أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ يُغۡشِى الَّيۡلَ النَّهَارَ يَطۡلُبُهٗ حَثِيۡثًا ۙ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمۡرِهٖ ؕ اَلَا لَـهُ الۡخَـلۡقُ وَالۡاَمۡرُ‌ ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا، پھر وہ عرش پر جلوہ فرما ہوا، وہ رات سے دن کو چھپا لیتا ہے (اور دن) اس کے پیچھے تیزی سے دوڑتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اس کے حکم کے تابع ہیں، سنو پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کی شان کے لائق ہے اللہ بہت برکت والا ہے تمام جہانوں کا رب

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا، پھر وہ عرش پر جلوہ فرما ہوا، وہ رات سے دن کو چھپا لیتا ہے (اور دن) اس کے پیچھے تیزی سے دوڑتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اس کے حکم کے تابع ہیں، سنو پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کی شان کے لائق ہے اللہ بہت برکت والا ہے تمام جہانوں کا رب “

اہم اور مشکل الفاظ کے معانی : رب : یہ اصل میں مصدر ہے۔ اس کا معین ہے کسی شئے کو تدریجاً اپنے کمال تک پہنچایا۔ یہ بہ طور اسم فاعل کے مستعمل ہوتا ہے اس کا معنی ہے تمام موجودات کی تربیت اور ان کی مصلحتوں کا متکفل۔ اس لفظ کا بغیر اضافت کے مطلقاً اللہ عز و جل کے غیر کے لیے بولنا جائز نہیں ہے اور اضافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے غیر دونوں کے لیے بولنا جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی مثال ہے : ربکم و رب ابائکم الاولین (الصفت :126) اور غیر اللہ کے لیے استعمال کی مثال یہ آیت ہے : ” اذکرنی عند ربک فانسہ الشیطان ذکر ربہ : اپنے رب (مالک، بادشاہ) کے سامنے میرا ذکر کرنا، پس شیطان نے اس کو بھلا دیا کہ وہ اپنے رب کے سامنے ذکر کرتا ” (یوسف :42)

اللہ : یہ اس کا اسم ذات (علم) ہے جو واجب الوجود ہے، تمام عبادتوں کا مستحق ہے، اور اس کی ہر صفت قدیم بالذات ہے، وحدہ لا شریک ہے وہ تمام مخلوق کا خالق ہے اور تمام کمالات کا جامع ہے اور ہر قسم کا عیب اور نقص اس کے حق میں محال ہے، یہ نام اس کے ساتھ مخصوص ہے، اس کے علاوہ کسی اور کا یہ نام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” ھل تعلم لہ سمیا : کیا تم اس نام کا کوئی اور شخص جانتے ہو ؟ ” (مریم :65)

فی ستتۃ ایام : ایام یوم کی جمع ہے۔ اس سے مراد طلوع شمس سے غروب شمس تک کا وقت ہے۔ اور کبھی اس سے مطلقاً زمانہ کی مدت مراد ہوتی ہے، خواہ وہ کتنی ہی مدت ہو۔ (المفردات : ج 2، 720)

علامہ زبیدی نے لکھا ہے کہ یوم کا مشہور معنی ہے طلوع شمس تک کی مقار، اور صحیح کے نزدیک ایک طلوع شمس سے لے کر دوسرے طلوع شمس تک کی مقدار یوم ہے یا ایک غروب سے لے کر دوسرے غروب تک کی مقدار، اور مطلقاً زمانہ کے معنی میں بھی یوم کا استعمال ہوتا ہے۔ (تاج العروس، ج 9، ص 115، مطبوعہ مصر) ستۃ ایام (چھ دن) اس سے مراد ہے ایام دنیا میں سے چھ دنوں کی مقدار۔ کیونکہ وہاں سورج کا طلوع اور غروب نہیں تھا۔ اللہ تالیٰ چاہتا تو ایک لمحہ میں سات آسمان اور سات زمینیں پیدا فرما دیتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اطمینان اور تدریج کی تعلیم کے لیے تمام آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ 

استوی : لغت میں اسواء کا معنی ہے کسی چیز کا کسی چیز سے بلند ہونا۔ کسی چیز کا کسی چیز پر بیٹھنا۔ نیز اس کا معنی ہے کسی چیز کا قصد کرنا۔ کسی شئے کا معتدل ہونا، اللہ تعالیٰ کے استواء کا معنی ہے اس کی زات اور صفات کا ہر چیز سے بلند ہونا۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی شان کے لائق عرش پر جلوہ فرما ہونا۔

عرش : بادشاہ کا تخت : گھر کی چھت کو بھی عرش کہتے ہیں۔ چھپر کو بھی عرش کہتے ہیں۔ امام راغب اصفہانی نے لکھا ہے کہ اللہ کے عرش کی حقیقت کو کوئی شخص نہیں جانتا ہم صرف اس کا نام جانتے ہیں۔ ایک قوم نے یہ کہا ہے کہ فلک اعلی عرش ہے اور کرسی فلک الکوکب ہے۔ اور اس پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے : امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوذر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یا رسول اللہ ! یا رسول اللہ ! آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمای : آیۃ الکرسی ! پھر آپ نے فرمای : اے ابوذر ! سات آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایک انگوٹھی کی طرح ہیں جو کسی جنگل کی زمین میں پڑی ہو۔ اور عرش کی کرسی پر فضیلت اس طرح ہے جیسے جنگل کی زمین کی فضیلت اس انگوٹھی پر ہے۔ (الاسماء والصفات، ج 405، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت) (المفردات، ج 2، ص 429، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

قدیم فلاسفہ کا یہ قول تھا کہ آسمان نو ہیں اور ہر اوپر والا آسمان نچلے آسمان کو اس طرح محیط ہے جس طرح پیاز کے چھلکے ایک دوسرے کو محیط ہوتے ہیں۔ نواں آسمان فلک الافلاک ہے۔ تمام ثوابت (غیر متحرک ستارے) اس میں مرکوز ہیں۔ اور آٹھواں آسمان فلک اطلس ہے۔ پھر ہر آسمان میں سات سیاروں میں سے ایک سیارہ مرکوز ہے اور ان سیاروں کی یہ ترتیب ہے : زحل، مشتری، مریخ شمس، زھرہ، عطارد اور قمر، اور شریعت میں سرف سات آسمانوں کا ذکر ہے۔ جن علماء نے اطلاقات شروعیہ کو فلاسفہ کے اقوال کے مطابق کرنے کا قصد کیا انہوں نے کرسی کو آٹھوں آسمان اور عرش کو نواں آسمان قرار دیا۔ لیکن یہ عبث کوشش ہے کیونکہ فلاسفہ کے اقوال کسی یقینی دلیل پر مبنی نہیں ہیں بلکہ وہ صرف ظن، تخمین، وہم اور قیاس پر مبنی ہیں۔ جبکہ وحی دلیل قطعی ہے۔ اس لیے وحی الٰہی کو یونانی فلسفیوں کے اقوال کے تابع کرنا صحیح نہیں ہے۔ نیز یہ واضح رہے کہ قدیم فلسفہ یونان اور چیز ہے اور سائنس اور چیز ہے۔ فلاسفہ کے نظریات ان کے عقلی اور وہمی دلائل پر مبنی ہوتے ہیں جبکہ سائنس کی بنیاد تجربہ اور مشاہدہ پر ہے۔ جس قدر ایجادات ہوئی ہیں، برقی آلات، برقی سواریاں، برقی سازوسامان، ریڈیو، ٹی، وی، ٹیلی فون اور مختلف امراض ایلوپیتھک دوائیں اور طبی آلات اور شوگر، بلڈ پریشر اور کلسٹرول ناپنے کے پیمانے۔ یہ سب سائنس کی بدولت حاصل ہوئے ہیں ان میں سے کوئی چیز فلسفیوں کے اقوال سے حاصل نہیں ہوئی۔ سائنس دان اپنے حساب کتاب کے ذریعہ کئی سال پہلے بتا دیتے ہیں کہ فلاں مہینہ کی فلاں تاریخ کو فلاں وقت پر سورج یا چاند گرہن لگے گا اور اتنی دیر تک رہے گا اور فلاں فلاں ملک میں فلاں فلاں وقت پر نظر آئے گا اور فلاں فلاں ملک میں نظر نہیں ائے گا اور آج تک اس کے سرمو خلاف نہیں ہوا۔ اسی طرح جب وہ چاند کی طرف راکٹ چھوڑتے ہیں تو بتا دیتے ہیں کہ اس کا آخری کیپسول جس میں خلا نورد ہوتے ہیں، وہ فلاں تاریخ کو اتنے بجے سمندر کے فلاں علاقہ میں گرے گا اور کبھی اس کے خلاف نہیں ہوا۔

