أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ اَصۡحٰبَ النَّارِ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدْتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا‌ ؕ قَالُوۡا نَـعَمۡ‌ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّـعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور اہل جنت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ بیشک ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو سچا پایا، کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے تمہاے رب نے کیا تھا ؟ وہ کہیں گے ہاں ! پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو

تفسیر:

آیت 44 ۔ 45: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اہل جنت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ بیشک ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو سچا پایا، کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے تمہاے رب نے کیا تھا ؟ وہ کہیں گے ہاں ! پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ جو (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے روکتے تھے اور اس کو ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے “

حشر کے دن کفار کی توبہ کارگر نہیں ہوگی : بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حشر کے دن جب کفار یہ اعتراف کریں گے کہ ان کے رب نے ان سے سچا وعدہ کیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کریں گے اور شرک سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور شیطان اور دوسرے گمراہ کرنے والوں کی مذمت کریں گے اور اپنے کیے پر نادم ہوں گے تو کیا ان کا برائی پر نادم ہونا اور حق کا اعتراف کرلینا ان کی توبہ کے قائم مقام نہیں ہے اور کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ و یعفوا عن السیئات : اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے ” (الشوری :25)

اس کا جواب یہ ہے کہ حشر کا دن دارالجزاء ہے اور دار العمل دنیا ہے۔ ان کی توبہ اور ایمان کی جگہ دنیا تھی۔ حشر کے دن توبہ کرنا مفید ہے نہ ایمان لانا۔ قرآن مجید میں ہے اللہ تعالیٰ غرغرہ موت کے وقت بھی توبہ قبول نہیں فرماتا : ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیئات حتی اذا حضر احدہم الموت قال انی تبت الئٰن ولا الذین یموتون وھم کفار : ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں حتی کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے تو وہ کہے کہ میں نے اب توبہ کی اور نہ ان لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے جو حالت کفر پر مرتے ہیں ” (النساء :18)

اور جب غرغرہ موت کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی تو موت کے بعد توبہ کیسے قبول ہوگی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ غرغرہ موت کے وقت اور موت کے بعد انسان غیب کا مشاہدہ کرلیتا ہے اور غیب کے مشاہدہ کے بعد ایمان لانا معتبر نہیں ہے، معتبر غیب پر ایمان لانا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 44