حضور علیہ الصلوۃو السلام کے متعلق عقیدے

رسول :رسول کے معنیٰ ہیں خدائے تعالیٰ کے یہاں سے بندوں کے پاس خدا د کاپیغام لانے والا۔

نبی : وہ آدمی ہے جس کے پاس وحی یعنی خدائے تعالیٰ کا پیغام آیا،لوگوں کو خدائے تعالیٰ کا راستہ بتانے کیلئے ۔

عقیدہ:۔ کیٔ نبی اور کیٔ فرشتے رسول ہیں ، سب نبی مرد ہی تھے ۔نہ کوئی جن نبی ہوانہ کوئی عورت نبی ہوئی ۔

عقیدہ:۔ نبی اور رسول محض اللہ د کی مہربانی سے ہوتے ہیں اس میں آدمی کی کوشش نہیں چلتی ،البۃّاللہ نبی یا رسول اسی کو بناتا ہے جس کو وہ اس لائق پیدا فرماتا ہے ۔

عقیدہ: جو نبی یا رسول ہوتے ہیں وہ پہلے سے ہی تمام بری باتوں سے دور رہتے ہیں ، ان میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کریں ۔

عقیدہ: سب نبی اور تمام فرشتے معصوم ہوتے ہیں یعنی ان سے کوئی گناہ ہوہی نہیں سکتا ۔

عقیدہ : اللہ  کاپیغام بندوں تک پہونچانے میں ان سے کوئی بھول ، چوک نہیں ہو سکتی ،ان سے بھول ، چوک محال ہے ۔

عقیدہ: نبی اور فرشتے کے علاوہ کسی امام اورولی کو معصوم ماننا گمرہی اور بد مذہبی ہے۔ اگر چہ امام اور ولیوں سے بھی گنا ہ نہیںہوتا ۔ لیکن کبھی کوئی گناہ ہو جائے تو شرعاًمحال بھی نہیں ۔

عقیدہ: اللہ  کی تمام مخلوق میں نبی سب سے افضل ہوتے ہیں ۔

عقیدہ:۔ ولی کتنے ہی بڑے رتبے والاکیوں نہ ہو ۔ کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا جوکوئی کسی بھی بندے کو کسی نبی سے افضل، یابرابر بتائے وہ گمراہ ،بد مذہب ہے ۔

عقیدہ: نبی کی تعظیم فرض عین بلکہ تمام فرائض کی اصل ہے کسی نبی کی ادنیٰ سی توہین کفر ہے ۔

عقیدہ:۔سب نبی علیہم السلا م اپنی اپنی قبروں میں دنیوی زندگی کی طرح آج بھی زندہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ’’ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُالْمَوْتِ‘‘کے پوراہونے کی خاطر ایک لمحہ کے لئے انہیں موت آئی ۔ پھر اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں زندہ فرمادیا ۔ ان کی زندگی شہیدوں کی زندگی سے بہت بڑھ کر ہے ۔

عقیدہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں(علیہم السلام) کو غیب کی باتیں بھی بتائیں۔نبیوں کو یہ علم غیب اللہ تعالیٰ کے دیئے سے ہے ۔نبیوں کا علم غیب عطائی ہے اور اللہد کا علم غیب چونکہ کسی کا دیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے خود حاصل ہے لہٰذا اس کاعلم ذاتی ہے۔ اسلئے انبیاء کرام کے لئے علم غیب ماننا شرک نہیں بلکہ ایمان ہے ۔ جیسا کہ بہت سی آیتوں اور احادیث سے ثابت ہے ۔

عقیدہ: اللہ نے ہمارے نبی ﷺ کو تمام کائنات سے پہلے اپنے نور کی تجلی سے پیدا فرمایا ۔ انبیاء ،فرشتے ، زمین وآسمان ، عرش و کرسی ، تمام جہان کو حضور ﷺ کے نور کی جھلک سے پیدا فرمایا ۔ اللہ د نے اپنی ذات کے بعد ہر خوبی اور کمال کا جامع ہمارے پیارے نبی ﷺ کو بنایا ۔ اللہ نے اپنے تمام خزانوں کی کنجیاں حضور ا کو عطا فرمادیں ۔ دین و دنیاکی تمام نعمتوں کادینے والاخدا ہے اور بانٹنے والے حضورﷺ ہیں۔

