أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ‌ۚ وَقَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ هَدٰٮنَا لِهٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِىَ لَوۡلَاۤ اَنۡ هَدٰٮنَا اللّٰهُ‌ ‌ۚ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ وَنُوۡدُوۡۤا اَنۡ تِلۡكُمُ الۡجَـنَّةُ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان کے سینوں سے (ایک دوسرے کے خلاف) رنجش کو نکال دیا ہے، ان کے نیچے دریا بہہ رہے ہیں، وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں پہنچایا، اور اگر اللہ ہمیں نہ پہنچاتا تو ہم از خودیہاں نہیں پہنچ سکتے تھے، بیشک ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے، اور ان کو یہ ندا کی جائے گی کہ تم اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے جنت کے وارث کیے گئے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ہم نے ان کے سینوں سے (ایک دوسرے کے خلاف) رنجش کو نکال دیا ہے، ان کے نیچے دریا بہہ رہے ہیں، وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں پہنچایا، اور اگر اللہ ہمیں نہ پہنچاتا تو ہم از خودیہاں نہیں پہنچ سکتے تھے، بیشک ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے، اور ان کو یہ ندا کی جائے گی کہ تم اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے جنت کے وارث کیے گئے ہو “

اہل جنت کے دلوں سے دنیا کی رنجشوں اور شکایتوں کا محو ہوجانا : اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنتیوں کے سینوں سے ان کو رنجشوں کو نکال دے گا جو دنیا میں وہ ایک دوسرے کے خلاف رکھتے تھے۔ کیونکہ کینہ کا سبب شیطان کے وسوسے ہیں اور شیطان اس وقت دوزخ میں جل رہا ہوگا۔ اس لیے اہل جنت کے سینے اور ان کے دل ہر قسم کے بغض، کینہ اور کدورت سے صاف ہوں گے۔ 

ابوجعفرت محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ میں، عثمان، طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور ہم نے ان کے سینوں سے (ایک دوسرے کے خلافٰ ) رنجش کو نکال دیا ہے۔ (جامع البیان، ج 8، ص 240، دار الفکر، تفسیر امام ابن ابی حاتم، ج 5، ص 1478، نزار مصطفیٰ مکہ المکرمہٰ ) 

ابو نضر بیان کرتے ہیں کہ اہل جنت کو جنت کے پاس روک لیا جائے گا اور بعض کا بعض سے حق دلایا جائے گا۔ حتی کہ جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو کسی کا کسی کے خلاف ایک ناخن کے برابر بھی حق یا مطالبہ نہیں رہے گا اور اہل دوزخ کو دوزخ کے پاس روک لیا جائے گا اور ہر ایک کا حق دلا دیا جائے گا حتی کہ جب وہ دوزخ میں داخل ہوں گے تو کسی کو کسی کے خلاف ایک ناخن کے برابر بھی ظلم کی شکایت نہیں ہوگی۔ (جامع البیان، ج 8، ص 241، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مسلمانوں کی دوزخ سے نجات ہوجائے گی تو ان کو جنت اور دوزخ کے درمیان پل پر روک لیا جائے گا۔ پھر ان میں سے جس نے جس کے ساتھ دنیا میں زیادتی کی ہوگی اس کا قصاص لیا جائے گا۔ پس جب ان کو پاک اور صاف کردیا جائے گا ( اور کسی کو کسی شکایت نہیں رہے گی) تب ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں (سیدنا) محمد کی جان ہے، ان میں سے ہر ایک شخص کو جنت میں اپنے ٹھکانے کا دنیا کے ٹھکانے سے زیادہ علم ہوگا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 6535، 2440 ۔ مسند احمد ج 3 ص 31 ۔ 63 ۔ 74)

اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ جنت کے درجات مختلف ہوں گے اور نچلے درجے والے اوپر کے درجہ والوں سے حسد نہیں کریں گے کیونک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو حسد اور بغض سے پاک کردیا ہے اور اس کا سبب یہ ہوگا کہ حسد اور بغض شیطان کے وسووں سے ہوتا ہے اور وہ اس وقت دوزخ میں ہوگا۔ 

کفار کی جنتوں کا مسلمانوں کو وراثت میں ملنا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور ان کو یہ ندا کی جائے گی کہ تم اپنے نیک اعمال کی وجہ سے جنت کے وارث کیے گئے ہو (الاعراف : 43)

