کھانے کا طریقہ

کھانا کھانے سے پہلے اوربعد میں دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے صرف ایک ہاتھ یا فقط انگلیاں ہی نہ دھوئے کہ اس سے سنت ادا نہ ہو گی ۔ لیکن اس کا دھیان رہے کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھو کر پونچھنا نہ چاہئے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھو کر تولیہ یا رومال سے پونچھ لینا چاہئے ۔تا کہ کھانے کا اثر باقی نہ رہے(ترمذی جلد؍۲ صفحہ ؍ ۷ و عالمگیری جلد ؍۵ صفحہ ؍۲۹۶)

بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کریںکہ بسم اللہ نہ پڑھنے سے شیطان شریک ہوجاتا ہے اور بلند آواز سے بسم اللہ پڑھیں تا کہ دوسرے لو گوں کو بھی یاد آجائے اور سب بسم اللہ پڑھ لیں ۔

اور اگر شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول گیا ہو تو جب یاد آئے یہ دعا پڑھے ۔بِسْمِ اللّٰہِ فِیْ اَوَّلِہٖ وَآ خِرِہٖ (ترمذی جلد؍۲صفحہ ؍۷)

روٹی کے اوپر کوئی چیز نہ رکھی جائے ۔ اور ہاتھ کو روٹی سے نہ پوچھیں کھاناہمیشہ داہنے ہاتھ سے کھا ئیں ۔بائیں ہاتھ سے کھا نا پینا شیطان کا کام ہے (مشکوٰۃ جلد ؍ ۲ صفحہ ؍ ۳۶۳) ۔

مسئلہ۔کھاناکھا تے وقت بایاں پائوں بچھا وے اور داہنا پائوں کھڑا رکھے ۔یا سرین پر بیٹھے اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھے ۔اور اگر بھا ری بدن یا کمزور ہونے کی وجہ سے اس طرح نہ بیٹھ سکے تو پالتی مار کر کھا نے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔کھا نا کھانے کے درمیان کچھ باتیں بھی کرتا رہے ۔ بالکل چپ رہنا یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے مگر کوئی بیہودہ یا پھوہڑ بات ہر گز نہ بکے ، بلکہ اچھی اچھی باتیں کرتا رہے ۔کھا نے کے بعد انگلیوں کو چاٹ لے اور برتن کو بھی انگلیوں سے پونچھ کر چاٹ لے ۔ کھانے کی ابتداء نمک ہی سے کریں اور نمک ہی پر ختم کریں کہ اس میں بہت سی بیماریوں سے شفاء ہے ۔ کھا نے کے بعد یہ دعا پڑھیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَجِعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ط کھانے کے بعد صابون لگا کر ہاتھ دھونے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ کھانے سے قبل عوام اور جوانوں کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں اور کھا نے کے بعد علماء و مشائخ اور بوڑھوں کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں ۔

کھا نا کھالینے کے بعد دستر خوان پر صاحب خانہ اور حاضرین کے لئے خیر و برکت کی دعا مانگنی بھی سنت ہے ۔(در مختار و رد المحتارجلد ؍۵صفحہ ؍ ۲۱۶ وغیرہ)

مسئلہ۔پائوں پھیلا کر اور لیٹ کر اور چلتے پھرتے ، کچھ کھا نا پینا خلاف ادب اور طریقۂ سنت کے خلاف ہے ۔

مسلمانوں کو ہر بات ہر کام میں اسلامی طریقوں کی پابندی اور آداب سنت کی تابع داری کرنی چاہئے ۔ مسئلہ۔چاندی سونے کے برتنوں میں کھانا پینا جائز نہیں ۔بلکہ ان چیزوں کا کسی طرح سے استعمال کرنا درست نہیں جیسے سونے چاندی کا چمچہ استعمال کرنا یا ان کے بنے ہوئے خلال سے دانت صاف کرنا۔ اسی طر ح چاندی کے بنے ہوئے گلاب پاش سے گلاب چھڑکنا ۔ یاخاصدان میں پان رکھنا ۔چاندی کی سلا ئی سے سرمہ لگانا یا چاندی کی پیالی میں تیل رکھ کر تیل لگانا یہ سب حرام ہے ۔(در مختار و رد المحتار جلد ؍ ۵ صفحہ ؍ ۲۱۷)

آداب

کسی کے یہاں دعوت میں جائو تو کھانے کے لئے بہت بے صبری ظاہر نہ کرو کہ ایسا کرنے سے تم لو گوں کی نظروں میں ہلکے ہو جائو گے ۔کھا نا سامنے آئے تو اطمینان کے ساتھ کھائو ۔ بہت جلدی جلدی مت کھائو ۔ دوسروں کی طرف مت دیکھو ، اور دوسروں کے برتنوں کی جانب نگاہ نہ ڈالو، خبر دار کسی کھا نے میں عیب نہ نکالو ۔کہ اس سے گھر والوں کی دل شکنی ہو گی ،اور سنت کے مخالف بھی ہو گی کہ ہمارے رسول اکا مقدس طریقہ یہی تھا کہ کبھی آپ نے کسی کھانے کو عیب نہ لگایا بلکہ دستر خوان پر جو کھانا آپ کو مرغو ب ہوتا اس کو تناول فرماتے ۔اور جو ناپسند ہوتا اس کو نہ کھاتے ۔

بعض مردوں اور عورتوں کی عادت ہے کہ دعوت سے لوٹ کر صاحب خانہ پر طرح طرح کے طعنے مارا کرتے ہیں۔کبھی کھا نوں میں عیب نکالتے ہیں ، کبھی منتظمین کو کوسنے دیتے ہیں ، میرا تجر بہ ہے کہ مردوں سے زیادہ عورتیں اس مرض میں مبتلا ہیں ۔ لہذا ان بری عادتوں کو چھوڑ دو بلکہ یہ طریقہ اختیار کرو کہ اگر دعوتوں میں تمہارے مزاج کے خلاف بھی کوئی بات ہو تو اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرو اور صاحب خانہ کی دل جوئی کے لئے چند تعریف کے الفاظ کہہ کر اس کا حوصلہ بڑھا دو ، ایسا کرنے سے صاحب ِخانہ کے دل میں تمہارا وقار بڑھ جائے گا ۔

مسئلہ ۔ہاتھ سے لقمہ چھوٹ کر گر جائے تو اس کو اٹھا کر کھا لو شیخی مت بگھارو کہ اس کو ضائع کر دینا اسراف ہے جو گناہ ہے ۔بہت زیادہ گرم کھا نا مت کھائو ۔ نہ کھا نے کوسونگھو ۔ نہ کھا نے پر پھونک مار مار کر اس کو ٹھنڈا کرو ۔یہ سب باتیں خلاف ادب بھی ہیں اور مضر بھی ۔(رد المحتار جلد ؍ ۵ صفحہ ؍ ۲۱۶)

٭٭٭