حضور مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مصطفی رضا خاں صاحب

ولادت : ۔ مرجع العلماء و الفقہاء سیدی حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ شاہ محمد مصطفی رضا صاحب قبلہ نور اللہ مرقدہ کی ولادت با سعادت ۔ ۲۲؍ذوالحجہ ۱۳۱۰ھ بروز جمعہ صبح صادق کے وقت بریلی شریف میں ہوئی ۔

پیدائشی نام ’’ محمد ‘‘ عرف ’’مصطفی رضا‘‘ ہے ۔ مرشد برحق حضرت شاہ ابو الحسین نوری قدس سرہ العزیزنے آل الرحمن ابو البرکات نام تجویز فرمایا اور چھہ ماہ کی عمر میں بریلی شریف تشریف لاکر جملہ سلاسل عالیہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی اور ساتھ ہی امام احمد رضا قدس سرہ کو یہ بشارت عظمیٰ سنائی کہ یہ بچہ دین و ملت کی بڑی خدمت کرے گااور مخلوق خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہونچے گا ۔ یہ بچہ ولی ہے ۔

حصول علم :۔ سخن آموزی کے منزل طے کرنے کے بعد آپ کی تعلیم کا باقاعدہ آغازہوا اورآپ نے جملہ علوم و فنون اپنے والد ماجد سیدنا امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ ۔ برادر اکبر حجۃ الاسلام حضرت علامہ شاہ محمد حامد رضا خاںصاحب علیہ الرحمۃ و الرضوان۔ استاذ الاساتذہ علامہ شاہ رحم الہی منگلوری ۔ شیخ العلماء علامہ شاہ سید بشیر احمد علی گڑھی ۔ شمس العلماء علامہظہور الحسین فاروقی رامپوری سے حاصل کئے اور ۱۸؍ سال کی عمر میں تقریباً چالیس علوم و فنون حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی ۔

تدریس :۔ فراغت کے بعد جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف ہی میں مسند تدریس کو رونق بخشی۔،تقریبا ًتیس سال تک علم و حکمت کے دریا بہائے ۔ بر صغیر پاک و ہند کی اکثر درسگاہیں آپ کے تلامذہ و مستفیدین سے مالا مال ہیں۔

درس افتاء :۔ فن افتاء کی مثالی تعلیم کا خاکہ خود تلامذہ ہی کی زبانی سنئے ۔

نائب مفتی اعظم حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ۔

میں گیارہ سال تین اہ خدمت میں رہا، اس مدت میں چوبیس ہزار مسائل لکھے جن میں کم از کم دس ہزار وہ ہیں جن پر حضور مفتی اعظم کی تصحیح و تصدیق ہے ۔ میں گھسا پٹا نہیں ، بہت سوچ سمجھ کر جانچ تول کر مسئلہ لکھتا تھا ، مگر واہ رے مفتی اعظم اگر ذرابھی غلطی ہے ، یا لوچ ہے ،یا بے ربطی ہے، یا تعبیرنا مناسب ہے ،یا سوال کے ماحول کے مطابق جواب میں کمی بیشی ہے، یا کہیں سے کوئی غلط فہمی کا ذرا سابھی اندیشہ ہے تو فوراً اس پر تنبیہ فرماتے اور مناسب اصلاح فرماتے۔ تنقید آسان ہے مگر اصلاح دشوار، مگر ستر سالہ مفتی اعظم کا دماغ اور علم ایسا جوان تھا کہ تنقید کے بعد فوراً اصلاح فرمادیتے اور ایسی اصلاح کہ پھر قلم ٹو ٹ کر رہ جاتا ۔ بار ہا ایسا ہوتا کہ حکم کی تائید میں کہیں عبارت نہ ملتی تو میں اپنی صواب دید سے حکم لکھ دیتا ۔ کبھی دور دراز کی عبارت سے تائید لاتا مگر مفتی اعظم ان کتابوں کی عبارت جو دارالافتاء میں نہ تھیں زبانی لکھوادیتے ۔ میں حیران رہ جاتا ،یا اللہ کبھی مطالعہ کرتے دیکھا نہیں ، یہ عبارتیں زبانی کیسے یاد ہیں ۔

مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب پورنوی رقمطراز ہیں:۔

آپ درس افتاء میں محض نفس حکم سے آگاہ نہیں فرماتے بلکہ اس کے مالہ و ماعلیہ کے

تمام نشیب و فراز ذہن نشین کراتے، پہلے آیات و احادیث سے استدلال فرماتے ،پھر اصول فقہ سے اس کی تائید دکھاتے اور پھر قواعد کلیہ کی روشنی میں اس کا جائز ہ لے کر کتب فقہ سے جزئیات پیش فرماتے ۔ پھر مزید اطمینان کے لئے فتاوی رضویہ سے امام احمد رضا کا ارشاد نقل فرماتے ۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہ اقتباس آپ کی شان فقاہت اور کمال تبحر کا بین ثبوت اور اس بات کا روشن بیان ہیں کہ آپ مفتی ہی نہیں بلکہ مفتی ساز اور فقیہ ہی نہیںبلکہ فقیہ النفس تھے ۔

مجاہدانہ زندگی :۔ آپ کی ۹۲ سالہ حیات مبارکہ میں زندگی کے مختلف موڑ آئے۔ کبھی شدھی تحریک کا قلع قمع کرنے کیلئے جماعت رضائے مصطفی کی صدارت فرمائی اور باطل پرستوں سے پنجہ آزمائی کیلئے سر سے کفن باندھ کر میدان خارز ارمیں کود پڑے، لاکھوں انسانوں کو کلمہ پڑھایا اور بے شمار مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائی ۔ قیام پاکستان کے نعرے اور خلافت کمیٹی کی آوازیں بھی آپ کے دور میں اٹھیں اور ہزاروں شخصیات اس سے متاثر ہوئیں ۔ نسبندی کا طوفان بلا خیز آپ کے آخری دور میں رونما ہوا اور بڑے بڑے ثابت قدم متزلزل ہوگئے لیکن ہر دور میں آپ استقامت فی الدین کا جبل عظیم بن کر ان حوادث زمانہ کا مقابلہ خندہ پیشانی سے فرماتے رہے ۔

آپ نے اس دور پر فتن میں نسبندی کی حرمت کا فتوی صادر فرمایا جبکہ عموما دینی ادارے خاموش تھے ، یا پھر جواز کا فتوی دے چکے تھے ۔

وصال:۔۔۱۳؍ محر الحرام ۱۴۰۲ ھ / ۱۱ ؍نومبر ۱۹۸۱ ،بدھ کا دن گزار کر شب میں ۱؍ بج کر چالیس منٹ پر ۹۲ سال کی عمر شریف میں وصال فرمایا اور جمعہ کی نماز کے بعد لاکھوں افراد نے نماز جنازہ اسلامیہ کالج کے وسیع میدان میں ادا کی اور امام احمد رضا کے پہلو میںدفن کر دیا گیا ۔

عبادت و ریاضت :۔ سفر و حضر ہر موقع پر کبھی آپ کی نماز پنجگانہ قضا نہیں ہوتی تھی،ہر نمازوقت پر ادا فرماتے ، سفر میں نماز کا اہتمام نہایت مشکل ہوتا ہے لیکن حضر ت پوری حیات مبارکہ اس پر عامل رہے۔ اس سلسلہ میں چشم دید واقعات لوگ بیان کرتے ہیں کہ نماز کی ادائیگی و اہتمام کیلئے ٹرین چھوٹنے کی بھی پرواہ نہیں فرماتے تھے ، خود نماز ادا کرتے اور ساتھیوں کو بھی سخت تاکید فرماتے۔

زیارت حرمین شریفین :۔ آپ نے تقسیم ہند سے پہلے دو مرتبہ حج و زیارت کیلئے سفرفرمایا، اس کے بعد تیسری مرتبہ ۱۳۹۱ ھ / ۱۹۷۱ ء میں جب کہ فوٹو لازم ہو چکا تھا لیکن آپ اپنی حزم و احتیاط پر قائم رہے لہذا آپ کو پاسپورٹ وغیرہ ضروری پابندیوں سے مستثنی قرار دے دیا گیا اور آپ حج و زیارت کی سعادت سے سرفراز ہوئے ۔