ہر کافر اور مومن کے لیے جنت میں ایک ٹھکانہ بنایا گیا ہے، لہذا جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے اور اہل دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو اہل دوزخ کو جنت دکھائی جائے گی تاکہ وہ اس میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیں اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ٹھکانے ہیں اگر تم ایمان لے آتے اور اللہ کی اطاعت کرتے تو تم کو جنت میں یہ ٹھکانے دے دیے جاتے۔ پھر اہل جنت سے کہا جائے گا کہ اے ا ہل جنت، تم ان ٹھکانوں کو بہ طور وراثت لے لو کیونکہ تم نیک عمل کرتے تھے، پر جنت میں کافروں کے ٹھکانے اہل ایمان میں تقسیم کردیے جائیں گے۔ اسی طرح ہر کافر اور مومن کے لیے دوزخ میں بھی ایک ٹھکانا بنایا گیا ہے اور مسلمانوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد ان کو دوزخ میں ان کے ٹھکانے دکھائے جائیں گے کہ اگر وہ ایمان نہ لاتے تو ان کو دوزخ کے ان ٹھکانوں میں رکھا جاتا۔ پھر ان کے حصہ کی دوزخیں کافروں کو دی جائیں گی اور یہ اس لیے ہے کہ قیامت کے دن کافر اللہ تعالیٰ سے یہ نہ کہہ سکے کہ اگر میں ایمان لاتا تو تو نے میرے لیے جنت میں کوئی ٹھکانا تو بنایا ہی نہیں تھا تو مجھے جنت میں کس جگہ رکھتا ؟ 

اس مضمون پر حسب ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں : امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر دوزخی جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھے گا پھر یہ کہے گا : کاش اللہ مجھے ہدایت دے دیتا ! اور یہ دیکھنا اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگا اور ہر جنتی دوزخ میں اپنا ٹھکانا دیکھے گا پھر کہے گا : اگر اللہ مجھے ہدایت دے دیتا ! اور یہ دیکھنا اور کے لیے حسرت کا باعث ہوگا اور ہر جنتی دوزخ میں اپنا ٹھکانا دیکھے گا پھر کہے گا : اگر اللہ مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں یہاں ہوتا اور یہ دیکھنا اس کے لیے شکر کا موجب ہوگا۔ (مسند احمد، ج 1، ص 512، طبع قدیم دار الفکر، اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد ج 9، رقم الحدیث 10600، دار الحدیث قاہرہ، 1416 ھ۔ مجمع الزوائد، ج 10، ص 399)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ہر دوزخ میں داخل ہونے والے کو جنت میں اس کا ٹھکانا دکھایا جائے گا بشرطیکہ وہ ایمان لے آتا، تاکہ اسے حسرت ہو، اور ہر جنت میں داخل ہونے والے کو دوزخ میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جائے گا اگر وہ برے کام کرتا تاکہ وہ زیادہ شکر کرے (مسند احمد، ج 2، ص 541، اس کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد ج 9، رقم الحدیث : 1092 ۔ مجمع الزوائد، ج 1، ص 399)

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی دے گا اور فرمائے گا یہ تمہارا دوزخ کی آگ سے فدیہ ہے۔ (صحیح مسلم، التوبہ 49 ۔ (2767) 6878)

علامہ نووی اس کی شرح میں لکھتے ہیں : ایک روایت میں ہے جب کوئی مسلمان شخص فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں ایک یہودی یا عیسائی کو دوزخ میں داخل کردیتا ہے اور ایک روایت میں ہے قیامت کے دن بعض مسلمان پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخش دے گا اور ان گناہوں کو یہودیوں اور عیسائیوں کے اوپر ڈال دے گا۔ اس حدیث کا وہی معنی ہے جو حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ہے (جس کو ابھی ہم نے بیان کیا ہے) ۔ 

جنت میں دخول کا حقیقی سبب اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے نہ کہ نیک اعمال : نیز اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ تم اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوئے ہو حالانکہ قرآن مجید کی دیگر آیات اور احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے نہ کہ بندہ کے عمل سے : 

” ومن یطع اللہ و الرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہمہ من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا۔ ذالک الفضل من اللہ وکفی باللہ علیما : جو لوگ اللہ اور (اس کے) رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا جو کہ انبیاء صدیقین شہداء اور صالحین ہیں اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں اور یہ اللہ کی طرف سے فضل ہے اور وہ کافی جاننے والا ہے۔ “

” فاما الذین امنوا بالہ واعتصموا بہ فسیدخلہم فی رحمۃ منہ و فضل : سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اس (کے دامن رحمت) کو مضبوطی سے تھام لیا تو عنقریب اللہ ان کو اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا۔ “

” والزین امنوا وعملوا الصلحت فی روضات الجنت لہم ما یشاءون عند ربہم ذلک ھو الفضل الکبیر : جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے وہ جنتوں کے باغوں میں ہوں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہر وہ چیز ہوگی جس کو وہ چاہیں گے یہی ہے بہت بڑا فضل ” (الشوری :22)

