آپ کی مشکلات کا روحانی علاج

از: حضرت علامہ عبد المصطفیٰ صاحب قبلہ اعظمی علیہ الرحمہ۔

یہ ایماں ہے خدا شاہد کہ ہیں آیات قرآنی

علاجِ جملہ علتہائے جسمانی و روحانی

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس ناموں ،اور قرآن مجید کی مبارک آیتوں ،وظائف اور دعائوں میں اس قدر فیوض و برکات اور عجیب عجیب تاثیرات ہیں کہ جن کو دیکھ کر بلا شبہہ قدرتِ خداوندی کا جلوہ نظر آجاتا ہے ۔ بہت سے مریض جن کو تمام حکیموں اور ڈاکٹروں نے لاعلاج کہہ کر مایوس کردیا تھا ۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اسمائِ حُسنی ٰاور قرآن مجید کی مقدس آیتوں سے صحیح طریقے پر چارہ جوئی کی گئی تو دم زدن میں بڑے بڑے خوفناک اور بھیانک امراض اس طرح ختم ہوگئے کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا ۔ جادو اور آسیب وغیرہ کی بلائیں اتنی خطرناک ہیں کہ حکیموں کی طب ،ڈاکٹروں کی ڈاکٹری ،اس منزل میں بالکل عاجز و لاچار ہے ۔لیکن دعائوں ،وظیفوں ،اور قرآنی آیتوں کی تاثیرات قہر الٰہی کی وہ تلوار ہیں کہ جن کی تیز دھار سے جادو،ٹونا ،آسیب سب کے سر قلم ہوجاتے ہیں جادو بھی ٹوٹ جاتا ہے اور آسیب بھی کبھی بھاگ جاتا ہے اور کبھی گرفتا رہوکر جل جاتا ہے اس لئے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ چند عملیات اور قرآنی آیات کے تعویذات تحریر کردیں تاکہ اہل حاجت ان کے فیوض و برکات سے فائدہ اٹھائیں ۔

اعمال اور دعاءوں کی شرائط

یاد رکھوکہ جس طرح جڑی بوٹیوں اور تمام دعائوں کی تاثیر اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ اسی ترکیب سے وہ دوائیں استعمال کی جائیں جو ان کے استعمال کا طریقہ ہے اسی طرح عملیات اور تعویذات کی بھی کچھ شرائط ہیں ،کچھ ترکیبں ،کچھ لوازمات ہیں کہ جب تک ان سب چیزوں کی رعایت نہ کی جائے گی عملیات کی تاثیرات ظاہر نہ ہوں گی اور فیوض و برکات حاصل نہ ہوں گے۔ اُن شرائط میں سے وہ سات شرائط نہایت ہی اہم اور انتہائی ضروری ہیں کہ جن کے بغیر اعمالِ قرآنی میںتاثیرات کی امید رکھنا نادانی ہے اور وہ شرطیں حسب ذیل ہیں ۔

۱۔ اکلِ حلال : یعنی حلال لقمہ کھانا اور حرام غذائوں سے بچنا ۔

۲: صدق مقال : یعنی ہمیشہ سچ بولنا اور جھوٹ سے ہمیشہ بچتے رہنا۔ ۳۔ اخلاص : نیت کو درست اور پاکیزہ رکھنا کہ ہر نیکی اللہ ہی کے لئے کرنا ۔

۴ ۔ تقویٰ : یعنی شریعت کے احکام کی پوری پوری پابندی کرنا ۔

۵۔ شعائرِ الٰہی کی تعظیم : یعنی اللہ کے دین کے نشانوں مثلا قرآن ،کعبہ، نبی وغیرہ کی تعظیم اور بزرگانِ دین کا ہمیشہ ادب و احترام کرنا ۔

۶: حضورِ قلب :۔ یعنی جو وظیفہ بھی پڑھیںدل کی حضوری کے ساتھ پڑھیں ۔

۷: ۔ مضبوط عقیدہ : یعنی جو عمل اور وظیفہ پڑھیں اس کی تاثیر پر پورا پورا اور پختہ عقیدہ رکھنا اگر تذبذب یا تردد رہا تو وظیفہ اور عمل میں اثر نہ رہے گا ۔