عقیدہ: اللہ نے حضورﷺ کو بیداری کی حالت میں معراج عطا فرمائی ، یعنی عرش پر بلایا اور اپنا دیدارآنکھوں سے کرایا۔ اپنا کلام سنایا ، جنت ، دوزخ ،عرش،کرسی وغیرہ تمام چیزوں کی سیر کرائی ۔ قیامت کے دن آپ ہی سب سے پہلے امت کی شفاعت فرمائیں گے ۔ بندوں کے گناہ معاف کرائیں گے ۔ درجے بلند کرائیں گے ، ان کے علاوہ اور بہت سی خصوصیتیں ہیں، جن کی تفصیل علماء اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہے۔

عقیدہ: اللہ  نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے اپنے نبیوں پر مختلف کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر’’ توریت ‘‘اور حضرت دائود علیہ السلام پر ’’زبور ‘‘اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر’’ انجیل‘‘ اور دیگر نبیوں پر دوسری کتابیں یا صحیفے نازل فرمائے۔ ان نبیوں کی امتوں نے ان کتابوں کو گھٹا ،یا بڑھادیا ۔ اور اللہ تعا لیٰ کے احکام کو بدل ڈالا۔تب اللہ د نے ہمارے پیارے آقا ﷺ پر قرآن پاک نازل فرمایا۔ قرآن پاک میں ہر چیزکا علم ہے۔قرآن پاک ابتدائے اسلام سے آج تک ویساہی ہے جیسا نازل ہوا تھا۔اورہمیشہ ویسا ہی رہے گا ۔اس قرآن پاک پرایما ن لانا ہر شخص پر لازم ہے۔ اب نہ کوئی نبی آنے و الے ہیں،اور نہ کوئی کتاب آنے والی ہے۔جو اسکے خلاف عقیدہ رکھے وہ مو من نہیں۔

عقیدہ:فرشتے اللہ کی نوری مخلوق ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ طاقت دی ہے کہ جو چاہیں بن جائیں۔ فرشتے اللہ کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے ،نہ جان بوجھ کر، نہ بھول کر ۔ اس لئے کہ فرشتے معصوم ہو تے ہیں۔اللہ نے بہت سے کام فرشتوں کے سپرد فر مایا ہے ۔کوئی فرشتہ جان نکا لنے پر ،کو ئی پا نی بر سا نے پر ،کوئی ماںکے پیٹ میں بچہ کی صورت بنا نے پر اور کوئی بندوں کے نا مۂ اعمال لکھنے پر مقررہے۔ (وغیرہ)

عقیدہ: فرشتے نہ مرد ہیں نہ عو رت ،بلکہ وہ نوری جسم کی مخلوق ہیں۔فرشتوں کا انکارکرنا، یاان سے غلطی ہونے کاامکا ن ماننابھی گمر ہی ہے ۔ اور ایسا شخص مومن نہیں۔

عقیدہ: موت کا آنابھی حق ہے ہر شخص کی عمر مقرر ہے نہ اس سے گھٹ سکتی ہے اور نہ بڑھ سکتی ہے۔ جب زندگی کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو حضرت عزرائیل علیہ السلام( جو موت کے فرشتے ہیں ) آتے ہیںاور بندے کی روح نکال کر لے جاتے ہیں۔ لیکن روح بدن سے نکل کر مٹتی نہیں ہے بلکہ عالم برزخ میں رہتی ہے ۔ ایمان و عمل کے اعتبارسے روح کے لئے الگ الگ جگہ مقررہے قیامت آنے تک وہیں رہے گی ۔ بہر حال روح مٹتی نہیں ہے، اور جس حال میں بھی ہو اپنے بدن سے ایک طرح کا لگائو رکھتی ہے بدن کی تکلیف سے اسے بھی تکلیف ہوتی ہے ۔ اور بدن کے آرام سے روح بھی آرام پاتی ہے۔ اور جو کوئی قبر پر آئے اسے دیکھتی ، پہچانتی ، اور اس کی بات بھی سنتی ہے۔ مسلمان کی نسبت سے تو حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب مسلمان مر جاتا ہے تو اس کی راہ کھول دی جاتی ہے ،جہاں چاہے جائے ۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’ روح کیلئے کوئی جگہ ، دور یا نزدیک نہیں بلکہ سب برابر ہے ‘‘