أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُـكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَاۤ اُولٰۤئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور ہم کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بار نہیں ڈالتے، وہی لوگ جنتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور ہم کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بار نہیں ڈالتے، وہی لوگ جنتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں “

قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وعد اور وعید دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر فرماتا ہے۔ اس سے پہلی آیتوں میں کفار کے لیے عذاب کی وعید بیان فرمائی تھی اس آیت میں مسلمانوں کے لیے ثواب کے وعدہ کا بیان فرمایا ہے۔ اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی، اور جو کچھ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحی آئی تھی اس کا اقرار کیا اور جن چیزوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا، ان پر عمل کیا اور جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے روکا تھا ان سے مجتنبر ہے اور پھر درمیان میں یہ واضح فرمایا کہ ہم نے جن کاموں کا حکم دیا ہے یا جن کاموں سے روکا ہے وہ سب کا انسان کی طاقت اور اس کی وسعت میں ہیں اور ہم کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بار نہیں ڈالتے تو وہی لوگ جنت ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اور اس میں کافروں کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ جنت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا حصول بہت آسان کردیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 42