أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ النَّارِ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ‌ؕ قَالُـوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡـكٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اہل دوزخ اہل جنت سے پکار کر کہیں گے ہم پر تھوڑا پانی انڈیل دو ، یا کچھ اس میں سے دے دو جو اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے تو (اہل جنت) کہیں گے بیشک اللہ نے یہ پانی اور رزق کافروں پر حرام کردیا ہے

تفسیر:

آیت 50 تا 51: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اہل دوزخ اہل جنت سے پکار کر کہیں گے ہم پر تھوڑا پانی انڈیل دو ، یا کچھ اس میں سے دے دو جو اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے تو (اہل جنت) کہیں گے بیشک اللہ نے یہ پانی اور رزق کافروں پر حرام کردیا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا تھا اور جن کو دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا تو آج کے دن ہم انہیں بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے “

کافروں کو دوزخ میں کھانے پینے سے محروم رکھنے کی سزا دینا : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اہل دوزخ چونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو غریبوں اور مسکینوں کے حقوق فرض کیے تھے ان کو ادا نہیں کرتے تھے، وہ بھوکوں کو کھانا کھلاتے تھے نہ پیاسوں کو پانی پلاتے تھے، سو اللہ تعالیٰ دوزخ میں آگ کے عذاب کے علاوہ ان پر بھوک اور پیاس کا عذاب بھی نازل کرے گا پھر وہ بھوک اور پیاس کی شدت سے بلبلا کر اہل جنت سے فریاد کریں گے کہ تم ہم پر کچھ پانی ڈال دو یا تم کو جو طام دیا ہے، اس طعام سے کچھ دے تو اہل جنت ان کو جواب دیں گے کہ اللہ نے پانی اور طعام کو ان لوگوں پر حرام کردیا ہے جنہوں نے دنیا میں اس کی توحید کو ماننے سے انکار کیا تھا، اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ 

پھر فرمایا : ان لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا تھا۔ حضرت ابن عباس نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ جب بھی ان کو اللہ کے دین کو دعوت دی جاتی تو یہ دعوت دینے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ 

پھر فرمایا : تو آج کے دن ہم انہیں بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے اس دن کی ملاقات سے بےپرواہ ہو کر ایمان لوانے کو اور نیک اعمال کو چھوڑ رکھا تھا۔ 

حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک بندے سے فرمائے گا : کیا میں نے تیرا نکاح نہیں کیا تھا ؟ میں تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ اور کیا میں نے تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے تھے ؟ اور کیا تو سرداری اور افسری نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ؟ پھر فرمائے گا : تو مجھ سے ملاقات کا یقین رکھتا تھا ؟ وہ کہے گا نہیں ! پھر اللہ فرمائے گا ہم آج تجھے بھلا دیتے ہیں جس طرح تو نے ہمیں بھلا دیا تھا۔ (تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 176)

اللہ کی راہ میں پانی خرچ کرنے کی اہمیت اور اجر وثواب : اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سب سے عطیم نعمت پانی ہے کیونکہ دوزخ کے عذاب میں گرفتار کافر سب سے پہلے پانی کا سوال کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی راہ میں سب سے زیادہ ثواب پانی خرچ کرنے کا ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے افضل صدقہ پانی کا ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ جب اہل دوزخ، اہل جنت سے فریاد کریں گے تو یہ کہیں گے کہ ہم پر پانی انڈیل دو ، یا کچھ اس رزق سے دے دو جو اللہ نے تم کو دیا ہے۔ (مسند ابو یعلی، ج 5، رقم الحدیث : 2673 ۔ المعجم الاوسط ج 2، رقم الحدیث : 1015 ۔ شعب الایمان، ج 3، رقم الحدیث : 3380 ۔ تفسیر ابن ابی حاتم، ج 5، ص 1490 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 3، ص 176 ۔ مطبوعہ دار الاندلس بیروت، تفسیر در منثور، ج 3، ص 468، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

امام ابوداود روایت کرتے ہیں : حضرت سعد (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا : کس چیز کا صدقہ کرنا آپ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : پانی کا۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 679 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3684)

ان احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ پانی پلانے سے اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب حاصل ہوتا ہے اور احادیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کتے کو پانی پلانے سے بھی عمر بھر کے گناہوں کو بخش دیا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک شخص جا رہا تھا اس کو بہت شدید پیاس لگی۔ اس نے کنوئیں میں اتر کر پانی پیا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا تھا۔ اس نے سوچا اس کتے کو بھی ایسے ہی پیاس لگی ہے جیسے مجھے لگی تھی، اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنے موزہ میں پانی بھرا پھر باہر آ کر اس موزہ سے کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول فرمایا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ کیا جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے کا بھی اجر ملتا ہے ؟ آپ نے فرمای : ہر تر جگر کے ساتھ نیکی میں اجر ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 2363 ۔ صحیح مسلم، سلام : 531 (2244) 5751 ۔ سنن ابوداود، رقم الحدیث : 2550 ۔ شعب الایمان، ج 3، رقم الحدیث : 3372)

