مردے سے سوال و جواب

عقیدہ: منکر نکیر یہ دو فرشتے ہیں،جو مردہ سے بڑی کڑک آوازمیںسختی سے جھڑکتے ہوئے تین سوالات کر تے ہیں(۱) مَنْ رَّبُّکَ؟ یعنی تیرا رب کون ہے (۲)مَا دِیْنُکَ؟ یعنی تیرا دین کیا ہے (۳)مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ شَا نِ ھٰذَا الرَّجُلِ؟ یعنی ان کے بارے میںتو کیا کہتاتھا؟ مردہ اگر مسلمان مَرا ہے تو پہلے سوال کے جواب میںکہے گا :’’رَبِّیَ اللّٰہُ‘‘۔ میرا رب اللہ د ہے، اور دوسرے سوال کے جواب میںکہے گا :’’دِیْنِیَ الِاسْلَامُ‘‘۔میرا دین اسلام ہے ، اور تیسرے سوال کے جواب میں کہے گا:’’ ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ‘‘ ۔ یہ اللہد کے رسول ہیں ، اللہد کی طرف سے ان پر رحمت اور سلام نازل ہو ۔ جب مومن مردہ ہر سوال کا جواب صحیح دے دیگا تو اب اس کے لئے فرشتے حکم الٰہی سے جنت کا مکمل انتظام کریں گے جس میں وہ قیامت تک رہے گا ۔ اور اگر مردہ کافر ہے تو سوالا ت کے جوابا ت نہ دے سکے گا اور کہے گا:’’ ھَاہْ ھَاہْ لَا اَدْرِیْ‘‘ یعنی افسوس افسوس مجھے توکچھ معلوم نہیں ۔ اب فرشتے ا س کے لئے عذاب دینے پر مسلط ہونگے اور قیامت تک اسے عذاب دیا جاتا رہے گا ۔

عقیدہ: ثواب و عذاب مردہ کے بدن اور روح دونوںپر ہوگا ، مردہ اگر دفن نہیں کیا گیا بلکہ جلا دیا گیا ، یا کہیں پڑا رہ گیا ، یا پھینک دیا گیا ، غرضیکہ کہیں ہو اس سے وہیں سوال ہوگا یہاں تک کہ جسے شیر کھا گیا تو شیر کے پیٹ میں اس سے سوال ہوگا ۔ اور عذاب یا ثواب بھی وہیں ہوگا ۔

عقیدہ: قبر میں آرام یا تکلیف کا ہونا حق ہے ۔ قبر کے عذاب اورثواب کا منکر گمراہ ہے ۔

عقیدہ: انبیاء علیہم السلام سے قبر کے سوالات نہیں ہوتے بلکہ بعض امتیوں سے بھی قبر کے سوالات نہ ہوں گے ۔ جیسے :جمعہ اور رمضان میں انتقا ل کرنے والے مسلمان ۔

مسئلہ : نبی ، ولی ، عالم دین، شہید ، حافظِ قرآن ،جو قرآن پر عمل بھی کرتا ہو ، اور وہ بندہ جس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو اور وہ بندہ جو ہر وقت درود شریف پڑھتا ہو ، ان تمام کے بدن کو مٹی نہیں کھا سکتی ۔ جو شخص انبیا ء علیہم السلام کو یہ کہے کہ ’’ مر کر مٹی میں مل گئے ‘‘ وہ شخص بے دین ،گمراہ اور مر تکبِ توہین ہے ۔ (العیاذ باللہ)