’’ جمعہ کی اذانِ ثانی ( اذان خطبہ ) ‘‘

مسئلہ: جمعہ کے دن دو (۲) اذانیں ہوتی ہیں ۔ ایک اذان شروع وقت میں ہوتی ہے اور دوسری اذان عین خطبہ کے وقت ہوتی ہے ۔ اکثر مساجد میں خطبہ کی اذان مسجد کے اندر اور منبر کے قریب امام کے سامنے دی جاتی ہے ۔لیکن شرعاً مسجد کے اندر اذان دینا بدعت ہے ۔ جمعہ کے خطبہ کی اذان خارج مسجد دینی چاہئے ۔ بہت سے ناواقف لوگ خطبہ کے وقت جو اذان دی جاتی ہے اس کو داخل مسجد ، منبر کے قریب دینے کو سنت سمجھتے ہیں لیکن حقیقت برعکس ہے ۔

مسئلہ: فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۳۰ پر ہے کہ :-’’ اس اذان کامسجد میں خطیب کے سامنے کہنا بدعت ہے ۔ جسے ابتدائًً بعض لوگوں نے اختیار کیا ۔ پھر اس کا ایسا رواج پڑگیا کہ گویا وہ سنت ہے ۔ حالانکہ شرع مطہرہ میں اسکی کچھ اصل نہیں ‘‘

مسئلہ: حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے زمانہ ٔ اقدس میں یہ اذان دروازہ ٔ مسجد پر ہوا کرتی تھی ۔خلفاء راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے زمانہ میں بھی یہی دستور تھا ۔ حضور اقدس ﷺاور خلفاء راشدین کے زمانہ میں کبھی بھی یہ اذان مسجد کے اندر نہیں دی گئی ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۲۶)

حدیث سنن ابی داؤد شریف جلد ۱؎ ، ص ۱۵۶ ، میں بسند حسن مروی ہے کہ :-’’ حَدَّثَنَا النُفَیْلِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلْمَۃ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحٰقَ عَنِ الزَّہْرِیْ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ قَالَ کَانَ یُؤَذّنُ بَیْنَ یَدَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلیّٰ اللّٰہْ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَ سَلَّمْ اِذَا جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ عَلیٰ بَابِ الْمَسْجِدِ وَ اَبِیْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ ‘‘ ترجمہ :-’’ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم جب روز جمعہ منبر پر تشریف فرما ہوتے تو حضور کے ر وبرو اذان مسجد کے دروازے پر دی جاتی اور یونہی ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں ۔ ‘‘( بحوالہ : ’’ اوفی اللمعہ فی اذان یوم الجمعہ ‘‘ از امام احمد رضا محدث بریلوی )

اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ خطبہ کے وقت مسجد کے دروازے پر اذان ہونے کا معمول زمانہ ٔاقدس سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اعظم کے زمانہ میں تھا۔

مسئلہ: حضور اقدس سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں جمعہ کے دن صرف ایک ہی اذان ہوتی تھی اور وہ اذان خطبہ کے وقت مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی ۔ جب امیرالمؤمنین حضرت عثمان ذو النورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفۃ المسلمین ہوئے تب ان کی خلافت کے ابتدائی دور تک وہی ایک اذان تھی جو خطبہ کے وقت مسجد کے دروازہ پر دی جاتی تھی ۔ پھر آپ نے اذانِ اوّل زائد فرمائی ۔ لیکن اذان خطبہ میں کوئی تبدیلی نہ فرمائی بلکہ امیرالمؤمنین سیدنا مولی ٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے دور خلافت میں بھی اذان خطبہ میںکوئی تبدیلی نہ ہوئی یعنی خطبہ کی اذان مسجد کے دروازہ پر ہی دی جاتی تھی ۔

الحاصل ۔۔۔۔!

