین گناہ ہے جس کی وجہ سے شیطان بھی اللہ کے دربار سے ملعون قرار دے کر نکال دیا گیا..

کیونکہ شیطان کا دعویٰ بھی یہی تھا کہ میں آدم علیہ السلام سے بہتر ہوں..

قرآن مجید میں ارشاد ہے..

قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُکَ ؕ قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ۚ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ

فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا، بولا میں اس(آدم) سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا..

تکبر کی چند مشہور قِسمیں

١) عُجب، خود پسندی، اسی کی ایک چھوٹی سی مرض میں مبتلا آج کل” سیلفی اپ لوڈر ہیں”

٢) طاقت: طاقت چاہے کسی بھی صورت میں ہو ، جسمانی ہو یا روحانی ، افرادی ہو یا اجتماعی ، سیاسی ہو یا غیر سیاسی…

٣) دولت: دولت کا تکبر و غرور ہر زمانے میں عام ہے.. اس زمانے میں تو دولت بڑائی اور عزت کا ایک معیار بن چکی ہے ۔جب کہ صاحب دولت کو معلوم ہے کہ قارون اسی سبب سے ذلیل و خوار ہوا۔

٤) حسن و جمال: حسن و جمال اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے ۔ بعض لوگ خدا کی اس عارضی نعمت پر تکبر جیسی آفت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

٥) حسب و نسب: بعض لوگ حسب و نسب پر بھی اتراتے ہیں جیسے سے خود سے اس قبیلے میں پیدا ہوئے… حالانکہ اللہ کا واضح ارشاد ھے شعوب وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم

یہ خاندان اور قبیلے صرف تمہارا تعارف ہیں اللہ کے نزدیک متقی سب سے افضل ہے…..

٦) عمل: بعض بد قسمت لوگ عبادت میں بھی متکبر ہو جاتے ہیں.. اللہ نے قرآن میں فرمایا

لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالۡمَنِّ وَ الۡاَذٰی

اپنے صدقات اور نیکیوں کو ضائع نہ کرو احسان جتا کر کسی کو تکلیف پہنچا کر…

٧) علم: تکبر کی سب سے خطرناک وجہ علم ہے جو علم کی وجہ سے متکبر ہو جاتا ہے، اس کا تکبر کبھی کم ہونے کا نام نہیں لیتا،

اس کی وجہ ؟

دولت، حسن، جوانی، عمل، عارضی ہو سکتے ہیں لیکن علم مستقل ہے عمر کے ساتھ ساتھ علم بڑھتا رہتا ہے…..

اس لئے علم کا متکبر سب سے بدترین ہے اگرچہ وہ کوئی بڑا نامور عالم دین ہو..

لیکن اگر کوئی علم کے باوجود عاجزی میں ہو تو وہ انبیاء کے طریقہ پر ہے..

کیونکہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا

اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام (اشیاء کے) نام سکھائے……………..

اس لیے دوستوں متکبر چاہے کسی قسم کا بھی ہو اس کی مجلس سے بچو اس کی صحبت سے اپنے آپ کو بچاؤ او اگرچہ وہ عالم دین ہو وہ انتہائی خطرناک ہے آپ کے ایمان کو بھی تباہ کر دے گا

_____________________________________

تحریر:- محمد یعقوب نقشبندی اٹلی