حدیث نمبر :636

روایت ہے حضرت علقمہ ابن وقاص سے ۱؎ فرماتے ہیں میں حضرت معاویہ کے پاس تھا جب ان کے مؤذن نے اذان دی حضرت معاویہ نے بھی وہ ہی کہاجومؤذن نے کہا حتی کہ جب اس نے حی علی الصلوۃ کہا تو آپ نے فرمایا لاحول ولا قوۃ الا باﷲ پھر جب حی علی الفلاح کہا تو آپ نے فرمایا لاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۲؎ اس کے بعدوہی کہا جومؤذن نے کہاپھرفرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہی فرماتے سنا۔(احمد)

شرح

۱؎ آپ لیثی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے،شیخ نے فرمایا کہ تابعی ہیں مگرمرقاۃ میں ہے کہ صحابی ہیں،جنگِ خندق میں حاضرہوئے،عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں مدینہ پاک میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی “حی علی الصلوۃ” اور فلاح پرصرف لاحول شریف پڑھی یہ کلمات نہ دہرائے،بعض علماءکایہی عمل ہے مگرزیادہ قوی یہ ہے کہ یہ کلمات بھی دہرائے اور لاحول شریف بھی پڑھ لے،جیسا کہ پہلے عرض کیاجاچکا۔ظاہریہ ہے کہ آپ نے “حی علی الصلوۃ”پربھی پوری لاحول ہی پڑھی ہوگی مگر راوی نے اختصارکیا۔