أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِيۡلَهٗ‌ؕ يَوۡمَ يَاۡتِىۡ تَاۡوِيۡلُهٗ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ نَسُوۡهُ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَـقِّ‌ۚ فَهَلْ لَّـنَا مِنۡ شُفَعَآءَ فَيَشۡفَعُوۡا لَـنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ الَّذِىۡ كُنَّا نَـعۡمَلُ‌ؕ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ۞

ترجمہ:

کیا وہ (اس کتاب پر ایمان لانے کے لیے) اس کی وعید کے وقوع کا انتظار کررہے ہیں ! جس دن وہ وعید واقع ہوگی تو جو لوگ اس کو پہلے فراموش کرچکے تھے وہ کہیں گے بیشک ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے تو کیا ہمارے کوئی سفارشی ہیں جو ہماری سفارش کریں ؟ یا ہم کو دوبارہ دنیا میں لوٹا دی اجائے تو ہم ان کاموں کے برخلاف کام کریں جو پہلے کرتے تھے، بیشک انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور ان سے وہ بہتان گم ہوگئے جن کا وہ افتراء کرتے تھے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” کیا وہ (اس کتاب پر ایمان لانے کے لیے) اس کی وعید کے وقوع کا انتظار کررہے ہیں ! جس دن وہ وعید واقع ہوگی تو جو لوگ اس کو پہلے فراموش کرچکے تھے وہ کہیں گے بیشک ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے تو کیا ہمارے کوئی سفارشی ہیں جو ہماری سفارش کریں ؟ یا ہم کو دوبارہ دنیا میں لوٹا دی اجائے تو ہم ان کاموں کے برخلاف کام کریں جو پہلے کرتے تھے، بیشک انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور ان سے وہ بہتان گم ہوگئے جن کا وہ افتراء کرتے تھے “

کفار کے اخروی خسارہ کا بیان : اللہ تعالیٰ نے کفار کی ہدایت کے لیے جو رسول بھیجے تھے اور جو کتابیں نازل فرمائی تھیں، ان رسولوں نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو تم کو سخت عذاب ہوگا۔ اسی طرح آسمانی کتابوں میں بھی یہ وعید بیان کی گئی تھی، یا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے رسولوں نے یہ فرمایا تھا کہ قیامت آئے گی اور سب کچھ فنا ہوجائے گا اور پھر ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ایمان نہ لانے والوں کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ ان وعیدوں کے باوجود کفار ایمان نہ لائے تو ان کے ظاہر حال کے تقاضے سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا وہ ایمان لانے کے لیے اس انتظار میں ہیں کہ وہ وعید واقع ہوجائے یعنی ان پر سخت عذاب آجائے جو ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دے یا قیامت آجائے اور ان کا مواخذہ کرکے ان کو دوزخ میں ڈال دیا جائے اور جب وہ وعید واقع ہوجائے گی یعنی قیامت آجائے گی تو اس وقت وہ اعتراف کریں گے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول، اللہ کا سچا پیغام لے کر آئے تھے اور اس وقت وہ اعتراف کریں گے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول، اللہ کا سچا پیغام لے کر آئے تھے اور اس وقت وہ صرف دو چیزوں میں سے کسی ایک کی خواہش کرسکیں گے ایک یہ کہ کوئی ان کی اللہ تعالیٰ کے حضور سفارش کرکے ان کی مغفرت کرائے یا ان کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے اور وہ دوبارہ دنیا میں جا کر کفر اور شرک اور برے کاموں کی بجائے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کا اقرار کریں لیکن ان میں سے ان کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوگی اور سوائے نقصان کے ان کے پلے میں کچھ نہیں رہے گا اور جن جھوٹے خداؤں کی وہ دنیا میں پرستش کرتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آسکیں گے اور جن باطل مذاہب کو ثابت کرنے لیے وہ دنیا میں سر دھڑ کی بازی لگاتے تھے، ان کا جھوٹ اور باطل ہونا اس دن واضح ہوجائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 53