حکایت نمبر249: کاش!تیری ماں مجھے نہ جنْتی

حضرتِ سیِّدُنا فَتْح بن شَخْرَف علیہ رحمۃ الرَّبّ سے مروی ہے کہ” مجھے حضرتِ سیِّدُنابِشْرحافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے بھانجے حضرتِ سیِّدُناعمر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بتایا: ” بھوک کی وجہ سے میرے ماموں حضرتِ سیِّدُنابِشْرحافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے پیٹ میں شدید دردہوا اورپہلو میں بھی بہت تکلیف ہوئی۔ میری والدۂ محترمہ سے ان کی یہ تکلیف دیکھی نہ گئی تو کہا:” بھائی جان !اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے ہاتھوں سے کچھ جَو پیس کر دلیہ پکا لاؤں ، نرم غذا پیٹ میں جائے گی تو تکلیف میں کمی ہوجائے گی۔”

فرمایا:” افسوس!مجھے تو یہ خوف ہے، اگر مجھ سے پوچھ لیا گیا کہ تیرے پاس یہ جَو کا آٹا کہاں سے آیا ؟تو میں کیا جواب دوں گا؟” پھر انہوں نے دلیہ پکانے سے منع کردیا۔ میری والدہ ان کی یہ حالت دیکھ کر رونے لگی، ماموں بھی رونے لگے اور ان کے ساتھ میں بھی رو دیا۔ ان کا سانس گُھٹ گُھٹ کر آرہا تھا ، بڑی بے کسی کا عالم تھا ۔ میری والدہ نے کہا : ” اے میرے بھائی!کاش میری ماں نے تجھے نہ جناہوتا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ کی تکلیف وغم دیکھ کر میرا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے ۔” میری والدہ کی یہ بات سن کر ماموں جان نے کہا:” اے کاش !ایسا ہی ہوتا کہ تیری ماں مجھے نہ جنتی، اورجب میں پیدا ہوہی گیا تھا تو کاش ! وہ مجھے دودھ ہی نہ پلاتی۔”حضرت سیِّدُناعمر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” میری والدہ میرے ماموں کی حالت دیکھ کر دن رات روتی رہتی تھی۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)