یہ سب کچھ ایک کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت ہورہا ہے۔ اور یہ سب صحیح حساب و کتاب اور سائنس کا کرشمہ ہے۔ بعض لوگ جو فلسفہ اور سائنس کا فرق بھی نہیں جانتے، وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پہلے سائنس دان کہتے تھے کہ سورج اور چاند ساکن ہیں اور اب کہتے ہیں کہ متحرک ہیں۔ اس لیے سائنس کے مطابق قرآن مجید کی تفسیر کرنا صحیح نہیں ہے۔ وہ کل کچھ کہتی ہے، آج کچھ کہتی ہے۔ حالانکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ فلسفہ ایک نظریہ ہے اور سائنس تجربہ اور مشاہدہ ہے اور آج دنیا کے ہر شعبہ میں ترقی سائنس کی بنیاد پر ہے۔ اور قرآن مجید کی کوئی تصریح سائنس کے خلاف نہیں ہے۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی ارشاد جو صحیح سند سے ثابت ہو، سائنس کے خلاف نہیں ہے۔ اور اگر کوئی ضعیف روایت سائنس کے خلاف ہو تو اس کا سبب اس متن کا ضعف نہیں ہے۔ بلکہ اس سند کا ضعف ہے۔ نیز ہم سائنس کے تابع ہو کر قرآن مجید کی تفسیر کرنا صحیح نہیں ہے۔ وہ کل کچھ کہتی ہے، آج کچھ کہتی ہے۔ حالانکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ فلسفہ ایک نظریہ ہے اور سائنس تجربہ اور مشاہدہ ہے اور آج دنیا کے ہر شعبہ میں ترقی سائنس کی بنیاد پر ہے۔ اور قرآن مجید کی کوئی تصریح سائنس کے خلاف نہیں ہے۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی ارشاد جو صحیح سند سے ثابت ہو، سائنس کے خلاف نہیں ہے۔ اور اگر کوئی ضعیف روایت سائنس کے خلاف ہو تو اس کا سبب اس متن کا ضعف نہیں ہے۔ بلکہ اس سند کا ضعف ہے۔ نیز ہم سائنس کے تابع ہو کر قرآن مجید کی تفسیر نہیں کرتے بلکہ سائنس کے ذریعہ قرآن مجید کی حقانیت کا اظہار کرتے ہیں کہ جو بات اب سائنس سے ثابت ہوئی ہے، وہ بہت پہلے قرآن مجید نے بتادی تھی۔ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ سائنس کے مخالف ہیں، وہ اپنی عام زندگی میں بلکہ عبادات میں بھی سائنسی ایجادات سے استفادہ کرتے ہیں۔ پٹرول کاروں، بسوں، ریل گاڑیوں اور ہوائی جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔ بجلی کی روشنی اور پنکھوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ٹیلی فون اور ٹیلی گراف سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر پر تقریریں کرتے ہیں اور گھڑیوں کے حساب سے نماز پڑھاتے ہیں۔ ریڈیو اور ٹیوی کے اعلانات سے یا گھڑیوں کے حساب سے سحر اور افطار کرتے ہیں۔ رمضان، عید الفطر، عید الاضحی اور حج کے مہینوں کا علم بھی ریڈیو، ٹیوی اور اخبارات کے ذریعہ ہوتا ہے اور ان سب کا ثبوت سائنسی تحقیقات کا مرہون منت ہے۔ یا تو یہ لوگ اب سے ایک ہزار سال پہلے کے طور طریقوں کے مطابق زندگی بسر کریں یا پھر سائنس کے اصولوں پر اعتراض کرنا چھوڑ دیں۔ 

یغشی اللیل النہار : وہ رات سے دن کو چھپا لیتا ہے۔ 

حثیثا : حث کا معنی کسی کو برانگیختہ کرنا ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ دن رات کو جلد طلب کرتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دلیل : اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے احوال بیان فرمائے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر دلائل بیان فرمائے ہیں تاکہ ان دلائل میں غور و فکر کرکے اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لایا جائے اور توحید اور رسالت پر ایمان لانے سے ہی انسان کی آخرت بہتر ہوتی ہے۔ 

آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش کسی فاعل مختار اور قادر پر موقوف ہے، کیونکہ ان کا اجسام مخصوصہ، صور مخصوصہ اور اوضاع مخصوصہ پر ہونا کسی مرجح اور مخصص کا تقاضا کرتا ہے، اور اس مرجح کا واجب الوجود ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ممکن اپنے وجود میں پھر کسی مخصص اور مرجح کا محتاج ہوگا اور قطعی تسلسل کے لیے ہمیں ایک واجب الوجود فاعل کو ماننا پڑے گا اور واجب الوجود کا واحد ہونا ضروری ہے کیونکہ تعدد و جباء محال ہے اور یہ اس لیے محال ہے کہ اگر دو واجب الوجود فرض کیے جائیں تو نفس وجوب ان دونوں میں مشترک ہوگا۔ اور چونکہ اثنینیت بلا امتیاز باطل ہے اس لیے ان میں ایک مابہ الامتیاز بھی ہوگا پس ان میں سے ہر ایک مابہ الاشتراک اور مابہ الامتیاز سے مرکب ہوگا اور ہر مرکب حادث اور ممکن ہوتا ہے اور یہ خلاف مفروض ہے کیونکہ ان کو واجب فرض کیا تھا اور لازم آیا کہ یہ ممکن ہیں اور یہ خرابی تعدد و جباء ماننے سے لازم آئی۔ اس لیے واجب الوجود صرف ایک ہوگا دو نہیں ہوسکتے۔ لہذا اللہ تعالیٰ کا آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہی خالق ہے اور وہ واحد ہے۔

زمینوں اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنانے کی حکمت : اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں بنایا ہے حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو ایک لمحہ میں بھی بنا سکتا تھا اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی ایک حد اور مدت مقرر فرمائی ہے۔ سردیوں اور گرمیوں کے موسم بنائے لیکن یہ موسم بھی تدریجاً ظہور میں آتے ہیں۔ سخت سردی اچانک سخت گرمی میں تبدیل نہیں ہوتی بلکہ تدریجاً سردی سے گرمی اور گرمی سے سردی کی طرف موسم کا انتقال ہوتا ہے۔ انسان کی پیدائش کا عمل بھی اچانک وجود میں نہیں آتا۔ بلکہ نطفہ نو ماہ میں تدریجاً انسان کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح نباتات کی روئیدگی ہے۔ کفار پر جو دنیا میں عذاب آئے، وہ بھی اچانک نہیں آئے۔ ان کو بار بار تنبیہ کی گئی ڈرایا گیا اور ہر طرح حجت پوری کرنے کے بعد ان پر عذاب بھیجا گیا جبکہ وہ فوری عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی حد اور مدت مقرر کی ہے اور اسی سنت کے مطابق زمینوں اور آسمانوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں بنایا ہے۔ نیز جو چیز دفعتاً وجود میں آئے، اس کے متعلق یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ شاید یہ اتفاقی حادثہ ہے اور جس چیز کو ایک معین مدت میں تدریجاً بنایا جائے، اس کو اتفاقی حادثہ قرار دینا صحیح نہیں ہوگا بلکہ ہر ذی شعور یہ کہے گا کہ اس کو قادر اور حکیم نے ایک خاص منصوبہ اور خاص مصلحت سے بنایا ہے۔ سو زمینوں اور آسمانوں کا چھ دنوں میں بننا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کائنات کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ اس غالب اور قوی، زبردست علیم و حکیم اور قادر وقیوم کی حکمت اور قدرت کا ساختہ پر اختہ ہے۔ اور اسمیں مخلوق کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ کسی کام کے کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہر کام اطمینان اور صحیح منصوبہ بندی سے کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے پر قادر تھا اس کے باوجود اس نے چھ دنوں میں زمینوں اور آسمانوں کو بنایا۔ 

حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ چھ دن اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ ہیں۔ تمام خلق ان ہی ایام میں مجتمع ہوئی اور ان ہی ایام میں حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے۔ اس میں اختلاف ہے کہ ان میں سے ہر دن ایام دنیا کی مقدار کے برابر تھا یا ہر دن میں ایک ہزار سال کا تھا، جیسا کہ مجاہد اور امام احمد بن حنبل نے اس کی تصریح کی ہے اور حضرت ابن عباس سے بھی ایک روایت ہے۔ بہرحال یوم السبت (ہفتہ کا دن) میں کوئی چیز پیدا نہیں کی گئی کیونکہ یہ ساتواں دن ہے اور اس کا نام سبت رکھا گیا ہے جس کا معنی ہے قطع کرنا۔ پیدائش کا سلسلہ اس دن منقطع ہوگیا تھا۔ (تفسیر ابن کثیر ج 7 ص 178، مطبوعہ دار الاندلس، بیروت)

