أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰٮهُمۡ قَالُوۡا مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اصحاب الاعراف جن (دوزخیوں) کو ان کی علامتوں سے پہچانتے تھے ان سے پکار کر کہیں گے تمہاری جماعت نے تم کو عذاب سے نہ چھڑایا اور نہ اس (مال و دولت) نے جس کی وجہ سے تم تکبر کرتے تھے

تفسیر:

آیت 48 تا 49: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اصحاب الاعراف جن (دوزخیوں) کو ان کی علامتوں سے پہچانتے تھے ان سے پکار کر کہیں گے تمہاری جماعت نے تم کو عذاب سے نہ چھڑایا اور نہ اس (مال و دولت) نے جس کی وجہ سے تم تکبر کرتے تھے۔ کیا یہ (جنتی لوگ) وہی (نہیں) ہیں جن کے متعلق تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت بالکل نہیں دے گا ! (انہی سے کہا گیا ہے) تم جنت میں داخل ہوجاؤ نہ تم پر کوئی خوف ہوگا اور نہ تم غمگین ہوگے “

اصحاب الاعراف کو دخول جنت کا اذن : جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو اصحاب الاعراف دوزخیوں کو ان کی دوزخی علامات سے پہچان کر کہیں گے تم دنیا میں جو مال اور اسباب جمع کرتے تھے اور جن چیزوں پر تم تکبر کیا کرتے تھے وہ تم سے اللہ کے عذاب کو دور نہ کرسکے۔ ابومجلز نے کہا : اس آیت میں اصحاب الاعراف سے مراد ملائکہ ہیں اور حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اصحاب الاعراف گنہ گار مسلمان ہیں و الاعراف پر کھڑے ہوں گے۔ وہ اہل جنت کی طرف دیکھ کر جنت میں داخل ہونے کی خواہش کریں گے اور اہل دوزخ کو دیکھ کر دوزخ سے پناہ طلب کریں گے۔ پھر ان کو جنت میں داخل کردیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا یہ (اصحاب الاعراف) وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم یہ کہتے تھے کہ ان کو اللہ اپنی رحمت بالکل نہیں دے گا ؟ پھر اصحاب الاعراف سے فرمائے گا تم جنت میں داخل ہوجاؤ نہ تم پر کوئی خوف ہوگا اور نہ تم غمگین ہوگے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) کے قول کے مطابق اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اللہ کی اور اس کے رسولوں کی اطاعت کرنے سے اپنے مال و دولت کی وجہ سے تکبر کرتے تھے، ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے متکبرو ! کیا یہی وہ کمزور اور پس ماندہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو اللہ کی رحمت سے کچھ نہیں ملے گا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ان کو بخش دیا ہے۔ اے اصحاب الاعراف ! جنت میں داخل ہوجاؤ، تم نے دنیا میں جو گناہ اور جرم کیے تھے، تمہیں اب ان کے مواخذہ اور ان پر سزا کا کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ تمہیں اس کا کوئی رنج ہوگا کہ تم سے دنیا میں نیکیاں رہ گئیں۔ (جامع البیان، ج 8، ص 259 ۔ 361 ۔ ملخصاً ، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 48