وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ(۶۱)

اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے(ف۱۳۴) یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں (ف۱۳۵) اور وہ قصور نہیں کرتے(ف۱۳۶)

(ف134)

فرشتے جن کو کِراماً کاتبین کہتے ہیں وہ بنی آدم کی نیکی اور بدی لکھتے رہتے ہیں ، ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہیں ایک داہنے ایک بائیں ، نیکیاں داہنی طرف کا فرشتہ لکھتا ہے اور بدیاں بائیں طرف کا ، بندوں کو چاہئے ہوشیار رہیں اور بدیوں اور گناہوں سے بچیں کیونکہ ہر ایک عمل لکھا جاتا ہے اور روزِ قیامت وہ نامۂ اعمال تمام خَلق کے سامنے پڑھا جائے گا تو گناہ کتنی رسوائی کا سبب ہوں گے اللہ پناہ دے ۔ ( آمین ثم آمین )

(ف135)

ان فرشتوں سے مراد یا تو تنہا مَلَکُ الموت ہیں ، اس صورت میں صیغۂ جمع تعظیم کے لئے ہے یا مَلَکُ الموت مع ان فرشتوں کے مراد ہیں جو ان کے اَعوان ہیں جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے مَلَکُ الموت بحکمِ الٰہی اپنے اَعوان کو اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیتے ہیں جب روح حلق تک پہنچتی ہے تو خود قبض فرماتے ہیں ۔ (خازن)

(ف136)

اور تعمیلِ حکم میں ان سے کوتاہی واقع نہیں ہوتی اور ان کے عمل میں سُستی اور تاخیر راہ نہیں پاتی ، اپنے فرائض ٹھیک وقت پر ادا کرتے ہیں ۔

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّؕ-اَلَا لَهُ الْحُكْمُ-وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ(۶۲)

پھر پھیرے جاتے ہیں اپنے سچے مولٰی اللہ کی طرف سنتا ہے اسی کا حکم ہے (ف ۱۳۷)اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا (ف۱۳۸)

(ف137)

اور اس روز اس کے سوا کوئی حکم کرنے والا نہیں ۔

(ف138)

کیونکہ اس کو سوچنے ، جانچنے ، شمار کرنے کی حاجت نہیں جس میں دیر ہو ۔

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًۚ-لَىٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ(۶۳)

تم فرماؤ وہ کو ن ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے جسے پکارتے ہو گڑگڑا کر اور آہستہ کہ اگر وہ ہمیں اس سے بچاوے تو ہم ضرور احسان مانیں گے(ف۱۳۹)

(ف139)

اس آیت میں کُفّار کو تنبیہ کی گئی کہ خشکی اور تری کے سفروں میں جب وہ مبتلائے آفات ہو کر پریشان ہوتے ہیں اور ایسے شدائد و اَہوال پیش آتے ہیں جن سے دل کانپ جاتے ہیں اور خطرات قلوب کو مضطرِب اور بے چین کر دیتے ہیں اس وقت بُت پرست بھی بُتوں کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالٰی ہی سے دعا کرتا ہے اسی کی جناب میں تضرُّع و زاری کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس مصیبت سے اگر تو نے نجات دی تو میں شکر گزار ہوں گا اور تیرا حقِ نعمت بجا لاؤں گا ۔

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ(۶۴)

تم فرماؤ اللہ تمہیں نجات دیتا ہے اس سے اور ہر بے چینی سے پھر تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۱۴۰)

(ف140)

اور بجائے شکر گزاری کے ایسی بڑی ناشکری کرتے ہو اور یہ جانتے ہوئے کہ بُت نِکمے ہیں ، کسی کام کے نہیں پھر انہیں اللہ کا شریک کرتے ہو ، کتنی بڑی گمراہی ہے ۔

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍؕ-اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ(۶۵)

تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے تلے سے یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے دیکھو ہم کیوں کر طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں کہ کہیں ان کو سمجھ ہو(ف۱۴۱)

(ف141)