چھ دنوں کی تفصیل میں احادیث کا اضطراب اور معتبر حدیث کی تعیین : امام عبداللہ بن محمد بن جعفر المعروف بابی الشیخ المتوفی 396 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہود نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے متعلق سوال کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اتوار اور پیر کے دن زمین کو بنایا اور منگل کے دن پہاڑوں کو بنایا اور ان میں نفع بخش چیزوں کو بنایا اور بدھ کے دن درخت، پانی، شہر، آباد اور بنجر زمین کو بنایا۔ یہ چار دن ہیں جیسا کہ اس آیت میں ہے : ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین و تجعلون لہ اندادا ذلک رب العالعالمین۔ و جعل فیہا رواسی من فوقہا وبارک فیہا و قدر فیہا اقواتھا فی اربعۃ ایام۔ سواء للسائلین : آپ کہیے بیشک تم ضرور اس کا کفر کرتے ہو جس نے دو دنوں میں زمین کو بنایا اور تم اس کے لیے شریک قرار دیتے ہو یہ ہے رب العالمین۔ اور زمین میں اس کے اوپر سے بھاری پہاڑوں کو نصب کردیا اور اس میں برکت فرمائی، اور اس زمین میں (اس کے باشندوں کی) غذائیں چار دنوں میں مقدر فرمائیں جو مانگنے والوں کے لیے برابر ہیں ” (حم السجدہ : 9 ۔ 10)

اور دوسری روایت میں ہے : حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے سب سے پہلے اتوار اور پیر دو دنوں میں زمین کو بنایا اور اس کے باشندوں کی روزی چار دنوں میں مقدر فرمائی۔ پہاڑ نصب کیے، دریا جاری کیے، درخت اگائے اور سمندر رواں کیے اور یہ منافع منگل اور بدھ دونوں میں بنائے۔ پھر یہ آیت پڑھی : ” ثم استوی الی السماء وھی دخان فقال لہا وللارض ائتیا طوعا او کرھا قالتا اتینا طائعین۔ فقضٰہن سبع سموت فی یومین : پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا آنحالیکہ وہ دھواں تھا تو اسے اور زمین کو فرمایا تم دونوں حاضر ہوجاؤ خواہ خوشی سے خواہ ناخوشی سے، ان دونوں نے کہا ہم خوشی سے حاضر ہوئے۔ تو ان کو دو دنوں میں پورے سات آسمان بنادیا “۔

حضرت ابن عباس نے فرمای : یہ دو دن جمعرات اور جمعہ ہیں۔ (کتاب العظمۃ، ص 291 ۔ 292، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1414 ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتوار اور پیر کو زمین بنائی اور منگل اور بدھ کو اس میں پہاڑ نصب کیے، دریا جاری کیے اور درخت اگائے اور جمعرات اور جمعہ کو آسمان بنائے اور ہفتہ کا دن فراگت کا تھا۔ یہود اس دن چھٹی مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے آرام فرمایا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے اس قول پر ناراض ہوئے اور آپ نے یہ آیت پڑھی : ” ولقد خلقنا السموات والرض وما بینہما فی ستۃ ایام و ما مسنا من لغوب۔ فاصبر علی ما یقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب : اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، چھ دنوں میں بنایا اور ہمیں کوئی تھکاوٹ نہیں ہوئی۔ تو آپ ان کی باتوں پر صبر کیجیے اور اپنے رب کی حمت کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے ” (کتاب العظمۃ، ص 292، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1414 ھ) 

حضرت عبداللہ بن سلام (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اتوار اور پیر کو دونوں میں زمین کو پیدا کیا اور اس میں منگل اور بدھ کو دو دنوں میں اس کے باشندوں کی روزی مقدر کی اور جمعرات اور جمعہ کو دو دنوں میں آسمانوں کو پیدا کیا اور جمعہ کی آخری ساعت میں (عصر اور مغرب کے درمیان) حضرت آدم کو عجلت سے پیدا کیا اور یہی وہ ساعت ہے جس میں قیامت واقع ہوگی۔ (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی، ص 383، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ نے اتوار اور پیر کو زمین بنائی اور منگل کے دن پہاڑ بنائے اور دریا اور درخت بدھ کو بنائے اور پرندے، وحشی جانور، درندے، حشرات الارض اور آفت (مصیبت) جمعرات کو بنائی اور انسان کو جمعہ کے دن بنایا اور ہفتہ کے دن پیدا کرنے سے فارغ ہوگیا۔ (کتاب العظمۃ، ص 293، مطبوعہ بیروت، 1414 ھ) 

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اللہ عز وجل نے ہفتہ کے دن مٹی (زمین) پیدا کی اور اتوار کے دن اس میں پہاڑ نصب کیے اور پیر کے دن درخت پیدا کیے اور منگل کے دن ناپسندیدہ چیزیں پیدا کیں اور بدھ کے دن نور پیدا کیا اور جمعرات کے دن زمین میں جانور پیدا کیے، اور جمعہ کی آخری ساعت میں عصر اور مغرب کے درمیان آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ (صحیح مسلم، المنافقین : 27 (2789) 6920 ۔ مسند احمد، ج 3، رقم الحدیث : 8349 ۔ سنن کبری للنسائی، رقم الحدیث : 13557)

علامہ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم القطبی المتوفی 656 ھ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں : نور سے مراد اجسام نیرہ ہیں مثلا سورج، چاند اور ستارے اور یہ حدیث اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدھ کے دن تمام آسمانوں کو پیدا کیا کیونکہ یہ تمام سیارے آسمانوں میں ہیں اور ان کا نور اور روشنی آسمان اور زمی کے درمیان ہے۔ 

تحقیق یہ ہے کہ اس حدیث میں آسمانوں کی پیدائش کی تصریح نہیں ہے اور اس میں ہفتہ کے پورے سات دن ذکر کیے گئے ہیں اور اگر ان سات دنوں کے بعد کسی ایک دن میں آسمانوں کو پیدا فرمایا تو آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش آٹھ دنوں میں قرار پائے گی اور یہ قرآن مجید کی تصریح کے خلاف ہے۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے سلسلہ میں معتمد قرآن مجید کی یہ آیات ہیں : ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین (الایات) (حم السجدہ : 9-12) ۔ (المعجم، ج 7، ص 343، مطبوعہ دار ابن کثیر، بیروت، 1417 ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ صحیح مسلم کی اس حدیث میں صرف زمین کی پیدائش سات دنوں میں ذکر کی گئی ہے جبکہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں یہ تصریح ہے کہ تمام زمینوں اور آسمانوں کی پیدائش چھ دنوں میں کی گئی ہے اس لیے یہ حدیث صریح قرآن کے خلاف ہونے کی وجہ سے غیر معتبر ہے۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ امام بخاری اور دیگر حفاظ حدیث نے اس حدیث پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے اس کو کعب احبار سے سنا ہے یعنی یہ اسرائیلیات سے ہے اور حدیث مرفوع نہیں ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، ج 3، ص 178) زمینوں اور آسمانوں کی پیدائش کے سلسلہ میں مضطرب اور متعارض احادیث وارد ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو ذکر کیا ہے۔ ان احادیث میں وہی حدیث معتبر ہے جو قرآن مجید کے مطابق ہے اور سورة حم السجدہ میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ چار دنوں میں سے اللہ تعالیٰ نے دو دنوں میں زمینوں کو بنایا اور باقی دو دنوں میں پہاڑوں اور زمین کے باشندوں کی غذاؤں کے لیے دوسری چیزوں کو بنایا اور اس کے بعد دو دنوں میں آسمانوں کو بنایا اور اس کے موافق وہ روایت ہے جس کو امام بیہقی نے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے روایت کیا ہے۔ (کتاب الاسماء والصفات، ص 383، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اور امام محمد بن جعفر بن جریر متوفی 310 ھ کی یہ روایت بھی قرآن مجید کے موافق ہے : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اتوار اور پیر کو زمین بنائی اور منگل کو اس میں پہاڑ اور دیگر نفع آور چیزیں بنائیں اور بدھ کو درخت، دریا، شہر اور آباد اور ویران زمینیں بنائیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پر ھی : بیشک تم ضرور اس کا کفر کرتے ہو جس نے دو دنوں میں زمین کو بنایا اور تم اس کے لیے شریک قرار دیتے ہو یہ ہے رب العالمین۔ اور زمین میں اس کے اوپر سے بھاری پہاڑوں کو نصب کردیا اور اس میں برکت فرمائی اور اس زمین میں (اس کے باشندوں کی) غذائیں چار دنوں میں مقدر فرمائی جو مانگنے والوں کے لیے برابر ہیں (حم السجدہ :9 ۔ 10) ۔ اور جمعرات کے دن اللہ نے آسمان کو پیدا کیا اور جمعہ کے دن ستاروں کو، سورج کو، چاند کو اور فرشتوں کو پیدا کی اور جمعہ کے دن آخری تین ساعات میں سے پہلی ساعت میں ہر مرنے والے شخص کی موت پیدا کی، اور دوسری ساعت میں انسان کو نفع دینے والی چیزوں کی آفت پیدا کی اور تیسری اور آخری ساعت میں آدم کو پیدا کی اور ان کو جنت میں رکھا اور ابلیس کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا اور ساعت کے آخر میں ابلیس کو جنت سے نکال دیا۔ یہود نے پوچھا : اے سیدنا محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پھر کیا ہوا ؟ آپ نے فرمایا پھر اللہ عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ انہوں نے کہا : آپ نے ٹھیک بتایا ہے کاش ! آپ اس بات کو مکمل کردیتے ! انہوں نے کہا : پھر (ہفتہ کے دن) اللہ نے آرام کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غضب ناک ہوئے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، چھ دنوں میں بنایا اور ہمیں کوئی تھکاوٹ نہیں ہوئی۔ تو آپ ان کی باتوں پر صبر کیجیے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے۔ (ق۔ 30 ۔ 39) ۔ (جامع البیان جز 24، ص 118-119، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، المستدرک، ج 2، ص 450 ۔ 451 ۔ امام ذہبی نے امام حاکم کی موافقت کی ہے، تلخیص المستدرک، ج 2، ص 450 ۔ 451 ۔ الدر المنثور، ج 7، ص 14، طبع بیروت)

