علم حدیث کی اصولی طور پر دو قسمیں ہیں ۔

X علم حدیث باعتبار روایت (علم حدیث ) Xعلم حدیث باعتبار درایت(علم اصول حدیث)

ہر علم وفن کیلئے بطور مبادی آٹھ امور ذکر کئے جاتے ہیں جن کے ذریعہ طالب فن کو من وجہ بصیرت حاصل ہوجاتی ہے اور اس علم کا حصول آسان ہوجاتا ہے ۔ انکو اصطلاح فن میں رؤس ثمانیہ کہتے ہیں ۔ ان کا اجمالی خاکہ یوں ہے۔

۱۔ تعریف ۲۔ موضوع ۳۔ غرض وغایت ۴۔ وجہ تسمیہ ۵۔ مؤلف ۶۔ اجناس ۷۔ مرتبہ ومقام ۸۔ تقسیم وثبوت

لیکن ہم مسلمانوں کیلئے ایک نواں امر جاننا بھی ضروری ہے اور وہ ہے اسکا شرعی حکم ۔ اس اجمال کی قدرے تفصیل ملاحظہ کریں ۔ واضح رہے کہ یہ تفصیلات قسم اول کی بیان کی جائینگی اور اسکے بعد دوسری قسم کا بیان ہوگا۔

۱۔ تعریف ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال ، افعال اور تقریرات کا نام ہے ۔

تقریر کا مطلب یہ ہے کہ حضور کا کسی کام کو ہوتے دیکھنا ، یاکسی چیز کی خبر آپ تک پہونچنا جبکہ اسکا متعلق مسلمان ہے پھر اس کا م پر سکوت فرمانا بھی حدیث کے تحت داخل ہے ۔

ہاں جو چیز یں احوال سے متعلق ہیں تو ان میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ اختیاری ہیں تو افعال میں داخل ۔ اور غیر اختیاری ہیں جیسے حلیۂ مبارکہ ، واقعات ولادت وغیرھا تو اس سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا ۔ اہل فقہ کے نزدیک یہ ہی تعریف مشہور ہے اور انکے فن سے یہ ہی متعلق ہے ۔

ہاں علماء حدیث نے مطلق احوال کو بھی حدیث میں شمار کیا کہ یہ انکے فن کے موافق ہے ۔ لہذا سیرت مبارکہ کے تمام پہلو اس میں داخل ہیں ۔

صحابہ وتابعین کے اقوال وافعال کو بھی تبعاً حدیث میں شمار کیاجاتاہے بلکہ صحابہ کرام کی تقریرات بھی اسی زمرہ میں شامل ہیں ۔

۲۔ موضوع ۔ موضوع کے ذریعہ فن ممتاز ہوتاہے اور فن کی عظمت وشرافت باعتبار موضوع ہوتی ہے ۔ لہذا یہاں علم حدیث کا موضوع حضور نبی کریمصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات ہے اس حیثیت سے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔

۳۔ غرض وغایت ۔ جب کسی علم کا ثمرہ ونتیجہ معلوم ہوجاتاہے تو انسان اسی اعتبار سے اس علم کی طرف رغبت کرتاہے یااس سے اعراض ۔ علم حدیث کے حصول سے مقصد چند ہیں :۔

۱۔ ان فضائل وخصائل کا حصول جو حاملین حدیث کیلئے حضور نے ارشاد فرمائے ۔

۲۔ قرآن عظیم کے مجمل احکام کی توضیح وتبیین ۔

۳۔ کلام محبوب ہے لہذا اس کلام سے حلاوت ولذت کا حصول ۔

۴۔ حضور اور صحابہ کرام کی اتباع اور پیروی ۔

ان سب کا مرجع ومآل واحد ہے اور وہ یہ ہے کہ سعادت دارین حاصل کرنا ۔

۴۔وجہ تسمیہ ۔ باعتبار لغت حدیث قدیم کا مقابل ہے ۔ نیز اسکا استعمال ہر خبر کیلئے ہوتاہے خواہ قلیل ہویاکثیر ۔ کیونکہ اسکا ظہور تھوڑا تھوڑا ہوتا ہے ۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے شرح بخاری میں فرمایا :۔