مفسِّرین کا اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں ، ایک جماعت نے کہا کہ اس سے اُمّتِ محمّدیہ مراد ہے اور آیت انہیں کے حق میں نازل ہوئی ۔ بخاری کی حدیث میں ہے کہ جب یہ نازل ہوا کہ وہ قادر ہے تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے ، تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ نازل ہوا کہ یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے تو فرمایا میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ نازل ہوا یا تمہیں بھڑاوے مختلف گروہ کر کے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے تو فرمایا یہ آسان ہے ۔ مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجدِ بنی معاویہ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اس کے بعد طویل دعا کی پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں نے اپنے ربّ سے تین سوال کئے ان میں سے صرف دو قبول فرمائے گئے ، ایک سوال تو یہ تھا کہ میری اُمّت کو قحطِ عام سے ہلاک نہ فرمائے یہ قبول ہوا ، ایک یہ تھا کہ انہیں غرق سے عذاب نہ فرمائے یہ بھی قبول ہوا ، تیسرا سوال یہ تھا کہ ان میں باہَم جنگ و جدال نہ ہو یہ قبول نہیں ہوا ۔

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّؕ-قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ(۶۶)

اور اسے (ف۱۴۲) جھٹلایا تمہاری قوم نے اور یہی حق ہے تم فرماؤ میں تم پر کچھ کڑوڑا(نگہبان)نہیں (ف۱۴۳)

(ف142)

یعنی قرآن شریف کو یا نُزولِ عذاب کو ۔

(ف143)

میرا کام ہدایت ہے قلوب کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ۔

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ٘-وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ(۶۷)

ہر خبرکا ایک وقت مقرر ہے (ف۱۴۴) اور عنقریب جان جاؤ گے

(ف144)

یعنی اللہ تعالٰی نے جو خبریں دیں ان کے لئے وقت معیّن ہیں ان کا وقوع ٹھیک اسی وقت ہو گا ۔

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)

اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں(ف۱۴۵) تو ان سے منہ پھیرلے (ف۱۴۶) جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ

(ف145)

طعن تَشنیع اِستِہزاء کے ساتھ ۔

(ف146)

اور ان کی ہم نشینی ترک کر ۔

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بے دینوں کی جس مجلس میں دین کا احترام نہ کیا جاتا ہو مسلمان کو وہاں بیٹھنا جائز نہیں ، اس سے ثابت ہو گیا کہ کُفّار اور بے دینوں کے جلسے جن میں وہ دین کے خلاف تقریریں کرتے ہیں ان میں جانا ، سننے کے لئے شرکت کرنا جائز نہیں اور رد و جواب کے لئے جانا مُجالَست نہیں بلکہ اظہارِ حق ہے ممنوع نہیں جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے ۔

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۶۹)

اور پرہیزگاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں (ف۱۴۷) ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں (ف۱۴۸)

(ف147)

یعنی طعن و اِستِہزاء کرنے والوں کے گناہ انہیں پر ہیں ، انہیں سے اس کا حساب ہوگا ، پرہیزگاروں پر نہیں

شانِ نُزول : مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہمیں گناہ کا اندیشہ ہے جب کہ ہم انہیں چھوڑ دیں اور منع نہ کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف148)

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ پند و نصیحت اور اظہارِ حق کے لئے ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے ۔

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ ﳓ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌۚ-وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْاۚ-لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠(۷۰)

اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنالیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور قرآن سے نصیحت دو (ف۱۴۹) کہ کہیں کوئی جان اپنے کیے پر پکڑی نہ جائے (ف۱۵۰) اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے عوض سارے بدلے دے تو اُس سے نہ لیے جائیں یہ ہیں (ف۱۵۱) وہ جو اپنے کیے پر پکڑے گئے انہیں پینےکوکھولتا پانی اور دردناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا

(ف149)

اور احکامِ شرعیہ بتاؤ ۔

(ف150)

اور اپنے جرائم کے سبب عذابِ جہنّم میں گرفتار نہ ہو ۔

(ف151)

دین کو ہنسی اور کھیل بنانے والے اور دنیا کے مفتون ۔