عرش پر استواء اور اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کے متلعق شیخ ابن تیمیہ کا موقف : 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پھر وہ عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ 

شیخ احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ متوفی 728 ھ لکھتے ہیں : اللہ پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں اپنی جو صفات بیان کی ہیں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو آپ کی صفات بیان کی ہیں ان پر بغیر تحریف اور بغیر تکیف اور تمثیل کے ایمان لایا جائے (یعنی ان صفات کی کوئی تاویل نہ کی جائے نہ ان کی مخلوق کے ساتھ مثال دی جائے) بلکہ یہ ایمان رکھا جائے کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع اور بصیر ہے اور اللہ نے جس چیز کے ساتھ خود کو موصوف کیا ہے اس کی نفی نہ کیا جائے اور اللہ کے کلمات کو بدلا نہ جائے اور اس کے اسماء اور اس کی آیات کو بدلا نہ جائے۔ نہ ان کا کوئی معنی متعین کیا جائے اور نہ مخلوق کی صفات سے ان کی مثال دی جائے کیونکہ اللہ سبحانہ کا کوئی ہم نام ہے نہ اس کا کا کوئی کفو ہے، نہ کوئی اس کی مثیل اور نظیر ہے نہ اس کا مخلق پر قیاس کیا جائے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ خود انے آپ کو اور دوسروں کو زیادہ جاننے والا ہے اور اس کا قول سب سے زیادہ سچا ہے۔ ھر اس کے تمام رسول سچے ہیں، بہ خلاف ان لوگوں کے جو بغیر علم کے اللہ کے متعلق باتیں کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون۔ وسلام علی المرسلین۔ والحمد للہ رب العالمین : آپ کا رب عزت والا ہے آپ کا رب ہر اس عیب سے پاک ہے جو (کفار) بیان کرتے ہیں اور سلام ہو رسولوں پر، اور تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے ” (الصافات : 180 ۔ 182) ۔

رسولوں کے مخالفین اللہ کی جو صفات بیان کرتے تھے اللہ نے ان سے اپنی براءت فرمائی ہے اور رسولوں نے جو اللہ کی نقص اور عیب سے براءت بیان کی تھی ان پر سلام بھیجا ہے۔ (الی قولہ) اللہ سبحانہ کے لیے سمع اور بصر ثابت ہے کیونکہ اس نے فرمایا ہے (ھو السمیع البصیر، (الی قولہ) اللہ کے لیے چہرہ ثابت ہے کیونکہ اس نے فرمایا ہے ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرم اور کل شیء ھالک الا وجھہ اور اللہ کے لیے دو ہاتھ ثابت ہیں کیونکہ اس نے فرمایا ہے۔ مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی اور اللہ کے لیے دو آنکھیں ثابت ہیں کیونکہ اس نے فرمایا ہے واصبر لحکم ربک فانک باعیننا اور اللہ کے لیے عرش پر استوا ثابت ہے کیونکہ اس نے فرمایا ہے الرحمن علی الرش استوی اور اس طرح کی سات آیتیں ہیں۔ (العقیدۃ الواسطیہ مع شرحہ، ص 15 ۔ 63 ۔ ملخصا مطبوعہ دار السلام، ریاض 1414 ھ)

اس کے بعد احادیث سے استدلال کرتے ہوئے شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : اللہ آسمان دنیا کی طرف اپنی شان کے لائق نازل ہوتا ہے جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر رات کے آخری تہائی حصہ میں ہمارا رب آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اللہ خوش ہوتا ہے اور ہنستا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمای : اللہ کو اپنے بندہ کی توبہ سے اس سے زیادہ کوشی ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی ایک کو گم شدہ اونٹنی کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اللہ ان دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے اور دونوں جنت میں داخل ہوجاتے ہیں (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اللہ کی ٹانگ اور قدم ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہنم میں لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا حتی کہ وہ کہے گی کیا اور زیادہ بھی ہیں حتی کہ رب العزت اس میں اپنی ٹانگ رکھ دے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا۔ (بخاری و مسلم) ۔ (العقیدۃ الواسطیہ ص 80-83، ملخصا مع شرحہ مطبوعہ دار السلام ریاض 1414 ھ) 

شیخ ابن تیمیہ کی ان عبارات کا بظاہر یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ، آنکھیں دو ہاتھ، ٹانگ اور قدم ہے اور وہ عرش پر مستوی ہے۔ شرح القیدۃ الواسطیہ میں لکھا ہے اس کا معنی ہے وہ عرش پر بلند ہے یا چرھنے والا یا اس پر مستقر ہے۔ اللہ کی یہ صفات مخلوق کی صفات کی طرح نہیں ہیں اور ان کی کوئی مثال نہیں ہے۔ ان صفات کی کوئی تاویل اور توجیہ کرنا جائز نہیں چونکہ ان صفات کا قرآن اور سنت میں ذکر ہے اس لیے ان کو اسی طرح ماننا لازم ہے۔ بہ ظاہر یہ عقیدہ اشاعرہ اور دیگر متقدمین کے عقیدہ کی مثل ہے لیکن شیخ ابن تیمیہ کے معاصر اور بعد کے چقہ علماء نے یہ کہا ہے کہ شیخ ابن تیمیہ کے ان اقوال سے اللہ تعالیٰ کے لیے جہت اور جسمیت کا ماننا لازم آتا ہے اس بناء پر بعض علماء راسخین نے شیخ ابن تیمیہ کو گمراہ کہا اور بعض نے ان کی تکفیر کردی۔ 

استواء اور صفات کے مسئلہ میں شیخ ابن تیمیہ کے مخالفین : 

حافظ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں : شیخ ابن تیمیہ نے عقیدہ حمویہ اور واسطیہ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہاتھ، پیر، چہری اور پنڈلی کا جو ذکر آیا ہے وہ اس کی صفات حقیقیہ ہیں اور اللہ تعالیٰ عرش پر بذاتہ مستوی ہے اس سے کہا گیا کہ اس سے تحیز اور انقسام لازم آئے گا تو اس نے کہا میں یہ نہیں جانتا کہ تحیز اور انقسام اجسام کے خواص میں سے ہے اسی وجہ سے ابن تیمیہ کے متعلق کہا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے تحیز اور انقسام کا قائل ہے۔ (الدر الکامنہ، ج 1، ص 154، مطبوعہ دار الجبل، بیروت) 

علامہ احمد بن حجر ہیثمی مکی متوفی 974 ھ لکھتے ہیں : ابن تیمیہ کا یہ قول ہے کہ اللہ تعالیٰ جسمیت، جہت، اور انتقال سے موصوف ہے اور وہ عرش کے برابر ہے نہ چھوٹا نہ بڑا۔ اللہ تعالیٰ اس قبیح افتراء سے پاک ہے جو کہ صریح کفر ہے۔ (الفتاوی الحدیثیلہ ص 100، مطبوعہ مصطفیٰ البابی الحلبی واولادہ، بہ مصر، 1356 ھ)

تبیان القرآن جلد ثانی میں النساء 158 کی تفسیر میں ہم نے بہ کثرت علماء کی عبارات نقل کی ہیں جنہوں نے اس مسئلہ میں شیخ ابن تیمیہ کی تکفیر کی ہے۔ 

استواء اور صفات کے مسئلہ میں شیخ ابن تیمیہ کے موافقین : ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی 1014 ھ لکھتے ہیں : شیخ عبداللہ انصاری حنبلی قدس سرہ نے شرح منازل السائرین میں شیخ ابن تیمیہ سے اس تہمت کو دور کیا ہے کہ وہ اللہ کے لیے جہت کے قائل تھے اور اللہ تعالیٰ کو جسم مانتے تھے اور انہوں نے شیخ مذکور سے تکفیر اور تضلیل کی نفی کی ہے ان کی عبارت یہ ہے : 