” ان المتقین فی مقام امین۔ فی جنت وعیون۔ یلبسون من سندس و استبرق متقابلین۔ کزلک وزوجناہم بحور عین۔ یدعون فیہا بکل فاکہۃ امنین۔ لا یذوقون فیہا الموت الا الموتۃ الاولی و وقاہم عذاب الجحیم۔ فضلا من ربک۔ زلک ھو الفوز العظیم : بیشک متقی لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے۔ جنتوں میں اور چشموں میں۔ وہ باریک اور موٹے ریشم کا لباس پہنے آمنے سامنے ہوں گے۔ ایسا ہی ہوگا ہم بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان کی زوجیت میں دیں گے۔ وہ وہاں پر ہر قسم کے پھل اطمینان سے طلب کریں گے۔ وہ پہلی موت کے سوا جنت میں کسی موت کا مزہ چکھیں گے اللہ نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچایا۔ (انہیں یہ سب نعمتیں ملیں) آپ کے رب کے فضل سے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ” (الدخان :51 ۔ 57)

” لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت من فضلہ : تاکہ اللہ اپنے فضل سے ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ” (الروم :45)

” جنت عدن یدخلونہا یحلون فیہا من اساور من ذھب ولؤلؤا ولباسہم فیہا حریر وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن ان ربنا لغفور شکور۔ الذی احلنا دار المقامۃ من فضلہ : وہ دائمی جنتوں میں داخل ہوں گے، وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان جنتوں میں ان کا لباس رشیم کا ہوگا۔ اور وہ کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کردیا، بیشک ہمارا رب بہت بخشنے والا اور جزا دینے والا ہے، جس نے ہم کو اپنے فضل سے دائمی مقام میں اتارا ” (فاطر :33 ۔ 35)

اور احادیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عمل سے نہیں، اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا، صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھ کو بھی نہیں سوا اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5673 ۔ صحیح مسلم، المنافقین 75 (2816) 6983 ۔ مسند احمد، ج 2، ص 482، 488، 503، 514، طبع قدیم، دار الفکر، المعجم الکبیر، ج 7، رقم الحدیث : 7218 ۔ المعجم الاوسط، ج 3، رقم الحدیث : 2315 ۔ مسند البزار، ج 4، رقم الحدیث :3448 ۔ 3447)

دخول جنت کے لیے اعمال کو سبب قرار دینے کے محامل :

اب جبکہ قرآن مجید کی متعدد آیات اور احادیث سے یہ ثابت ہوگیا کہ مسلمان اپنے عمل کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے تو سورة الاعراف کی اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اور جنتیوں کو یہ ندا کی جائے گی کہ تمہارا جنت میں داخلہ تو اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوا ہے اور تمہارے نیک اعمال کی وجہ سے تم کو کفار کی چھوڑی ہوئی جنتیں بہ طور وراثت مل جائیں گی، اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جنت میں دخول کا ایک سبب حقیقی ہے اور ایک سبب ظاہری ہے۔ سبب حقیقی تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد آیات اور احادیث میں بیان فرمایا ہے اور اس کا سبب ظاہری مسلمانوں کے نیک اعمال ہیں جیسا کہ سورة الاعراف کی اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ نیک اعمال فی نفسہ جنت میں دخول کا سبب نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے نیک اعمال کو دخول جنت کا سبب بنایا ہے تو اصل چیز تو اللہ کا کرم اور اس کا فضل ہے۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ انسان بالغ ہونے کے بعد عبادات اور نیک اعمال شروع کرتا ہے اور عبادت اور نیک اعمال شروع کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ اس کو غیر متناہی نعمتیں عطا کرچکا ہے۔ اب اس کے یہ نیک اعمال تو پچھلی نعمتوں کا ہی شکر ادا کرنے کے لیے ناکافی ہیں چہ جائیکہ وہ ان نیک اعمال کی وجہ سے کسی نئے اجر کا مستحق ہو ان نعمتوں کے مقابلہ میں جو عبادات اور شکر کی کمی ہے اگر اللہ اس کو ہی معاف کردے تو یہ اس کا بہت بڑا کرم ہے، کسی اور اجر وثواب کے مطالبہ کا کیا جواز ہے ! ایک شخص کسی کو دس کروڑ روپے پہلے ہی دے دے پھر وہ شخص اس کے ہاں پچاس ساٹھ سال کام کرے جس کی اجرت پچاس لاکھ روپے بنتی ہو، اب وہ کام کرنے والا اس سے اپنی اجرت کا مطالبہ کرے تو وہ شخص یہ نہیں کہے گا کہ میرے تو پہلے ہی کرور پچاس لاکھ روپے تمہاری طرف نکلتے ہیں، اگر میں پچھلا قرض ہی معاف کردوں تو بڑی بات ہے۔ آئندہ اجرت کے مطالبہ کا کیا جواز ہے ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 43