حضور اقدس سید عالم ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں جمعہ کے دن صرف ایک ہی اذان ہوتی تھی اور وہ اذان خطبہ کے وقت مسجد کے دروازہ پر ہوتی تھی ۔

حضرت عثمان غنی اور حضرت مولیٰ علی کے زمانہ میں جمعہ کے دن دو (۲)اذانیں ہوتی تھیں۔ پہلی اذان خطبہ کے کچھ وقت پہلے ہوتی تھی اور دوسری اذان عین خطبہ کے وقت مسجد کے دروازہ پر ہوتی تھی ۔ مسجد کے اندر اذان نہیں ہوتی تھی ۔

مسئلہ: جمعہ کی اذان خطبہ مسجد کے اندر دینے کی بدعت امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسّی (۸۰) سال کے بعد شروع ہوئی ۔ امام ابن الحاج مکی نے ’’ مدخل ‘‘ میں لکھاہے کہ ہشام بن عبدالملک نام کے مروانی بادشاہ نے اس سنت کو بدلا اور ہشام بن عبدالملک کا زمانہ امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی (۸۰) برس بعد ہوا۔

مسئلہ: مسجدمیں اذان دینا مکروہ ہے ۔ ( ۱) فتاوٰی قاضی خاں(۲) فتح القدیر (۳) خزانۃ المفتین (۴) عالمگیری(۵) بحر الرائق (۶) طحطاوی علی المراقی (۷) ردالمحتار(۸) برجندی(۹) فتاوٰی خانیہ (۱۰) سراج الوہاج (۱۱) شرح مختصر الوقایہ وغیرہ میں صاف حکم منقول ہے کہ ’’لَایُؤذَّنُ فِی الْمَسْجِدِ‘‘ ترجمہ ’’ مسجد میں اذان نہ دی جائے ‘‘

مسئلہ: فتح القدیر مطبع مصر ،جلد ۱ ص ۱۷۱ میں ہے ۔’’ الاقامۃ فی المسجد لا بد واما الاذان فعلی المئذنۃ فان لم یکن ففی فناء المسجد و قالوا لایوذن فی المسجد ‘‘ ترجمہ :- ’’ اقامت تو ضرور مسجد میں ہوگی ۔ رہی اذان ۔ وہ منارے پر ہو ۔ منارہ نہ ہو تو بیرونِ مسجد زمینِ متعلق مسجد میںہو ۔ علماء فرماتے ہیں مسجد میں اذان نہ ہو۔‘‘

مسئلہ: حاشیہ ٔ طحطاوی مطبع مصر ، جلد ۱ ، ص ۱۲۸ میں ہے ۔ ’’ یکرہ ان یوذن فی المسجد کما فی القہستانی عن النظم فان لم یکن ثمہ مکان مرتفع للاذان یوذن فی فناء المسجد کما فی الفتح ‘‘ ترجمہ :- ’’مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے ، جیسا کہ کتاب قہستانی میں کتاب نظم سے منقول ہے ۔ تو اگر وہاںاذان کے لئے کوئی بلند مکان نہ بنا ہو تو مسجد کے آس پاس اس سے متعلق زمین میں اذان دے جیسا کہ کتاب فتح القدیر میں ہے ۔‘‘

مسئلہ: فتاوٰی خانیہ میں ہے ’’ ینبغی ان یوذن علی المئذنۃ او خارج المسجد و لا یوذن فی المسجد ‘‘ ترجمہ :- ’’ اذان منارے پر یا مسجدکے باہر چاہئے ۔ مسجد میں اذان نہ کہی جائے ‘‘ ۔ بعینہ یہی عبارت فتاوٰی خلاصہ اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۷۱)

یہ بات مسلم اور عام فہم ہے کہ اذان کا مقصد لوگوں کو اطلاع دینا ہے ۔ یعنی ان لوگوں کو اطلاع دینا ہے جو مسجد میں نہیں آئے ۔ پانچوں وقت اذان کہنے کا مقصد یہی ہے کہ لوگوںکو اطلاع ہوجائے کہ نماز کاوقت ہوگیا ہے تاکہ وہ اذان سن کر مسجد کی طرف آئیں اور نماز کی جماعت میں شریک ہوجائیں ۔جمعہ کے خطبہ کی اذان کا بھی یہی مقصد ہے کہ جو لوگ اذان اوّل ہوجانے کے بعد ابھی تک مسجد میں نہیں آئے وہ لوگ خطبہ کی اذان کو آخری اطلاع (Final Call) سمجھ کر بلا کسی تاخیر جلداز جلد نماز جمعہ کے لئے حاضر ہوجائیں ۔ اوریہ مقصدِ اطلاع مسجد کے اندرونی حصہ میں اذان دینے سے حاصل نہیں ہوگا بلکہ خارجِ مسجد اذان دینے سے ہی حاصل ہوگا ۔