شیخ ابن تیمیہ نے اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی صفات کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کرکے اور ان کے معانی متبادرہ کے اعتقاد کی تلقین کرکے ان اسماء اور صفات کی حرمت کو محفوظ کیا ہے۔ کیونکہ جب امام مالک (رح) سے سوال کیا گیا کہ الرحمن علی العرش استوی میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء کا کیا معنی ہے ؟ تو امام مالک نے پہلے سرجھکا کر غور کیا پھر کہا استواء معلوم ہے (کسی چیز پر مستقر ہونا یا کسی چیز پر بلند ہونا) اور اس کی کیفیت عقل میں نہیں آسکتی (کہ اللہ کس طرح عرش پر مستوی ہے) اور اس استواء پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کا سوال کرنا بدعت ہے۔ امام مالک نے اس کے معنی کے معلوم ہونے اور اس کی کیفیت کے انسانی عقل میں نہ آنے کے درمیان فرق کیا ہے۔ امام مالک (رح) کا یہ جواب اللہ تعالیٰ کی صفات سے متعلق تمام مسائل میں کافی شافی ہے۔ سمع، بصر، علم، حیات، قدرت، ارادہ، اللہ کا نزول، غضب، رحمت اور اس کا ہنسنا۔ ان تمام الفاظ کے معانی معلوم ہیں اللہ کے ساتھ ان کے اتصاف کی کیفیت انسان کی عقل میں نہیں آسکتی، کیونکہ کسی چیز کی کیفیت تب عقل میں آتی ہے جب اس کی ذات اور کنہ کا علم حاصل ہوچکا ہو۔ اور جب اس کی ذات غیر معلوم ہے تو اس کی صفات کی کیفیت کیسے عقل میں آسکتی ہے اور اس باب میں صحیح موقف یہ ہے کہ اللہ کو اسی صفت کے ساتھ موصوف کیا جائے جس صفت کے ساتھ خود اللہ نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور اس کے رسول نے جس صفت کے ساتھ اس کو موصوف کیا ہے اور ان صفات میں نہ کوئی تحریف کی جائے (بایں طور کہ از خود ان صفات کا کوئی معنی یا محمل بیان کیا جائے) نہ ان صفات کو معطل کیا جائے (یعنی ان کی نفی کی جائے) نہ ان کی کیفیت بیان کی جائے (ان کی کوئی تاویل کی جائے) اور نہ ان کی کوئی مثال بیان کی جائے، بلکہ اللہ کے اسماء اور اس کی صفات کو ثابت کیا جائے اور ان سے مخلوقات کی مشابہت کی نفی کی جائے۔ پس تمہارا صفات کو ثابت کرنا تشبیہ سے منزہ ہو اور تمہارا نفی کرنا تعطیل سے منزہ ہو۔ سو جس نے استواء کی حقیقت کی نفی کی، وہ معطل ہے اور جس نے مخلوقات کے مخلوقات پر استواء کے ساتھ تشبیہ دی، وہ مشبہ ہے۔ اور جس نے یہ کہا کہ اللہ کے استواء کی مثل کوئی چیز نہیں ہے وہ موحد ہے اور منزہ ہے۔ یہاں تک علامہ عبداللہ انصاری حنبلی کا کلام ہے۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق شیخ ابن تیمیہ کا اعتقاد اسلام صالحین اور جمہور متاخرین کے اعتقاد کے موافق ہے اور ان کی عبارت پر یہ طعن اور تشنیع صحیح نہیں ہے۔ ان کا یہ کلام بعینہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے موافق ہے جو انہوں نے الفقہ الاکبر میں تحریر فرمایا ہے۔ (ہم عنقریب اس عبارت کو نقل کریں گے) اس سے معلوم ہوگیا کہ شیخ ابن تیمیہ پر یہ اعتراض کرنا صحیح نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے جہت اور جسم کا عقیدہ رکھتے تھے۔ (مرقات، ج 8، ص 251 ۔ 252، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، 1390 ھ)

نوٹ : شیخ ابن تیمیہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک زیارت کے لیے سفر کو حرام کہا ہے اس بنا پر شیخ ابن تیمیہ کی تکفیر کو ملا علی قاری رحمہ الباری نے شرح الشفاء علی نسیم الریاض، ج 3، ص 514 میں صحیح قرار دیا ہے اور ان کی یہ کتاب مرقات کے بعد کی تصنیف ہے۔ اس لیے مرقات میں جو انہوں نے شیخ ابن تیمیہ کو اس امت کا ولی کہا ہے، اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔

علامہ محمد امین بن محمد المختار الحکنی الشنقیطی لکھتے ہیں : عرش پر استواء اور اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کے معاملہ میں دو باتوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے ایک یہ کہ اللہ جل و علا حوادث کی مشابہت سے منزہ ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جن صفات کے ساتھ اپنے آپ کو موصوف کیا ہے یا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جن صفات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو موصوف کیا ہے ان صفات پر ایمان رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ اللہ کی صفات کو جاننے والا کوئی نہیں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے لیے جس وصف کو ثابت کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے لیے کسی وصف کو ثابت کیا، پھر شخص نے اللہ تعالیٰ سے اس وصف کی یہ زعم کرتے ہوئے نفی کی کہ وہ وصف اللہ کی شان کے لائق نہیں ہے تو اس نے اپنے آپ کو اللہ جل و علا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ عالم قرار دیا۔ سبحانک ھذا بہتان عظیم۔ اور جس نے یہ اعتقاد رکھا کہ اللہ کا وصف مخلوق کے اوصفا کے مشابہ ہے تو وہ مشبہ، ملحد اور گمراہ ہے اور جس نے اللہ جل و علا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ثابت کیے ہوئے اوصاف کو اللہ کے لیے مانا جبکہ وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہ اوصاف، مخلوقات کی صفات کی مشابہت سے منزہ ہیں تو وہ مومن ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور جلال کو اور مشابہت خلق سے تنزیہ کو ماننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات کو واضح فرما دیا ہے : ” لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر : اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سننے والا ہے اور دیکھنے والا ہے ” (الشوری :11) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے صفات کمال اور جلال کو ثابت فرمایا ہے اور مخلوق کے ساتھ مشابہت کی نفی فرمائی ہے۔ (اضواء البیان، ج 2، ص 272-273، مکتبہ ابن تیمیہ، قاھرہ، 1408 ھ)

استواء اور صفات کے مسئلہ میں متقدمین احناف کا موقف : 

امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت متوفی 150 ھ فرماتے ہیں : اللہ نہ جوہر نہ عرض ہے، نہ اس کی کوئی حد ہے نہ اس کا کوئی منازع ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ اس کی کوئی مثال ہے اور اس کا ہاتھ ہے اور اس کا چہرہ ہے اور اس کا نفس ہے۔ قرآن مجید میں اللہ نے جو چہرہ، ہاتھ اور نفس کا ذکر کیا ہے، وہ اس کی صفات بلا کیف ہیں اور یہ توجیہ نہ کیا جائے کہ ہاتھ سے مراد اس کی قدرت یا نعمت ہے کیونکہ اس توجیہ میں اس کی صفت کو باطل کرنا ہے اور یہ قدریہ اور معتزلہ کا قول ہے لیکن اس کا ہاتھ اس کی صفت بلاکیف ہے اور اس کا غضب اور اس کی رضا اس کی صفات میں سے بلاکیف دو صفتیں ہیں (الفقہ الکبر مع شرحہ، ص 36-37، مطبوعہ شر کہ مکتبہ و مطبعہ مصطفیٰ البابی، مصر، 1375 ھ)

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام الحنفی المتوفی 861 ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے اور یہ ایسا استواء نہیں ہے جیسا ایک جسم کا دوسرے جسم پر استواء ہوتا ہے کہ وہ اس سے مم اس ہوتا ہے۔ یا اس کی محاذت (سمت) میں ہوتا ہے بلکہ جو استواء اس کی شان کے لائق ہو جس کو اللہ سبحانہ ہی زیادہ جاننے والا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ اس پر ایمان لانا واجب ہے کہ اللہ عرش پر مستوی ہے اور مخلوق کے ساتھ اس کی مشابہت کی نفی کی جائے۔ رہا یہ کہ استواء علی العرش سے مراد عرش پر غلبہ ہو تو یہ ارادہ بھی جائز ہے۔ البتہ اس ارادہ کے واجب ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے اور واجب وہی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ البتہ اگر یہ کدشہ ہو کہ عام لوگ استواء سے وہی معنی سمجھیں گے کہ جو جسم کے لوازم سے ہے کہ اللہ عرش سے متصل ہے یا عرش کے مم اس ہے یا عرش کی محاذات میں ہے تو استواء کو غلبہ سے تعبیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح کتاب اور سنت میں جو ایسے الفاظ ہیں جن سے جسمیت ظاہر ہوتی ہے مثلاً انگلی، قدم اور ہاتھ ان پر ایمان لانا واجب ہے کیونکہ انگلی اور ہاتھ وغیرہ اللہ کی صفت ہیں۔ ان سے مراد یہ مخصوص اعضاء نہیں ہیں بلکہ وہ معنی مراد ہے جو معنی اللہ کی شان کے لائق ہے اور اللہ سبحانہ ہی اس معنی کو زیادہ جاننے والا ہے اور کبھی ہاتھ اور انگلی کی تاویل قدرت اور قہر سے کی جاتی ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حجر اسود اللہ کا دایاں ہاتھ ہے اس کی تاویل کی جاتی ہے تاکہ عام لوگوں کی عقلیں اللہ تعالیٰ کی جسمیت کی طرف نہ منتقل ہوں۔ اس تاویل سے یہ ارادہ بھی ممکن ہے لیکن اس پر جزم اور یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے اصحاب (ماتریدیہ) کے قول کے مطابق یہ الفاظ متشابہات سے ہیں اور متشابہ کا حکم یہ ہے کہ اس دنیا میں ان کی مراد متوقع نہیں ہے۔ (مسائرہ مع شرح المسامرہ، ج 1، ص 31-36، دائرۃ المعارف الاسلامیہ، مکران)