حضرت ابوہریرہ رضٰ اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک کتا کنوئیں کی منڈیر کے گرد گھوم رہا تھا۔ جس کو پیاس نے ہلاک کردیا تھا، اچانک بنو اسرائیل کی فاحشہ عورتوں میں سے ایک عورت نے اس کو دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس میں پانی بھر کر اس کو پلایا۔ اس سبب سے اس عورت کو بخش دیا گیا۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث : 3467 ۔ صحیح مسلم، سلام : 155، (2245) 5753) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس جگہ پانی دستیاب ہو وہاں کسی شخص نے کسی مسلمان کو ایک گھونٹ پانی پلایا تو گویا اس نے ایک غلام کو آزاد کردیا اور جس جگہ پانی دستیاب نہ ہو وہاں کسی شخص نے کسی مسلمان کو پانی پلایا تو گویا اس نے اس مسلمان کو زندہ کردیا۔ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 2474، علامہ ابن الجوزی نے کہا یہ حدیث موضوع ہے، الموضوعات، ج 2، ص 170)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ لکھتے ہیں : امام ابن عدی نے کہا : یہ حدیث موضوع ہے اس حدیث کی آفت احمد ہے۔ اس میں حسن بن ابی جعفر کو وہم ہوا ہے اور یہ متروک ہے۔ اس نے اس حدیث کو علی بن زید سے روایت کیا ہے اور وہ اس سے زیادہ ضعیف ہے۔ اس کو علی بن زید نے از سعید بن المسیب از ام المومنین عائشہ روایت کیا ہے اور امام ابن ماجہ نے اس کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (الکامل ابن عبدی، ج 2، ص 720، اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ، ج 2، ص 72)

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی المتوفی 807 ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں : اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں (ایک دوسری سند سے) روایت کیا ہے۔ (المعجم الاوسط، ج 7، رقم الحدیث : 6588) اس کی سند میں زہیر بن مرزوق ہے، امام بخاری نے کہا : وہ مجہول اور منکر الحدیث ہے۔ (گویا یہ حدیث ضعیف ہے) ۔ (مجمع الزوائد ج 3 ص 133، مطبوعہ دار الکتاب العربی بیروت، 1402 ھ)

مرثد بن عیاض بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا یارسول اللہ ! مجھے وہ عمل بتلائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے۔ آپ نے پوچھا : کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے ؟ اس نے کہا نہیں ! آپ نے کئی بار یہ سوال کیا، پھر فرمایا : تم پانی پلاؤ، اس نے کہا : میں کیسے پانی پلاؤں ؟ آپ نے فرمایا : جب لوگوں کے پاس پانی نہ ہو تو ان کو پانی لا کردو۔ (مسند احمد ج 5 ص 368 ۔ المعجم الکبیر، ج 17، ص 370، حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند صحیح ہے، مجمع الزوائد، ج 3، ص 131)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو شخص جنگل میں سفر کررہے تھے۔ ایک عابد تھا اور دوسرا گنہ گار تھا۔ عابد کو سخت پیاس لگی اور وہ بےہوش ہو کر گرگیا ۔ اس کے ساتھی کے پاس ایک ڈول میں پانی تھا وہ دل میں کہنے لگا بہ خدا اگر یہ نیک بندہ پیاسا مرگیا جبکہ میرے پاس پانی تھا تو میں کبھی کوئی خیر حاصل نہیں کرسکوں گا اور اگر میں نے اس کو اپنا پانی پلا دیا تو میں یقیناً مرجاؤں گا۔ پھر اس نے اللہ پر توکل کیا اور اس کو پانی پلانے کا عزم کرلیا۔ اس نے اس بےہوش عابد پر پانی چھڑکا اور اس کو اپنے حصہ کا پانی پلا دیا تو وہ کھڑا ہوگیا۔ حتی کہ دونوں نے جنگل کی مسافت کو طے کرلیا۔ وہ گناہ گار آدمی جب قیامت کے دن حساب کے لیے کھڑا کیا گیا تو اس کو دوزخ میں بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ فرشتے اس کو لے جارہے تھے کہ اس شخص نے اس عابد کو دیکھ لیا، اس نے عابد سے کہا : اے فلاں شخص ! کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ عابد نے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا : میں وہ شخص ہوں جس نے جنگل کے دن تم کو اپنے اوپر ترجیح دی تھی ! عابد کہے گا ہاں ! میں تم کو پہچان لیا ! پھر وہ فرشتوں سے کہے گا ٹھہرو، ٹھہرو، پھر وہ کھڑا ہو کر اپنے رب سے دعا کرے گا اور کہے گا اے میرے رب ! تو جانتا ہے اس شخص نے جو مجھ پر احسان کیا تھا ! اور کس طرح اس نے مجھے اپنے اوپر ترجیح دی تھی ! اے میرے رب ! اس کو میری خاطر بخش دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تمہاری خاطر ہے، پھر وہ عابد آئے گا اور اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر اس کو جنت میں داخل کردے گا۔ (المعجم الاوسط، رقم الحدیث : 2970، اس حدیث کی روایت میں ابو ظلال متفرد ہے امام بخاری اور امام حبان نے اس کی توثیق کی ہے اور اس میں کلام ہے، مجمع الزوائد ج 3، رقم الحدیث : 132 ۔ 133، مطبوعہ بیروت

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 50