وظائف کے ضروری آداب

اوپر ذکر ہوئی سات شرطوں کے علاوہ اعمال و وظائف کے کچھ ضروری آداب بھی ہیں ۔ہرعمل کرنے والے کو لازم ہے کہ ان آداب کا بھی خیال رکھے ورنہ دعائوں اور وظیفوں کی تاثیرات میں کمی ہونا لازمی ہے۔ آداب دعا اور وظائف کی تعداد یوں بہت زیادہ ہے مگر ہم ان میں سے چند نہایت ہی اہم اورضروری آداب کا تذکرہ کرتے ہیں جو یہ ہیں ۔

۱۔ بارگاہِ حق میں عجز و نیاز: یعنی ہر عمل کرنے یا تعویذات لکھنے کے وقت نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ خداوندقدوس کی بارگاہ میں عاجزی و نیاز مندی کا اظہار کرے ۔

۲۔ صدقہ و خیرات : یعنی ہر عمل اور وظیفہ شروع کرنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کرے ۔

۳۔ درود شریف : یعنی ہر عمل ہر دعا ہر وظیفہ کے اول و آخر درود شریف کاورد کرے ۔

۴۔ بار بار دعامانگے : یعنی وظیفوں کے بعد جب اپنے مقصد کے لئے دعا مانگے تو ایک ہی مرتبہ دعا مانگ کر بس نہ کردے بلکہ بار بار گڑ گڑا کر خدا سے دعا مانگے ۔

۵۔ تنہائی : یعنی جہاں تک ہوسکے ہر دعا اور وظیفہ وغیرہ عملیات کو تنہائی میں پڑھے جہاں نہ کسی کی آمد و رفت ہو نہ کسی کی کوئی آواز آئے ۔

۶۔ کسی کو نقصان نہ پہونچائے : کسی مسلمان کو نقصان پہونچانے کے لئے ہر گز ہر گز کوئی عمل نہ کرے نہ کوئی وظیفہ پڑھے ۔

۷۔ خوراک میں کمی : جب کوئی عمل کرے یا وظیفہ پڑھے تو اس دوران میں بہت کم کھائے اور سادہ غذا کھائے ،پیٹ بھر کر نہ کھائے کیونکہ پیٹ بھرے لوگ دعائوں کی تاثیر سے اکثر محروم رہتے ہیں ۔

۸۔ پاکی اور صفائی : اعمال اور وظائف پڑھنے کے دوران بدن اور کپڑوں کی پاکی اور صفائی ستھرائی کا خاص طور پرخیال رکھے بلکہ خوشبو بھی استعمال کرے اور ظاہری پاکی اور صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کرداراور باطنی صفائی کا بھی اہتمام کرے ۔

پاک روشنائی :۔ جو تعویذ لکھے وہ زعفران سے لکھے یا ایسی روشنائی سے لکھے جس میں اسپرٹ نہ پڑی ہو بلکہ اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی روشنائی ہونی چاہئے جو زمزم شریف میں گھولی ہوئی ہو یا دریائوں کے جاری پانی میں ۔

۱۰۔ اچھی ساعت اچھی نیت :ہر عمل اچھی ساعت میں کرے اور ہر تعویذ اچھی ساعت میں قبلہ رو ہوکر لکھے اور تعویذ لکھتے وقت ہرگز کوئی طمع اور لالچ دل میں نہ لائے بلکہ اخلاص کے ساتھ تعویذ لکھ کر حاجتمندوں کو دے ۔ ہاں لوگ اگراپنی طرف سے تعویذوںکا نذرانہ پیش کریں تو اس کورد نہ کرے۔

خواص بسم اللہ الرحمن الرحیم

’’بسم اللہ شریف ‘‘ کے خواص اور اس آیت مبارکہ کی خاصیتیں بہت ہیں ان میں سے چند فوائد یہاں لکھے جاتے ہیں جو بزرگوں کے آزمودہ اور مجر ب ہیں ۔