واضح رہے کہ استواء اور ہاتھ وغیرہ کی علامہ ابن ہمام نے جو تاویل بیان کی ہے امام ابوحنیفہ اور دیگر اسلاف نے اس تاویل سے منع کیا ہے۔ 

استواء اور صفات کے مسئلہ میں متقدمین شافعیہ کا موقف : 

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی شافعی متوفی 458 ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے لیے صرف ان صفات کو بیان کرنا جائز ہے جن پر کتاب اللہ دلالت کرتی ہو یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت دلالت کرتی ہو، یا اس پر اس امت کے متقدمین کا اجماع ہو یا جس پر عقل دلالت کرتی ہو۔ مثلاً حیات، قدرت، علم، ارادہ، سمع، بصر، کلام اور اس کی مثل صفات ذاتیہ، اور مثلاً خلق کرنا، رزق دینا، زندہ کرنا، مارنا، معاف کرنا، سزا دینا اور ان کی مثل صفات فعلیہ اور جن صفات کا اثبات، اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خبر سے ہوا، جیسے چہرہ، دو ہاتھ، آنکھ، یہ اس کی صفات ہیں۔ اور جیسے عرش پر مستوی ہونا اور آنا اور نازل ہونا اور اس طرح دوسری اس کے فعل کی صفات۔ یہ صفات اس لیے ثابت ہیں کہ قرآن اور حدیث میں ان کا ذکر ہے، ان صفات کو اس طرح مانا جائے کہ ان صفات کی مخلوق کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ (کتاب الاسماء والصفات، ص 110-111) ، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

سفیان ثوری نے کہا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جن اوصاف کو اپنے لیے ثابت کیا ہے، ان کی فارسی یا عربی میں تفسیر کرنا جائز نہیں ہے۔ (کتاب الاسماء والصفات، ص 314، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

امام ابو الحسین بن مسعود الفراء البغوی الشافعی المتوفی 516 ھ لکھتے ہیں : کلبی اور مقاتل نے کہا استوی کا معنی ہے استقر (قرار پکڑا) ابوعبیدہ نے کہا اس کا معنی ہے صعد (چڑھا) ۔ معتزلہ نے کہا اس کا معنی ہے استولی (اللہ عرش پر غالب ہے) اور اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ عرش پر استواء اللہ کی صفت بلاکیف ہے۔ انسان کے لیے اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کا علم وہ اللہ عزوجل کے سپرد کردے۔ (اس کے بعد انہوں نے امام مالک سے سوال اور ان کا جواب لکھا ہے) سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد، سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن المبارک اور دیگر علماء اہل سنت نے اس آیت کی تفسیر میں کہا یہ آیت اور دیگر صفات کے متعلق آیات، آیات متشابہات میں سے ہیں ان کو اسی طرح بلاکیف (یعنی استواء کی کیفیت جانے بغیر) ماننا چاہیے۔ (معالم التنزیل، ج 2 ص 137-138، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1414 ھ)

استواء اور صفات کے مسئلہ میں متقدمین مالکیہ کا موقف : 

امام حافظ ابوعمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی 463 ھ لکھتے ہیں : الرحمن علی العرش استوی (طہ :5) کی تفسیر میں امام مالک سے سوال کیا گیا کہ اللہ عرش پر کس طرح مستوی ہے ؟ امام مالک نے فرمایا : استوی کا معنی معلوم ہے (بلند ہے یا بیٹھا ہے) اور اس کی کیفیت مجہول ہے اور تمہارا اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے اور میرا گمان ہے کہ تم بد عقیدہ ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : اللہ عرش کے اوپر ہے اور اس سے تمہارا کوئی عمل مخفی نہیں ہے۔ ابن المبارک نے کہا رب تبارک و تعالیٰ سات آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر رات کے آخری تہائی حصہ میں ہمارا رب تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 1145، الموطا، رقم الحدیث : 214، مسند احمد، ج 2، ص 487)

اس قسم کے جو اطلاقات قرآن اور سنت میں ہیں ان کے متعلق علماء اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کی کیفیت کو جانے بغیر ان پر ایمان لانا حق ہے۔ وہ کہتے ہیں اللہ نازل ہوتا ہے اور کیفیت نزول کو بیان نہیں کرتے اور نہ کیفیت استواء کو بیان کرتے ہیں۔ عباد بن عوام سے شریک نے کہا : بعض لوگ ان احادیث کا انکار کرتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے نزول کا ذکر ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس یہ احادیث ان ہی اسانید سے پہنچی ہیں جن اسانید سے نماز، زکوۃ، روزے اور حج کے احکام کے متعلق احادیث پہنچی ہیں اور ہم نے اللہ عزوجل کو ان احادیث سے ہی پہچانا ہے امام شافعی نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت صرف اتباع ہے، اور بعض لوگوں نے یہ توجیہ کی کہ رب کے نزول کا معنی یہ ہے کہ اس کی رحمت اور اس کی نعمت نازل ہوتی یہ توجیہ باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی نعمت تو رات اور دن کے ہر وقت میں نازل ہوتی ہے۔ اس میں رات کے آخری تہائی حصہ یا کسی اور وقت کی خصوصیت کا کیا دخل ہے ؟ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ خصوسیت کے ساتھ اپنی رحمت سے دعا قبول فرماتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابوذر (رض) نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کس وقت میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے آپ نے فرمایا : آدھی رات کے بعد۔ (مسند احمد، ج 5، ص 179) ۔ اور ہمیشہ نیک لوگ رات کے پچھلے پہر اٹھ کر استغفار کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے والمستغفرین بالاسحار (آل عمران : 17) رات کے پچھلے اٹھ کر استغفار کرنے والے (الاستذکار ج 8، ص 151-153، مطبوعہ موسسہ الرسالہ، بیروت، 1414 ھ)

نیز امام ابن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی 463 ھ لکھتے ہیں : ایوب بن صلاح مخزومی نے ہم سے فلسطین میں بیان کیا کہ ہم امام مالک کے پاس بی تھے ہوئے تھے ایک عراق نے آپ کے پاس آکر سوال کیا کہ اللہ عرش پر کس طرح مستوی ہے ؟ امام مالک نے غور کرنے کے بعد فرمایا : تم نے اس چیز کے متعلق سوال کیا ہے جو مجہول نہیں ہے اور تم نے اس کیفیت کے متعلق سوال کیا ہے جو عقل میں نہیں آسکتی اور تم بد عقیدہ شخص ہو۔ پھر اس شخص کو آپ کی مجلس سے نکال دیا گیا۔ یحییٰ بن ابراہیم بن مزین نے کہا : امام مالک نے اس قسم کی باتوں میں بحث کرنے سے اس لیے منع فرمایا کیونکہ ان میں حد، صفت اور تشبیہ ہے اور اس میں نجات تب ہوگی جب اللہ تعالیٰ کے ان اقوال پر توقف کیا جائے جس میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی صفت، چہرے اور ہاتھوں سے بیان کی ہے اور کشادہ کرنے اور استواء سے اپنی صفت بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ : سو تم جس طرف بھی پھرو وہیں اللہ کا چہرہ ہے ” (البقرہ : 115) ۔ ” بل یداہ مبسوطتٰن : بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کشادہ (کھلے ہوئے) ہیں ” (المائدہ : 64) ۔ ” والارض جمیعا قبضتہ یوم القیامۃ والسموات مطویات بیمینہ : قیامت کے دن سب زمینیں اس کی مٹھی میں ہوں گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے ” (الزمر :67) ۔ ” الرحمن علی العرش استوی : رحمن عرش پر جلوہ فرما ہے ” (طہ :5) ۔ 

اس لیے مسلمان کو وہی کہنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرایا ہے اور اسی پر توقف کرنا چاہیے اور اس سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور اس کی تفسیر نہیں کرنی چاہیے اور یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہ کس طرح ہے کیونکہ اس میں ہلاکت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قرآن مجید پر ایمان لانے کا مکلف کیا ہے اور ان کو اس کی ان آیتوں کی تاویل میں غور کرنے کا مکلف نہیں کیا جن آیتوں کا اس نے علم عطا نہیں کیا۔ (التمہید، ج 7، ص 152، مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ، لاہور، 1404 ھ)