فتوی نویسی کی مدت : ۔آپ کے خاندان کا یہ طرئہ امتیاز رہا ہے کہ تقریبا ً ڈیڑھ سو سال سے فتوی نویسی کا گراں قدر فریضہ انجام دے رہا ہے ۔ ۱۸۳۱ ھ میں سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے جد امجد امام العلماء حضرت مفتی رضا علی خاں صاحب قدس سرہ نے بریلی کی سر زمین پر مسند افتاء کی بنیاد رکھی ، پھر اعلیٰ حضرت کے والد ماجد علامہ مفتی نقی علی خاں صاحب قدس سرہ نے یہ فریضہ انجام دیا اور متحدہ پاک و ہند کے جلیل القدر علماء میں آپ کو سر فہرست مقام حاصل تھا ، ان کے بعد امام احمد رضا قد س سرہ نے تقریبا نصف صدی تک علوم و معارف کے دریا بہائے اور فضل و کمال کے ایسے جوہر دکھائے کہ علمائے ہندہی نہیں بلکہ فقہائے حرمین طیبین سے بھی خراج تحسین وصول کیا اور سب نے بالاتفاق چودہویں صدی کا مجدد اعظم تسلیم کیا ۔

آپ کے وصال اقدس کے بعد آپ کے فرزند اکبر حجۃ الاسلام نے اس منصب کو زینت بخشی اور پھر باقاعدہ سیدنا حضور مفتی اعظم کو یہ عہدہ تفویض ہوا جس کا آغاز خود امام احمد رضا کی حیات طیبہ ہی میں ہو چکا تھا ۔

آپ نے مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک فتوی نو عمری کے زمانے میں بغیر کسی کتاب کی طرف رجوع کئے تحریر فرمایا : تو اس سے متاثر ہو کر امام احمد رضا نے فتوی نویسی کی عام اجازت فرمادی اور مہر بھی بنو ا کر مرحمت فرمائی جس پر یہ عبارت کندہ تھی ’ ’ ابو البرکات محی الدین جیلانی آل الرحمن محمد عرف مصطفی رضا‘‘

یہ مہر دینی شعورکی سند اور اصابت فکر کا اعلان تھی ۔ بلکہ خود امام احمد رضا نے جب پورے ہندوستان کے لئے دار القضاء شرعی کا قیام فرمایا تو قاضی و مفتی کا منصب صدر الشریعہ ، مفتی اعظم اور برہان الحق جبل پوری قدس اسرارہم کو عطا فرمایا ۔

غرضکہ آپ نے نصف صدی سے زیادہ مدت تک لاکھوں فتاوی لکھے ۔ اہل ہندو پاک اپنے الجھے ہوئے مسائل آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے اور ہر پیدا ہونے والے مسئلہ میں فیصلہ کے لئے نگاہیں آپ ہی کی طرف اٹھتی تھیں ۔ آپ کے فتاوی کا وہ ذخیرہ محفوظ نہ رہ سکا ورنہ آج وہ اپنی ضخانت و مجلدات کے اعتبار سے دوسرا فتاوی رضویہ ہوتا۔

تصنیفات و ترتیبات

آپ کی تصانیف علم و تحقیق کا منارئہ ہدایت ہیں ۔ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں حق تحقیق ادا فرماتے ہیں ، فقیہ ملت حضرت مفی جلال الدین صاحب قبلہ علیہ الرحمہ نے آپ کی تصانیف کا تعارف تحریر فرما یا ہے اسی کا خلاصہ ہدیۂ قارئین ہے ۔

۱۔ المکرمۃ النبویۃ فی اللفتاوی المصطفوی ( فتاوی مصطفویہ)

یہ پہلے تین حصوں میں عالی جناب قربان علی صاحب کے اہتمام میں شائع ہو اتھا ۔ اب ایک ضخیم جلد میں حضرت فقیہ ملت علیہ الر حمہ کی نگرانی میں رضا اکیڈمی بمبئی سے شائع ہو ا ہے جو حسن صوری و معنوی سے مالا مال ہے ۔

