*خبر دار ! کلمہ صرف ایک اور آر یا پار ! رہئیے ہوشیار ۔*

🌟 حضرت أَبو هُرَيْرَةَ کا کہنا ہے کہ آپ نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا :

🌷إنَّ الْعَبْد لَيَتَكَلَّمُ بِالكَلِمةِ مَا يَتَبيَّنُ فيهَا يَزِلُّ بهَا إِلَى النَّارِ أبْعَدَ مِمَّا بيْنَ المشْرِقِ والمغْرِبِ.

📘متفقٌ عليهِ.

🌻 بلا شبہ بندہ صرف ایک کلمہ بولتا ہے اور اس میں تحقیق نہیں کرتا ، اس کی وجہ سے جہنم میں مشرق و مغرب جتنے فاصلے کے برابر جہنم میں گر جاتا ہے ۔

🌟 آپ ہی سے مروی ارشاد نبوی ہے

🌷 إنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالكَلِمةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ تَعَالى مَا يُلقِي لهَا بَالًا يَرْفَعُهُ اللَّه بهَا دَرَجاتٍ، وَإنَّ الْعبْدَ لَيَتَكلَّمُ بالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ تَعالى لا يُلْقي لهَا بَالًا يهِوي بهَا في جَهَنَّم

📘صحیح البخاري.

🌻 بلا شبہ بندہ صرف اللہ کی رضاء کے کلمات میں سے صرف ایک کلمہ بولتا ہے اس کی اسے پرواہ تک نہیں ہوتی لیکن اللہ اس کے کئی درجات بلند کر دیتا ہے ۔ اور ( اسی طرح ) بندہ اللہ کو ناپسند کلمات میں سے صرف ایک کلمہ بولتا ہے، اس کا اسے احساس بھی نہیں ہوتا مگر اس کی وجہ سے جہنم میں گر جاتا ہے ۔

🌟اور آپ ہی سے مروی ارشاد نبوی ہے

🌷 إنَّ الرجلَ لَيتكلَّمُ بالكلمةِ لا يرى بها بأسًا يهوي بها سبعين خريفًا

📘 الترغيب ، مسند أحمد، سنن الترمذي .

🌻یقینا انسان ایک کلمہ بولتا ہے جس میں وہ کوئی حرج بھی محسوس نہیں کرتا مگر اس کی وجہ سے جہنم میں 70 کوس نیچے گر جاتا ہے ۔

🌟 حضرت أبي عَبْدِالرَّحمنِ بِلال بنِ الحارثِ المُزنيِّ رضى الله عنه کا بیان ہے :

میں نے نبی صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا

🌷:إنَّ الرَّجُلَ ليَتَكَلَّمُ بالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوانِ اللَّهِ تَعالى مَا كَانَ يَظُنُّ أنْ تَبْلُغَ مَا بلَغَتْ يكْتُبُ اللَّه لَهُ بهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يلْقَاهُ، وَإنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بالكَلِمةِ مِنْ سَخَطِ اللَّه مَا كَانَ يظُنُّ أنْ تَبْلُغَ مَا بلَغَتْ يكْتُبُ اللَّه لَهُ بهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يلْقَاهُ.

📘مسند أحمد، سنن الترمذي سنن النسائي ، مُوطَّآ امام مالک

🌻اس میں شک نہیں کہ تم میں سے کوئی بندہ اللہ کی رضا والا صرف ایک کلمہ بولتا ہے ۔ اس کو سوچ بھی نہیں ہوتی کہ وہ کلمہ اس قدر بلند درجہ پر پہنچے گا ۔ اور اللہ قیامت کے دن کی اپنی رضاء اس کے لیئے لکھ دیتا ہے ۔

( قارئین کرام ، ویسے تو صرف بولا ہوا بھی ہمارے دین میں بڑی اہمیت و منزلت رکھتا ہے لیکن

نوشتہ تو اور پختہ تر ہو جاتا ہے ۔ یہ عام بشر کا حال ہے ۔ اللہ نے اپنی مرضی سے جو لکھوایا ہوگا اس کے وقوع پذیر ہونے کی پختگی کس قدر لازمی ہو گی ۔۔ خود تصور فرما لیں اور ان گذارشات پر عمل پیرا ہونے کی ٹھان لیں )

اور یہ بھی شبہ سے ماورآء ہے کہ تم میں سے کوئی بندہ اللہ کی ناراضگی بھرا صرف ایک کلمہ بولتا ہے ۔ اور (اس کی ہولناکی ) جس درجہ کو پہنچتی ہے اس کا اسے ( بولتے وقت ) کوئی گمان ہی نہیں ہوتا سو اس کلمہ کی وجہ سے اللہ اس کے لیئے اپنی ملاقات کے دن کی ناراضگی لکھ دیتا ہے

فقیر خالد محمود عرض کرتا ہے کہ بہتان غیبت وعدہ خلافی اور جھوٹ اللہ کے ایسے ہی غیظ و غضب کا باعث بنتے ہیں

اور یہ بھی تو عرض کر دوں کہ مسلمان ایک ہی کلمہ کی وجہ سے ایمان کی وادی ایمن سے نکل کر پناہ بخدا کفر کی ظلمتوں میں داخل ہو جاتا ہے ۔

۔