امام مالک نے عمر بن الحکم سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : میری ایک باندی بکریوں کو چراتی تھی ایک دن ایک بکری گم ہوگئی میں نے اس کے متعلق اس سے پوچھا تو اس نے کہا اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ مجھے اس پر افسوس ہوال۔ میں بھی آخر انسان ہوں میں نے اس کو تھپڑ مار دیا، اور مجھ پر (پہلے سے) ایک غلام کو آزاد کرنا تھا۔ کیا میں اس غلام کی جگہ اس باندی کو آزاد کردوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس باندی سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا۔ آسمان میں۔ آپ نے پوچھا : میں کون ہوں ؟ اس نے کہا : آپ رسول اللہ ہیں۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو آزاد کردو۔ (الموطا رقم الحدیث : 1511، صحیح مسلم، صلوۃ، 33 (537) 1179، سنن ابوداود رقم الحدیث : 930)

امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس باندی سے جو سوال کیا کہ اللہ کہا ہے ؟ تو اس نے کہا : آسمان میں۔ تمام اہل سنت (اور وہ محدثین ہیں) اس پر متفق ہیں اور وہ وہی کہتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ اللہ عرش پر مستوی ہے۔ (طہ :5) ۔ اور اللہ عزوجل آسمان میں اور اس کا علم ہر جگہ ہے اور یہ قرآن مجید کی ان آیات سے بالکل ظاہر ہے : ” ء امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور : کیا تم اس سے بےخوف ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے تو وہ اس سے لرزنے لگے ” (الملک :16) ۔ ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ : پاک کلمے اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل کو اللہ بلند فرماتا ہے ” (فاطر :10) ۔ ” تعرج الملائکۃ والروح الیہ : فرشتے اور جبرئیل اسی کی طرف چڑھتے ہیں ” ) المعارج :4) ۔ قرآن مجید میں اس کی بہت مثالیں ہیں اور ہم نے اپنی کتاب تمہید میں اس سے زیادہ بیان کیا ہے (الاستذکار، ج 23، ص 167-168، طبع بیروت، 1414 ھ)

ہمیشہ سے مسلمانوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب ان پر کوئی آفت آتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے لیے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی جہت نہیں ہے لیکن چونکہ علو اور بلندی کو باقی جہات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے اس لیے دعا کے وقت آسمان کی طرد یکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا کیا، اس کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے بندوں کو اس کی ضرورت تھی تاکہ وہ دعا کے وقت حیران نہ ہوں کہ وہ کس کی طرف منہ کریں جیسے اس نے کعبہ کو پیدا کیا تاکہ لوگ عبادت کے وقت اس کی طرف منہ کریں۔ حالانکہ اللہ کا حقیقت میں گھر ہے نہ اس کو اس کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس نے آسمان کو پیدا کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ اپنی دعاؤں میں کس طرف متوجہ ہوں۔ 

امام ابن عبدالبر مالکی اندلسی 463 ھ فرماتے ہیں : معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ استواء کا مجازی معنی مراد ہے اور وہ ہے استولی یعنی اللہ عرش پر غالب ہے۔ یہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ پھر عرش کی خصوصیت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تو ہر چیز پر غالب ہے اور کلام میں اصل یہ ہے کہ اس کو حقیقت پر محمول کیا جائے اور اللہ کے کلام کو اشہر اور اظہر وجوہ پر محمول کرنا لازم ہے جب تک کہ حقیقت پر محمول کرنے سے کوئی ایسا مانع نہ ہو جس کا مانع ہونا سب کے لیے واجب التسلیم ہو۔ اور اگر ہر مجاز کے مدعی کا ادعا مان لیا جائے تو پھر کوئی عبارت ثابت نہیں ہوگی۔ اور اللہ عزوجل نے اپنے کلام میں جن الفاظ سے خطاب کیا ہے ان سے ان ہی معانی کا ارادہ کیا ہے جن معانی کا اہل عرب اپنے محاورات اور خطابات میں ان الفاظ سے ارادہ کرتے تھے، اور استواء کا معنی اور مفہوم لغت میں معلوم ہے اور وہ ہے کسی چیز پر ارتفاع اور بلند ہونا اور کسی چیز پر قرار اور جگہ پکڑنا ابوعبیدہ نے استواء کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا : ” بلند ہوا ” عرب کہتے ہیں استویت فوق الدابہ میں سواری کے اوپر بلند ہوا یا بیٹھا۔ حافظ ابن عبالبر نے کہا : استواء کا معنی بلندی پر جگہ پکڑنا ہے اور اس کی دلیل حسب ذیل آیات میں ہے : ” لتستو وا علی ظہورہ ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ : تاکہ تم ان کی پشت کے اوپر بیٹھو اور جب تم ان کی پشت کے اوپر بیٹھ جاؤ تو تم اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو ” (الزخرف : 13) ۔ ” واستوت علی الجودی : اور کشتی جودی پہاڑ کے اوپر ٹھہر گئی ” (ھود :44) ۔ ” فاذا استویت انت و من معک علی الفلک : اور جب آپ اور آپ کے ساتھی کشتی کے اوپر بیٹھ جائیں ” (المومنون :28) ۔

ہم عرش پر اللہ کے استواء کی کیفیت کو نہیں جانتے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ عرش پر مستوی نہ ہو جیسے ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہمارے بدنوں میں ہماری روحیں ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے بدن میں ہماری روح کس کیفیت سے ہے اور اس کیفیت کے علم نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہماری روحیں نہ ہوں، اس طرح عرش پر اللہ کے استواء کی کیفیت کے علم نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ عرش پر مستوی نہ ہو۔ (التمہید، ج 7، ص 131-137، ملخصا و موضحا مطبوعہ المکتبہ القدوسیہ، لاہور، 1404 ھ)

استواء اور دیگر صفات کے مسئلہ میں متقدمین حنابلہ کا موقف : امام جمال الدین عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں : بعض لوگوں نے کہا کہ استوی بمعنی استولی ہے۔ ائمہ لغت کے نزدیک یہ معنی مردود ہے۔ ابن الاعرابی نے کہا عرب استوی کو استولی کے معنی میں نہیں پہچانتے، جس شخص نے یہ کہا اس نے بہت غلط کیا۔ استوی فلان علی کذا (فلاں شخص نے فلاں پر غلبہ پایا) یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ شخص اس سے بعید ہو اور وہ اس پر قادر نہ ہو۔ پھر بعد میں اس پر قدرت اور غلبہ حاصل کرے، اور اللہ عزوجل ہمیشہ سے تمام چیزوں پر غالب ہے۔ ہم ملحدہ کے صفات کو معطل کرنے سے اور مجسمہ کی تشبیہ سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ (زاد المسیر، ج 3، ص 213، مطبوعہ مکتب اسلامی، بیروت، 1407 ھ)

علامہ محمد بن احمد السفارینی الھنبلی المتوفی 1188 ھ لکھتے ہیں : حنبلیوں کا مذہب سلف صالحین کا مذہب ہے۔ وہ اللہ کو ان اوصاف کے ساتھ موصوف کرتے ہیں جن کے ساتھ خود اللہ نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے۔ اور جن اوصاف کے ساتھ اس کے رسول نے اس کو موصوف کیا ہے، بغیر کسی تحریف اور تعطیل کے اور تکییف اور تمثیل کے، اللہ کی ذات ذوات میں سے کسی ذات کے مشابہ نہیں اور اس کی صفات کمالیہ میں سے کوئی صفت ممکنات کی کسی صفت کے مشابہ نہیں ہے۔ قرآن مجید اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات وارد ہیں، ان کو اسی طرح قبول کرنا اور تسلیم کرنا واجب ہے جس طرح وہ وارد ہوئی ہیں۔ ہم اس کے وصف کی حقیقت سے عدول نہیں کرتے اور نہ اس کے کلام میں تحریف کرتے ہیں اور نہ اس کے اسماء اور صفات میں، اور جو کچھ اس باب میں وارد ہے اس میں کوئی زیادتی نہیں کرتے اور جو شخص اس صراط مستقیم سے انحراف کرے تم اس کو چھوڑ دو ۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ (لوامع الانوار البہیہ، ج 1، ص 107، مطبوعہ مکتب اسلامی، بیروت، 1411 ھ)

نیز علامہ سفارینی حنبلی لکھتے ہیں : امام احمد (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو اسی وصف کے ساتھ موصوف کیا جائے گا جس وصف کے ساتھ خود اللہ نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور جس وصف کے ساتھ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو موصوف کیا ہے۔ ہر وہ چیز جو نقص اور حدوث کو واجب کرتی ہو اللہ تعالیٰ اسے سے حقیقتاً منزہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑے کمال کا مستحق ہے۔ سلف کا مذہب یہ ہے کہ اس قسم کی چیزوں میں غور نہیں کرنا چاہیے اور ان میں سکوت کرنا چاہیے اور ان کا علم اللہ کے سپرد کردینا چاہیے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ وہ پوشیدہ چیز ہے جس کی تفسیر نہیں کی جائے گی اور انسان پر واجب ہے کہ اس کے ظاہر پر ایمان لائے اور اس کا علم اللہ کے سپرد کردے۔ ائمہ سلف مثلاً زہری، امام مالک، امام اوزاعی، سفیان ثوری، لیث بن اسد، عبداللہ بن المبارک امام احمد اور اسحاق سب یہی کہتے تھے کہ یہ متشابہات ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کے لیے ان کی تفسیر کرنا جائز نہیں ہے۔ (لوامع الانوار البہیہ، ج 1، ص 96 ۔ 99، ملخصاً ، مطبوعہ بیروت، 1411 ھ)

