کرے ایسے سے کوئی التجا کیا

کلام : استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی

پیش کش: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی

❤️

کرے ایسے سے کوئی التجا کیا

کہے جو سُن کے مطلب مدعا کیا

❤️

کوئی افسوں پڑھا یا گالیاں دیں

مجھے یہ چپکے چپکے کہہ لیا کیا

❤️

میرے گھر پوچھتا آیا انہیں غیر

مجھے حیرت کہ ہے یہ ماجرا کیا

❤️

ہمارے ہاتھ سے بھی کوئی ساغر

جو کھل کھیلے تو پھر شرم و حیا کیا

❤️

درِ دُشمن پہ لے جاتا ہے ہر روز

ستم کرتا ہے تیرا نقشِ پا کیا

❤️

اگر وہ میرے جانے سے نہ آئے

تو پھر اے شوقِ دل تیری سزا کیا

❤️

میں حاضر ہوں جو کرتے ہو مجھے قتل

مگر کس بات پر مَیں نے کیا کیا

❤️

میرے سینے کو دیکھو دل کو دیکھو

نہیں ناوک نگاہِ عشوہ زا کیا

❤️

گماں ہے آپ کا وہ کون میں کون

حسنؔ مجھ سے کسی سے واسطہ کیا

❤️❤️