أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَبَيۡنَهُمَا حِجَابٌ‌ۚ وَعَلَى الۡاَعۡرَافِ رِجَالٌ يَّعۡرِفُوۡنَ كُلًّاۢ بِسِيۡمٰٮهُمۡ‌ ۚ وَنَادَوۡا اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ اَنۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ‌ لَمۡ يَدۡخُلُوۡهَا وَهُمۡ يَطۡمَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان دونوں (جنتیوں اور دوزخیوں) کے درمیان ایک حجاب ہے اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے جو ہر ایک (جنتی یا دوزخی) کو اس کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ اہل جنت سے پکار کر کہیں گے تم پر سلام ہو، وہ ابھی جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اور وہ اس کی امید رکھیں گے

تفسیر:

آیت 46 ۔ 47 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ان دونوں (جنتیوں اور دوزخیوں) کے درمیان ایک حجاب ہے اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے جو ہر ایک (جنتی یا دوزخی) کو اس کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ اہل جنت سے پکار کر کہیں گے تم پر سلام ہو، وہ ابھی جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اور وہ اس کی امید رکھیں گے۔ اور جب ان کی آنکھیں دوزخ والوں کی طرف پھیری جائیں گی، تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ نہ کرنا۔ “

الاعراف کا معنی اور مصداق : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ نے لکھا ہے کہ الاعراف جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہے (المفردات ج 2 ص 432، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفی، بیروت)

علماء نے اصحاب الاعراف کے متعلق دس اقوال ذکر کیے ہیں : 

1 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت ابن عباس نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں۔ 

2 ۔ مجاہد نے کہا : یہ صالح فقہاء اور علماء ہیں۔ 

3 ۔ مہدوی نے کہا یہ شہداء ہیں۔ 

4 ۔ قشیری نے کہا : یہ وہ فاضل مومن اور شہید ہیں جو اپنے کاموں سے فارغ ہو کر لوگوں کے احوال کا مطالعہ کرنے کے لیے فارغ ہوگئے۔ یہ لوگ جب اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے ہیں کہ ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور جب یہ ان اہل جنت کو دیکھتے ہیں جو ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے تو ان کے دخول کی امید رکھتے ہیں۔ 

5 ۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ الاعراف پل صراط پر ایک بلند جگہ ہے جس پر حضرت عباس، حضرت حمزہ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) ہیں۔ وہ اپنے محبین کو سفید چہرے سے پہچانتے ہیں۔ اور اپنے مبغضین کو سیاہ چہرے سے پہچانتے ہیں۔ 

6 ۔ زہراوی نے کہا : یہ وہ نیک لوگ ہیں جو قیامت کے دن لوگوں کے اعمال کی گواہی دیں گے اور یہ ہر امت میں ہیں۔ 

7 ۔ زجاج نے کہا : یہ انبیاء ہیں۔

8 ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبیرہ گناہ کیے ان کے صغیرہ گناہ بھی تھے جو مصائب اور آلام کی وجہ سے معاف نہیں ہوسکے۔ یعنی یہ گناہ گار لوگ ہیں۔ 

9 ۔ قشیری نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ زنا سے پیدا شدہ لوگ ہیں۔ 

10 ۔ ابومجلز نے ذکر کیا کہ یہ ملائکہ ہیں۔ (الجامع لاحکا القرآن، ج 8 ص 191 ۔ 190، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اہل الاعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے اور وہ جنت میں داخل ہونے کی طمع رکھتے ہوں گے۔ پھر اگر ان کے متعلق ہم یہ کہیں کہ وہ اشراف اہل جنت ہیں تو اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو الاعراف پر بٹھایا اور جنت میں ان کا داخلہ موخر کردیا تاکہ وہ اہل جنت اور اہل نار کے احوال کو دیکھ سکیں۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے بلند درجات کی طرف منتقل فرمائے گا جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ نچلے درجات والے بلند درجات والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسا کہ تم آسمان کے کناروں پر چمکتے ہوئے، ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر اور عمر ان لوگوں میں سے ہیں اور تحقیق یہ ہے کہ اصحاب الاعراف اشراف اہل قیامت ہیں اور جب محشر میں سب لوگ کھرے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اصحاب الاعراف کو الاعراف میں بٹھا دے گا جو کہ بہت معزز اور بلند جگہ ہوگی اور جب جنت جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے بلند درجوں میں منتقل فرما دے گا سو وہ لوگ ہمیشہ بلند درجات میں رہیں گے۔ 

اور اگر اصحاب الاعراف کی یہ تفسیر کی جائے کہ وہ اہل جنت سے کم درجہ کے ہوں گے تو ہم کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو الاعراف میں بٹھائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے یہ امید رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس مقام سے جنت کی طرف منتقل کردے گا۔ اور جب اصحاب الاعراف اہل دوزخ کو دیکھیں گے تو وہ اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا مانگیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اہل دوزخ میں سے نہ کرے، اور ان آیتوں سے مقصود یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرے اور آباء و اجداد کی اندھی تقلید نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت میں غور و فکر کرے اور ان پر ایمان لا کر ان کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے اور دنیا اور آخرت کی سرخروئی حاصل کرے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 46