استواء اور دیگر صفات کے مسئلہ میں متاخرین کی آراء : امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستقر ہونا ممکن نہیں ہے اور اس پر متعدد عقلی دلائل ہیں۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ عرش پر مستقر ہو تو اس کی جو جانب عرش کے قریب ہوگی وہ جانب لازماً متناہی ہوگی اور جو چیز متناہی ہو وہ زیادتی اور کمی کو قبول کرسکتی ہے اور جو چیز زیادتی اور کمی کو قبول کرسکے وہ حادث ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ قدیم ہے۔ اور اگر وہ جانب غیر متناہی ہو تو اللہ تعالیٰ کی ذات میں انقسام لازم آئے گا کیونکہ عرش بہرحال متناہی ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات کی ایک جانب عرش سے مم اس ہوگی اور ایک جانب فارغ ہوگی اور اس سے انقسام لازم آئے گا اور یہ بیان سابق سے محال ہے۔

امام رازی نے اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستقر ہونے کو باطل قرار دینے کے لیے بارہ دلیلیں قائم کی ہیں۔ جو اکثر مشکل اور دقیق ہیں اور عام فہم نہیں ہیں۔ بہرحال ان کی ایک اور قدرے آسان دلیل یہ ہے : 

اگر اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر مستقر ہو تو اللہ تعالیٰ کی ذات عرش سے اعطم ہوگی یا مساوی ہوگی یا اصغر ہوگی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی ذات عرش سے اعظم ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات میں انقسام لازم آئے گا کیونکہ اب اللہ تعالیٰ کی ذات کا بعض عرش پر مستقر ہوگا اور بعض اس سے زائد ہوگا اور اس سے اس کا منقسم ہونا لازم آئے گا اور اگر اللہ تعالیٰ عرش کے مساوی ہو تو اس کا متناہی ہونا لازم آئے گا کیونکہ عرش متناہی ہے اور جو متناہی کے مساوی ہو وہ متناہی ہوتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی ذات عرش سے اصغر ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا متناہی اور منقسم ہونا لازم آئے گا اور یہ تمام صورتیں بداہۃً باطل ہیں۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 252-258، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

علامہ عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی 685 ھ لکھتے ہیں : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ کا امر بلند ہوا یا غالب ہوا اور ہمارے اصحاب سے یہ منقول ہے کہ عرش پر استواء اللہ تعالیٰ کی صفت بلاکیف ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر اس طرح مستوی ہے جس طرح اس نے ارادہ کیا در آنحالیکہ وہ عرش پر استقرار اور جگہ پکڑنے سے منزہ ہے۔ (انوار التنزیل مع الکازرونی، ج 3، ص 26، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1416 ھ)

علامہ محمد بن یوسف المشہور بابن حبان اندلسی المتوفی 710 ھ لکھتے ہیں : اس آیت کا معنی ہے : اللہ عرش پر غالب ہے۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے لیکن عرش چونکہ مخلوقات میں سب سے عطیم جسم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ عرش پر غالب ہونے کا ذکر فرمایا۔ امام جعفر صادق، حسن بصری، امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہم اللہ سے یہ منقول ہے کہ استواء معلوم ہے (مستقر ہونا یا بلند ہونا) اور اس کی کیفیت مجہول ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کا انکار کفر ہے اور اس کا سوال کرنا بدعت ہے۔ (مدارک التنزیل علی الخازن ج 2، ص 10، مطبوعہ پشاور)

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی 792 ھ لکھتے ہیں : اگر یہ سوال کیا جائے کہ جب کہ دین حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مکان اور جہت منتفی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ قرآن اور سنت میں ایسی بیشمار تصریحات ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کے لیے مکان اور جہت کا ثبوت ہوتا ہے اور باوجود اختلاف آراء اور سنت میں ایسی بیشمار تصریحات ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کے لیے مکان اور جہت کا ثبوت ہوتا ہے اور باوجود اختلاف آراء اور تفرق ادیان کے سب لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بلند جانب کی طرف دیکھتے ہیں اور دعا کے وقت آسان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جہت سے منزہ ہونا عام لوگوں کی عقلوں سے ماوراء ہے حتی کہ جو چیز کسی سمت اور جہت میں نہ ہو لوگ اس کے وجود کا انکار کرتے ہیں تو ان سے خطاب کرنے کے لیے زیادہ مناسب اور ان کے عرف کے زیادہ قریب اور ان کو دین حق کی دعوت دینے کے زیادہ لائق یہ تھا کہ ان سے ایسا کلام کیا جائے جس میں بظاہر تشبیہ ہو اور ہرچند کہ اللہ تعالیٰ ہر سمت اور جہت سے منزہ ہے لیکن چونکہ بلند جانب تمام جوانب میں سب سے اشرف ہے اس لیے اس جانب کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کیا گیا اور عقلاء اللہ تعالیٰ کے لیے آسمان کی طرف اس لیے نہیں متوجہ ہوتے کہ ان کا اتقاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے بلکہ اس وجہ سے کہ آسمان دعا کا قبلہ ہے۔ کیونکہ تمام خیرات اور براکت اور انوار اور بارشیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں۔ (شرح المقاصد ج 4، ص 50-51، مطبوعہ منشورات الرضی، قم ایران، 1409 ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں : اکثر متقدمین اور متاخرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ سبحانہ کی جہت اور مکان سے تنزیہ ضروری ہے کیونکہ جو چیز مکان میں ہو اس کو حرکت اور سکون اور تغیر اور حدوث لازم ہے یہ متکلمین کا قول ہے۔ اور سلف اول (رض) اللہ تعالیٰ سے جہت کی نفی نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے جہت ثابت کرتے تھے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے اور رسولوں نے بھی اس طرح فرمایا ہے اور سلف صالحین میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ حقیتاً عرش پر مستوی ہے، البتہ ان کو اس کا علم نہیں ہے کہ اس کے استواء کی حقیقت میں کیا کیفیت ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن، 7، ص 197، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں : استوی کا معنی ہے بلند ہے۔ (اللہ عرش پر بلند ہے) اس بلندی سے وہ بلندی ماد نہیں ہے جو مکان اور مساف کی بلندی ہوتی ہے، یعنی کوئی شخص ایسی جگہ پر ہو جو جگہ دوسری جگہوں سے بلند ہو بلکہ اس سے وہ بلندی مراد ہے جو اللہ کی شان کے لائق ہے۔ تمہیں یہ معلوم ہوگا کہ سلف کا مذہب اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اس کی ماد کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ عرش پر اس طرح مستوی ہے جس طرح اس کا ارادہ ہے در آنحالیکہ وہ استقرار اور جگہ پکڑنے سے منزہ ہے اور استواء کی تفسیر استیلاء (غلبہ پانے) سے کرنا باطل ہے۔ کیونکہ جو شخص اس کا قائل ہے کہ استواء کا معنی استیلاء ہے، وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ کا غالب ہونا ہمارے غالب ہونے کی مثل ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ یہ کہے کہ وہ ایسا غالب ہے جو اس کی شان کے لائق ہے تو پھر اس کو چاہیے کہ وہ ابتداءً یہ کہے کہ وہ عرش پر اس طرح مستوی ہے جو اس کی شان کے لائق ہے۔ (روح المعانی ج 8، ص 136، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت) 

اعلی حضرت امام احمد رضا متوفی 1340 ھ نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے : ” پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے ” 

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی 1367 ھ لکھتے ہیں : یہ استواء متشابہات میں سے ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ اللہ کی اس سے جو مراد ہے حق ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ الہ علیہ نے فرمایا کہ استواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول اور اس پر ایمان لانا واجب۔ حضرت مترجم قدس سرہ نے فرمایا : اس کے معنی یہ ہیں کہ آفرینش کا خاتمہ عرش پر جا ٹھہرا۔ واللہ اعلم باسرار کتابہ (خزائن العرفان، ص 353، مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ، لاہور)

استواء علی العرش اور اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کے مسئلہ میں ہم نے کافی طویل بحث کی ہے اور تمام قابل ذکر متقدمین اور متاخرین کے مذاہب اور ان کی آراء تفصیل سے بیان کی ہیں تاکہ ہمارے قارئین کو اس مسئلہ میں ہر پہلو سے مکمل واقفیت ہوجائے۔ بہرحال ہمارا اس مسئلہ میں وہی موقف ہے جو امام ابوحنیفہ (رح) اور دیگر سلف صالحین کا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 54