۲۔ اشد العذاب علی عابد الخناس (۱۳۲۸)

تحذیر الناس کا رد بلیغ

۳۔ وقعات السنان فی حلق المسماۃ بسط البنان (۱۳۳۰)

بسط البنان اور تحذیر الناس پر تنقید اور۱۳۲سوالا ت کامجموعہ

۴۔ الرمح الدیانی علی راس الوسواس الشیطانی (۱۳۳۱)

تفسیر نعمانی کے مولف پر حکم کفر وارتداد گویا یہ حسام الحرمین کا خلاصہ ہے ۔

۵۔ النکتہ علی مراۃ کلکتہ (۱۳۳۲)

اذان خارج مسجد ہونے پر ائمہ کی تصریحات کا خلاصہ ۔

۶۔ صلیم الدیان لتقطیع حبالۃ الشیطان (۱۳۳۲)

۷۔ سیف القہار علی عبد الکفار (۱۳۳۲)

۸۔ نفی العار عن معائب المولوی عبد الغفار (۱۳۳۲)

۹۔ مقتل کذب وکید (۱۳۳۲)

۱۰۔ مقتل اکذب و اجہل (۱۳۳۲)

اذان ثانی کے تعلق سے سے مولوی عبد الغفار خاں رامپور ی کی متعدد تحریروں کے رد میں یہ رسائل لکھے گئے ۔

۱۱۔ ادخال السنان الی الحنک الحلق البسط البنان (۱۳۳۲)

۱۲۔ وقایۃ اہل السنۃ عن مکر دیوبند و الفتنۃ (۱۳۳۲)

اذان ثانی سے متعلق آیک کانپوری دیوبندی کا رد

۱۳۔ الہی ضرب بہ اہل الحرب (۱۳۳۲)

۱۴۔ الموت الاحمر علی کل انحس اکفر (۱۳۳۷)

موضوع تکفیر پر نہایت معرکۃ الآراء بحثیں اس کتاب میں تحقیق سے پیش کی گئی ہیں ۔

۱۵۔ الملفوظ ، چار حصے (۳۳۸ا)

امام احمد رضا قدس سرہ کے ملفوظات

۱۶۔ القول العجیب فی جواز التثویب (۱۳۳۹)

اذان کے بعد صلوۃ پکارنے کا ثبوت

۱۷۔ الطاری الداری لہفوات عبد الباری (۱۳۳۹)

امام احمد رضا فاضل بریلو ی اور مولانا عبد الباری فرنگی محلی کے درمیان مراسلت کا مجموعہ

۱۸۔ طرق ا لہدی و الارشاد الی احکام الامارۃ و الجہاد (۱۳۴۱)

اس رسالہ میں جہاد، خلافت ، ترک موالات ، ، نان کو آپریشن اور قربانی گائو وغیرہ کے متعلق چھہ سوالات کے جوابات ۔

۱۹۔ فصل الخلافۃ (۱۳۴۱)

اس کا دوسر ا نام سوراج در سوراخ ہے اور مسئلہ خلافت سے متعلق ہے ۔

۲۰۔ حجۃ واہرہ بوجوب الحجۃ الحاضرہ (۱۳۴۲)

بعض لیڈروں کا رد جنہوں نے حج بیت اللہ سے ممانعت کی تھی اور کہا تھا کہ شریف مکہ ظالم ہے ۔

۲۱۔ القسورۃ علی ادوار الحمر الکفرۃ (۱۳۴۳)

جس کا لقبی نام ظفر علی رمۃ کفر

اخبار زمیندار میں شائع ہونے والے تین کفری اشعارکارد بلیغ ۔

۲۲۔ سامان بخشش (نعتیہ دیوان) ( ۱۳۴۷)

۲۳۔ طرد الشیطان (عربی)

نجدی حکومت کی جانب سے لگائے گئے حج ٹیکس کا رد ۔

۲۴۔ مسائل سماع

۲۵۔ سلک مرادآباد پر معترضانہ رمارک

۲۶۔ نہایۃ السنان ،

بسط البنان کا تیسرارد

۲۷۔ شفاء العی فی جواب سوال بمبئی

اہل قرآن اور غیر مقلدین کا اجتماعی رد

۲۸۔ الکاوی فی العاوی و الغاوی (۱۳۳۰)