ہر طرح کی حاجت روائی : اگر کوئی سخت مشکل یا حاجت پیش آجائے تو بدھ ،جمعرات اور جمعہ کو مسلسل تین دن روزہ رکھے اور جمعہ کا غسل کرکے نماز جمعہ کے لئے جائے اور کچھ خیرات بھی کرے پھر نماز جمعہ کے بعد یہ دُعا پڑھ کر اپنے مقصد کے لئے دل لگا کر اور گڑ گڑا کر خدا سے دعا مانگے ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور اس کی دعا قبول ہوگی ۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِاسْمِکَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَبِاسْمِکَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط عَالِمْ الْغَیْبِ وَ الشَّھَادَۃِ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمِ وَ اَسْئَلُکَ بِاسْمِکَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط اَلَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ط لا تَأ خُذُہٗ سِنَۃٌ وَلا نو مٌ ط الذی ملئت عظمتہ السمواتِ والارضَ ط وَ اَسْئَلُکَ بِاسْمِکَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ وَ عَنَتْ لَہٗ الْوُجُوْہُ وَ َخشَعَتْ لَہٗ الاصْواتُ وَ َو جِلَتِ القُلُوْبُ مِنْ خَشْیَتِہٖ اَنْ تُصَلِّیَ عَلیٰ مُحَمَّدٍوَّعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ اَنْ تُعْطِیَنیْ مَسْئَلتی وَ ْتقْضِیْ حَاجَتِیْ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّ احِمِیْنَo لفظ حاجتی کے بعداپنی ضرورت کا نام ذکر کرو ۔ جس صحابی رضی اللہ عنہ سے یہ دعا منقول ہے ان کا ارشاد ہے کہ یہ دعا نادانوں کو ہرگز مت سکھائو کیونکہ وہ ناجائز کا موں کے لئے پڑھیں گے اور گناہوں میں مبتلا ہوں گے بزرگوں کے فرمان کے مطابق میں بھی سخت تاکید کرتا ہوں کہ ناجائز کا موں کے لئے کبھی ہرگز اس دعا کو نہ پڑھنا ورنہ سخت نقصان اٹھائوگے ۔

دشمنی دور ہو جائے اور محبت پیدا ہوجائے

اگر پانی پر ۷۸۶ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر مخالف کو پلا دو تو ان شاء اللہ تعالیٰ وہ مخالفت کو چھوڑ دے گا اور محبت کرنے لگے گا اور اگر موافق کو پلادو تو محبت بڑھ جائے گی ۔ ( فیوض قرآنی)

ہر دردو مرض دور ہوجائے : جس درد یا مرض پر تین روز تک سو مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم حضورِ دل سے پڑھ کر دم کیا جائے ان شاء اللہ اس سے آرام ہو جائے گا ۔ ( فیوض قرآنی)

چور اور اچانک موت سے حفاظت : اگر رات کو سوتے وقت اکیس مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لو ،تو ان شاء اللہ تعالیٰ ما ل و اسباب چوری سے محفوظ رہیں گے اور مرگِ ناگہانی سے بھی حفاظت ہوگی ۔( فیوض قرآنی)

حاجتوں کے لئے بسم اللہ اورنماز : بسم اللہ الرحمن الرحیم اس طرح پڑھو کہ جب ایک ہزار مرتبہ ہوجائے تو دو رکعت نماز پڑھ کر درود شریف پڑھو اور اپنی مراد کے لئے دعا مانگو ۔ پھر ایک ہزار مرتبہ بسم اللہ پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھو اور درود شریف پڑھ کر اپنی مراد کے لئے دعا مانگو غرض اسی طرح بارہ ہزار مرتبہ بسم اللہ پڑھو اور ہر ہزار پر دو رکعت نماز پڑھو اور نماز کے بعد درود شریف پڑھ کر اپنی مراد کے لئے دعا مانگو ان شاء اللہ مراد حاصل ہوگی ۔

اولاد زندہ رہے گی : جس عورت کا بچہ زندہ نہ رہتا ہو وہ ایک کا غذ پر ایک سو ساٹھ بار بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھواکر اس کا تعویذ بناکرہر وقت پہنے رہے ان شاء اللہ اس کی اولاد زندہ رہے گی ۔ ( ایضاً)

زہر کا اثر نہ ہو : بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِْیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیٌٔ فِیْ الْارْ ضِ وَلَا فِیْ السَّمَائِ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمَُ: یہ دعا پڑھ کر ہمیشہ کھائیں اور پانی وغیرہ پئیں تو ان شای اللہ تعالیٰ زہر کا اثر دور ہو جائے گا اور زہر کوئی نقصان نہ دے گا لیکن پختہ عقیدہ اور شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ۔ ( فیوض قرآنی)

ظ ظ ظ