علاوہ ازیں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کے زمانہ خیر القرون میںکبھی بھی جمعہ کی اذان مسجد کے اندر نہیں دی گئی ۔ مزید برآں علمائے ملت اسلامیہ کی کتب معتمدہ کی صریح تصریحات کہ مسجد میں اذان منع ہے ۔ ان تمام امور کو دیکھیں اورجمعہ کے خطبہ کی اذان اگر آپ کے یہاںمسجد کے اندر منبر کے پاس دی جاتی ہو تو اب سے مسجد کے اندر اذان دینے کے بجائے خارج مسجد اذان دیں ۔

مسئلہ: اعلیٰحضرت امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، امام احمد رضاؔ محدث بریلوی قدس سرہٗ جمعہ کے خطبہ کی اذان مسجد کے اندر دینے کی ممانعت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :-

(۱) ’’وجہ مفسدت ظاہر ہے کہ دربار ملک الملک جل جلالہ کی بے ادبی ہے ۔ شاہد اس کا شاہد ہے ۔ دربار شاہی میں اگر چوبدار عین مکانِ اجلاس میں کھڑاہوکر چلائے کہ درباریو! چلو ! سلام کو حاضر ہو !تو وہ ضرور گستاخ و بے ادب ٹھہرے گا ۔ جس نے شاہی دربارنہ دیکھے ہوں وہ انہیں کچہریوں کو دیکھ لے کہ مدعی ، مدعا علیہ، گواہوں کی حاضری کمرہ سے باہر پکاری جاتی ہے ۔ چپراسی خود کمرہ ٔ کچہری میں کھڑا ہوکر چلائے اور حاضریا ں پکارے تو ضرور مستحق سزا ہو اور ایسے امور ادب میں شرعاً عرف معہود فی الشاہد کا لحاظ ہوتا ہے ۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۷۲۹)

(۲) ’’ تو وجہ وہی ہے کہ اذان حاضری ٔ دربار پکارنے کو ہے اور خود دربار حاضری پکارنے کو نہیں بنتا ۔ ہمارے بھائی اگر عظمت الٰہی کے حضور گردنیں جھکا کر ، آنکھیں بند کرکے ، براہ انصاف نظر فرمائیں تو جو بات ایک منصف یاجنٹ کی کچہری میں نہیںکرسکتے ، احکم الحاکمین عز جلالہ کے دربار کو اس سے محفوظ رکھنا لازم جانیں ۔‘‘ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۳۰)

مسئلہ: جمعہ کی اذان ثانی ( اذان خطبہ) خارج مسجد اورامام کے سامنے دی جائے یعنی اذان دینے والا خطیب کو دیکھ سکے ۔لیکن اگر کسی مسجد میں خارج مسجد کھڑے ہوئے مؤذن اور منبر پر بیٹھے ہوئے خطیب کے درمیان ستون یا دیوارحائل ہو ، تو بھی اذان خارجِ مسجد ہی دیجائے ۔ بعض مساجد میں یہ صورت ہونے کی وجہ سے اذان خارج مسجد نہیں دیتے بلکہ مسجد کے اندرونی حصہ میںمنبرکے قریب دیتے ہیں اور یہ عذر پیش کرتے ہیںکہ خطیب اور مؤذن میںمحاذات (آمنا سامنا) نہیںہوتی اسلئے مسجد کے ا ندر اذان دیتے ہیں ۔

خطیب اور مؤذن میں محاذات ہونے میں اگر درمیان میں ستون وغیرہ حائل ہوتے ہوں تب بھی اذان خارج مسجد ہی دی جائے کیونکہ شریعت میں محاذات سے بھی زیادہ تاکید اس امر پر ہے کہ اذان بیرون مسجدہی دی جائے ۔ ذیل میں دو حوالے پیش خدمت ہیں:-