عرف شرع میں حدیث اس کو کہتے ہیں جو حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو ۔ گویا یہ قرآن کریم کے مقابل ہے کہ وہ کلام اللہ ہے اور قدیم ۔اور یہ کلام رسول ہے اور حادث یاحدیث۔

۵۔ مؤلف ۔ یہ دو طرح ہوتے ہیں ۔ مؤلف فن ،مؤلف کتاب۔

چونکہ یہاں کسی خاص کتاب کا تعارف مقصود نہیں بلکہ مطلق علم حدیث کو ذکر کرنا ہے لہذا مؤلف فن یعنی جن حضرات نے اس فن کو ایجاد کیا ان کی تفصیل بیان کرنا ۔ اس کی تفصیل بعنوان حفاظت حدیث گزر چکی کہ صحابہ کرام نے اس علم کی حفاظت اپنے عمل و کردار سے کی اور روایت کرکے علم حدیث دوسروں تک پہونچا یا ۔

۶۔ اجناس ۔ علوم کی تفصیل مختلف اجناس ، حیثیات اور اعتبارات سے کی جاتی ہے۔

مثلاً علم کی تقسیم کبھی باعتبار نقل و عقل ہوتی ہے کہ یہ علم عقلی ہے یا نقلی ۔ لہذا کہا جائے گا کہ علم قرآن و حدیث نقلی ہیں اور منطق و فلسفہ عقلی ۔

کبھی باعتبار اصل و آلہ ہوتی ہے ۔ یعنی یہ علم اصل ہے یا آلی۔ لہذا کہا جاتا ہے کہ علم حدیث اصلی ہے اور نحو و صرف علوم آلی ۔

اور کبھی شرعی و غیر شرعی اعتبار سے ، جیسے علم حدیث شرعی علوم سے ہے اور علم سحر غیر شرعی ۔

لہذا خلاصہ کلام یہ نکلا کہ علم حدیث کی جنس نقلی اصلی شرعی ہے ۔

۷۔ مرتبہ و مقام۔ مرتبۂ علم حدیث کے دو اعتبار ہیں ۔

۱۔باعتبار فضیلت ۔ ۲۔ باعتبار تعلیم

ؓ ٓؑباعتبار فضیلت تو یہ دوسرے مقام پر ہے ۔اول مرتبہ علم قرآن کا ہے ۔ اور باعتبار تعلیم درس نظامی میں اسکا مرتبہ آخری ہے کہ سب سے آخر میں اسی علم کو پڑھایا جاتا ہے ۔

۸۔تقسیم و تبویب ۔ جس طرح کتابوں میں تقسیم و تبویب ہوتی ہے اسی طرح علم کی بھی تقسیم و تبویب ہوتی ہے۔ لہذا حدیث کے آٹھ ابواب ہے ۔

۱۔ عقائد ۔ ۲۔احکام ۔ ۳۔ تفسیر ۔ ۴۔ تاریخ ۔ ۵۔ رقاق۔ ۶۔ آداب ۔ ۷۔ مناقب۔ ۸۔ فتن۔

یعنی ہر حدیث کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان آٹھوں ابواب میں سے کسی ایک میں داخل ہو ۔ جو کتاب ان آٹھوں ابواب پر مشتمل ہوگی اسکو جامع کہا جائے گا ۔

۹۔حکم شرعی ۔ علم حدیث کا حکم شرعی یہ ہے کہ جس مقام پر صرف ایک مسلمان ہو اس کے لئے علم حدیث کا پڑھنا واجب عین اور ایک جماعت آبادہو تو واجب کفایہ ہے ۔یہ ہی حکم علم فقہ سے متعلق ہے کہ احادیث کی تفصیل تبیین فقہ پر ہی موقوف ہے ۔