۲۹۔ القثم القاصم للداسم القاسم (۱۳۳۰)

۳۰۔ نور الفرقان بین جند الالہ و احزاب الشیطان (۱۳۳۰)

۳۱۔ تنویر الحجۃ بالتواء الحجۃ

۳۲۔ وہابیہ کی تقیہ بازی

۳۳۔ الحجۃ الباہرہ

۳۴۔ نور العرفان

۳۵۔ داڑھی کا مسئلہ

۳۶۔ حاشیہ الاستمداد ( کشف ضلال ویوبند)

۳۷۔ حاشیہ فتاوی رضویہ اول

۳۸۔ حاشیہ فتاوی رضویہ پنجم

بعض مشاہیر تلامذہ

بعض مشہور تلامذئہ کرام کے اسماء اس طرح ہیں جو بجائے خود استاذ الاساتذہ شمار کئے جاتے ہیں۔

۱۔ شیر بشیۂ اہل سنت حضرت علامہ محمد حشمت علی خاں صاحب قدس سرہ

۲۔ محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی سردار احمد صاحب علیہ الرحمۃ و الرضوان

۳۔ فقیہ عصر مولانا مفتی محمد اعجاز ولی خاں صاحب بریلی شریف علیہ الرحمۃ و الرضوان

۴۔ فقیہ عصر شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی دامت علیہ الرحمہ

۵۔ محدث کبیر علامہ محمد ضیاء المصطفی اعظمی شیخ الحدیث الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور

۶۔ بلبل ہند مفتی محمد رجب علی صاحب نانپاروی ، بہرائچ شریف

۷۔ شیخ العلماء مفتی غلام جیلانی صاحب گھوسوی

مستفیدین اور درس افتاء کے تلامذہ کی فہرست نہایت طویل ہے جن کے احاطہ کی اس مختصر میں گنجائش نہیں، صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ آسمان افتاء کے آفتاب و ماہتاب بنکر چمکنے والے مفتیان عظام اسی عبقری شخصیت کے خوان کرام کے خوشہ چین رہے جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ حضور مفتی اعظم ہند کو افتاء جیسے وسیع و عظیم فن میں ایسا تبحر

اور ید طولیٰ حاصل تھا کہ ان کے دامن فضل و کرم سے وابستہ ہو کر ذرے ماہتاب بن گئے ۔

بعض مشاہیر خلفاء

۱۔ مفسر اعظم ہند مولانامحمد ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں بریلی شریف

۲۔ غزالی دوراں علامہ سید احمد سعیدصاحب کاظمی، ملتان پاکستان

۳۔ مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن صاحب رئیس اعظم اڑیسہ

۴۔ شیر بیشہ اہل سنت مولانا حشمت علی خاں صاحب، پیلی بھیت

۵۔ رازی زماں مولانا حاجی مبین الدین صاحب امروہہ ،مرآد اباد

۶۔ شہزادۂ صدر الشریعہ مولانا عبد المصطفی صاحب ازہری کراچی ، پاکستان

۷۔ شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی گھوسی، اعظم گڑھ

۸۔ شمس العلماء مولانا قاضی شمس الدین احمد صاحب جونپور

۹۔ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد صاحب لائل پور ، پاکستان

۱۰۔ خطیب مشرق مولانا مشتاق احمد صاحب نظامی الہ آباد۔

۱۱۔ پیر طریقت مولانا قاری مصلح الدین صاحب کراچی پاکستان

۱۲۔ استاذ العلماء مولانا محمد تحسین رضا خاں صاحب بریلی شریف

۱۳۔ قائد ملت مولانا ریحان رضا خاں صاحب بریلی شریف

۱۴۔ تاج الشریعہ مولانا محمد اختر رضا خاں صاحب بریلی شریف

۱۵۔ پیر طریقت مولانا سید مبشر علی میاں صاحب بہیڑی بریلی شریف

۱۶۔ فاضل جلیل مولانا سیدشاہد علی صاحب الجامعۃ الاسلامیہ رامپور