(۱) یہاں دو سنتیںہیں ۔ ایک محاذات خطیب ، دوسرے اذان کا مسجد سے باہر ہونا ۔ جب ان میں تعارض ہو اور جمع ناممکن ہو تو ارجح کو اختیار کیا جائے گا ۔ یہا ںارجح و اقویٰ سنت مسجد میں اذان سے ممانعت ہے ۔ فتاوٰی قاضی خاں، خلاصہ ، خزائن المفتین ، و فتح القدیر و بحر الرائق و برجندی و عالمگیری میں ہے ’’ لا یوذّن فی المسجد ‘‘ نیز فتح القدیر و نظم و طحطاوی علی المراقی وغیرہا میں مسجد کے اندر اذان مکروہ ہونے کی تصریح ہے ‘‘ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۲۹)

(۲) تو ثابت ہواکہ اذان بیرون مسجد ہونا ہی محاذات خطیب سے اہم و اکد و الزم ہے ۔ تو جہاں دونوں نہ بن پڑیں ، محاذاتِ خطیب سے درگذر کریں اور منارہ یا فصیل وغیرہ پر یہ اذان بھی مسجد سے باہر ہی دیں ۔‘‘ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۳۱)

المختصر ! جمعہ کی اذان خطبہ خارج مسجد ہی دی جائے ۔ مسجد کے اندر منبر کے قریب ہرگز ،ہرگز ، ہرگز نہ دی جائے ۔ اس مسئلہ کی جن حضرات کو مزید تفصیلی وضاحت درکار ہو وہ امام اہلسنت، امام احمد رضاؔ محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کے مندرجہ ذیل رسائل کی طرف رجوع فرمائیں ۔

(۱) اوفی اللمعۃ فی اذان الجمعہ ۱۳۲۰؁ھ

(۲) شمائم العنبر فی ادب النداء امام المنبر ۱۳۲۱؁ھ

(۳) اذان من اللہ لقیام سنۃ نبی اللہ ۱۳۲۲؁ھ

(۴) شمامۃ العنبر فی محل النداء بازاء المنبر ۱۳۲۷؁ھ

(۵) سلامۃ لاہل السنۃ من سیل العناد والفتنۃ ۱۳۳۲؁ھ

جمعہ کی اذان خطبہ مسجد کے اندر ونی حصہ میں دینے پر اصرار کرنے واے اپنے دعویٰ میں ہشام بن عبدالملک مروانی بادشاہ کی ایجاد کی ہوئی بدعت کااتباع کررہے ہیں ۔ ہشام بن عبدالملک ایک مروانی ظالم بادشاہ تھا ۔ جس نے سید الشہداء سیدنا امام حسین بن علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پوتے یعنی حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید بن علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو شہید کیا تھا۔ہشام بن عبدالملک نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سولی دلوائی تھی اور اس پریہ شدید ظلم کہ نعش مبارک کو دفن نہ ہونے دیا اور برسوں تک حضرت زید بن امام زین العابدین کی نعش مبارک سولی پر لٹکتی رہی لیکن جسم اقدس صحیح و سالم رہا ۔ جسم میں کوئی خرابی یا تغیر نہ ہوا ۔ البتہ آپ کے جسم پرجوکپڑے تھے وہ گل گئے اور قریب تھا کہ آپ کا ستر کھل جائے مگر اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا تومکڑی نے حضرت زید کے جسم مبارک پر ایسا جالا تان دیاکہ وہ جالا مثل تہ بند کے ہوگیا۔ ہشام بن عبدالملک کے مرنے کے بعد حضرت زید بن امام زین العابدین کے جسم اقدس کو سولی سے نیچے اتار کر دفن کیا گیا ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۴۱۴ و ۴۱۰ )

الحاصل ! جمعہ کی اذان خطبہ خارج مسجد دینا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کی سنت ہے اور اذان ِ خطبہ مسجد کے اندر دینا ہشام بن عبدالملک ظالم مروانی بادشاہ کی ایجادکردہ بدعت ہے ۔