قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-قُلْ لَّاۤ اَتَّبِـعُ اَهْوَآءَكُمْۙ-قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ(۵۶)

تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو(ف۱۲۳) تم فرماؤ میں تمہاری خواہش پر نہیں چلتا (ف۱۲۴) یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں

(ف123)

کیونکہ یہ عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے ۔

(ف124)

یعنی تمہارا طریقہ اِتّباعِ نفس و خواہشِ ہَوا ہے نہ کہ اِتّباعِ دلیل اس لئے اختیار کرنے کے قابل نہیں ۔

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖؕ-مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖؕ-اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ-یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ(۵۷)

تم فرماؤ میں تو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں (ف۱۲۵) اور تم اسے جھٹلاتے ہو میرے پاس نہیں جس کی تم جلدی مچارہے ہو (ف۱۲۶) حکم نہیں مگر اللہ کا وہ حق فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا

(ف125)

اور مجھے اس کی معرفت حاصل ہے ، میں جانتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ، روشن دلیل قرآن شریف اور معجزات اور توحید کے براہینِ واضحہ سب کو شامل ہے ۔

(ف126)

کُفّار اِستِہزاءً حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ ہم پر جلدی عذاب نازل کرائیے ۔ اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا اور ظاہر کر دیا گیا کہ حضور سے یہ سوال کرنا نہایت بے جا ہے ۔

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ(۵۸)

تم فرماؤ اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز جس کی تم جلدی کررہے ہو (ف۱۲۷) تو مجھ میں تم میں کام ختم ہوچکا ہوتا (ف۱۲۸) اور اللہ خوب جانتا ہےستم گاروں کو

(ف127)

یعنی عذاب ۔

(ف128)

میں تمہیں ایک ساعت کی مہلت نہ دیتا اور تمہیں ربّ کا مخالف دیکھ کر بے دَرَنگ ہلاک کر ڈالتا لیکن اللہ تعالٰی حلیم ہے عَقوبت میں جلدی نہیں فرماتا ۔

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَؕ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِؕ-وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(۵۹)

اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی انہیں وہی جانتا ہے (ف۱۲۹) اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے اور جو پتاگرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو(ف۱۳۰)

(ف129)

تو جسے وہ چاہے وہی غیب پر مطلع ہو سکتا ہے بغیر اس کے بتائے کوئی غیب نہیں جان سکتا ۔ (واحدی)

(ف130)

کتابِ مبین سے لوحِ محفوظ مراد ہے ، اللہ تعالٰی نے ” ماَکَانَ وَ مَایَکُوْنُ ” کے علوم اس میں مکتوب فرمائے ۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّىۚ-ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠(۶۰)

اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے(ف۱۳۱) اورجانتا ہے جو کچھ دن میں کماؤ پھر تمہیں دن میں اٹھاتا ہے کہ ٹھہرائی ہوئی میعاد پوری ہو(ف۱۳۲) پھر اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے (ف۱۳۳) پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے

(ف131)

تو تم پر نیند مسلَّط ہوتی ہے اور تمہارے تصرُّفات اپنے حال پر باقی نہیں رہتے ۔

(ف132)

اور عمر اپنی انتہا کو پہنچے ۔

(ف133)

آخرت میں ۔ اس آیت میں بَعث بعدَ الموت یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونے پر دلیل ذکر فرمائی گئی جس طرح روزمرّہ سونے کے وقت ایک طرح کی موت تم پر وارد کی جاتی ہے جس سے تمہارے حواس معطل ہو جاتے ہیں اور چلنا پھرنا پکڑنا اور بیداری کے افعال سب معطل ہوتے ہیں ، اس کے بعد پھر بیداری کے وقت اللہ تعالٰی تمام قُوٰی کو ان کے تصرّفات عطا فرماتا ہے یہ دلیل بَیِّن ہے اس بات کی کہ وہ زندگانی کے تصرُّفات بعدِ موت عطا کرنے پر اسی طرح قادر ہے ۔